سکولز برائے فروخت اور مسلم لیگ ن کی تاجرانہ پالیسی


انگریزی میں ایک کہاوت ہے جس کا مفہوم کچھ اس طرح ہے کہ عادتیں کبھی بھی نہیں بدلتی ہیں۔ ہر ملک میں ہر سیاسی جماعت اپنے منشور میں عوامی خدمات کا نعرہ لگاتی ہیں۔ پاکستان میں جنرل انتخابات 2024 میں پاکستان تحریک انصاف کے مقابلے میں مسلم لیگ نون نے اپنا منشور پیش کیا تو اس میں محمکہ تعلیم میں پرائمری سکولز کو پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ آئی ایم ایف اور موجودہ حکومت بنانے والوں کا منشور بھی یہی تھا کہ سرکاری ملازمین کے خلاف ملازم کش پالیسیاں بنانے اور محمکہ تعلیم سے پرائمری سکولز کو ختم کر کے اس قوم کو تباہ و برباد کر دیں۔

ایک فرمانبردار ماتحت ہونے کے ناتے موجودہ حکومت کا ہر وزیر اور ممبر اسمبلی آئی ایم ایف اور فارم 47 کی حکومت بنانے والوں کا حکم مان رہا ہے۔ ہزاروں کھوکھلے وعدوں کے باوجود سکولز کو پرائیویٹ کرنے کا فیصلہ کرنے کے بعد اس کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس موضوع پر لکھنے کے لیے اس قدر مضبوط دلائل اور مثالیں موجود ہیں کہ دس کالم لکھ جا سکتے ہیں انشاءاللہ وقت کے ساتھ ساتھ سب کو لکھنے کی کوشش کروں گا۔ اشتہار دیکھنے کے بعد جہاں مسلم لیگ نون کے منشور کا پتہ چلا ہے وہاں پر دیہاڑی لگانے کی پوری کوشش کی گئی ہے۔

سکول میں درخواست جمع کروانے کی فیس دس ہزار ( 10000 ) ور پچاس ہزار ( 50000 ) روپے رکھی گئی ہے۔ تیرہ ہزار کے لیے اگر تیرہ ہزار افراد درخواست جمع کروائے تو تیرہ کروڑ روپے جمع ہو گئے مگر قوی امید ہے کہ اس کے لیے کم از کم پچاس ہزار افراد درخواست جمع کروائیں گے۔ این جی اوز  کی فیس پچاس ہزار روپے ہیں اگر ہر ضلع سے ایک سو این جی اوز درخواست جمع کروائیں تو چھتیس سو این جی اوز درخواست جمع کروائیں گی ان کی درخواست کی فیس سے 18 کروڑ کی رقم جمع ہو گئی۔

قصہ مختصر یہ ہے کہ اس رقم کا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے افسوس اس بات کا ہے کہ سکولز کو ختم کر کے دیہاڑی لگانے میں کہاں کی بہادری ہے۔ یہ سکولز آباد رکھیں تو دیہاڑی لگانے کے سو بہانے آپ کو مل جائیں گے۔ مسلم لیگ نون کی جب بھی حکومت آئی ہے تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں ان کے منصوبے غریب عوام اور رعایا کی بجائے بزنس کمیونٹی کے لیے ہوتے ہیں۔ ان سکولز کو پرائیویٹ کر کے مسلم لیگ نون پرائیویٹ سکولز ایسوسی ایشن اور پرائیویٹ سکولز کے مالکان کو خوش کرنا چاہتی ہے۔

کیونکہ یہ سکولز بھی ایک بزنس کی سوچ رکھ کر چلا رہے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہاں غریب عوام اور رعایا کا کون سوچتا ہے جو سوچتا ہے وہ پابند سلاسل ہو جاتا ہے یا پھر کسی حادثے میں مار دیا جاتا ہے۔ فیس کی مد میں لگنے والی دیہاڑی کے اعداد و شمار تو بس ایک جھلک ہے۔ پاکستان کو چھہتر سال سے لوٹا جا رہا ہے۔ ہر حکمران اور سیاستدان نے اپنی طاقت اور اختیارات کے مطابق اپنی اپنی جیب بھرنے کی کوشش کی ہے۔ بیوروکریسی نے بھی اپنی حیثیت کے مطابق اپنا اپنا حصہ وصول کیا مگر یہ کہاں کا انصاف ہے کہ بچوں کا بنیادی حق ہی چھین لیا جائے۔

