جامعات اور وفاقی و صوبائی بجٹ میں ترجیحات


پاکستان میں تعلیم پر سرمایہ کاری کا رجحان نہ ہونے کی وجہ سے ملک بدترین معاشی اور انتظامی بحران سے دوچار ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنے جی ڈی پی کا کم از کم چار فیصد تعلیم پر خرچ کرتی ہیں۔ جن ممالک نے گزشتہ ایک دو دہائیوں میں دس فیصد اپنے جی ڈی پی کا تعلیم پر خرچ کیا وہ ممالک ترقی اور خوشحالی کے دوڑ میں باقی ممالک کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ بنگلہ دیش، جنوبی کوریا، ویت نام، سری لیون، بوٹسوانا، سعودی عرب، بولیویا، نمیبیا وغیرہ نے ایک دہائی میں جتنی ترقی اور پیش رفت کی ہے اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ ان ممالک میں تعلیم ترجیحات میں پہلے نمبر پر ہے۔

یورپ کے ممالک اور دیگر ترقی یافتہ ممالک اپنے ملک میں تعلیم اور تحقیق کے لیے ضرورت سے زیادہ بجٹ منظور کرتی ہیں۔ گزشتہ پانچ برس سے ہندوستان نے بھی اپنے تعلیمی بجٹ میں تین گنا سے زیادہ اضافہ کیا ہے۔ اس برس انڈیا مزید انیس فیصد سے زیادہ اضافہ کرنے جا رہا ہے۔ جس کی وجہ سے ہندوستان کے معاشی مسائل کم ہو رہے ہیں اور ان کے ملک میں روزگار کے مواقع بڑھ رہے ہیں اور ساتھ ہی بیرون ملک ان کی افرادی قوت کی مانگ بھی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ جس سے انہیں قیمتی زرمبادلہ مل رہا ہے۔ جبکہ ہمارے ملک میں تعلیمی بجٹ خصوصاً اعلی تعلیمی بجٹ 2007 کی سطح پر ہے۔ مشرف دور میں اعلیٰ تعلیم پر جو سرمایہ کاری شروع کی گئی تھی اور جو بجٹ اس شعبہ کو دیا جا رہا تھا۔ مشرف کے بعد آنے والے جمہوریت کے دعویٰ داروں نے اس میں اضافہ نہیں کیا جبکہ اس عرصہ میں ڈالر 68 روپے سے 290 پر چلا گیا، یونیورسٹیوں کی تعداد تین گنا زیادہ بڑھ گئیں۔ ملک میں اس دور کے مقابلے میں مہنگائی کی شرح تین سو گنا سے زیادہ ہو گئی ہے۔

مگر ہر حکومت نے تعلیم کو اہمیت دینے کی زحمت گورا نہیں کی۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا نظام تعلیم، تحقیق اور دیگر معیارات دنیا کے مقابلے میں خراب تر ہوتے چلے گئے اور آج یہ حال ہے کہ بیرون ملک ہماری ڈگریوں کو تسلیم نہیں کیا جا رہا ہے، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات تک میں ہمارے گریجویٹس کو نوکریاں نہیں مل رہیں۔ ان کے مقابلے میں ہندوستانی اور بنگلہ دیشی یونیورسٹی گریجویٹس کی مانگ میں کئی سو گنا اضافہ ہو گیا ہے۔

