درمیانی رستہ تلاش کیجئے ورنہ


اس وقت پاکستانی معاشرہ بری طرح تقسیم اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ہر بندہ اپنے آپ کو سمجھدار اور راہ راست پر اور باقی سب کو کم عقل اور گمراہ سمجھتا ہے۔ یہ تقسیم صرف سیاست تک محدود نہیں، مذہبی فرقے ہو، سرکاری محکمے اور ادارے ہو، غیر سرکاری تنظیمیں ہو یا پھر صحافتی اور بار ایسوسی ایشنز ہر جگہ یکساں تباہی پھیلی ہوئی ہے۔ اس کی وجوہات پر بات کرنے اور نفرتیں بڑھانے کی بجائے کیوں نہ موجودہ ملکی اور سیاسی صورتحال کا مختصر جائزہ لے کر آگے بڑھنے کی بات کی جائے۔

موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سیاسی پارٹیاں اور افراد تو درکنار تمام بڑے ریاستی اداروں میں بھی آئین و قانون کی پیروی کی بجائے پسند و ناپسند گروپ بندی سازشوں اناؤں اور اختیارات کی جنگ جاری ہے۔ سیاست کا کھیل ان افراد اور اداروں کے دماغ میں بھی گھس کر قبضہ جما چکا ہے جس کے لئے سیاست سے دوری اور غیر جانبداری منصب کا تقاضا اور شرط اولین ہے۔ ہر بندہ حب الوطنی اور ملکی مفادات کے نام پر اپنے اپنے اختیارات سے تجاوز کرتا نظر آتا ہے۔

فوج اور سیاستدانوں کے درمیان تناؤ اور لڑائی جو کسی زمانے میں چھپ چھپ کے ہوا کرتی تھی اب ببانگ دہل ہوتی ہے اور اس کے قصے زبان زدعام ہے۔ سیاست اور عدالت میں 70 سال سے جاری نادیدہ قوتوں کی مداخلت کی باقاعدہ مزاحمت شروع ہوئی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ آئینی اداروں کے درمیان اختیارات کی تقسیم کی نہیں بلکہ اپنی اپنی بقاٗ کی جنگ جاری ہے۔ برائے نام تو سب آئینی ادارے ہیں مگر آپس میں دست و گریباں ہے تو کوئی بھی اپنے آئینی حدود پر رکنے اور سر تسلیم خم کرنے کو تیار نہیں۔ لگتا ہے افراد کے مفادات اور اشخاص کی انائیں ریاست اور آئین سے بڑے ہو گئے ہیں۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ درمیانی رستہ تلاش کیا جائے۔ اور درمیانہ رستے کی نشاندہی اور فریقین کو اس رستے پر چلنے کے لئے آمادہ کرنا مشکل ضرور ہے مگر ناممکن نہیں۔

میرے خیال میں اس وقت چیف جسٹس آف پاکستان قاضی فائز عیسی وہ واحد شخصیت ہے کہ اگر وہ چاہے تو تین بڑوں کو ساتھ بٹھا کر اس دلدل سے نکلنے اور آگے بڑھنے کا راستہ تلاش کر سکتے ہیں۔ انھوں نے عمران خان کے دور میں اپنے خلاف کیس کو جس صبر اور استقامت کے ساتھ جیتا۔ وہ اس بات کی ثبوت کے لئے کافی ہے کہ ان میں حوصلہ استقامت سمجھ بوجھ اور دانش ہے۔ اگر وہ پہل کرے۔ صدر وزیر اعظم اور آرمی چیف کو چار نکاتی ایجنڈے پر ساتھ بٹھائے کہ

1۔ تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی، سیاسی مقدمات کا خاتمہ، غیر جانبدار الیکشن کمیشن اور بلا تفریق احتساب کو کیسے ممکن بنایا جائے؟ اگر ضروری ہو تو ان مذاکرات میں اپوزیشن لیڈر کو بھی شامل کیا جائے۔

2۔ تمام اداروں بشمول فوج، عدلیہ انتظامیہ کے ماضی کو بھلا کر ان کو اپنے اپنے آئینی حدود تک کس طرح محدود کیا جائے۔ اور مستقبل کے لئے کوئی ایسا مضبوط میکنزم ہو کہ آئین کی خلاف ورزی کو ناممکن بنایا جائے۔

3۔ قرض نہیں سرمایہ کاری کو قومی معاشی پالیسی بنائی جائے۔ اور معاشی پالیسی کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں لے کر قانون سازی کی جائے۔

4۔ بحیثیت انسان ہم سب کی بنیادی ضروریات یکساں ہوتی ہے اس لیے چاروں بڑے اس بات پر بھی غور کرے کہ تمام سرکاری و غیر سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں زمین و آسمان کے فرق کو کم سے کم کر کے دس گنا تک محدود کیا جائے۔ یعنی اگر کم سے کم تنخواہ 30 ہزار ہے تو زیادہ سے زیادہ 3 لاکھ ہونی چاہیے۔ اس سے زیادہ طبقاتی نظام اور کرپشن کا باعث بن رہی ہے۔

میرے بعض دوست اعتراض کر سکتے ہیں کہ آئین چیف جسٹس کو ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے اور باقی سب کے حدود بھی متعین ہے لہذا اسی پر عمل ہونا چاہیے۔ ان دوستوں کے لئے میرا سادہ سا جواب ہے کہ کیا اس وقت ملک میں آئین پر عملدرآمد ہو رہا ہے۔ اگر نہیں تو ذاتی مفادات کی بجائے ایک مرتبہ قومی مفادات کے لئے آئین سے ماوری مسئلے کا حل ڈھونڈا جائے۔ کوئی قیامت نہیں آئے گی ورنہ خدانخواستہ اس وقت معاشرتی تقسیم، نفرت اور آئین سے کھلواڑ کا جو بازار گرم ہے۔ یہ خانہ جنگی، ملکی تباہی اور پر تشدد انقلاب پر منتج ہوگی۔ پھر نہ کہنا ہمیں خبر نہ ہوئی۔

Facebook Comments HS