کیا خدا ایک استعارہ ہے؟
جب میں نے اپنے خدا پرست دوستوں سے پوچھا کہ ان کے ذہن میں خدا کا کیا تصور ہے تو
پہلے دوست نے کہا خدا محبت ہے
دوسرے دوست نے کہا خدا روشنی ہے
تیسرے دوست نے کہا خدا عرش پر رہتا ہے
چوتھے دوست نے کہا خدا شہ رگ کے بھی زیادہ قریب ہے
پانچویں دوست نے کہا خدا انسان کے دل میں رہتا ہے
اور پھر اپنے موقف کی حمایت میں یہ شعر سنایا
مسجد ڈھا دے مندر ڈھا دے ڈھا دے جو کچھ ڈھیندا
پر کسی دا دل نہ ڈھاویں رب دلاں وچ رہندا
میں کبھی کبھار سوچتا ہوں کہ کہیں خدا ایک استعارہ تو نہیں؟ ایسا استعارہ جس کی تشریح و تفہیم و تعبیر انسان اپنی سوچ کے مطابق کرتے ہیں
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
اسی لیے جب ہم انسانی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں یہ جانکاری ہوتی ہے کہ مختلف معاشروں کی مختلف قوموں نے اجتماعی طور پر خدا کا جداگانہ تصور تخلیق کیا
کہیں خدا عورت ہے دیوی ہے
کہیں خدا مرد ہے دیوتا ہے
کہیں خدا مہربان ماں کی طرح شفیق ہے
کہیں خدا جابر باپ کی طرح ظالم ہے
کہیں انسان لکڑی اور پتھر کی بنی مورتیوں کو پوجتے ہیں
اور کہیں ان دیکھے خدا کو۔
کیرن آرمسٹرانگ اپنی کتاب "خدا کی تاریخ” (HISTORY OF GOD) میں سوال پوچھتی ہیں کہ اگر خدا موجود ہے تو وہ دنیا میں ظلم ہوتا دیکھ کر کچھ کرتا کیوں نہیں؟ خاموش کیوں رہتا ہے؟
وہ جان بوجھ کر کچھ نہیں کرتا یا وہ کچھ کر ہی نہیں سکتا؟ جو ہوتا ہے سب قوانین فطرت کے مطابق ہوتا ہے۔
جون ایلیا اپنے دیوان "شاید” کے دیباچے میں لکھتے ہیں کہ جب کوئی شخص دعویٰ کرتا ہے کہ خدا موجود ہے تو کیا وہ یہ دعویٰ کر رہا ہوتا ہے کہ خدا وجود رکھتا ہے۔ وہ مادہ ہے۔ وہ شے ہے وہ THING ہے
اور اگر خدا شے نہیں ہے تو وہ کس قسم کا وجود ہے جو شے نہیں ہے۔
اس سوال کا جواب اب تک کسی فلسفی نے نہیں دیا۔
انسانی نفسیات کے طالب علم جانتے ہیں کہ دو یا چار یا چھ سال کے بچے علامتی یا تجریدی یا استعاراتی سوچ نہیں رکھتے لیکن جب وہ سولہ سال کے ہو جاتے ہیں تو وہ اس قابل ہو جاتے ہیں کہ وہ علامت اور تجرید اور استعارے کو سمجھ سکیں۔ ذہنی طور پر بالغ ہونے کے بعد وہ شاعری کے ڈھکے چھپے معانی سمجھ سکتے ہیں۔
جب ہم مختلف ملکوں اور معاشروں کے عوام و خواص سے آسمانی کتابوں کے معانی پوچھتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ان صحیفوں کے مختلف معانی اخذ کرتے ہیں۔ مولوی ان کے لغوی معانی اخذ کرتے ہیں اور فلسفی ان کے استعاراتی معانی بیان کرتے ہیں۔
ہر مذہب کے پیشوا اور فلسفی اسی لیے ایک دوسرے سے برسرپیکار رہتے ہیں کیونکہ وہ صحیفوں کے مختلف ہی نہیں بعض دفعہ متضاد ترجمے اور تفسیریں کرتے ہیں۔
علامہ اقبال اپنے خطبات میں فرماتے ہیں کہ
جنت اور دوزخ جگہیں نہیں کیفیتیں ہیں
HELL AND HEAVEN ARE STATES, NOT PLACES
اسی طرح آدم اور حوا کی کہانی ایک مرد اور عورت کی نہیں، ہر مرد اور ہر عورت کی استعاراتی کہانی ہے۔ بعض دانا اصحاب بصیرت کا مشورہ ہے کہ ہمیں آسمانی کتابوں کو لوک ورثہ اور ادب عالیہ کی طرح پڑھنا چاہیے۔
ادب عالیہ میں اساطیری اور استعاراتی زبان استعمال ہوتی ہے، منطق کی زبان نہیں۔ شاعری کی زبان استعمال ہوتی ہے، سائنس کی زبان نہیں۔
بعض دفعہ اگر آپ خدا کا اقرار اور انکار کرنے والوں کا مکالمہ سنیں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دونوں خدا کو کوئی مادی حقیقت سمجھ کر بحث کر رہے ہوتے ہیں۔
ایک کہتا ہے ہر چیز کا کوئی خالق ہے
کائنات کو خدا نے بنایا ہے
دوسرا پوچھتا ہے
تو پھر خدا کو کس نے بنایا ہے؟
پہلا کہتا ہے
خدا کو کسی نے نہیں بنایا وہ خود بخود بن گیا ہے۔
وہ خود آ گیا ہے۔
دوسرا کہتا ہے
کائنات کو بھی کسی نے نہیں بنایا وہ بھی خود بخود تخلیق ہو گئی ہے۔
خود آ گئی ہے۔
بعض دفعہ فریقین میں اس زاویے سے اختلاف ہو جاتا ہے کہ
خدا ایک استعارہ ہے، کوئی مادی شے نہیں ہے۔
خدا فہم انسانئ سے ماورا ہے۔ یہ سوچ کا وہ مقام ہے کہ جہاں ہونا، نہ ہونا ہے۔ نہ ہونا، عین ہونا ہے
بعض انسانوں اور قوموں کا خیال ہے کہ خدا وہاں ہوتا ہے جہاں کچھ اور نہیں ہوتا اس کا تعلق BEING سے زیادہ NOTHINGNESS سے ہے۔
خدا خلا کی طرح ہے جو وہاں ہوتا ہے جہاں کچھ اور نہیں ہوتا۔
میرا موقف یہ ہے کہ
خدا کا مسئلہ ایمان کا مسئلہ ہے
عقیدے کا مسئلہ ہے
سائنس کا مسئلہ نہیں ہے۔
ماننے والے کے لیے ہے
نہ ماننے والے کے لیے نہیں ہے
اور کچھ تشکک کرنے والے AGNOSTICS ایسے بھی ہیں جو کئی برسوں دہائیوں بلکہ صدیوں سے ابھی تک علم و دانش کی تحقیق کی بھول بھلیوں میں کھوئے ہوئے ہیں اور ان کے دل و دماغ ابھی تک فیصلہ نہیں کر پائے کہ خدا ہے یا نہیں ہے۔ وہ سر کھجاتے، ہونے اور نہ ہونے کے پل پر بیٹھے ہیں
بعض دانشوروں کا یہ بھی خیال ہے کہ خدا ایک خیالی دوست ہے جس سے انسان جب چاہے بات کر سکتا ہے۔ خدا سے باتوں کو لوگ دعا کا نام دیتے ہیں۔
لیکن خدا سے باتیں، تنہائی کے دوست سے باتیں اور راز و نیاز کی باتیں ہوتی ہیں۔ ایسا راز راز ہی رہے تو بہتر ہے
لیکن بعض اس راز کو فاش کر دیتے ہیں اور دعویٰ کر بیٹھتے ہیں کہ خدا مجھ سے باتیں کرتا ہے۔
راز کہاں تک راز رہے گا منظر عام پہ آئے گا
جی کا داغ اجاگر ہو کر سورج کو شرمائے گا
اور جب راز فاش ہو جاتا ہے تو ان کی زندگی میں انقلاب آ جاتا ہے۔
مجھے ہسپتال میں جب ایک مریض نے کہا کہ خدا اس سے باتیں کرتا ہے توایک طالبہ نے کہا
یہ ولی ہے۔ میں اس کا ہاتھ چومنا چاہتی ہوں
دوسرے طالب علم نے کہا، یہ دیوانہ ہے، سکزوفرینک ہے۔ اسے پاگل خانے داخل کرنا چاہیے۔ ہمیں اس کا علاج کرنا چاہیے۔
طالب علموں نے مجھ سے پوچھا تو میں نے کہا
اس کا خدا اس کے اپنے لاشعور میں بستا ہے جو اس سے رات کی تاریکی اور تنہائی میں باتیں کرتا ہے۔
اہل دانش زندگی کا یہ راز جانتے ہیں کہ
مولوی کا خدا اور ہے
صوفی کا خدا اور
فلسفی کا خدا اور ہے
عاشق کا خدا اور
خدا ہے یا نہیں ہے؟
یہ بات ایمان کی ہے، منطق کی نہیں ہے۔
یہ علاقہ عقیدے کا ہے، سائنس کا نہیں ہے۔
یہ وہ دینا ہے جو آنکھیں بند کر کے دکھائی دیتی ہے، آنکھیں کھول کر نہیں۔
شاعر کہتا ہے
ہمارا نہ تمہارا ہے
خدا اک استعارہ ہے
میں نے ایک سرخ فام انڈین دوست سے پوچھا
آپ لوگوں کا خدا کے بارے میں کیا تصور ہے
کہنے لگا، خدا ایک عظیم راز ہے (GOD IS A GREAT MYSTERY)۔


