کنڈکٹ آف وار: ایک اجمالی جائزہ!


دس بارہ برس کی سروس کے بعد بیسیوں کی تعداد میں فوجی افسر کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ میں چلائے جانے والے ’سٹاف کورس‘ میں شمولیت کے لئے ’مقابلے کے امتحان‘ کی طرز پر منعقدہ سالانہ ’اینٹرنس ایگزیم‘ کی مہینوں جاں گسل تیاری کیا کرتے ہیں۔ اب کا ہمیں معلوم نہیں، ہمارے زمانے میں تو برطانوی جنرل فریڈرک فُلرکی ’کنڈکٹ آف وار‘ انٹرنس ایگزیم میں شامل ملٹری ہسٹری کے پرچے کا لازمی حصہ ہوتی تھی۔ بہر صورت، کتاب میں زیرِ بحث لائے گئے موضوعات کی اہمیت، کلاز وٹز جیسے عسکری مفکروں کی تھیوریاں اور نپولین جیسے جرنیل کی ’گرینڈ جنگی حکمت عملی‘ اور ’لازوال جنگی اصولوں‘ کی افادیت اپنی جگہ آج بھی قائم و دائم ہے۔

ازکارِ رفتہ سپاہی نے سال 1994ء میں جب ’سٹاف کورس انٹرنس ایگزیم‘ کی تیاری شروع کی تو پہلے قدم کے طور پر عام روش سے ہٹ کر نفاست سے ٹائپ شدہ دستیاب نوٹس پر انحصار کرنے کی بجائے تمام کتابوں کو پڑھ کر اپنے ہاتھوں حاشیہ آرائی کا فیصلہ کیا۔ لگ بھگ تیس برسوں بعد کسی حوالے کی تلاش میں انہی کتابوں میں سے ایک یعنی ’کنڈکٹ آف وار‘ کو شیلف سے اٹھا کر کھولا تو فلیپس اور صفحہ در صفحہ حاشیوں پر دھندلے نقوش ابھر کر سامنے آنے لگے۔ لکھے مُو سا پڑھے خود آ۔ کہیں کہیں سے نوٹس اور کچھ پیرا گرافس کو پڑھنا شروع کیا تو معاملات کے کئی وہ پہلو آشکار ہونے لگے کہ جو تین عشروں پہلے نگاہوں سے اوجھل رہے تھے۔

جنرل فُلر کی زیرِ نظر کتاب کا مرکزی خیال جنگوں میں خونریزی کو محدود (لمیٹڈ وارز) رکھے جانے کی ضرورت پر استوار ہے۔ جنرل کی رائے میں جنگوں کو ’مہذب‘ ہونا چاہیے کہ جو ’وحشیوں کے مابین لامحدود خون ریزی‘ نہیں بلکہ دو ماہر باکسروں کے درمیان طے شدہ قواعد و ضوابط کے تحت کھیلے جانے والے ’مقابلے‘ کی طرح لڑی جائیں۔ کتاب کا آغاز از منہ وسطیٰ کے مطلق العنان بادشاہوں کے درمیان کرائے کے فوجیوں (مرسینریز) کے ذریعے لڑی جانے والی ’محدود جنگوں‘ اور یورپ میں عشروں پر محیط مذہبی خونریزی کے تذکرے پر مشتمل باب سے ہوتا ہے کہ جب دونوں اطراف سے توجہ اکثر فریقین کے جانی نقصان کی بجائے جنگی چالوں کے ذریعے ایک دوسرے کو تھکا کر فتح اور اس کے نتیجے میں امکانی مال ِ غنیمت کے حصول پر مرکوز ہوتی تھی۔

کتاب کے دوسرے باب میں ان عوامل کو زیرِ بحث لایا جاتا ہے کہ جن کے نتیجے میں اٹھارہویں صدی عیسوی کے اختتام پر انقلابِ فرانس کے نتیجے میں معاملات بادشاہوں اور جاگیرداروں کے اختیار سے نکل کر عام آدمی کے ہاتھوں میں آ گئے۔ ہر آدمی مسلح ہو کر گلی کوچوں میں نکل پڑا تو خونریزی کسی قاعدے اور قانون کے تابع نہ رہی۔ نتیجے میں ’محدود جنگیں‘ دیکھتے دیکھتے ’لامحدود خونریزی‘ میں بدل گئیں۔ تاہم روسو کے مطابق ’ایک آدمی، ایک بندوق‘ کا یہی وہ طرزِ عمل تھا جو بعد ازاں ’ایک آدمی، ایک ووٹ‘ کے تصور میں ارتقاء پذیر ہوا۔

کہا جاتا ہے کہ کوئی فرد تنہا انقلاب برپا نہیں کیا کرتا بلکہ انقلاب اپنی منہ زور لہروں پر کسی ایک شخص کو اچھال کر بے قابو حالات کی لگام اس کے ہاتھوں میں سونپ دیتا ہے۔ چنانچہ انقلابِ فرانس کی بد امنی کے نتیجے میں نپولین منظر نامے پر نمودار ہوتا ہے اور بادشاہت سے نجات پانے کے بعد ابتری کے شکار فرانس کو یکجا کر کے فتوحات کی راہ پر گامزن کر دیتا ہے۔ کتاب کا تیسرا باب نپولین کی جنگوں، اس کی گرینڈ سٹریٹیجی اور اس کے طے کردہ لازوال جنگی اصولوں کا احاطہ کرتا ہے۔

