بکواس نوکریاں


کوئی بھی نوکری بکواس کیسے ہو سکتی ہے کیونکہ ہر نوکر اُس نوکری کے صدقے اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھر رہا ہوتا ہے۔ البتہ نوکری اس وقت بکواس بن جاتی ہے جب اُس میں تکرار آ جائے اور نوکری کرنے والے کو یہ نظر آ جائے کہ اس کے کام کی اہمیت کو سمجھا نہیں جاتا اور اُس کے کام کی وجہ سے اُس کی عزت بھی نہیں کی جاتی۔

جب نوکری کرنے والے کسی بھی شخص کو یہ احساس ہو جائے کہ اُس کی نوکری عمر قید کا دوسرا نام ہے تو پھر وہ ہر دن اپنے دفتر میں قسطوں میں مرتا ہے۔

کچھ نوکریاں صرف اِس لئے پیدا کی جاتی ہیں تاکہ کچھ لوگوں کو اپنی اہمیت کا احساس دِلایا جائے۔ مِثال کے طور پر سکیورٹی گارڈ کی نوکری اس لئے موجود ہے کیونکہ وی آئی پی لوگ دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی اہم ہے اور اُن کو کچھ ہو گیا تو پورا عالم سوگ میں ڈوب جائے گا۔ ہمارے یہ وی آئی پی بھول جاتے ہیں کہ قبرستان ناگزیر لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔

بکواس اور بے معنی نوکریوں کی دوسری قسم ایسی نوکریاں ہیں جن کا کام سمندر کی لہرِیں گننا ہے۔ ایسی نوکریاں کرنے والوں کی متعدد اقسام ہیں۔ ایک قسم اِن لوگوں پر مشتمل ہے جو یہ دیکھتے ہیں کہ کتنے لوگ حاضر ہیں اور کتنے غائب ہیں۔ کتنے لوگ ٹیم الف میں ہیں اور کتنے ٹیم ب میں اور وہ نگرانی کرتے ہیں کہ کون کب آیا اور کب چلا گیا۔ وہ یہ بھی نوٹ کرتے ہیں کون کس کے ساتھ باتیں کر رہا تھا اور کتنی دیر بات کرتا رہا۔

ان کی نظر ہر بندے پر ہوتی ہے سوائے اپنے۔ بکواس نوکریوں کی ایک اور قسم اُن نوکریوں پر مشتمل ہوتی ہے جن کا کام مختلف قسم کی رپورٹیں بنانا ہوتا ہے جس کی بنیاد پر کسی بھی ادارے کے اصلی اور حقیقی لیڈر فیصلے کرتے ہیں۔ جب کہ سچ تو یہ ہے کہ بزنس لیڈر فیصلے اُن بنائی ہوئی رپورٹوں پر نہیں بلکہ اپنے دل کی مرضی سے کرتے ہیں۔ البتہ رپورٹیں بنانے والے رپورٹیں بنا بنا کر ہلکان ہوتے رہتے ہیں۔ بکواس نوکری کی ایک اور قسم ایسی نوکری ہوتی ہے جو دوسروں کی لگائی ہوئی آگ کو بجھانے والوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ جب تک آگ لگانے والوں کا مبارک وجود سلامت ہے آگ بجھانے والوں کی نوکری پکی ہے۔

وہ نوکریاں جس میں مختلف چیک باکسوں پر ٹک یا کراس کے نشان لگائے جاتے ہیں وہ بھی بکواس نوکریوں کی فہرست میں ممتاز مقام رکھتی ہیں۔ اُس نوکری کے نوکر ضابطوں کی پابندی کرنے والوں کے چیک باکس پر ٹک لگاتے ہیں اور جو ضابطوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں اُن کے چیک باکس کو کراس لگا کر داغدار کرتے ہیں۔

اداروں کے لیڈروں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ لوگ صرف تنخواہ حاصل کرنے کے لئے اور اپنی معاشی ضروریات پورا کرنے کے لئے نوکری نہیں کرتے ہیں بلکہ وہ نوکری اس لئے کرتے ہیں تاکہ خود اپنی نظروں میں اپنے آپ کو مفید ثابت کر سکیں۔

جب ہم ایسی نوکریاں کرتے ہیں جس میں ہمیں تنخواہ تو ملتی ہے لیکن ہمیں اپنی پیداواری صلاحیتوں کو استعمال کرنے کا موقع نہیں ملتا تو ہم دھیرے دھیرے ڈپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مغرب میں ایک ریسرچ کی گئی کہ وہ لوگ جن کا لاٹری میں بڑا انعام نکل آیا اور اب اُنہیں اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے نوکری کی ضرورت نہیں رہی وہ لاٹری نکلنے کے بعد بھی نوکری کرتے رہے کیونکہ نوکری اُن کو کارآمد اور مفید انسان بنانے میں مدد گار ثابت ہو رہی تھی۔

ہمارا کام اگر بامقصد ہو اور ہمارے ادارے اور وطن کے لئے مَنفَعَت بَخش ہو تو ہماری اپنی ذات کے لئے بھی فائدہ مند ہے کیونکہ ایسے مقصدیت سے بھرپور کام سے ہماری اپنی زندگی معنویت سے معمور ہو جاتی ہے اور ہمارا یہ احساس پختہ ہو جاتا ہے کہ زندگی صرف دن سے رات اور رات سے دن تک کا سفر طے کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ زندگی میں ایسے کام کرنے بھی ممکن ہیں جن سے ٹھہرے پانیوں کو دوبارہ سے روانی عطا کی جا سکتی ہے اور ایک نقطے سے آغاز کر کے ہر طرح کی جیومیٹریکل شکل بھی بنائی جا سکتی ہے۔

ہر انسان کو ایسی زندگی بسر کرنی چاہیے کہ دم رخصت وہ خود سے کلام کرتے ہوئے کہہ سکے کہ میں نے زندگی کو گل و گلزار بنانے میں اپنا تھوڑا بہت کردار ضرور ادا کیا ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments