کتب کی رونمائی اور مشاعرہ
مورخہ انیس مئی دو ہزار چوبیس، بروز اتوار کو ، بزم ادب برلن کے زیراہتمام، اولوف پالمے کلچر ہاؤس برلن میں ایک شاندار ادبی محفل کا انعقاد ہوا۔ بزم ادب برلن کے جنرل سیکریٹری جناب سرور غزالی نے افتتاحیہ کلمات سے تقریب کا آغاز کیا اور مشہور شخصیات، جن میں، کراچی سے آئے ہوئے جناب جمیل الدین احمد بطور صدر محفل، جناب رشی خان، محترمہ عشرت سیما، لمز یونیورسٹی کے جناب ڈاکٹر زاہد حسین بطور مہمان خصوصی، کو اسٹیج پر بیٹھنے کی دعوت دی۔
سب سے پہلے رشی صاحب کے ناول ”بت پرستوں کی نئی نسلیں“ کی رونمائی ہوئی۔ جناب عامر عزیز نے، اس ناول پر پاکستان کے جناب ڈاکٹر فراز صاحب کا لکھا ہوا مقالہ پڑھ کر سنایا۔ دوسری رونمائی، کراچی کی مصنفہ محترمہ ماریا مہوش کی کتاب ”ٹوٹم“ ، افسانوں کا مجموعہ، کی تھی۔ ان کی غیرموجودگی میں، محترمہ سیما نے ان کی نمائندگی کی۔ اس کے بعد سیما صاحبہ کی اپنی تخلیق ”تبصرے و تذکرے“ پیش کی گئی جس میں ان کے مختلف تقریبات میں پڑھے گئے کالم اور مضامین ہیں۔
انہوں نے اس میں سے اقتباسات بھی پڑھے اگلا مرحلہ، جناب انور ظہیر رہبر کی، مختلف کالموں اور مضامین کی کتاب ”کالم۔ پردیسی کے قلم سے“ کا تھا۔ انہوں نے بھی اپنی کتاب میں سے سامعین کو پڑھ کر سنایا۔ اس محفل کے پہلے حصے کا آخری پروگرام، جناب سرور غزالی کی کتاب ”سفر شرط ہے“ تھا۔ اس کتاب پر مختصر مگر نہایت شاندار مقالہ، جناب زاہد حسین نے پڑھا۔
اس ادبی محفل کا دوسرا حصہ مشاعرے پر مبنی تھا۔ نظامت کی ذمہ داری اب سرور صاحب کی بجائے سیما صاحبہ نے سنبھال لی۔ اسٹیج پر ڈاکٹر زاہد حسین صاحب اور جمیل الدین احمد صاحب براجمان تھے جبکہ جرمنی کے مشہور شاعر جناب حنیف تمنا کو بطور صدر مشاعرہ، وہاں بٹھایا گیا۔ ان کے ساتھ، سویڈن سے آئے ہوئے شاعر جناب رانا افتخار احمد ثاقب اور ہیمبرگ سے مشہور اسکالر اور صوفی شاعرہ محترمہ طاہرہ رباب، بیٹھیں۔
محترمہ سیما نے، شروعات میں، مشاعرے کو گرمانے کے لئے، جناب نصیر احمد ملہی کو ، فیض احمد فیض کی مشہور زمانہ نظم ”مجھ سے پہلی سی محبت میرے محبوب نہ مانگ“ کے چند اشعار ترنم سے گانے کو کہا۔ اس کے بعد خاکسار کی ”جنگی موت“ نامی تازہ نظم سے مشاعرے کا باقاعدہ آغاز ہوا جسے سامعین نے نہایت توجہ سے سنا۔ اس کے بعد شاعروں کے اشعار، نظموں اور غزلوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان شعراء میں سیدہ بسمہ خان صاحبہ، محترمہ مایا حیدر، ڈاکٹر عشرت معین سیما صاحبہ، عاصم بشیر صاحب، عامر عزیز صاحب، رشی خان صاحب، انور ظہیر رہبر صاحب اور سرور غزالی صاحب قابل ذکر ہیں۔ اگر کسی کا نام نہیں لکھا گیا تو پیشگی معذرت۔ ان کے بعد ، اسٹیج پر براجمان شعراء کو اپنا کلام سنانے کی دعوت دی گئی۔
جناب رانا افتخار احمد ثاقب کے بعد محترمہ طاہرہ رباب مائیک پر تشریف لائیں۔ سامعین نے ان سے ترنم کے ساتھ پڑھنے کی فرمائش کی جسے انہوں نے بخوشی قبول کیا اور خوب داد بھی سمیٹی۔ اس کے بعد پروفیسر زاہد حسین صاحب مائیک پر آئے اور آج کے مشاعرے کی منفرد اور نہایت خوبصورت شاعری، اور وہ بھی پنجابی زبان میں، سنا کر سامعین کے دل موہ لئے۔ انہیں تالیوں کی گونج میں پذیرائی ملی۔ میرا مشاہدہ ہے کہ آج کی اس ادبی محفل میں اکثریتی سامعین کی مادری زبان پنجابی تھی/ ہے۔
آخر میں صدر مشاعرہ جناب حنیف تمنا نے اپنا بہترین کلام پیش کیا۔ اولوف پالمے کلچر ہاؤس کا سامعین سے بھرا ہال، واہ واہ اور مکرر مکرر کی آوازوں سے گونج اٹھا۔
شاعرانہ پروگرام کے بعد ، سرور غزالی صاحب نے، مسقط سے جناب سید زین العابدین احمد کا اس محفل کے لئے، نیک تمناؤں اور ڈھیروں دعاؤں کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ آخر میں جناب جمیل الدین احمد نے مختصر اختتامیہ کلمات ادا کیے اور سرور غزالی صاحب نے محفل کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے، شرکاء کو ، بزم ادب کی طرف سے عشائیہ کی دعوت دی۔


