دریافت کے میدان سے باہر از ڈاکٹر لبنیٰ فرح


ڈاکٹر لبنیٰ فرح نیشنل یونی ورسٹی آف ماڈرن لینگویجز میں عربی زبان و ادب کی اسسٹنٹ پروفیسر ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی چنیدہ اور معروف مترجم اور انٹرپریٹر ہیں۔ دو دہائیوں سے زائد تدریسی تجربہ اور ریاستی سطح پر انٹرپریٹیشن کے وسیع تجربے نے ان کی لسانی اور ثقافتی تفہیم کو وسیع کیا ہے جس کی بنا پر پچھلے کچھ برسوں سے انہوں نے عربی افسانوں کو اردو قالب میں ڈھالنے کے ساتھ ساتھ ترجمے سے متعلق انگریزی کتب کا بھی اردو ترجمہ کیا ہے۔

ان کا تازہ تر ترجمہ فضیلہ ملہاق کے افسانوی مجموعے کا اردو ترجمہ دریافت کے میدان سے باہر کے نام سے ہے۔ فضیلہ ملہاق کا تعلق الجزائر سے ہے۔ اس سے قبل ڈاکٹر لبنیٰ فرح نے فضیلہ ملہاق کے ناول کا ترجمہ جب زندگی آپ کی خواہش کرتی ہے کو بھی اردو کے قالب میں ڈھالا تھا جسے خوب پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ موجودہ کتاب میں 14 مختصر افسانوں کا مجموعہ ہے۔ پہلا افسانہ ظاہری سچائی کے نام سے ہے جس میں بھر پور علامتی التزام کے ساتھ جھوٹ اور سچ کے درمیان ازلی عداوت کا ذکر ہے۔

جھوٹ اور سچ کے درمیان جھگڑے میں جھوٹ شاطرانہ انداز میں سچ کو پچھاڑنے کے لیے خود کو آشکار کر دیتا ہے تاہم سچائی پردے میں اور دھند میں سامنے آتی ہے اور سچ اور جھوٹ کے درمیان اس لکیر کو صرف وہی پہچان سکتا ہے جس کے پاس عقل و دانش ہو۔ یہ کہانی آج کے اس دورِ ابہام کی درست عکاسی کرتی ہے۔ ہم جس سماجی میڈیا کے دور سے گزر رہے ہیں اس میں سچ اور جھوٹ کے درمیان تمیز کرنا تقریباً ناممکن ہو گیا۔ جھوٹ اس قدر سفاک انداز میں سامنے آتا ہے کہ اسے سچ تسلیم کیے بنا چارہ نہیں جب کہ سچ جھوٹ کی طرح بے لباس نہیں ہوتا۔

اور صورتِ حال یہ ہے کہ اس سمے سماج میں جھوٹ نے سماجی بافتوں کو بری طرح سے جکڑا ہُوا ہے۔ ایک اور خوب صورت کہانی خطرناک تخریب کار ہے۔ بنیادی طور پر سمندر پار مقیم ان مسلمان مہاجرین کے بارے میں ہیں جو نائن الیون کے بعد تسلسل سے مشکلات کا شکار ہیں۔ ایک خاص مذہب اور ثقافت سے تعلق رکھنے والی اس کمیونٹی کو جس طرح شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اس نے ان افراد کے اندر ایک انجانا خوف پیدا کر دیا ہے۔ اس میں ایک دھماکے کے بعد ایک ایسے نوجوان کے بارے میں بتایا جاتا ہے جس کے پاس فصلوں کی کٹائی کی ایک ایسی مشین کا خاکہ ہوتا ہے جو شمسی توانائی کے زور پر کام کرتی ہے۔

اس نوجوان اس سماج میں رہ کر تمام دنیا کی خدمت کرنا چاہتا ہے تاہم اپنے مذہبی اور ثقافتی پس منظر کی وجہ سے اسے شک کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اس نقشے کو کسی خطرناک دہشت گردی کی مہم کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے تاہم گرفتاری کی خاطر آنے والوں کے پاس موجود مطلوب دہشت گردوں کی فہرست میں اس نوجوان کا نام نہیں ہوتا جب سینیئر کو بتایا جاتا ہے تو وہ سرگوشی کے انداز میں کہتا ہے کہ بھلے نہ ہو اس نوجوان کا نام ہمارے یہاں کے موجدین کی فہرست میں بھی تو اس کا نام نہیں ہے۔

یہاں افسانہ ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن اس اختتام اتنا واضح ہے کہ مغائرت کا شکار یہ نوجوان کیونکر اس طرح کی مشین کا خاکہ تیار کر سکتا ہے۔ سرمایہ داریت کا عفریت کبھی بھی نہیں چاہے گا کہ اس کے متبادل کسی قسم کی مصنوعات منڈی میں استحصال کے خاتمے کا باعث بنیں گویا سرمایہ دارانہ جمہوری نظام کے تانے بانے صنعت سے جڑے ہوئے ہیں اور گریٹ گیم مہا بیانیے تخلیق کرتے ہوئے مقامی دانش تک کا گلا گھونٹ دینے پہ تیار ہے۔

تاریکی میں مشاہدہ بھی ایک دل چسپ کہانی ہے جس کا تاثر دہشت اور مافوق الفطرت کا ہے۔ معاملہ ایک پینٹنگ اور دو عشاق کا ہے جو پہلی بار ناکام ہونے کے بعد دوسری مرتبہ ایک ہو جاتے ہیں۔ صالح ایک تصویر اپنی بیوی کو تحفہ میں دینا چاہتا ہے تاہم یہی تصویر جو اس کے سابقہ مکان کی ہوتی ہے کہانی کا بنیادی مرکزہ بن جاتی ہے۔ صالح جو ایک معروف مصور ہوتا ہے اسے انسانیت کے لیے خطرہ سمجھا جانے لگتا ہے محض اس تصویر کی بنا پر جس میں دیوار پر چسپاں ایک اشتہار پہ یہ عبارت تحریر ہوتی ہے کہ ”جس متن کو کسی خطے کے لوگوں نے اپنی سانسوں سے تحریر کیا ہو راہگیروں کے قدموں کی دھول اسے نہیں مٹا سکتی“ ۔

ناگ کا ڈنگ، طوفان کی پھونک، افسردگی آشکار کرنے والا آلہ، پرندے کا دماغ برائے نیلامی بہت عمدہ افسانے ہیں جن کی بُنت میں علامتی انداز غالب ہے۔ ڈاکٹر لبنیٰ فرح نے اس افسانوی مجموعے کا ترجمہ کر کے اردو کے قاری کو ایک نئے سماج سے متاثر کروا دیا ہے جو مابعد نو آبادیات اسی خوف کا شکار ہے جس کا ہم بھی براہِ راست شکار رہے۔ تاہم نو گیارہ کے دہشت گردوں کا عربی النسل ہونا جس طرح سے عرب دنیا پر غضب بن کر اترا اس کی درست تفہیم کے لیے ہمیں یہ کتاب لازمی طور پر پڑھنی چاہیے۔ سلیس ترجمہ اور زندگی سے مکالمہ کرتے ہوئے جملے آپ کو اپنی گرفت میں لے لیں گے۔

Facebook Comments HS