لوک سبھا انتخابات اور جموں و کشمیر کا سیاسی لینڈ سکیپ


آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیریوں پر کیا گزری ہے؟
لوک سبھا انتخابات کے دوران جموں و کشمیر کی سیاسی بیٹل فیلڈ میں کیا داؤ پیچ آزمائے گئے؟
کشمیریوں نے الیکشن کو استصواب رائے کا نعم البدل تسلیم کر لیا ہے؟

کشمیر و فلسطین کے انسانی المیے نام نہاد مہذب قوموں کے سامنے سراپا سوال ہیں۔ کروڑوں کشمیریوں کا ان کی زمین پر حق تسلیم کرنے سے انکار کرنے والا بھارت! دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کی کلغی سجائے اتراتے نہیں تھکتا، جبکہ اسرائیل، ہٹلر کے ہاتھوں ہولوکاسٹ کے بدلے میں بے بس اور بے سرو سامان فلسطینوں کی منظم نسل کشی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اپنے مفادات کے بکھیڑوں میں الجھے طاقتور ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے 7 دہائیوں سے حل طلب مسئلہ کشمیر کو دو ملکوں کے مابین جھگڑا سمجھ کر بالآخر جیسے تیسے نمٹا دیا ہے۔ یوں بنیادی انسانی حقوق سے محروم قوموں کے انبوہ میں خوف اور امید کے درمیان سعی کرتے خانماں برباد کشمیریوں کی المناک داستان داخلِ دفتر کر دی گئی ہے۔

تقسیم ہند کے برطانوی فارمولے کے بر خلاف مسلم اکثریتی ریاست جموں و کشمیر پر بھارتی قبضے نے پاکستان اور اس کے عظیم الجثہ ہمسائے کے درمیان فساد اور کشمکش کا ایسا جواز پیدا کیا جس نے تین باقاعدہ جنگیں اور لاتعداد سرحدی جھڑپیں بھگتائی ہیں۔ تباہ کن ایٹمی اسلحے سے لیس دونوں ممالک کی چپقلش نے جنت نظیر وادی کشمیر کو خاک اور خون میں نہلا دیا، لاکھوں جانیں گئیں، زمینیں اور باغات اجاڑ دیے گئے، قابض بھارتی افواج کی طرف سے بڑے پیمانے پر کشمیری خواتین کی عصمت دری کی گئی، ہزاروں مجبوراً ہجرت کر کے خانماں برباد ہوئے۔ مختصر یہ کہ بھارت، مسلم اکثریتی ریاست پر اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لیے بدترین وار کرائمز کا مرتکب ہوا ہے۔

5 اگست 2019 کو مودی حکومت کی جانب سے بھارتی آئین میں جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کا اعلان کرنے بعد زیر انتظام علاقوں میں ظالمانہ اقدامات کے تحت وادی کی پوری سیاسی قیادت کو پابند سلاسل کر دیا گیا، عوامی اجتماعات پر مکمل پابندی اور خوف و ہراس کے ہتھکنڈوں کے ذریعے لاکھوں کشمیریوں کو عملاً باقی دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا۔

آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کے چار سال بعد بھی لائن آف کنٹرول کے اُس پار آباد لاکھوں کشمیری دراصل ایک قلعہ بند جیل میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس دوران بی جے پی کی مرکزی سرکار نے نئی انتظامی اور قانونی تبدیلیوں کے ذریعے جموں و کشمیر کو مرکز کے تحت جموں اور وادی میں تقسیم کر دیا۔ بھارتی الیکشن کمیشن نے کشمیر میں نئی انتخابی حلقہ بندیوں کے ذریعے مسلمان اکثریتی حلقوں کی سیاسی اور انتظامی توڑ جوڑ کر کے مینوپولیشن کی راہ ہموار کی۔

برسر اقتدار مودی حکومت اپنے انتہا پسندانہ مذہبی تعصبات کے زیر اثر مقبوضہ جموں و کشمیر کی سماجی اور سیاسی لینڈ سکیپ کو اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کرنے کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ معاہدات کے تحت دی گئی جموں و کشمیر ریاست کی خصوصی حیثیت اور ضمانتوں کو بتدریج ختم کر دیا گیا ہے۔ بھارتی تسلط کو دوام دینے کے لیے ڈومیسائل کی شرائط اور ملازمتوں کے کوٹے میں شیڈول کاسٹ کے نام پر غیر معمولی رد و بدل کرنا اور کشمیر میں زمینوں کی ملکیتی خریداری کے لیے نئے اقدامات کے تحت غیر کشمیریوں کے لیے خصوصی مراعات کا اعلان بھی ہو چکا ہے۔

