مینوپاز، وزن میں اضافہ اور ازدواجی زندگی پر اثرات ( 3 )
مینوپاز خواتین کی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ہے، جس میں جسمانی، نفسیاتی، اور سماجی تبدیلیاں آتی ہیں۔ اس سے پہلے کے دو مضامین میں مینوپاز کے نفسیاتی اثرات پر بات کی گئی تھی۔ اس تیسرے حصے میں ہم مینوپاز کی وجہ سے ہونے والے وزن میں اضافے، سیکس کی خواہش میں کمی یا کبھی اضافہ، اور ان کے ازدواجی زندگی پر اثرات پر تفصیل سے بات کریں گے۔ ساتھ ہی، ماہرین کی رائے اور عملی تجاویز بھی شامل کی جائیں گی تاکہ خواتین اس مرحلے کو بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اور اس سے نبرد آزما ہو سکیں۔
مینوپاز اور وزن میں اضافہ
مینوپاز کے دوران جسمانی ہارمونز میں تبدیلیاں آتی ہیں، جن میں سب سے اہم ایسٹروجن کی سطح میں کمی ہے۔ یہ کمی وزن میں اضافے کا سبب بن سکتی ہے، خاص طور پر پیٹ کے حصے میں۔
ہارمونز میں تبدیلیاں :
مینوپاز کے دوران ایسٹروجن کی سطح کم ہو جاتی ہے، جس سے میٹابولزم سست ہو جاتا ہے۔ یہ چربی کے جمع ہونے اور وزن میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ ڈاکٹر سوزان ولیمز، جو کہ ایک ماہر اینڈو کرائنولوجسٹ ہیں، کہتی ہیں، ”ایسٹروجن کی کمی نہ صرف چربی کے جمع ہونے کا باعث بنتی ہے بلکہ میٹابولزم کی رفتار کو بھی سست کر دیتی ہے، جس سے وزن بڑھنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔“
میٹابولک ریٹ میں کمی:
مینوپاز کے دوران میٹابولک ریٹ میں کمی آتی ہے، جس کی وجہ سے جسم کم کیلوریز جلاتا ہے۔ اگر غذا میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے تو وزن بڑھنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر ولیمز وضاحت کرتی ہیں، ”جسم کی میٹابولک سرگرمیوں کی کمی کا مطلب ہے کہ خواتین کو اپنی خوراک اور جسمانی سرگرمیوں پر زیادہ دھیان دینا ہو گا۔“
کم جسمانی سرگرمی:
بہت سی خواتین مینوپاز کے دوران جسمانی سرگرمیوں میں کمی کرتی ہیں۔ یہ کمی بھی وزن بڑھنے کا باعث بن سکتی ہے، کیونکہ جسم کو ضرورت کے مطابق حرکت نہیں ملتی۔ ڈاکٹر جینیفر اسمتھ، جو کہ ایک ماہر غذائیت ہیں، کہتی ہیں، ”باقاعدہ ورزش نہ کرنے سے نہ صرف وزن بڑھتا ہے بلکہ جسم کی عمومی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔“
نیند کی کمی:
مینوپاز کے دوران نیند کے مسائل بھی عام ہیں۔ نیند کی کمی ہارمونز کے توازن کو بگاڑ دیتی ہے اور بھوک بڑھانے والے ہارمونز کی سطح میں اضافہ کرتی ہے، جس سے وزن بڑھنے کا خطرہ ہوتا ہے۔
بہتر خوراک کی اہمیت
غذائیت سے بھرپور خوراک:
وزن کو کنٹرول میں رکھنے اور صحت مند رہنے کے لئے غذائیت سے بھرپور خوراک کا استعمال بہت ضروری ہے۔ مینوپاز کے دوران خواتین کو اپنی خوراک میں چند تبدیلیاں کرنی چاہئیں تاکہ وہ وزن کو بہتر طریقے سے کنٹرول کر سکیں۔
پروٹین کا استعمال:
