فطرت بہترین دوست اور بدترین دشمن بھی

1983 میں میکسیکو کی ریاست ہائیڈالگو میں واقع چھوٹے سے گاؤں مولنگو ڈی ایسکاملا میں ایک حیرت انگیز واقعہ رونما ہوا۔ گاؤں والوں نے دیکھا کہ ان کا مقامی پانی کا ذریعہ جو کہ ایک چشمہ تھا خشک ہو رہا ہے۔ آنے والے پانی کے بحران کے پیش نظر انہوں نے ایک غیر متوقع حل کی طرف رجوع کیا اور وہ تھا درختوں کی کاشت۔ دیہاتیوں نے آس پاس کے پہاڑوں میں درخت لگانے کے ایک پرجوش منصوبے کا آغاز کیا۔ اور کئی سالوں کی انتھک کے بعد جہاں کبھی بنجر پہاڑی تھے اب، زندگی سے بھرے سرسبز و شاداب جنگلات کھڑے تھے۔
جیسے جیسے درخت پختہ ہوتے گے ٙ ان کی جڑیں مٹی میں گہرائی تک پہنچ گئیں۔ انہوں نے زمین کو مستحکم کرنے اور پانی کے بہاؤ کو منظم کرنے میں مدد کی اور بارش کے پانی کو زیادہ موثر طریقے سے جذب کیا۔ ان درختوں نہ صرف پانی کے منبع کو زندہ کیا بلکہ جنگلی حیات کے لیے مسکن بھی فراہم کیا۔ ہوا کے معیار کو بہتر بنایا اور گاؤں کا لائف سٹائل میں ایک مثبت تبدیلی لے کر آئے ٙ۔ میکسیکو کے گاؤں کی یہ کہانی کوئی لفظی بیان نہیں بلکہ ایک حقیقی واقعہ ہے۔ آس پاس کے پہاڑوں پر جنگلات لگانے اور اپنے آبی ذرائع کو بحال کرنے کے لیے گاؤں والوں کی ان کوششوں کو بین الاقوامی سطح پر ماحولیاتی تحفظ کی ایک کامیاب مثال کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔
فطرت ہماری بہترین دوست ہے۔ لیکن بدترین دشمن بھی۔ فطرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نے انتہائی درجے کی ماحولیاتی تبدیلیوں کی صورت میں پوری کرہ ارض کو سٹیک پر لگا رکھا ہے۔ قدرت کے اس کارخانہ میں درخت ایک انمول خزانہ ہیں۔ اور یہ راز میکسیکو وہ ان پڑھ، جاہل دیہاتی جان چکے تھے۔ اب ایک نظر ڈالتے ہیں پڑھے لکھے پیارے پاکستان پر۔ ہماری شاید پنجم کلاس سے ہی اردو گرائمر میں اور بہت سارے خیالی مضامین کے ساتھ ایک جنگلات کے فائدے بھی گھوٹ گھوٹ کر رٹوایا جاتا ہے۔
لیکن زمینی حقائق سب کے سامنے ہیں۔ آج جو حشر ہم اپنے جنگلات کا کر رہے ہیں وہ آئے ٙ روز ملک میں آنے والے سیلابوں کی شکل میں نکل رہا ہے۔ کہیں مٹی کے تودے گر رہے ہیں اور کہیں لینڈ سلائیڈنگ کے اندوہ ناک حادثات ہو رہے ہیں۔ گرمی ہے تو شدید تر۔ اور مون سون کے موسم میں بھی بارش ندارد۔ اور رہی بات شہروں کی تو ایک وقت آئے گا جب ان کنکریٹ بھرے شہروں میں درخت صرف کتابوں، لینڈ سکیپ پینٹنگز اور گھر میں لگائے ٙ گئے گملوں میں ہی رہ جائیں گے۔
ہر سال جوش و خروش سے کی جانے والی شجر کاری مہم بھی اخبارات اور سوشل میڈیا پر فوٹوز کی صورت میں ہی نظر آتی ہے۔ اور جو خدا ترسی میں اکا دکا پودے لگا بھی دیے جائیں وہ۔ مناسب دیکھ بال نہ ہونے کی وجہ سے کھلے عام دندناتی پھرتی گائیں، بھینسوں اور بکریوں کا بھوجن بن جاتے ہیں۔ سونامی ٹری کا ٹوپی ڈرامہ بھی یہ قوم دیکھ چکی۔ سرکاری اور نجی سطح پر گلوبل وارمنگ کا ڈھنڈورا بھی خوب پیٹا جاتا ہے۔ لیکن عملی طور ہر درخت لگانے کی ضرورت اور اہمیت کی جانب کوئی رخ نہیں کرتا۔
اگر ہم قدرتی حسن کی بات کریں تو فطرت کے ڈیزائن میں درخت ایک خوبصورت شاہکار ہیں۔ قدیم تہذیبوں کے مقدس درختوں سے لے کر جاپان کے چیری کے پھولوں اور کیلیفورنیا کی بلند و بالا سرخ لکڑیوں تک، درختوں کو ثقافتی شناخت اور روحانی روشن خیالی کی علامت کے طور پر ایک طویل عرصے سے تعظیم دی جاتی رہی ہے۔ درخت کا ہمارے لیے ٙ سب سے بڑا انعام اس کے پھلوں یا چھاؤں سے کہیں زیادہ اس ہوا میں ہے جس میں ہم سانس لیتے ہیں۔ اسی لیے تو ان کو ہماری زمین کے پھیپھڑے کہا جاتا ہے۔
پرندوں، جانوروں اور مسافروں کیلے ٙ پناہ گاہوں کا کام کرنے والے ہر درخت کے پاس سنانے کے لیے ایک کہانی ہوتی ہے۔ انسانی لالچ کی بنیاد پر کٹنے والا ہر درخت ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنی زمین کی خوبصورتی اور انسانی بقا کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ یاد رکھیے جو قوم اپنی مٹی کو تباہ کرتی ہے وہ خود کو تباہ کر لیتی ہے۔
کہتے ہیں کہ درخت اپنے پھل سے اور آدمی اپنے عمل سے پہچانا جاتا ہے۔ جیسے نیکی کبھی ضائع نہیں ہوتی ویسے ہی آج ہم جو بوئیں گے وہ ہماری نسلیں کاٹیں گی۔ جب ہم درخت لگاتے ہیں تو ہم آنے والی نسلوں کے لیے امید اور ایک ہرے بھرے مستقبل کے بیج بو کر اسے محفوظ بناتے ہیں۔ آج لگایا گیا ہر درخت آنے والی نسلوں کے لیے بہترین میراث ہے اور ان کے لیے سائے ٙ، پھل، آکسیجن اور خوبصورتی کے علاوہ کتابوں کا بھی تحفہ ہے۔ درخت لگانا بذات خود صدقہ جاریہ اور ہمارا کل پر یقین کرنا ہے۔ سب سے بڑی خدمت جو ہم اپنے ملک کے لیے کر سکتے ہیں اور وہ بھی بنا کسی خرچے کے وہ ہے اس مٹی میں ایک مفید پودا لگانا۔ چینی کہاوت ہے کہ ”درخت لگانے کا بہترین وقت 20 سال پہلے تھا۔ دوسرا بہترین وقت اب ہے۔“
خود بھی درخت لگائیے ٙ اور اپنے بچوں کو بھی ان کا دوست بنائیے۔ یقین مانیے درخت انسانوں سے زیادہ اچھے اور مخلص دوست ثابت ہوتے ہیں۔