صدیوں پہلے نپولین نے بتایا کہ بیک وقت ایک سے زیادہ محاذ نہ کھولے جائیں۔ اپنی قوت کو ایک طے شدہ کلیدی ہدف پر مرکوز (کنسنٹریٹ) رکھا جائے۔ حرکت اور جارحیت کو وہ اپنی حکمتِ عملی کی کامیابی کی کلید سمجھتا تھا۔ تاہم نپولین کی سب سے بڑی کمزوری اس کے وہ جنرلز تھے جنہیں اس نے اچھے لیڈرز میں بدلنے کی بجائے احکامات کی پیروی کا عادی رکھا۔ نتیجے میں نپولین کے منظر سے ہٹتے ہی اُس کی عظیم سلطنت چشمِ زدن میں زمین بوس ہو گئی۔

کتاب کے چوتھے باب میں عظیم عسکری فلاسفر کلاز وٹز کی ’جنگی تھیوریز‘ کو زیرِ بحث لاتے ہوئے، جنگ کی فطرت، محدود اور لامحدود جنگوں میں تقابل کے ساتھ ساتھ نپولین کی جنگوں کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ اسی باب میں کئی ایک ایسی تھیوریز کا تعارف بھی شامل ہے کہ جن کی بازگشت آج بھی دنیا بھر کے معروف عسکری تعلیمی اداروں میں سنی جا سکتی ہے۔ کلاز وٹز کی رائے میں کسی بھی ریاست کو جنگ کو بحیثیت پالیسی اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

اس کے برعکس جنگ کو پالیسی کے حصول کے محض ایک ’انسٹرومنٹ‘ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ چنانچہ کسی بھی حربی معرکے کا مقصود پالیسی اہداف کا حصول ہونا چاہیے نا کہ حریف کی مکمل شکست، تباہی یا ہزیمت۔ (کوشش کی جائے تو کلاز وٹز کا یہی نظریہ ہمارے ہاں کی ’اندرونی گروہی کشمکش‘ میں بھی بروئے کار لا یا جا سکتا ہے ) ۔ کلاز وٹز نے ہی ’سنٹر آف گریوٹی‘ کا نظریہ پیش کیا تھا۔ ریاستی معاملات میں ’سنٹر آف گریوٹی‘ سے مراد کسی بھی ریاستی ڈھانچے کے اندر وہ جوہری عنصر ہے کہ جو پورے نظام کو باہم جوڑے رکھتا ہے۔

اسی عنصر کی درست نشاندہی کے بعد اسے نشانہ بناتے رہنا ہی ریاست کے دشمنوں کی کوششوں کا مرکزی محور ہوتا ہے۔ خود ہمارے ہاں آزادی کے ابتدائی برسوں میں بتایا گیا کہ اسلام ہمارا ’سنٹر آف گریوٹی‘ ہے۔ مشرقی پاکستان کی علیٰحدگی سے اگرچہ اس نظریے کو شدید ضعف پہنچا ہے تاہم کئی حلقے اب بھی اس خیال کی حقانیت پر مصر رہتے ہیں۔ حالیہ برسوں یا عشروں میں دیکھا گیا ہے کہ کسی نہ کسی صورت افواجِ پاکستان کو بھی ریاست کا ’سنٹر آف گریوٹی‘ قرار دیا جاتا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ہماری عسکری قوت کو نشانہ بنایا جانا ہی دراصل ہمارے دشمنوں کا اولین ہدف ہے۔ تاہم مختلف سیاسی گروہوں کی اس نظریے سے وابستگی یا مخالفت وقت کے ساتھ ساتھ اُلٹ پھیر ہوتی رہتی ہے۔

غالباً یہ کلازوٹز ہی تھا کہ سولہویں صدی کے عظیم سٹیٹسمین میکیاولی کی اپنے ’پرنس‘ کو کی جانے والی نصیحت کی طرح جس نے ایک قومی فوج کو مشورہ دیا تھا کہ جب کسی ریاست میں وسائل پر قابض الیٹ گروہ اور عوام باہم برسرِ پیکار ہوں تو بحر صورت اسے عوام (Multitude) کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔ کتاب کے بقیہ ابواب میں، امریکی سول وار، صنعتی انقلابات اور دونوں عالمی جنگوں کے اسباب اور ’کنڈکٹ‘ کے علاوہ سوشلسٹ نظام کے عالمی بساط پر ابھرنے اور حربی حکمت عملیوں پر اس کے امکانی اثرات کا تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ کتاب کے اختتام میں نیوکلیئر ہتھیاروں کے ظہور کے نتیجے میں ابھرنے والے پریشان کن امکانات پر بحث کی گئی ہے۔ جنرل فُلر کی رائے میں جنگیں تو عالمی جسم پر رِستے زخموں کو مندمل کیے جانے کے لئے لڑی جانی چاہئیں۔ تاہم تاسف کے ساتھ وہ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جنگیں اب عالمی بربریت کے سوا کچھ نہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments