ہیرا منڈی کو بھنسالی کی آنکھ سے دیکھو


سوشل میڈیا پہ ہیرا منڈی ٹرینڈ میں ہے ابھی تک، اس پہ تنقید بھی کی جا رہی ہے اور تعریف بھی، سوشل میڈیا کے جوکرز ہیرانڈی کے کریکٹرز کی میمکریز کر رہے ہیں، تبصرے کر رہے ہیں۔ آج میں نے سنجے لیلا بھنسالی صاحب کی نیٹ فلکس سیریز ہیرا منڈی کی پہلی قسط دیکھی، غم روزگار کے بکھیڑوں نے ریلز کے وقت ہیرا منڈی دیکھنے کا وقت نہ دیا تھا۔

بالی ووڈ میں جو میرے پسندیدہ ڈائریکٹرز ہیں بھنسالی صاحب کا نام ان میں سر فہرست آتا ہے، بھنسالی صاحب کا خاصہ ہے کہ وہ قدیم وقت کو جدید انداز میں اسکرین پہ پینٹ کرتا ہے۔
یہ سیریز فارمولا یا چربہ فلمیں دیکھنے والوں کے لئے نہیں ہے۔

ہیرا منڈی سیریز کا پہلا فریم کھلا تو یوں لگا کہ کسی شاہکار پینٹنگ کو سانس لیتا دیکھ رہا ہوں، اس کہ بعد ہر فریم کسی مصور کا شاہکار لگا، اتنی عمدہ اور فائن لائیٹ، موم بتیوں، چراغوں، فانوسوں، روشن دانوں، چاند اور سورج کے بے حد ہی اعلیٰ سورس کریئیٹ کیے گئے ہیں، بہترین کیمرہ ورک، شاندار سیٹ، کلاس کا آرٹ ورک لاجواب کلر پیلٹ، وارڈ روب، جیولری، پراپس، کمال کوریوگرافی، اجسام کی شاعری جیسا رقص، روح تک میں اتر جانے والی موسیقی، عمدہ پرفارمنس، ”سیاں“ یا ”سکل بنا“ گیت کیا موسیقی ہے ہش ہش کر اٹھتا ہے دل۔

کہانی کی گانٹھیں ابھی کھل رہی ہیں مگر کہیں بھی ڈریگ ہوتی محسوس نہیں ہوتی، شاہی محلے کی سردار طوائف کی ڈکٹیٹرشپ کو کمال خوبی سے بیاں کیا گیا ہے جس کے در پہ راجاؤں اور نوابوں کے تخت سر بسجود ہوتے ہیں، ناز ادائیں، رکھ رکھاؤ، حسن انا بڑی عرق ریزی سے بیاں کیا گیا ہے۔

سیاں گیت کے ایک شارٹ میں ادیتیا رائے حیدری فردین کے پہلو میں آ کہ لیٹتی ہے اور اس وقت گیت کے مصرع ”اب گھر جانے تو دو سیاں“ میں جب فردین اس کے ناک سے نتھ اتارتا ہے اس وقت جو اس عورت نے ایکسپریشن دیا ہے وہ عورت کے روح اور جسم کے فاصلوں کو مفصل بیاں کر دیتا ہے۔

یا وہ شارٹ جس میں نوجوان ملکہ سیڑھیوں سے اتر رہی ہے کیمرہ موو کرتا کھڑکی سے نکتا روڈ پہ آ جاتا ہے اور اس کے فور گراؤنڈ سے بگی گزر جاتی ہے۔

یا ملکہ جب بگی سے اتر کے ہیرا منڈی کے محل میں جاتی اس شارٹ میں جو ہیرامنڈی کے ماحول کی عکاسی کی گئی ہے، کیریکٹرز کا بزنس چہل پہل، بازار کا ماحول، سیٹ پہ کسی خواب سا گمان ہوتا ہے، اس شارٹ میں گمشدہ تاریخ کی جھلک سانس لیتی دکھائی دیتی ہے یا وہ ایکسٹیرئر ٹریک شارٹ جس میں ہیرا منڈی کی ہر بالکنی، ٹیریس، کھڑکی، کوٹھے پہ رقص و رس کی محفلوں کو ایک ہی شارٹ میں دکھایا گیا ہے اور اسی شارٹ میں ہیرا منڈی کے بازار کی گہما گہمی، چہل، پہل کاروبار کو بھی عکس بند کیا گیا ہے۔

ایسی فریمنگ، اسکرین پلے، شارٹ ڈیزائننگ، ڈائریکشن کوئی عظیم ڈائریکٹر ہی کر سکتا ہے، یا رقص کے جو شارٹس تھے ایسا لگتا تھا جیسے اجسام کے ساتھ ڈائریکٹر کے فریمز بھی محو رقص ہیں، بڑے عرصے بعد کوئی ایسی سیریز/فلم دیکھی جس میں بیک وقت، اتم اداکاری، کمال رقص، شاندار سیٹ، اعلیٰ آرٹ ورک، لاجواب وارڈ روب، جیولری، کلاس شاعری، روح کی گہرائیوں میں اتر جانے والی موسیقی تھی، جو ادب آرٹ، شاعری موسیقی، رقص اداکاری کے بارے میں نہیں جانتے وہ اس سیریز سے دور رہیں، یہ ان کے لئے نہیں ہے

Facebook Comments HS