ٹرانس فیٹی ایسڈز آپ کی صحت کو تباہ کر رہے ہیں


پاکستان میں انسانی صحت پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ کسی ملک کی ترقی کے لیے یہ ضروری ہے کہ پالیسی ساز صحت عامہ کی حفاظت اور بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔ پاکستان میں صنعتی طور پر تیار شدہ ٹرانس فیٹی ایسڈز iTFAs ایک مضر صحت کیمیکل ہے جو کہ پاکستان میں زیادہ تر اشیاء خورد و نوش میں پایا جاتا ہے جبکہ سب سے زیادہ iTFAs صنعتی طور پر تیار شدہ گھی میں پایا جاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق صنعتی طور پر تیار شدہ ٹرانس فیٹی ایسڈز (iTFAs) کی معیاری سطح کو غذائی مصنوعات میں 2 فیصد تک رکھا جانا چاہیے۔

2 فیصد تک کا مطلب یہ ہے کہ ہر 100 گرام گھی یا غذائی مصنوعات میں صرف 2 گرام صنعتی طور پر تیار کردہ ٹرانس فیٹی ایسڈز ہونا چاہیے یا اس مقدار سے کم رکھنا چاہیے بصورت دیگر یہ انسانی صحت پر شدید اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ لہٰذا، اعلیٰ حکام کو غذائی مصنوعات میں ٹرانس فیٹی ایسڈ کے استعمال کی معیاری مقدار کو پورا کرنے کے لیے اہم اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ پاکستان میں غیر متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے رجحان کی روک تھام کی جا سکے۔

پاکستان میں غیر متعدی امراض کے حوالے سے اعداد و شمار انتہائی تشویشناک ہیں۔ پاکستان میں زیادہ وزن اور موٹاپا انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

STEP سروے 2014۔ 15 کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کے 41.3 فیصد 18 سال سے زائد افراد موٹاپے کا شکار تھے جبکہ 37 فیصد آبادی ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں مبتلا تھی۔ عالمی ادارہ صحت کے 2016 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دل کی بیماریوں کے باعث سب سے زیادہ اموات ہوئیں جس کی شرح اموات میں 29 فیصد حصہ رہا۔ ذیابیطس کے عالمی ادارے سال 2021 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان دنیا بھر میں ذیابیطس کے کیسز کے حوالے سے تیسرا ملک ہے۔

پاکستان میں تین کروڑ تیس لاکھ افراد کو ذیابیطس یعنی شوگر کا مرض ہے جبکہ ایک کروڑ افراد پری ذیابیطس سٹیج یعنی ایک کروڑ افراد کو شوگر کا مرض لاحق ہو سکتا ہے۔ پاکستانی آبادی کی خراب صحت اور قبل از وقت اموات کی ایک بڑی وجہ صنعتی طور پر تیار شدہ ٹرانس فیٹی ایسڈز بھی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ آئی ٹی ایف اے کے استعمال کو سختی سے محدود کرنے کا ہدف مقرر کیا جائے جو کہ بہترین پالیسی سازی کے ذریعے حاصل کیا جا سکتا ہے۔

حکومت کو پاکستان کے شہریوں کے لیے صحت مند غذائی مصنوعات کی ضمانت دینے کے لیے سخت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے اور ایسا کرنے کے لیے مصنوعی طور پر تیار شدہ ٹرانس فیٹی ایسڈز کو عالمی مقدار کے برابر لانا ہی واحد حل ہے۔ یہ حکومتی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اشیاء خورد و نوش کی مناسب نرخ اور صحت بخش خوراک کی مصنوعات کی مارکیٹ میں فراہمی یقینی بنائیں۔ جس سے نا صرف بیماریوں کے بوجھ کو کم کیا جا سکے گا بلکہ مریضوں کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے بجٹ اخراجات کو بھی کم کیا جا سکے گا۔

اس حوالے سے اگر فوری طور پر اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو 2045 تک ذیابیطس کے شکار لوگوں کی تعداد 6 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ جائے گی۔ عالمی ادارہ ذیابیطس کے مطابق 2021 میں پاکستان میں ذیابیطس کے اخراجات کی مد میں 2640 ملین ڈالر جبکہ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس کے مطابق 2015 میں موٹاپے کی سالانہ لاگت کا تخمینہ 428 ارب روپے لگایا گیا تھا۔

ان تشویشناک حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت کو شہریوں کی صحت عامہ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کرنے چاہئیں۔ اس کو ممکن بنانے کے لئے بھی جامع پالیسی مرتب کرنی چاہیے جس کے لئے پاکستان کی مختلف سول سوسائٹی تنظیمیں اکٹھی ہوئی ہیں تاکہ اس کو ممکن بنانے کے لئے ہر فورم اور ہر پلیٹ فارم پر اپنی آواز بلند کر کے اپنا کردار ادا کرسکیں۔

Facebook Comments HS