ان ہتھکنڈوں میں سیاسی اصلاحات کے نام پر کشمیری قوم کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کر کے ان کے ووٹ بینک کو توڑنے کی مذموم کوشش بھی شامل ہے۔ جس کی مثال سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے انتخابی حلقے اننت ناگ راجواڑی کی توڑ جوڑ کے ذریعے 50 فیصد کشمیری بولنے والے حلقے کو پہاڑی اور گجر قبائل کے ساتھ نتھی کر دیا گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں مودی کی سیفران پالیٹکس نے کشمیر کی ڈیموگرافک فالٹ لائنز پر بہت زیادہ انویسٹمنٹ کی ہے۔

عام تاثر کے مطابق مرکز میں برسرِ اقتدار بھارتیہ پارٹی جنتا پارٹی مقبوضہ کشمیر کے انتخابی معرکے میں براہ راست یا فرنٹ ڈور کے بجائے اپنی پراکسی سیاسی جماعتوں اور ایجنٹوں کے ذریعے سرگرم ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ 5 اگست اقدام کے بعد بی جے پی، کشمیر انتخابات میں شمولیت کی صورت میں عوامی غیظ و غضب کا سامنا کرنے کا رسک لینے سے کنی کترا گئی ہے۔

حالیہ لوک سبھا چناؤ کے دوران جموں کی دو اور کشمیر ویلی کی تین نشستوں کے لیے پولنگ مکمل ہو چکی ہے۔ کل 25 مئی کو آخری مرحلے میں اننت ناگ راجواڑی کے حلقے میں ہونے والے بڑے معرکے میں ووٹ ڈالنے کا تناسب 54 فیصد کے ریکارڈ نمبر تک پہنچنے کی خبریں ہیں۔ یاد رہے کہ اس حلقے میں سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا مقابلہ نیشنل کانفرنس کے میاں الطاف سے تھا۔ مبصرین اس حلقے کو وادی کشمیر کا گیٹ وے قرار دیتے ہیں۔

2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد ہونے والے انتخابات میں سرینگر میں 7.7، اننت ناگ میں 8.9 جبکہ پلوامہ میں صرف 2 فیصد ووٹ پڑے تھے جہاں اس مرتبہ ووٹنگ کا تناسب بالترتیب 24، 42 اور 54 فیصد تک ریکارڈ کیا گیا ہے۔ بھارت سمیت دنیا بھر کے میڈیا کی دلچسپی کا باعث بننے والے رواں انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی شرح گزشتہ تین دہائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی ہے۔ اس دوران 86.9 لاکھ کشمیری اپنے ووٹ کا فیصلہ کر سکتے تھے جن میں 3.4 لاکھ پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوان ووٹرز بھی شامل ہیں۔

مرکز کی بی جے پی حکومت، الیکشن معرکے اور متوقع نتائج کو 2019 میں جموں اور کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد حوصلہ افزا پیش رفت کے طور پر دیکھتے ہوئے اسے اپنی تاریخی کامیابی بتا رہی ہے۔ دوسری طرف کشمیری سیاسی جماعتوں اور عام جنتا کی رائے میں الیکشن میں کامیاب ہونے کے بعد مرکز اور ریاستی اسمبلی میں روزمرہ معاملات اور جیلوں میں قید کشمیریوں کے لیے زیادہ توانائی اور لیجٹیمیسی سے آواز اٹھائی جا سکتی ہے۔

حقیقت حال یہ ہے کہ 35 سالہ سلح جدوجہد کے دوران کشمیر اور کشمیریوں نے جن صعوبتوں اور سختیوں کا سامنا کیا ہے ان میں 2019 کے بعد چار سالوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔ ووٹ دینے پر آمادہ کشمیریوں کے نزدیک الیکشن کے بائی کاٹ پالیسی کے نتیجے میں ایک جانب مرکز اور سٹیٹ اسمبلی میں ریاست کی نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے قانون سازی میں کشمیر کی آواز معدوم ہو چکی ہے وہیں انتظامی معاملات دگرگوں صورت حال اختیار کر چکے ہیں۔

کشمیر سے متعلق آرٹیکل 370 کی بحالی، بڑھتی ہوئی بے روزگاری، پاور شارٹیج، ملازمتوں کے غیر منصفانہ کوٹہ سسٹم اور غیر کشمیریوں کی آبادکاری کے ذریعے ممکنہ ڈیموگرافک چینجز حالیہ الیکشنز کے اہم مدعے رہے ہیں۔ جبکہ بھارت سرکار کی طرف سے 2019 کے بعد بڑے پیمانے پر ہونے والی گرفتاریوں اور (UAPA) اّن لا فل ایکٹویٹیز ایکٹ جیسے قوانین کا معاملہ بھی انتخابی منشور میں نمایاں اہمیت رکھتا ہے۔