اعلیٰ تعلیم میں سرمایہ کاری نہ ہونے کے سبب آئی ٹی سیکٹر میں ہمارا شیئر ہے ہی نہیں اور نہ ہی ہم اس ابھرتے ہوئے معاشی شعبہ سے کچھ حاصل کر رہے ہیں۔ جبکہ صرف اسی شعبہ میں خدمات کے عوض بنگلہ دیش اور ہندوستان ہمارے کل وفاقی بجٹ سے زیادہ پیسے کما رہے ہیں اور اس میں وقت کے ساتھ ساتھ اضافہ ہو رہا ہے۔ ہماری گزشتہ حکومتوں نے چند ایک بنکوں کے مالکان کو بجٹ بنانے کا کام تفویض کیا جنہوں نے وہ کمال کر دکھایا جس کی نظیر پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ ان کے بنائے ہوئے مالی بجٹس نے ان کو اتنا مالی فائدہ دیا کہ ان کے بنکوں کی منافع میں بے شمار اضافہ ہوا، ان کی بنکوں کی شاخوں میں کئی گنا اضافہ ہوا۔ لیکن ملک بدترین معاشی دلدل میں پھنستا چلا گیا۔ ملک کو بنک سمجھا گیا اور ملک کو قرض دے کر اور ملک کے لیے قرض لے کر بنکوں کو ناجائز منافع کمانے کا ذریعہ بنایا گیا۔ یوں مشرف دور کے بعد ہمارا سب سے بڑا کارنامہ قرض لینا، قرضوں کی اقساط ری شیڈول کرنا ہی ہے۔

اگر ہم ایسا نہ کرتے اور دیگر ممالک کی طرح تعلیم پر زیادہ خرچ کرتے تو آج ہم اس صورتحال کا سامنا نہ کر رہے ہوتے۔ بجٹ کا موسم ہوا چاہتا ہے۔ خیبر پختونخوا نے تو اپنا بجٹ پیش بھی کر دیا ہے۔ اور کمال دیکھیں کہ اس بجٹ میں صوبہ کی 34 جامعات کے لیے کوئی بجٹ مختص نہیں کیا گیا۔ گزشتہ برس کے وفاقی بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے 65 ارب روپے رکھے گئے تھے۔ جس میں سے نصف ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان اسلام آباد نے خرچ کیے اور باقی ملک کی جامعات میں تقسیم کیے۔

جبکہ پچھلے برس بنگلہ دیشی حکومت نے صرف یونیورسٹی آف ڈھاکہ کو پاکستانی پیسوں میں 22 ارب روپے بجٹ کی شکل میں اور 16 ارب پاکستانی روپے مختلف سٹارٹ اپ پروگراموں اور آئی ٹی کے شعبہ میں تحقیق کے لیے دیے۔ یعنی ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے پاکستان کی ساری یونیورسٹیوں کو جو سالانہ بجٹ میں سے حصہ دیا اس سے زیادہ بنگلہ دیشی حکومت نے صرف ایک جنرل یونیورسٹی یعنی ڈھاکہ یونیورسٹی کو دیا۔ بنگلہ دیش نے صرف اعلیٰ تعلیم کے لیے اپنے بجٹ میں 210 ارب رکھے جو خالصتاً ان کی یونیورسٹیوں کو دیے گئے اور اس سے بھی زیادہ رقم ان یونیورسٹیوں میں جدید شعبوں میں تربیت اور آئی کی سہولیات کے لیے الگ سے دی ہے۔

اس برس ان کی حکومت اس رقم کو مزید بیس فیصد بڑھانے پر کام کر رہی ہے۔ اب یقیناً آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ بنگلہ دیش کیوں ترقی کر رہا ہے اور پاکستان کیوں قرضوں کے دلدل میں پھنس رہا ہے۔ بنگلہ دیش میں خط غربت سے نیچے لوگوں کی تعداد میں گزشتہ دس برسوں میں ساٹھ فیصد کمی آئی ہے اور ہمارے ہاں ان میں پچاس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ یہ سب ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ اس ملک پر مسلط کیا گیا طبقہ تعلیم یافتہ نہیں ہے اور نہ ہی انہیں حکومتیں چلانے کے لیے درکار تربیت حاصل ہے۔

