نصراللہ گڈانی: بھوتار مائے فوٹ! سردار مائے فوٹ!
نصراللہ گڈانی، جو اپنی جرات مندانہ صحافت کے لیے مشہور تھے، وہ ایک سندھی اخبار کے لیے کام کرتے تھے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے اپنی رپورٹس شیئر کرتے تھے۔ وہ مقامی جاگیرداروں، سیاسی شخصیات اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف بے خوف رپورٹنگ کے لیے مشہور تھے۔ وہ ایک عوامی صحافی تھے انہوں نے ہمیشہ عوام کو اپنے قلم کا موضوع بنایا۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گڈانی اپنی رہائش گاہ سے میرپور ماتھیلو پریس کلب جا رہے تھے۔ دین شاہ کے قریب جروار روڈ پر کار میں سوار مسلح حملہ آوروں نے صحافی پر گھات لگا کر حملہ کیا، موقع سے فرار ہونے سے پہلے ان پر فائرنگ کی۔
صحافی نصراللہ گڈانی کراچی کے نجی ہسپتال میں زخموں کی تاب لاتے ہوئے جمعے کے دن زندگی کی بازی ہار گئے۔ قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے صحافی نصراللہ گڈانی دھرتی ماں کی آغوش میں گھری نیند سو گئے۔ نصراللہ گڈانی کو چار گولیاں لگنے سے ان کا جگر، مثانہ اور پھیپھڑے متاثر ہوئے تھے۔ انھیں پہلے شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان منتقل کیا گیا تھا، بعد ازاں گزشتہ روز ائر ایمبولینس سے کراچی کے نجی ہسپتال منتقل کیا گیا، صحافیوں تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود پولیس حملہ آوروں کا سراغ لگانے میں ناکام ہے۔
مشہور صحافی حامد میر نے اپنے ٹویٹر پیغام میں کہا کہ ایک اور صحافی نصراللہ گڈانی دوران ڈیوٹی شہید۔ اس کی رپورٹنگ کا انداز دیکھیں۔ انہوں نے سندھ کے شہری مسائل کو بڑی جرات کے ساتھ اجاگر کیا اور اسی وجہ سے انہیں بار بار گرفتار کیا گیا۔ آخر طاقتور لوگوں نے اسے خاموش کر دیا۔ سندھ پولیس ان کی سب سے بڑی دشمن تھی۔
ڈی آئی جی سکھر پیر محمد شاہ کے مطابق گڈانی موٹر سائیکل پر سوار تھے جب 21 مئی کو دن دیہاڑے میرپور ماتھیلو میں مسلح دو سواروں نے انہیں نشانہ بنایا۔
ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں نے 9 ایم ایم پستول سے چلائی گئی گولیوں کے خول اکٹھے کیے ہیں اور انہیں فرانزک لیب میں بھیج دیا ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا یہی ہتھیار سابقہ جرائم میں استعمال ہوا تھا۔
سندھ میں وڈیروں جاگیرداروں اور سرداروں کی ذریعہ پرامن سندھ تباہ اور برباد کر دیا ہے۔ گزشتہ کیے عرصے سے سندھ میں بدامنی اغوا اور ڈکیتی کی آگ پھیلائی جا رہی ہے، ایک طرف کرپٹ حکومت آزاد ہے، دوسری طرف عوام اور قوم کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو سرعام قتل کیا جا رہا ہے۔ سندھ میں اکثر حق بلند کرنے والے کو موت کی نیند سلا دیا جاتا ہے۔ آج جب نصراللہ گڈانی ہمارے ساتھ نہیں رہے تو اس کا پیغام ہر شخص کی آواز بن چکا ہے جاگیرداری مردہ باد وڈیرہ شاہی مردہ آباد بھوتار مائے فوٹ کے نعرے ہر گلی ہر شہر کی زبان پر گونج رہے ہیں۔
میرپور ماتھیلو، گھوٹکی میں اپنے بیٹے نصراللہ کے قتل کی ایف آئی آر درج کرنے کی ناکام کوشش کے بعد اتوار کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے، انہوں نے دو سال قبل گڈانی کو قتل کرنے کی کوشش کرنے والے بلدیاتی ادارے کے چیئرمین کا نام بھی لیا۔
”لیکن اللہ تعالیٰ نے میرے بیٹے کو بچا لیا تھا۔ لیکن اب میں نہیں جانتی کہ اسے کس نے مارا یا اس قتل کے پیچھے کون ہے،“ پٹھانی گڈانی، ماں نے کہا۔ مائی جندو کی دو بیٹیوں نے 11 ستمبر 1996 کو حیدر آباد میں انسداد دہشت گردی کی عدالت کے باہر میجر ارشد جمیل اور ایک درجن سے زائد فوجیوں اور شہریوں کے مقدمے میں مبینہ طور پر لاپرواہی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے خود سوزی کر لی تھی۔
مقتول صحافی نصر اللہ گڈانی کی والدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے بیٹے کو قتل کرنے والے مجرموں کو قانون کے مطابق سزا نہ دی گئی تو مائی جندو کی تاریخ دہرائی جائے گی۔
ان سب پر جون 1992 میں نو بے گناہ شہریوں کو قتل کرنے کا الزام تھا، جن میں سے دو جندو کے بیٹے اور ایک داماد تھا۔ میجر جمیل کو بعد میں 28 اکتوبر 1996 کو موت کی سزا سنائی گئی۔ گڈانی کی والدہ کا خیال تھا کہ صحافی کو اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ اس نے بے خوفی سے ان عناصر کو بے نقاب کیا جو لوٹ مار میں ملوث تھے اور غریب اور کمزور لوگوں کے حقوق غصب کر رہے تھے۔