بھارت نے جموں و کشمیر کے تمام سرکردہ رہنماؤں کو نظر بند یا قید کر رکھا ہے۔ جن میں تین سابق ریاستی وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر بھی شامل رہے ہیں۔ 2019 کے بعد صحافیوں، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کی مشکلات میں اضافہ ہوا ہے۔ پاسپورٹ ضبطی اور سفری پابندیوں کے علاوہ سیاسی کارکنوں کی نظر بندیاں عام سی بات بن چکی ہے۔ ظالمانہ اقدامات کے تحت کچھ صحافیوں کے رشتے داروں کی سرکاری ملازمتیں بھی ختم کی گئی ہیں۔

ماضی میں بھارت نواز سمجھے جانے والے سیاسی رہنما بھی اس لپیٹ میں آئے ہیں اور کئی سالوں سے نظر بند یا جیلوں میں قید ہیں۔ ریاست کے سب سے با اثر سیاسی گھرانے سے تعلق رکھنے والے نیشنل کانفرنس کے سربراہ اور تین مرتبہ وزیر اعلیٰ رہنے والے فاروق عبداللہ بھی اپنے گھر میں نظر بند ہیں، فاروق عبداللہ کے بیٹے عمر عبداللہ بھی 5 اگست 2019 کے بعد نظر بند رہنے کے بعد ان دنوں اپنی انتخابی مہم چلاتے دکھائی دیے ہیں۔ یاد رہے کہ عمر عبداللہ، بی جے پی کی مرکزی کابینہ میں وزیر کے علاوہ وزیر اعلیٰ کشمیر بھی رہ چکے ہیں۔

پی ڈی پی کی سربراہ اور 5 اگست 2019 کے فیصلے سے پہلے جموں و کشمیر کی آخری وزیر اعلیٰ رہنے والی محبوبہ مفتی طویل عرصہ نظر بندی کا شکار رہیں ہیں۔ نامور علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک اس وقت دلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں، شبیر شاہ، انجینئر رشید، مسرت عالم بٹ اور آسیہ اندرابی سمیت لاتعداد سیاسی رہنما اور ورکر اب بھی قید و بند کی سزائیں جھیل رہے ہیں۔

رواں الیکشن کے دوران کچھ رہنماؤں کی نظر بندی ختم کر کے ستم رسیدہ ریاست میں سیاسی سرگرمیوں کو کسی حد تک بحال کیا گیا ہے۔ اس پیش رفت سے خوف زدہ و سہمے ہوئے کشمیری عوام میں اپنے مسائل اور مطالبات سے متعلق امید کی کرن پیدا ہوئی ہے۔ پوسٹ ایبروگیشن ( آرٹیکل 370 ) 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران جموں و کشمیر ایک نئی صورتحال سے گزر رہا ہے۔ مذکورہ انتخابی ایکسرسائز کے نتائج کے متعلق کوئی حتمی اور دو ٹوک تجزیہ یا تبصرہ کرنے کے بجائے ریاست کی سیاسی پیش رفت کو وقت دینا ہو گا۔ بھارتی آئین کے تحت ہونے والے انتخابات میں عوام کی شرکت کو کشمیریوں کے سیاسی سرینڈر سے تعبیر کرنا قبل از وقت ہو گا۔

زمینی حقائق کے مطابق تیس سالہ شورش کا شکار ریاست جموں و کشمیر شدید انتظامی بدحالی سے دوچار ہے اور روزمرہ نظم و نسق چلانے کے لیے غیر مقامی افسران سے کام چلایا جا رہا ہے۔ موجودہ صورت حال کو گزشتہ تیس سالہ مسلح جدوجہد کا جزوی وقفہ سمجھا جانا چاہیے۔ کشمیری قوم بھارت کی جانب سے دیا گیا آئینی تحفظ واپس لینے کے فیصلے سے صدمے کی حالت میں ہیں۔ اس دوران مرکزی حکومت کی جانب سے اٹھائے اقدامات نے ان کی ناراضگی اور غصے کو مہمیز کیا ہے۔

بھارت اپنی طاقت کے بدمست تصور سے کشمیری قوم کے حوصلے کو چکنا چور کرنے کے درپے ہے اور اس سلسلے میں اسرائیل کے فلسطین میں روا رکھے اقدامات کی پیروی کرتا دکھائی دیتا ہے۔ سیاسی صورتِ احوال جو بھی ہو کشمیر قضیہ آنے والے سالوں میں مزید کروٹیں لے گا۔ بھارت کے ارباب اختیار حالیہ الیکشن میں کشمیری شمولیت سے کسی غلط فہمی کا شکار نہ ہوں، ستر سالہ دیرینہ تنازعے کا مبنی بر انصاف حل! کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دیے کر اپنی قسمت کا فیصلہ کرنے کا موقع دینا ہی ہے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments