جوتے کی نوک پر رکھی سائنس اور میری دل آزاری
سائنس ثواب دارین حاصل کرنے کا ہر دلعزیز، آسان اور سستا ذریعہ ہے اس لیے یہ پاک اور مقدس شے ہے۔ سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھنے سے میری دل آزاری ہوئی ہے۔
سائنس ہی کی وجہ سے ہر روز صبح شام بپا جانی کا بیان ٹی وی پر سنتا ہوں اور ثواب دارین حاصل کرتا ہوں۔ ان کے بیان کی برکت ہے کہ کیلے ٹھیک رخ پر لٹکا کے رکھتا ہوں، عورتوں اور مردوں کے باتھ روم چپل مکس نہیں ہونے دیتا اور زار و قطار رو رو کر رمضان کو الوداع کرتا ہوں تاکہ ثواب ملے۔ سائنس نہ ہوتی تو اسکرین پر بپا جانی کا دیدار نہ کر پاتا اور کتنے نقصان میں رہتا۔
یہ سائنس ہی کی مہربانی ہے کہ ہماری مساجد کے امام لاؤڈ سپیکرز کے ذریعے اپنی تقریروں سے انسان کو تو کیا، جانوروں کو بھی غفلت کی نیند سونے نہیں دیتے۔ ظاہر ہے کہ غفلت، نیند اور غفلت کی نیند تینوں ہی اچھے نہیں ہوتے۔
سائنس ہی کی مدد سے میں نے اپنے فون پر اسلامی کالر ٹیون لگائی ہوئی ہے۔ وہ کالر ٹیون لوگ سنتے ہیں تو مجھے ثواب ملتا ہے۔ اسلامی کالر ٹیونز کی ایجاد کی وجہ سے میری فون کمپنی کو تو ثواب اور پیسے دونوں ہی ملتے ہیں۔
مجھے بھی کئی فون آتے ہیں جب اسلامی ٹیون بجتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ کسی نیک شخص کی کال ہے۔ میں ایسی کالنگ ٹیون کو غور سے سنتا ہوں اور بس سنتا ہی رہتا ہوں تاکہ زیادہ ثواب کما سکوں۔ پوری کالر ٹیون سننے کے چکر میں کال نہیں سن پاتا۔ کال کرنے والے سے بات تو نہیں ہو پاتی لیکن ٹیون کا ثواب تو ہم دونوں کو ہی خوب مل جاتا ہے۔ اگر سائنس نہ ہوتی تو ہم لوگ اسلامی کالر ٹیونز کے ثواب سے محروم رہتے۔ یاد رہے اسلامی کالر ٹیونز کا ماہانہ خرچہ تو وہی ہے تو غیر اسلامی ٹیونز کا ہے۔
یہ سائنس ہی کی برکات ہیں کہ میں مولانا طارق جمیل صاحب کا بیان بار بار یوٹیوب پر سن سکتا ہوں۔ اب ایک مسلمان مرد ہونے کے ناتے میں بخوبی جانتا ہوں کہ جنت میں میرے لئے کیا کیا خزانے موجود ہوں گے اور میں کیسے کیسے ان سے محظوظ ہو سکوں گا۔ صرف یہی نہیں، میں مولانا صاحب کی ویڈیوز باقی لوگوں کو فارورڈ کر کے بھی ثواب دارین حاصل کرتا ہوں۔ اسی سائنس کی بدولت ہی مولانا طارق جمیل صاحب نے یہ اطلاع ہم تک پہنچائی کہ جناب جنید جمشید صاحب جنت میں عیاشی فرما رہے ہیں۔ تسلی ہوئی کہ جنید جمشید مرحوم کی تبلیغ کام آئی اور وہ جو انہوں نے خدا کی دی ہوئی بہت عمدہ گائیکی کی صلاحیت کو استعمال کر لیا تھا وہ گناہ معاف کر دیا گیا ہے۔
سائنس ہی کی مدد سے اب میں سینکڑوں لوگوں کو جمعہ مبارک کا میسج بھیجتا ہوں۔ مجھے اس کا ثواب ملتا ہے۔ وٹس ایپ اور فیس بک میسنجر اسی لیے تو بنا ہے۔ مجھے بھی بہت لوگوں کے جمعہ مبارک کے میسج آتے ہیں۔ ان میں سے کئی لوگوں کو میں پسند نہیں کرتا تو میں کوشش کرتا ہوں کہ ان کے میسج نہ پڑھوں تاکہ انہیں اس میسج کا ثواب نہ ملے۔ اس بارے میں میں نے فتوی لے لیا ہے۔
فیس بک تو ثواب کمانے کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ میں ساری اسلامی پوسٹوں پر دل سے ری ایکٹ کرتا ہوں اور ثواب کا حساب اپنے پاس رکھ لیتا ہوں۔ میں فیس بک پر خاص طور پر عورتوں کو سمجھاتا ہوں کہ جینز نہ پہنیں، اپنے شوہروں کی فرمان برداری کریں اور پانی کا گلاس لے کر ساری رات ان کے سرہانے کھڑی رہیں۔ اگر عورتیں ایسا کریں گی تو پاکستان کی معاشی ترقی ہوگی، ہم قدرتی آفات سے محفوظ رہیں گے اور عورتیں مار پیٹ سے بھی بچ جائیں گی۔ ایسی باتیں پھیلانے سے گناہ گار، کم عقل اور میلی کچیلی عورتیں میری باتوں پر شور مچاتی ہیں تو ضرور مچائیں، مجھے تو ثواب مل جاتا ہے۔ اور یہ سب اسی سائنس کی بدولت ہے۔
سائنس نے اسکرین ایک ایسی چیز بنا دی ہے جس پر کچھ بھی چلا دو ناپاک نہیں ہوتی۔ ہم اپنے موبائل، لیپ ٹاپ یا ٹی وی کی سکرین پر چپکے سے کچھ بھی دیکھ لیتے ہیں اور پھر سکرین دھوئے بغیر ثواب والی ویڈیوز بھی چلا لیتے ہیں۔ یہ سہولت کچھ کم نہیں۔
یہ بات درست ہے کہ سائنس میں کچھ خرابیاں بھی ہیں۔ جیسا کہ سائنس یہ سمجھتی ہے کہ زمین چپٹی نہیں بلکہ گول ہے۔ یا یہ جھوٹ بھی بولتی ہے کچھ انسانوں نے چاند جیسی مقدس چیز پر قدم رکھا ہے اور یہ بھی کہ اس وقت نیل آرمسٹرانگ نے جوتے پہنے ہوئے تھے۔ اب ظاہر ہے اس طرح کی باتیں بندہ مان تو نہیں سکتا۔ چاند چھوٹی سی ایک چیز ہے، زیادہ سے زیادہ ایک بڑے کونڈے جتنا ہو گا اس پر کوئی انسان کیسے چل سکتا ہے وہ بھی بوٹوں سمیت۔ اس لئے یہ بات نہیں مان سکتے۔
سائنس نے کچھ اور بھی بہت احمقانہ باتیں کی ہیں۔ جیسا کہ ڈارون نے کہا تھا کہ انسان اور بندر ایک ہی نسل سے ہیں۔ یہ بات درست نہیں ہے۔ ہم نے بندروں کو انسان بنتے کبھی نہیں دیکھا۔ بلکہ ہم نے تو صرف انسانوں کو بندر بنتے اور تماشا کرتے ہی دیکھا ہے۔ اس لئے اگر سائنس کہے کہ انسان بعض اوقات بندر بن جاتا ہے تو بات شاید ماننے والی ہے لیکن اس نے جو بات کی ہے وہ قابل قبول نہیں۔ ہم اس بات کو ڈنکے کی چوٹ پر ریجیکٹ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
سائنس نے اس طرح کی کچھ غلطیاں کی ہیں لیکن اس پر سائنس کو معاف کیا جا سکتا ہے۔
اوپر بیان کیے گئے اچھے کاموں کی وجہ سے سائنس کا احترام لازم ہے۔ سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھنے سے میری دل آزاری ہوئی ہے۔ ایک آخری فقرہ نہیں لکھتا کیونکہ میں سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھنے والوں کی دل آزاری نہیں کرنا چاہتا۔