گورنمنٹ سکولز میں سرکاری اساتذہ کی تعداد بے شک ایک ہی ہو، پنجاب میں اس وقت 2577 سکولز ایسے ہیں جن میں استاد ایک ہے اس کے باوجود بھی وہ بچوں کو تعلیم دے رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ گورنمنٹ مجھے اس غریب عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ دی رہی ہے تو وہ اس کو حلال کرنے کے لیے پوری محنت کرتا ہے۔ اب ایک پانچ سے آٹھ ہزار لینے والا استاد کتنی محنت کرے گا۔ اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔ دوسرا پرائیویٹ ہونے کے بعد ان سکولز میں استاد کی زیادہ سے زیادہ تعلیم بی اے ہو گی جبکہ سرکاری سکولز میں اب بھی سرکاری اساتذہ ایم فل ہیں۔

اس سے پہلے ہونے والے پرائیویٹ سکولز کا ذرا معائنہ کیا جائے۔ ان کی عمارتوں کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گی۔ فرنیچر اور دیگر سامان کو مفت کا مال سمجھ کر استعمال کیا گیا۔ سرکاری سکولز بنانے میں حکومت کے علاوہ سرکاری اساتذہ جس طرح محنت کرتے ہیں، اس کی مثال ملنا ناممکن ہے۔ سرکاری سکول کے لیے گاؤں کے مخیر حضرات سرکاری سکول کے لیے زمین عطیہ کرتے ہیں۔ اس کی عمارت کے لیے پھر مخیر حضرات سے تعاون کی درخواست کی جاتی ہیں۔

سابقہ چھ سال سے حکومت فنڈز کی کمی کا رونا رو رہی ہے۔ سکولز کے بجلی کے بل کے لیے سرکاری اساتذہ خیرات مانگنے پر مجبور ہیں۔ حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کی شق 25 کے تحت اپنی رعایا کے لیے مفت تعلیم کا بندوبست کرے گی، حکومت کے مطابق پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے تمام سکولز میں کتب اور تعلیم فری ہے۔ مگر ان اساتذہ کا تقابل سرکاری اساتذہ سے کر لیں۔ پنجاب ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے تحت چلنے والے پہلے سکولز میں ان اساتذہ کی تعلیم بی اے ہے۔

تعلیم کے ساتھ ان کی تنخواہ شرم ناک حد تک کم ہے پانچ سے آٹھ ہزار تک تنخواہ دے کر ”استاد“ لفظ کی جس طرح بے حرمتی اور تذلیل کی جا رہی ہے۔ اس کا خمیازہ ہر سیاست دان اور بیوروکریٹ کو چکانا پڑے گا۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ مسلم لیگ نون اپنے منشور اور تاجرانہ سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے سکولز کو پرائیویٹ کرنے پر مجبور ہے۔ اپنی سابقہ حکومت میں اس سیاسی جماعت نے ہی سکولز کو پرائیویٹ کر کے پرائیویٹائزیشن کی بنیاد رکھی تھی۔

اساتذہ تنظیموں کے قائدین کی لاتعداد مذمت اور احتجاجی دھرنوں سے یہ حکومت پیچھے ہٹنے والے نہیں لگتی ہے۔ دوسرا جس طرح سابقہ احتجاجی تحریک کو ختم کیا گیا تھا اس سے سرکاری ملازمین اپنے یونین راہنماؤں سے نالاں ہیں۔ سرکاری ملازمین اور اساتذہ راہنماؤں کی احتجاج کی تاریخوں کا اعلان کر دیا گیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ سرکاری ملازمین اور اساتذہ حکومت کو فیصلہ واپس لینے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یا پھر حکومت اپنے منشور اور تاجرانہ پالیسی کے مطابق ہر ادارے کو پرائیویٹائزیشن کرنے میں کامیاب ہو جائے گی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments