اسیران گیارہ مئی کو غیر مشروط رہا کرو
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی گیارہ مئی لانگ مارچ کی کال جو مکمل طور پر پر امن تھی۔ لیکن میرپور ڈویژن میں نو مئی کو صبح چار بجے پولیس کی بھاری نفری نے چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے، عوامی ایکشن کمیٹی کے قائدین کی فیملی کو زد و کوب کیا، بعض جگہوں پر خواتین اور بچوں پر تشدد کیا۔ درجنوں قائدین کو بغیر کسی جرم کے مختلف تھانوں اور جیلوں میں نظر بند کر دیا۔ اس سے پہلے عوام کو اشتعال دلوانے اور خوف و ہراس اور دہشت پھیلانے کے لئے سیکڑوں پولیس والو کے فلیگ مارچ کروائے گئے۔ وزیراعظم آزاد کشمیر کے اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز بیانات سے پوری کشمیری قوم واقف ہے۔
شہری سستا آٹا اور سستی بجلی کے لئے پر امن احتجاج کر رہے تھے۔ پرامن مارچ کرنا چاہتے تھے۔ تو پھر حکومت کی طرف سے ان نہتے اور پر امن شہریوں کو زد و کوب کرنا، فلیگ مارچ کے ذریعے شہریوں کو زد و کوب اور ان میں دہشت پھیلانے کی کیا ضرورت تھی۔
نو مئی کا سورج طلوع ہونے تک حکومت کی دہشت گردی (حکومت، ادارہ یا گروہ منظم انداز سے پر امن، معصوم اور نہتے شہریوں میں خوف و ہراس پھیلائے دہشت گردی ہے) نے پورے آزاد کشمیر کے عوام میں شدید غم و غصہ پیدا کر دیا تھا۔ پر امن لانگ مارچ شروع ہونے سے پہلے ہی حکومت وقت کی نا اہلی، غفلت اور غلط حکمت عملی کی وجہ سے حالات کو پرتشدد کر دیا گیا تھا۔ یہ حقیقت ہے کہ پرامن احتجاج ہزاروں بلکہ لاکھوں کا ہو، آرگنائزر اس کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
لیکن اگر حکومت یا پولیس اس کو طاقت کے ذریعے پر تشدد کر دے تو پھر دنیا کی کوئی طاقت اس کو کنٹرول نہیں کر سکتی۔ نو مئی سے تیرہ مئی تک جتنا بھی نقصان ہوا۔ اس کی ذمہ دار حکومت وقت ہے۔ اور اس کی ایف آئی آر بھی انہی پر بنتی ہے۔ معصوم، نہتے، پرامن شہریوں پر جتنی بھی ایف آئی آر بنائی گئی ہیں۔ وہ قابل مذمت ہیں۔
گیارہ مئی کو پر امن لانگ مارچ کا آغاز میرپور اسٹیڈیم سے ہوا۔ جس کو اسلام گڑھ کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری نے روک لیا۔ سعد انصاری ایڈووکیٹ، راجہ دانش اعظم ایڈووکیٹ، نسرین ملک، عارف آزاد، جواد دلپذیر، ثاقب حسین اور محمد ساجد پولیس سے مذاکرات کر رہے تھے۔ کہ ہم ہر لحاظ سے پر امن ہیں۔ ہمیں راستہ دیا جائے۔ پولیس نے اسی دوران ان قائدین کو زیر حراست لے کر تھانہ اسلام گڑھ منتقل کر دیا۔ یاد رہے اس وقت تک اسلام گڑھ کی فضا مکمل طور پر پر امن تھی۔
بعد ازاں سیکڑوں مظاہرین سڑک پر پرامن طور پر موجود تھے۔ پولیس نے نہتے، پرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے آنسو گیس کی شلنگ اور گولی چلا دی جس کے نتیجے میں متعدد مظاہرین زخمی ہو گئے۔
یاد رہے مظاہرین اور پولیس میں سیکڑوں فٹ کا فاصلہ تھا۔ اسی دوران پولیس افسر عدنان قریشی کو گولی لگی۔ اور وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے شہید ہو گئے۔ جس کا ہر شہری کو شدید دکھ و رنج ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اس کو ایک بہت بڑا سانحہ قرار دیتی ہے۔ اور جوڈیشنل انکوائری کا مطالبہ کرتی ہے۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق پولیس افسر عدنان قریشی شہید کو گولی پیچھے سے لگی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ افسر عدنان قریشی شہید پر گولی مظاہرین کی طرف سے نہیں چلی۔ کیونکہ مظاہرین مکمل طور نہتے تھے۔ وہ مظفر آباد کی طرف پر امن لانگ مارچ کر رہے تھے۔ ان کے پاس ضرورت کی کھانے پینے کی اشیا تھی۔
بعد ازاں جو ایف آئی آر سامنے آئی اس میں سانحہ اسلام گڑھ میں ان قائدین کو ملوث کیا گیا۔ جو اس سانحہ سے ایک گھنٹہ پہلے ہی اسلام گڑھ پولیس کے زیر حراست تھے۔ پھر کچھ مظاہرین کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ گولی پیچھے سے چلی، مظاہرین کئی سو فٹ کی دوری پر تھے۔ اس ایف آئی آر سے ثابت ہو رہا ہے کہ اصل قاتل کو منزل عام سے غائب کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔
ہم حکومت وقت پر واضح کرنا چاہتے ہیں۔ ہمارے دوست سستا آٹا اور سستی بجلی کے لئے پر امن لانگ مارچ کر رہے تھے۔ نو مئی سے تیرہ مئی تک حالات کو بار بار حکومت کی غلط حکمت عملی نے کشیدہ کیا۔ چار قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔ سیکڑوں شہری زخمی ہوئے۔
ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ تمام پر تشدد واقعات کی جوڈیشنل انکوائری کروائی جائے۔ اور میرپور میں نہتے اور بے گناہ قائدین کو فی الفور غیر مشروط رہا کیا جائے۔


