بریکنگ نیوز: راجیو گاندھی کا قتل اور ملک صفدر کی بے نیازی


(رضی الدین رضی کی یاد نگاری)

اب تک ہم نے آپ کو جن سنسنی خیز خبروں (بریکنگ نیوز) کا احوال سنایا ان میں سابق بھارتی وزیراعظم اندرا گاندھی کے قتل کی خبر بھی شامل ہے۔ اندراگاندھی کو 31 اکتوبر 1984ء کو قتل کیا گیا تھا اور ان دنوں میں روزنامہ نوائے ملتان کے ساتھ وابستہ تھا۔ وہ زمانہ ایسا تھا کہ ابھی اطلاعات کی ترسیل میں برق رفتاری نہیں آئی تھی میڈیا پر سرکاری کنٹرول تھا اور اندرا گاندھی کے قتل کی خبر ہم تک سہ پہر تین بجے پہنچی جبکہ یہ واقعہ صبح نو ساڑھے نو بجے کے درمیان کا تھا۔ میڈیا پراس قدر کنٹرول تھا کہ بھارت میں جب تک معاملات مکمل طور پر کنٹرول نہ ہو گئے اس واقعے کی کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوئی۔ پھر بھارتی حکام نے آل انڈیا ریڈیو کے ذریعے یہ خبر نشر کی اور ہم تک بھی پہنچ گئی۔

راجیو گاندھی کے قتل کی خبر بھی اگرچہ ہمیں آل انڈیا ریڈیو سے ہی ملی لیکن یہ 1985 ء کا زمانہ نہیں تھا ہم 90 کے عشرے میں آ چکے تھے اور خبروں پر سرکار کی گرفت ڈھیلی پڑ چکی تھی۔ 21 مئی 1991ء کو ہم روزنامہ نوائے وقت میں ڈاک کاپی کے بعد لوکل ایڈیشن کی تیاری میں مصروف تھے۔ ڈپٹی نیوز ایڈیٹر ملک صفدر صاحب رات دس بجے ٹرانسسٹر کان سے لگائے آل انڈیا ریڈیو سے نشر ہونے والی خبریں بہت انہماک کے ساتھ سن رہے تھے اور ساتھ ساتھ نوٹس لے رہے تھے۔ ہم اگلی کاپی کی تیاری سے قبل خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ خبریں سنتے سنتے ملک صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے ہمیں خاموش ہونے کے لئے کہا اور ساتھ ہی ان کے منہ سے آواز نکلی ”دھماکہ“ نیوز ایڈیٹر عاشق علی فرخ سمیت ہم سب فوری طور پر ملک صاحب کی جانب متوجہ ہو گئے پہلا سوال یہ تھا کہ کہیں دھماکہ پاکستان میں تو نہیں ہوا؟ جب ملک صاحب سے یہی سوال پوچھا گیا تو ملک صاحب نے نفی میں سر ہلا دیا اور اطمینان کے ساتھ دوبارہ نوٹس لینے لگے ”اگر دھماکہ پاکستان میں نہیں ہوا تو کہاں ہوا ہے؟“

عاشق صاحب کے اس سوال پر بدستور نوٹس لیتے ہوئے تجاہل عارفانہ کے ساتھ ملک صاحب نے جواب دیا ”انڈیا“
اگلا سوال تھا ”کیا زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں؟“
ملک صاحب نے پھر اطمینان کے ساتھ جواب دیا ”بہت ہوئی ہیں“

ہم سب اب تک اس بات سے بے خبر تھے کہ اصل کہانی کیا ہے بھارت میں ہونے والے بم دھماکے میں اگر زیادہ ہلاکتیں بھی ہوجائیں تو اس سے پاکستان میں بھلا کیا فرق پڑتا ہے بشرطیکہ یہ تعداد پندرہ بیس سے زیادہ نہ ہو۔ عاشق صاحب کا اگلا سوال یہ تھا کہ کوئی بڑا آدمی تو زد میں نہیں آیا؟

