بچپن اور سویا ہوا محل

زمانۂ طالب علمی میں کلاس کے دوران میں سوئے ہوئے بچے کو بیدار کرنے کے لیے چاک کا ٹکڑا استعمال میں لایا جاتا تھا۔ نیند کا پتا نہیں کب آ جاتی تھی لیکن چہرے پر چاک کا ٹکڑا لگنے سے بیدار ہونے میں ذرا دیر نہیں لگتی تھی۔ استاد کمال نشانہ باز ہوتے تھے۔ نشان گالوں پر اس جگہ بنتا تھا کہ بعد میں ہر پوچھنے والے کو بتانا پڑتا تھا ”نہیں، جو تم سمجھ رہے ہو وہ بات نہیں ہے“ اب بات کا بتنگڑ بنانا تو سب کو آتا ہے۔ اچھا بھلا شریف لڑکا منھ چھپائے پھرتا تھا۔
نیند کا کوئی وقت معین نہیں ہوتا ہے۔ بعض بچے معمول سے زیادہ نیند پسند ہوتے ہیں اور ان کو والدین کی آشیر باد بھی حاصل ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ سوئے ہوئے بچے کا منھ چومنے سے بچہ خوش ہوتا ہے نہ بچے کے والدین۔ میں نے ہمیشہ سوئے ہوئے بچے کو چومنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی ہے۔ اگر جاگتے میں یہ واقعہ پیش آتا تو بچہ شکایت لگا دیتا تھا۔ صورت حال اس وقت دل چسپ ہو جاتی تھی جب سویا ہوا بچہ چومنے سے جاگ اُٹھتا تھا۔ اس موقع پر بچے کے منھ سے ہمیشہ ناقابل تحریر الفاظ نکلتے تھے۔ جن میں صرف گندا اور کتّا بتائے جا سکتے ہیں۔
یاد آیا کہ سوئے ہوئے کتے کو پتھر مار کر بیدار کرنے کا تجربہ بچپن کی یادوں میں سنہری حروف سے رقم ہے۔ اس موقع پر کتے کی چاں چاں سننے میں خاص لطف آتا تھا۔ آہستہ آہستہ یہ شغل قصۂ پارینہ ہو گیا۔ اسی طرح گرمیوں میں چھتوں پر سونے کا لطف ختم ہو گیا۔ چھت پر سونے سے پہلے پانی کا چھڑکاؤ کیا جاتا تھا اور پنکھے کی ہوا ٹھنڈی ہو جاتی تھی۔ اب گرمیوں میں بند کمروں میں سوتے ہیں اور آسمان کے تاروں کو گننے کے بجائے سوشل میڈیا کی پوسٹ کے لائیکس گنتے رہتے ہیں۔
سکول کے زمانے میں والدین کی طرف سے ہمیں نماز کے لیے بیدار کرنے کے لیے لعن طعن سے کام لیا جاتا تھا۔ اب ہم اپنے بچوں کو یہی لعن طعن لوٹا رہے ہیں۔ دونوں کا رزلٹ ایک جیسا ہے۔ صبح کا خواب بے حد دلکش ہوتا تھا اور تادیر اس خواب کو دیکھنے کی خواہش بیداری میں حائل رہتی تھی۔ کبھی کبھی نیند کے دوران میں پتا چل جاتا تھا کہ یہ محض خواب بے لیکن ہم پھر بھی اسے دیکھتے رہتے تھے۔ ٹوٹے ہوئے خواب کو دوبارہ جوڑنے کی کوشش بھی کی جاتی تھی۔ افسوس اب کوئی خواب بھی نہیں ہے اور ہم حالت نیند سے باہر نکلنے کو تیار نہیں ہیں۔
سوئے ہوئے محل کی کہانی یاد آتی ہے۔ جادو کے زیر اثر سارا محل سو جاتا ہے اور ایک شہزادہ محل میں آ کر شہزادی کو بیدار کرتا ہے۔ یوں سارا محل جاگ اٹھتا ہے۔ سوئے ہوئے لوگوں کو جگایا جا سکتا ہے مگر جاگے ہوئے لوگوں کو کیسے جگایا جائے کچھ سمجھ میں نہیں آتا ہے۔
ہم عرصہ ہوا بڑے ہو گئے ہیں۔ کئی موسم آئے اور گزر گئے۔ غربت، مہنگائی، کرپشن، قتل و غارت، ہارس ٹریڈنگ سمیت کیا کچھ ہوتا رہا مگر جانے کب سے قوم مسلسل سو رہی ہے۔ کوئی اس کا منھ چوم کر بیدار کر دے۔ بے شک بیدار ہو کر غصے میں گندا، کتّا ہی کہ دے، خدا کے لیے کوئی اسے بیدار کر دے۔

