قیمتی لوگ، قیمتی کتابیں


ہمارے گاؤں میں اک جلد بندی کرنے والا بوڑھے چچا ہوا کرتے تھے۔ رشتہ داری کے سبب ہمارے قریبی مراسم بھی رہے۔ باباجان سے محبت و احترام کا رشتہ بھی تھا۔ نحیف و کمزور ہونے کے باوجود کتابوں کے بہترین ڈاکٹر مانے جاتے تھے۔ آواز اتنی مدہم ہوتی تھی کہ دھیان سے کان لگا کر سننا پڑتا تھا۔

یہ ان دنوں کی بات ہے جب نیا تعلیمی سال شروع ہو رہا تھا۔ اور ان کی دکان اور گھر دونوں جگہوں پہ کتابوں کی بائنڈنگ کروانے والوں کا رش پڑا ہوتا تھا۔ تب میٹھی عید پہ کارڈز لکھنا اک رسم تھی۔

ویسے ہی نئی اور پرانی کورس کتب کی بائنڈنگ کروانا اہم سمجھا جاتا تھا۔

ہر سال باباجان ہمیں نئی کتب لے کر دیتے تھے۔ مگر وہ پہلا سال تھا جب کسی سینئر سے استعمال شدہ کتب خریدیں۔ اب میں ان لوگوں میں سے ہوں جو ناک کا استعمال کرنے کو کھانے کی خوشبو تک محدود نہیں رکھتے ہیں۔ گلاب کا پھول، دھواں چھوڑتی گاڑیوں کی خوشبو، گولڈ فش پنسل کی خوشبو اور کچی مٹی پہ گھر بناتے ہوئے اکثر مٹی سونگھنے لگ جاتا تھا۔

بعد کے زمانوں میں رات کی رانی یادوں کے فولڈرز میں محفوظ کرتا رہا۔
کچھ ایسا ہی معاملہ اور کشش نئی کتابوں کی خوشبو سے پیدا ہوگی تھی۔

جب کلاس میں بیٹھے ہوئے دوستوں کے ساتھ سوشل اسٹڈیز کی آکسفورڈ ایڈیشن کتب کھولتا تو الگ ہی مہک آتی تھی۔ ورق الٹنے کا دل کرتا تھا۔ مزید پڑھنے کی چاہ پیدا ہوتی تھی۔

مگر کیا پرانی کتابوں کے ساتھ ایسی انسیت پیدا ہو سکتی ہے؟ وہ تو دھول میں اٹی ہوئیں جانے کتنے سالوں سے اک شاگرد سے دوسرے تک منتقل ہوتی رہی ہوں گی۔ میں اپنی کتابوں کا سیٹ اک پولیتھین بیگ میں ڈالے سیدھا جلدی بندی والے انکل کی شاپ پہ دے آیا۔

انہوں نے مجھے جمعہ والے دن گھر چکر لگانے کا کہا۔ کچے رستوں سے ٹیڑھا میڑھا گھومتا ہوا میں ان کے گھر پہنچا۔ ان کے صحن میں ابھی کچھ زیر تعمیر کمروں کے نیچے کتابوں کا اسٹاک لگا ہوا تھا۔ یوں لگے جیسے کسی میڈیم سائز کے پرائمری سکول میں سرکاری کتب کا تازہ اسٹاک پہنچا ہو۔

کسی مضبوط لاکر کی بجائے بھاری اور فلیٹ شکل کے پتھروں کے نیچے کتب کو دبایا گیا تھا۔ اور دھوپ میں خشک ہو رہی تھیں۔ خالہ نے بتایا کہ انکل نماز پڑھنے گے ہیں اور انہیں ہی علم ہے کہ تمھاری کتب کون سی ہیں اور باقیوں کو چیک کرنے سے کتابوں کی کاٹھی خراب ہو سکتی ہے۔

کچھ دیر بعد دستک ہوئی اور انکل دھیرے دھیرے چلتے آئے۔
میں اٹھ کھڑا ہوا۔ ہاتھ ملایا۔
ہمیشہ کی طرح پہلا سوال تھا:
”ڈاکٹر صاحب کیسے ہیں؟“
میں نے اچھی صحت کی نوید سنائی۔

جب انہوں نے پوچھا کہ کون سے کتابیں تھیں تو میں نے جھجکتے ہوئے کہا:
”جی وہ پرانی سستی والی ہیں۔ چوتھی جماعت کی ہیں۔“
میرے انداز کو بھانپتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہنے لگے :

”پرانی اور سستی کتابیں۔ بھلا پرانی کتابیں سستی کیسے ہوتی ہیں؟ بیٹا! کتابیں جتنی پرانی ہوں وہ اتنی ہی قیمتی ہوجاتی ہیں۔ اچھا ٹھہرو میں تمھارے کتابیں ڈھونڈ کر لایا۔“

انہوں نے محبت سے چند جملے کہے۔
کتابیں دینے کے دوران ہی خالہ چائے بنا لائی تھیں۔
وہ پی اور چل دیا۔

تمام رستے میں یہی سوچتا رہا کہ بھلا سائنس کی کتاب جو 220 /۔ روپے کی ملتی ہے۔ میں نے پرانی 110 /۔ روپے میں خریدی ہے تو یہ سستی ہوئی ناں۔ قیمتی ہوتی تو مزید مہنگی ہوتی۔ چند دنوں بعد سکول کھل گے اور ہم خوشی خوشی جماعت چہارم میں بیٹھ گے۔

پہلے دن میں نے بھاری دل سے کتابیں شاپر سے نکالیں مگر دوست کی نئی کتاب پہ سبق پڑھا اور سیکھا۔ پھر کچھ عجیب واقعات نمودار ہوئے۔

اک دن چھٹی کرنے کے بعد جب دوبارہ سکول پہنچا تو میرا ہوم ورک پہلے سے مکمل تھا۔
دوست ششدر سا دیکھنے لگا۔
تو اسے بتایا کہ اگلے دونوں سوالات کے جواب اس کتاب میں پہلے سے بریکٹ کیے ہوئے ہیں۔
جب سبق سنانے کا وقت آیا تو میں نے چھٹی کا بہانہ کرنے کی بجائے سارا سبق اونچی آواز میں سنایا۔
سر نے پوچھا:
”بالی پتر! تم کل بیمار تھے سکول نہیں آئے مگر سبق سارا یاد ہے۔“
میں نے کتاب سر کے سامنے کردی جس پہ مشکل الفاظ کے معنی لکھے تھے۔
اور ٹوٹی پھوٹی گرائمر تب سمجھ آجاتی تھی۔ یوں کام چل گیا۔
سر نے شاباشی دی۔

پھر اک دن اک ہم جماعت پریشان ساری کلاس میں گھوم پھر کے میرے پاس آئی اور کہنے لگی:
”اگلا پیریڈ سائنس کا ہے اور میرا ہوم ورک مکمل نہیں ہے۔ پلیز اپنی کاپی دیدو۔“
اس وقت سبھی بچے ٹیسٹ کی تیاری کر رہے تھے۔

میں نے اپنی کاپی دی اور مزے سے پرانی کتاب پہ لگائے گے انڈر لائن جوابات کو دیکھ کر اپنا ٹیسٹ بھی پکا کر دیا۔ یوں دھیرے دھیرے مجھ پہ یہ راز کھلا کہ نئی کتابیں بظاہر قیمتی اور نئی نویلی ہیں۔ حالاں کہ پرانی کتب میں زیادہ علم ایڈ کیا گیا ہے۔ وقت کی بچت، خیر کا سبب، کامیاب تجربات کے بعد ربڑ سے مٹانے کی خال خال ضرورت پڑتی ہے۔

بار ہا دفعہ اپنی محبوبہ کو پروپوز کرنے والے نوبل انعام یافتہ شاعر لکھتے ہیں :
When you are old and grey and full of sleep,
And nodding by the fire, take down this book,
And slowly read, and dream of the soft look
Your eyes had once, and of their shadows deep
(WB Yeats, The Collected Poems)

احباب!

ہر طرح کی اقوام کے ساتھ کام، تعلیم، مسافتیں و دیگر شیئر کرنے کے بعد مجھے لگتا ہے کہ پرانے بوڑھے بابے لوگ بھی ان پرانی کتابوں کی طرح ہیں۔ ممکنہ طور پہ وہ نئے کپڑے نہیں پہنتے۔ بالوں کی جدید سٹائلنگ نہیں کرتے مگر ان کے پاس بیٹھنے سے قیمتی موتی جھڑتے ہیں۔ تجربات کے ابواب اور ان سے کشید کیے گے معنی سننے کو ملتے ہیں۔

مجھے وہ بوڑھی اوزی نرس بھی یاد ہے جس نے مجھے سفر کی اہم ٹپس بتائی تھیں۔
مجھے وہ سنجیدہ پاکستانی رائٹر بھی یاد ہیں جنہوں نے لکھنے میں اہم نکات سمجھائے تھے۔

ڈنمارک کا وہ لائبریرین بھی یاد ہے جس نے ہوچی من سٹی (ویتنام) میں اپنی فیملی کا خیال رکھنے کے عملی طریقے دکھائے تھے۔

اک عرب کوچ بھی یاد ہے جس نے گاڑی کے کنٹرول پہ اہم تجاویز دی تھیں۔

اور آسٹریلوی قدیم باشندہ بھی یاد ہے جس نے Stolen Generation سے متعلق اپنے اوپر گزرے مشکل ایام کا قصہ سنایا تھا۔

سرکاری تاریخ میں دبی وہ کھری تاریخ بھی سننے کو ملی تھی۔
المختصر، اب پرانی چیزیں اور پرانے لوگ زیادہ پرکشش لگتے ہیں۔
سیکھنے کو سکھانے کو گہرے اور مشکل نظریات کو سادہ بیان کرتے ملتے ہیں۔
اس سال کے بعد میں نے ہر سال جان بوجھ کے پرانی کتابیں خریدنے کی عادت اپنا لی۔
سائننگ آؤٹ!

Facebook Comments HS