”مائی جندو کی طرح، میں بھی اس بات کو یقینی بنانے کے لیے زمین پر کیچڑ کے ساتھ اتری ہوں کہ مجرموں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے۔“
نصراللہ گڈانی ایک عوامی صحافی تھا وہ عوام کی آواز تھا، جو عوامی حقوق کے لئے مسلسل لڑتا رہا، نصراللہ پر اس حملے سے پھلے بھی انہیں وڈیروں نے جان لیوا حملے کروائے۔ مگر نصراللہ گڈانی کی زندگی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔ مگر اس بار دشمنوں کی گولیوں نے نصراللہ کے آواز کو وڈیروں نے ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا۔
اکثر لوگ مرنے کے بعد کسی کو یاد نہیں کرتے
کچھ لوگ تاریخ میں لکھے جائیں گے۔
اکثر لوگ موت سے ڈرتے ہیں۔
کچھ لوگ جیتے جی موت کو مار ڈالیں گے۔
زیادہ تر لوگ قوم کو جینے کے لیے مار ڈالیں گے۔
کچھ لوگ مریں گے اور قوم زندہ رہے گی۔
زیادہ تر لوگوں کو موت کا اپنا راستہ نہیں ملتا
کچھ لوگ نسلوں کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔
جمن دربار
صحافی نصر اللہ گڈانی کے انتقال پر صحافیوں، سیاسی، سماجی رہنماؤں اور قوم پرستوں سمیت سول سوسائٹی کا کہنا ہے کہ نصراللہ گڈانی کے بے رحمانہ قتل پر ہر آنکھ نم ہے۔ لوگوں کا کھنا ہے کہ قاتلوں کی گرفتاری تک احتجاج جاری رہے گا۔ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود پولیس حملہ آوروں کا سراغ لگانے میں ناکام ہے، پولیس کی ناکامی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایسے بے گناہ قتل ہوتے رہیں گے۔
سندھ حکومت کو چاہیے کہ وہ نصراللہ گڈانی قتل کی شفاف تحقیقات کرے اور سندھ پروٹیکشن آف جرنلسٹس اینڈ دیگر میڈیا پریکٹیشنرز ایکٹ کے نفاذ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرتے ہوئے مجرموں کو کڑی سزا دے۔ صحافی برادری کو آپسی اور ذاتی جھگڑوں کو ختم کر کہ نصراللہ گڈانی کے انصاف کے لئے جدوجہد کو مرکز بنائیں۔
تین مئی 2024 رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے ذریعہ شائع ہونے والے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس 2024 میں پاکستان دو درجے گر گیا۔ 2023 کے انڈیکس میں اس کے 150 نمبر کے مقابلے میں اب یہ 180 ممالک میں 152 ویں نمبر پر ہے
گڈانی کی جرات مندانہ رپورٹنگ اکثر جاگیرداروں اور سیاستدانوں کی طرف سے طاقت کے غلط استعمال کو نشانہ بناتی تھی، نصراللہ گڈانی ان مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے اس کی بے خوف لگن نے بالآخر اس کی جان لے لی۔
کارکنوں اور ساتھیوں کا کہنا تھا کہ مقتول صحافی اپنی رپورٹنگ میں سندھ کے غریب عوام کے مسائل کو مسلسل اجاگر کیا کرتے تھے۔ گڈانی علاقے کے طاقتور جاگیرداروں پر بھی تنقید کرتے تھے، جس کی وجہ سے پولیس نے انہیں بار بار حراست میں لیا،
گڈانی کی موت کی خبر نے صحافیوں اور سول سوسائٹی کے ارکان میں غم و غصے کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں مقتول رپورٹر کے لیے انصاف کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سندھ نے نصراللہ گڈانی اور اس طرح کے تشدد کے دیگر متاثرین کے لیے انصاف کی جنگ جاری رکھنے میں صحافی برادری، سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کے اہم کردار پر زور دیا۔
جمعے کی شام اور اتوار کی شام نصراللہ گڈانی ایکشن کمیٹی کے ساتھی لوگوں نے اور وکلا برداری نے صحافی نصراللہ گڈانی کے قتل کے خلاف کراچی پریس کلب کے باہر مختلف سیاسی و سماجی تنظیموں نے احتجاج کیا۔ اور ان کو خراج تحسین پیش کی اور مطالبہ کیا کہ نصراللہ گڈانی کے قاتلوں کو سزا دی جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ آج تک نصراللہ گڈانی کے قتل کی ایف آئی آر بھی درج نہیں ہوئی۔
ملک میں صحافی بھی محفوظ نہیں۔ وکلاء، طلباء اور صحافیوں نے پریس کلب کے باہر احتجاج کرتے ہوئے نصراللہ گڈانی کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میرپور ماتھیلو سے تعلق رکھنے والے صحافی پر حملے کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے لیکن حملہ آوروں کا کوئی سراغ نہیں ملا۔
شہید نصراللہ گڈانی کی نماز جنازہ میں ہزاروں چاہنے والوں نے شرکت کی۔ کیوں کہ وہ ایک عوامی صحافی تھا اور عوام کی دلوں میں راج کرتا تھا۔ جو انسان مٹی سے محبت کرتا ہے اسے مٹی بھی عزت دیتی ہے۔