”آیا ہے“ ملک صاحب نے پھر اطمینان کے ساتھ جواب دیا اور نوٹس لینے کا سلسلہ جاری رکھا۔
”کون زد میں آیا؟“ اس سوال پر ملک صاحب کا جواب تھا ”راجیو گاندھی“
”کیا راجیو زخمی ہو گیا ہے؟“
”مر گیا بھینڑ۔ دا۔۔۔“
ملک صاحب کی یہ بے ساختہ شہ سرخی پورے دفتر کو زعفران زار بنا گئی

اس کے بعد ظاہر ہے نیوز روم میں وہی افراتفری ہوئی جو ایسی خبروں کے بعد عموماً ہوتی ہے لیکن راجیو گاندھی کے قتل کی بریکنگ نیوز میں حاصل غزل آج تک ملک صاحب کا وہی جملہ ہے جسے اب بھی یاد کریں تو چہرے پر مسکراہٹ ضرور آتی ہے لیکن انہوں نے اس بم دھماکے کی خبر کو جس طرح غیر اہم انداز میں ایک ایک جملے کے ساتھ ہمارے گوش گزار کیا وہ بھی نیوز روم سے وابستہ افراد کی ایک خاص نفسیات کا مظہر ہے۔ میں نے اپنے والد صاحب کی یاد میں تحریر کیے گئے مضمون ”پہلا جنازہ“ میں نیوز روم کی ایسی ہی کیفیات کو بیان کیا تھا اور لکھا تھا کہ نیوز روم میں کام کرنے والے بھی گورکنوں کی طرح لاشیں گن گن کر بے حس ہو چکے ہوتے ہیں۔ بڑے سے بڑا دھماکہ اور بڑی سے بڑی خبر بھی ان کے لئے اسی طرح معمول کی کارروائی ہوتی ہے جیسے ڈاکٹروں کے لئے کوئی دم توڑتا مریض، پولیس والوں کے لئے قتل یا ڈکیتی کی واردات اور وکیل کے لئے مقدمہ قتل کی کارروائی۔

ملک صفدر صاحب ایک طویل عرصے سے صحافت کے ساتھ منسلک تھے انہوں نے راولپنڈی سے اپنے صحافتی سفر کا آغاز کیا اور ایسی بہت سی خبریں اور شہ سرخیاں بنانا ان کا روز کا معمول تھا یہی وجہ ہے کہ راجیو گاندھی کے قتل کو بھی انہوں نے بہت بے نیازی کے ساتھ سنا۔

اور اب کچھ تذکرہ راجیو گاندھی کا بھی ہو جائے۔

راجیو گاندھی اندراگاندھی کے صاحبزادے تھے، اندراگاندھی کے ایک اور بیٹے سنجے گاندھی کا 23 جون 1980ء کو ایک ہوائی حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔ اندراگاندھی کے قتل کے بعد ان کے جانشین کے طور پر راجیو گاندھی سیاست میں آ گئے اور پھر وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوئے۔ راجیو گاندھی کو ریاست تامل ناڈو میں چنائے کے قریب ایک انتخابی ریلی کے دوران قتل کیا گیا تھا وہ خود کش حملے میں ہلاک ہوئے اس حملے میں حملہ آور دھنو سمیت 16 افراد لقمہ اجل بنے اور 45 شدید زخمی ہوئے۔ واردات کے بعد بہت سے لوگوں کو حراست میں لیا گیا لیکن بالآخر 32 سال بعد راجیو کے قتل میں سزا پانے والے تمام افراد رہا ہو گئے۔ رہائی پانے والی آخری خاتون کو 17 نومبر 2022ء کو رہا کیا گیا جو خود کش حملہ آوروں کے گروہ سے تعلق رکھتی تھیں ان کی رہائی بھارتی سپریم کورٹ کے احکامات پر عمل میں آئی جس نے ان تمام مجرموں کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا جو اس قتل کیس میں عمر قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔ ان چھ مجرموں میں سے کچھ کا تعلق سری لنکا سے بھی تھا کہ یہ قتل تامل تحریک سے جڑا ہوا تھا۔

راجیو گاندھی – آخری لمحات
Facebook Comments HS