رحم و کرم کی داستان : بھکاری اور اس کا گدھا


میرے سکول کے قریب جہاں میں ملازمت کرتی ہوں ادھر ایک گلی چھوڑ کر سڑک کنارے ایک معذور شخص دیوار کی چھاؤں میں بیٹھا بھیک مانگ رہا ہوتا ہے، اس کے پاس پڑی بیساکھی اس کے معذور ہونے کو ظاہر کرتی ہیں۔ سڑک کے کونے پر جدھر وہ بیٹھتا ہے ادھر سے دو اطراف میں سڑک نکلتی ہے۔ اس کے بیٹھنے کی مخالف سمت جو سڑک جاتی ہے ادھر ایک گھر میں لگے درختوں کی چھاؤں بھی سڑک تک آتی ہے۔ ایک دن سکول کے کام کے سلسلے میں مجھے ایجوکیشن کمپلیکس جانا پڑا تو دیکھا کہ وہ بھکاری خود تو دیوار کی چھاؤں میں سکون سے بیٹھا ہے مگر اس کی گدھا گاڑی دھوپ میں کھڑی ہے۔

اس بھکاری نے چونکہ اس جگہ کو بھیک مانگنے کا اڈا بنا رکھا ہے تو صبح سے شام تک وہ روزانہ یہیں بیٹھا رہتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس کے گدھے کو بھی اتنی شدید گرمی میں دن بھر ادھر ہی کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ مجھے اس کے گدھے کی حالت پر بہت دکھ ہوا کہ وہ بے چارہ بے زبان کس گناہ کی سزا میں چالیس ڈگری تک ٹمپریچر میں دھوپ میں جھلستا رہتا ہے۔

ایک آدھ بار تو میں نے نظر انداز کیا، کہ شاید یہ بھکاری سدھر جائے اور گدھا گاڑی کو قریب موجود درختوں کی چھاؤں میں دور کھڑا کر دے مگر وہ نہ سدھرا۔ تو ایک دن میں نے ہمت کر کے اس بھکاری کو کہہ ہی دیا کہ انکل آپ اس بے چارے گدھے کو ذرا پیچھے موجود درختوں کی چھاؤں میں کھڑا کر دیا کریں یہ بھی جاندار ہے، تکلیف محسوس کرتا ہے، پر بے زبان ہے اس لیے اپنی تکلیف نہیں بتا سکتا لہذا آپ ہی اس کا کچھ احساس کریں۔ آپ خود دھوپ میں نہیں بیٹھ سکتے تو اس بے چارے کو بھی دھوپ میں کھڑا نہ کیا کریں۔ اللہ تعالٰی کا کچھ خوف کریں۔ بھکاری نے یہ سن کر مجھے کہا ٹھیک ہے بیٹا میں اسے چھاؤں میں کھڑا کر دوں گا، پر اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوا۔ مجھے جلدی تھی تو ادھر سے چل پڑی، پر جاتے جاتے بار بار مڑ کر دیکھتی رہی کہ شاید بھکاری گدھا گاڑی کو چھاؤں میں کھڑا کرنے کے لیے اٹھ جائے مگر وہ نہ اٹھا جس پر مجھے شدید مایوسی ہوئی چونکہ میں چاہ کر بھی گدھے کو چھاؤں میں کھڑا نہیں کروا پائی تھی۔ اس دن کے بعد اگلے چند دن میں اس بھکاری کے ظلم اور جبر پر جو وہ اس گدھے پر روا رکھے تھا سوچتی اور کڑھتی رہی۔

مگر چند دن بعد جب میں پھر اس راستے سے گزری تب دیکھا کہ بھکاری نے اس بار گدھا گاڑی کو دیوار کے ساتھ لگا کر درختوں کی چھاؤں میں کھڑا کر رکھا ہے۔ مجھے دیکھتے ہی بھکاری مجھے کہنے لگا کہ دیکھو بیٹا اب میں گدھے کو چھاؤں میں کھڑا کرتا ہوں جس پر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ میں نے بھکاری کا شکریہ ادا کیا اور کہا انکل آپ کو اس کا بہت ثواب ملے گا اور آگے چل پڑی۔ اس کے بعد بھی میرا کئی بار ادھر سے گزر ہوا اور میں نے ہمیشہ گدھا گاڑی چھاؤں میں ہی کھڑے دیکھی۔

اس کہانی کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد نظر رکھنی چاہیے اور اگر کوئی شخص کسی جانور کے ساتھ ظالمانہ سلوک کرتا ہے تو خاموش تماشائی بننے کی بجائے ہمیں اس شخص کو سمجھانا اور روکنا چاہیے۔ جانور بھی انسان کی طرح دکھ، درد اور تکلیف محسوس کرتے ہیں اور انہیں اس سب سے بچانا ہمارا اخلاقی فرض ہے۔ ہمیں اپنے حصے کی نیکی کرنے کا ایسا موقع کبھی بھی کہیں بھی ضائع نہیں کرنا چاہیے کہ ایسی نیکی جو کسی بدلے کے لالچ کے بغیر کی جائے وہی اصل نیکی ہوتی ہے۔

Facebook Comments HS