اس لیے ہر حکومت اس سلسلے میں مخصوص گروہوں کے نمائندہ ایجنٹوں کو تکنیکی معاونت کے لیے اپنے ساتھ رکھنے پر مجبور ہوتی ہے۔ یہ تکنیکی ماہرین ملک کے فائدہ کا نہیں سوچتے، یہ مخصوص طبقات کی مالی فائدے اور مستقبل میں ان کی ترجیحات کے لیے ملکی وسائل کی تقسیم کرتے ہیں۔ اس ملک کی نام نہاد اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے کے لیے یہ ملک کو گروی رکھنے سے بھی باز نہیں آتے۔ اس لیے ملک میں صنعتیں نہیں لگ رہیں، یہ اپنے فائدے کے لیے سمگلنگ کو فروغ دیتے ہیں۔

ملک میں تعلیم و ترقی کی جگہ مراعات رئیل سٹیٹ کے مالکوں کو دی جاتی ہیں، غریب ملازمین پر لاتعداد ٹیکس لگا کر ملک کے گنے چنے مافیاز کو انہیں ٹیکس کے پیسوں میں سے سبسڈیز دی جاتی ہیں اور ان سے ٹیکس نہیں لیا جاتا جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ آمدن اور خرچ میں تفاوت بڑھ جاتا ہے جس کو ختم کرنے کے لیے مزید قرضے لیے جاتے ہیں۔ شرح سود کو بائیس فیصد پر رکھ کر بنکوں کے مالکان کو نوازا جاتا ہے اور سالانہ سات سے اٹھ ہزار ارب روپے ان کے جھولی میں ڈالے جاتے ہیں۔

ملک کے تعلیمی بجٹ سے بیس گنا زیادہ صرف آئی پی پیز کو کپیسٹی چارجز کے نام پر دیے جاتے ہیں یعنی بجلی نہ بنانے کے نام پر۔ ایسے میں اس ملک میں ترقی کیسے آئی گی۔ بلوچستان یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کو گزشتہ چار ماہ سے تنخواہ نہیں ملی مگر سندھ میں ایک بند پڑے بجلی کے کارخانے کو پورے بلوچستان کی یونیورسٹیوں سے زیادہ رقم فوراً ان کے مالکوں کو دے گئی۔ یہ ہے ہماری ترجیحات۔ اٹھارہویں ترمیم کے بعد تعلیم صوبوں کی ذمہ داری ہے لیکن دو عملی دیکھیں کہ وفاق نے ابھی تک اس کو اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔

اور اس کے لیے بجٹ میں اضافہ نہیں کر رہی۔ جبکہ صوبوں نے بھی اعلیٰ تعلیم کو وفاق سے حاصل کرنے اور اس مد میں جو رقم دی جانی تھی وہ بھی وفاق سے حاصل نہیں کی۔ جبکہ بغیر کسی سکول میپنگ اور فیزیبلٹی دھڑا دھڑ یونیورسٹیاں بنا رہی ہے۔ ان یونیورسٹیوں کا قیام سیاسی لوگوں کے لیے کلاس فور بھرتی کرنے اور اپنی زمینوں کے مہنگے داموں فروخت اور ان کی تعمیر کے لیے دیے جانے والے ٹھیکوں میں اپنے حصہ کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔

اب تو تعلیم برائے فروخت کا کاروبار بھی چلا پڑا ہے، رئیل سٹیٹ سے کمائے گئے کھربوں روپوں کو خرچ اور محفوظ کرنے کے لیے یہ شعبہ سب سے آسان اور سہل ہے۔ ایک ساتھ قومی اسمبلی سے پچاس سے زیادہ یونیورسٹیوں کے چارٹر کا ایک ہی دن میں منظور ہونا شاید لوگ بھول گئے ہیں۔ جب اٹھارہویں ترمیم کے بعد یہ شعبہ صوبوں کے پاس چلا گیا ہے تو پھر قومی اسمبلی کا اس کے ساتھ کیا کام۔ اور ایک ایک ممبر نے کئی یونیورسٹیوں کے بل پیش کیے ان کا اس ضمن میں کیا کردار ہے۔ پھر قانون کی رو سے پرائیویٹ یونیورسٹی کا چارٹر اس وقت اسمبلی میں پیش ہو سکتا ہے جب متعلقہ ادارے اس کے وجود اور اس کے لیے درکار لوازمات کی تصدیق کریں۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ اور چارٹر منظور ہو گئے۔ تو پھر ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بند کر دیں۔ کیا کسی عدالت نے اس سلسلے میں کوئی سو موٹو ایکشن لیا، یہ ملک اب صرف اشرافیہ کا ہے، حکومت بھی ان کی، عدالت بھی ان کی، اور اختیار و کردار بھی ان کا، باقی پاکستان تو جیسے ان کے لیے کھیل کا میدان ہے۔

چھوٹی چھوٹی سیاسی باتوں یا اپنے مفاد کے لیے عدالتیں دربار لگا لیتی ہیں لیکن ملک میں تعلیم کی تباہی اور بربادی کو دیکھ کر بھی چین کی بانسری بجا رہے ہیں۔ ملک کا میڈیا بھی اس پر بات نہیں کرتا، ان کے لیے چاہت فتح علی خان زیادہ اہم ہے۔ حکومت ہوش کے ناخن لے اور ملک کے مستقبل کی طرف دھیان دے اور اس آنے والے بجٹ میں ملک کی جامعات کو درپیش مالی مسائل کو دور کرنے کے لیے کم از کم 500 ارب روپے مختص کرے۔ اور یہ رقم براہ راست جامعات کو فراہم کی جائے اس لیے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ماضی قریب میں سینکڑوں ارب روپے ایسے ایسے شاہکار بے مقصد منصوبوں کے نذر کیے ہیں کہ اس کی نظیر پوری دنیا میں نہیں ملتی۔

اس ادارے کے سربراہوں نے اپنے ذاتی ادارے بنائے اور ان کو اربوں کی فنڈنگ کی جس کا فائدہ ملک اور قوم کو کچھ نہیں ملا۔ بیرون ملک بلا کسی منصوبہ بندی اور ملکی ضرورتوں کے اسیسمنٹ کے ہزاروں لوگوں کو پی ایچ ڈی کے لیے بھیج کر ملکی کثیر سرمایہ ضائع کیا۔ ہر یونیورسٹی میں بے ضرورت اربوں روپے کے لیب مشینیں بغیر استعمال کے پڑے پڑے سڑ گئی ہیں۔ ہزاروں افراد کو ملک سے باہر نمائشی اور کاروباری کانفرنسوں میں بھیج کر کھربوں روپے ضائع کیے گئے۔

اس لیے کہ ان کانفرنسوں کا مقصد کسی علم میں بہتری نہیں تھی بلکہ یہ ایک منظم کاروبار ہے جس میں تیسری دنیا کے ممالک سے لوگوں کو بلا کر اپنے ہوٹل انڈسٹری اور ٹورازم انڈسٹری کو چلانا ہوتا ہے۔ اس ملک میں کسی کے پاس آنکھیں نہیں ہیں۔ چھ ارب روپے خرچ کر کے انجینئرنگ یونیورسٹی کے لیے اضاخیل نوشہرہ میں کیمپس بنایا گیا۔ مگر کیمپس مکمل کر کے ابھی تک یونیورسٹی کو اس میں شفٹ نہیں کیا گیا، یعنی چھ ارب روپے ضائع کر دیے گئے۔

اس طرح کی مثالیں آپ کو ہر صوبہ میں ملیں گی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن بن گیا مگر ایک ابھی یونیورسٹی کا ایک بھی کورس ایکریڈیٹ نہیں ہے۔ اب تو خیبر پختونخوا کی ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے یونیورسٹیوں کو اپنی نگرانی میں کریکولم اور نصاب سازی پر لگا دیا ہے۔ تو پھر ہائر ایجوکیشن کمیشن کی کیا ضرورت ہے، کریکولم اور نصابات ہائر ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ بنوا رہا ہے۔ یونیورسٹیوں کو تنخواہوں کے لیے پیسے یہ دے نہیں سکتی، ساٹھ ہزار سے اساتذہ کے لیے پرموشن پالیسی یہ بیس برسوں میں بنا نہیں سکی۔

اور اب تو جو ٹی ٹی ایس سسٹم یونیورسٹیوں کو دیا تھا۔ اس کی فنڈنگ سے بھی ہاتھ کھینچ لیے ہے۔ تو پھر اس ادارے کا کیا کام رہ جاتا ہے۔ اس لیے بجٹ کی رقم اس ادارے کو دینے کی جگہ براہ راست جامعات کو دی جائے اور اس ادارے کو ختم کر دیا جائے تو جو بچت ہوگی وہ چالیس ارب روپے بھی یونیورسٹیوں کو دیے جائیں تو یونیورسٹیوں کی حالت بہتر ہو جائے گی۔ احسن اقبال صاحب ماضی میں ہر ضلع میں ایک یونیورسٹی کے خواب دیکھا رہے ہوتے تھے۔

اب وہ حکومت میں ہیں ہر ضلع کو تو چھوڑیں جو دہائیوں سے قائم ہیں ان کی تنخواہوں کا بندوبست ہی کر دیں تو ان کی مہربانی ہوگی۔ حکومت کو اپنی ترجیحات بدلنا ہوں گی اور دنیا کی طرح تعلیم اور اعلیٰ تعلیم کو اپنی ترجیحات میں مقدم رکھنا ہو گا اور ان کے لیے فنڈنگ اور بجٹ میں خاطر خواہ اضافہ کرنا ہو گا۔ ورنہ کچھ لوگ چند برسوں میں ان یونیورسٹیوں کو گالف کورس بنا کر ان میں اپنا فالتو ٹائم پاس کریں گے۔ اگر حکومت یونیورسٹیوں کو اشرافیہ کو دی جانے والی مفت پیٹرول پر خرچ ہونے والی رقم کا چوتھائی حصہ بھی دے تو ملک کی تمام جامعات کا مالی بحران ختم ہو سکتا ہے۔ اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔ یا پھر چینی مافیا کے خرد برد کو روک کراس میں سے دسواں حصہ بھی دیا جائے تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ یا پھر ایرانی ڈیزل کی سمگلنگ کو روک کراس میں سے حاصل ہونے والی آمدن کا ساٹھواں حصہ بھی یونیورسٹیوں کو دیا جائے تو بھی مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ یا پھر رئیل سٹیٹ سے گزشتہ سال حاصل نہ کیے گئے ٹیکس کا اسی واں حصہ بھی ان سے لے کر یونیورسٹیوں کو دیا جائے تو ان کا مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔

بس مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ ایک سابق وزیر اعظم یونیورسٹیوں کے طلبا کو لیکچر دیتا رہا اور انہیں اپنا وضع کردہ حب وطن اور جغرافیہ سمجھاتا رہا۔ ہم خوش ہو گئے تھے کہ چلو یونیورسٹیوں میں جاکر وزیر اعظم کو ان کے مسائل کا احساس ہو گیا ہو گا۔ اب پتہ چلا وہ یونیورسٹیوں میں طلبا کو مصروف رکھ کر ان کی ذہنی خوراک کے ساتھ ساتھ گندم پر زیادہ توجہ دے کر ان کی غذائی خوراک کے لیے زیادہ مصروف عمل تھا۔ کیا اس مرتبہ بھی ہمارے وزیر خزانہ ملک کا سوچتے ہیں یا پھر سابقین کی طرح مافیاز کا اس کا فیصلہ بجٹ دیکھ کر ہو جائے گا۔

Facebook Comments HS