پروٹین سے بھرپور غذا جیسے کہ مچھلی، چکن، انڈے، اور دالیں میٹابولزم کو بہتر بناتی ہیں اور جسم کی چربی کم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ ڈاکٹر اسمتھ کہتی ہیں، ”پروٹین کا استعمال نہ صرف میٹابولزم کو تیز کرتا ہے بلکہ پیٹ بھرنے کا احساس بھی دلاتا ہے، جس سے اضافی کھانے کی خواہش کم ہوتی ہے۔“
فائبر کی مقدار:
فائبر سے بھرپور غذا جیسے کہ سبزیاں، پھل، اور اناج نہ صرف ہاضمے کو بہتر بناتے ہیں بلکہ پیٹ بھرنے کا احساس بھی دلاتے ہیں، جس سے اضافی کھانے کی خواہش کم ہوتی ہے۔ ڈاکٹر اسمتھ کے مطابق، ”فائبر سے بھرپور خوراک پیٹ بھرنے کا احساس دیتی ہے اور ہاضمے کو بھی بہتر بناتی ہے۔“
پانی کی اہمیت:
پانی کا زیادہ استعمال میٹابولزم کو بہتر کرتا ہے اور جسم کو ہائیڈریٹ رکھتا ہے۔ دن بھر میں کم از کم 8 گلاس پانی پینا چاہیے۔ ڈاکٹر اسمتھ بتاتی ہیں، ”پانی زیادہ پینے سے جسم کی چربی کم ہوتی ہے اور میٹابولزم بہتر ہوتا ہے۔“
چینی اور پروسیسڈ فوڈز سے پرہیز:
چینی اور پروسیسڈ فوڈز وزن بڑھانے کا سبب بنتے ہیں۔ ان سے پرہیز کریں اور تازہ اور قدرتی غذا کو ترجیح دیں۔ ڈاکٹر اسمتھ وضاحت کرتی ہیں، ”چینی اور پروسیسڈ فوڈز نہ صرف وزن بڑھاتے ہیں بلکہ جسم کے دیگر نظاموں پر بھی منفی اثرات ڈال سکتے ہیں۔“
وزن کو کنٹرول کرنے کے لئے عملی مشورے
باقاعدہ ورزش:
ورزش نہ صرف وزن کم کرنے میں مدد دیتی ہے بلکہ موڈ کو بھی بہتر بناتی ہے۔ روزانہ کم از کم 30 منٹ کی ورزش کریں، جیسے کہ پیدل چلنا، یوگا، یا وزن اٹھانا۔ ڈاکٹر اسمتھ کے مطابق، ”باقاعدہ ورزش جسم کو فٹ رکھتی ہے اور وزن کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔“
نیند کی بہتری:
نیند کی کمی کو دور کرنے کے لئے سونے سے پہلے سکون دہ ماحول بنائیں، جیسے کہ کتاب پڑھنا یا میڈیٹیشن کرنا۔ یہ طریقے نیند کے معیار کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ولیمز کہتی ہیں، ”اچھی نیند کے لئے باقاعدہ معمولات اپنائیں اور سکون دہ ماحول بنائیں۔“
خوراک کا منصوبہ بنانا:
اپنی روزانہ کی خوراک کا منصوبہ بنائیں اور متوازن غذا کا استعمال کریں۔ کھانے کے وقت کو منظم کریں اور چھوٹے حصوں میں کھانا کھائیں۔ ڈاکٹر اسمتھ کا مشورہ ہے، ”خوراک کا منصوبہ بنانا وزن کو کنٹرول کرنے میں بہت مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔“
تناؤ کو کم کریں :
تناؤ وزن بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے۔ یوگا، میڈیٹیشن، اور گہری سانس لینے کی مشقیں تناؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔ ڈاکٹر ولیمز کے مطابق، ”تناؤ کو کم کرنے سے نہ صرف وزن کم ہوتا ہے بلکہ مجموعی صحت بھی بہتر ہوتی ہے۔“
جلد کی دیکھ بھال
جلد کی خشکی اور جھریاں :
مینوپاز کے دوران جلد کی خشکی اور جھریاں عام مسائل ہیں۔ ایسٹروجن کی کمی جلد کی لچک میں کمی کا باعث بنتی ہے۔
انتظام:
موئسچرائزر:
جلد کی خشکی کو کم کرنے کے لئے روزانہ موئسچرائزر استعمال کریں۔
سن اسکرین:
سورج کی شعاعوں سے بچاؤ کے لئے سن اسکرین کا استعمال کریں۔
متوازن غذا:
اومیگا 3 فیٹی ایسڈ سے بھرپور غذا کھائیں، جیسے کہ مچھلی، جو جلد کی صحت کے لئے مفید ہے۔
پانی کی مقدار:
پانی زیادہ پینے سے جلد کی ہائیڈریشن بہتر ہوتی ہے۔
سیکس کی خواہش میں کمی یا اضافہ
مینوپاز کے دوران سیکس کی خواہش میں کمی بھی ایک عام مسئلہ ہے، جو ہارمونز میں تبدیلیوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔
کچھ خواتین میں یہ خواہش بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔
ایسٹروجن کی کمی:
ایسٹروجن کی کمی کی وجہ سے ویجائنا میں خشکی اور درد پیدا ہو سکتا ہے، جس سے سیکس کے دوران تکلیف ہوتی ہے اور سیکس کی خواہش میں کمی آ جاتی ہے۔
نفسیاتی عوامل:
مینوپاز کے دوران موڈ میں تبدیلی، ڈپریشن، اور اینگزائٹی بھی سیکس کی خواہش میں کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔
تعلقات میں مسائل:
سیکس کی خواہش میں کمی کی وجہ سے ازدواجی تعلقات میں مسائل پیدا ہو سکتے ہیں، جس سے دونوں پارٹنرز میں دوری اور ناچاقی پیدا ہو سکتی ہے۔
ازدواجی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات
مواصلت:
کھل کر بات چیت کرنا اور اپنے جذبات اور مسائل کا اظہار کرنا ازدواجی زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے۔
مشترکہ سرگرمیاں :
مشترکہ جسمانی سرگرمیاں، جیسے کہ واک پر جانا یا ورزش کرنا، نہ صرف صحت کے لئے فائدہ مند ہیں بلکہ تعلقات کو بھی مضبوط بناتی ہیں۔
پیشہ ورانہ مدد:
مینوپاز کے دوران پیدا ہونے والے مسائل کے لئے ڈاکٹر یا ماہر نفسیات سے مشورہ لینا بھی فائدہ مند ہو سکتا ہے۔
آگے بڑھنے کا عزم
مینوپاز کے دوران ہارمونز میں تبدیلیاں، وزن میں اضافہ، اور سیکس کی خواہش میں کمی جیسے مسائل ازدواجی زندگی پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ تاہم، کھلی بات چیت، جسمانی سرگرمیوں، اور پیشہ ورانہ مدد کے ذریعے ان مسائل کو بہتر انداز میں حل کیا جا سکتا ہے۔ مینوپاز زندگی کا ایک قدرتی مرحلہ ہے اور اسے صحت مند اور متوازن طرز زندگی کے ذریعے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
مینوپاز کے دوران ازدواجی زندگی میں بہتری کے لئے ضروری ہے کہ پارٹنرز ایک دوسرے کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی حمایت کریں۔ یوں نہ صرف مینوپاز کے مسائل کم ہو سکتے ہیں بلکہ ازدواجی تعلقات بھی مضبوط اور خوشگوار ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر اسمتھ کا کہنا ہے، ”مینوپاز کو ایک موقع کے طور پر دیکھیں، جہاں آپ اپنی صحت اور زندگی کو بہتر بنا سکتی ہیں۔ یہ وقت نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی طور پر بھی مضبوط ہونے کا ہے۔ اپنی زندگی کو بہتر بنانے کے لئے اقدامات کریں اور اپنی ذہنی صحت کا خیال رکھیں۔“
مناسب خوراک، باقاعدہ ورزش، اور مثبت طرز زندگی اپنانا مینوپاز کے دوران وزن کو کنٹرول میں رکھنے اور مجموعی صحت کو بہتر بنانے کا بہترین طریقہ ہے۔ اپنے آپ کو سمجھیں، اپنی صحت کا خیال رکھیں، اور اس مرحلے کو ایک نئے آغاز کے طور پر قبول کریں۔
Please do not hesitate to contact me if you would like to discuss anything in the writing.


