آصف فرّخی: پل بھر کو اَمر، پل بھر میں دھواں


آصف فرخی کو گزرے چار برس ہو گئے۔ چار برس پہلے دنیا کو حیران کر کے رخصت ہو جانے والے آصف فرّخی اردو کی ادبی دنیا کی متحرک ترین شخصیت تھے، وہ ایک ہمہ جہت تخلیق کار تھے۔ کیا نہیں تھے وہ، ایک پختہ افسانہ نگار، سنجیدہ نقاد اور قابل مدیر۔ تراجم کے میدان میں بھی انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں تھیں۔ جہاں انھوں نے بین الاقوامی ادب کو اردو کے قالب میں ڈھالا تھا وہیں پاکستان کے مقامی ادب کا بھی انگریزی میں ترجمہ کیا تھا۔

وہ معروف معلم اور ادیب، ڈاکٹر اسلم فرخی کے صاحب زادے تھے۔ جس گھر میں انھوں نے آنکھ کھولی وہاں کتابیں ہی کتابیں تھیں۔ خود ان کا کہنا تھا کہ مجھے لگتا تھا کہ وہ کتابیں جیسے محض حروف کا مجموعہ نہ ہوں بلکہ جیسے ایک نامیاتی وجود رکھتی ہوں۔ جس طرح ان کے گھر کا کتابوں کے ساتھ رشتہ مضبوط تھا اسی طرح خاندان کی ان ہستیوں کے ساتھ بھی تھا جو جسمانی طور پر اس گھر میں موجود نہیں تھیں۔ جیسے ڈپٹی نذیر احمد اور شاہد احمد دہلوی جو ان کی والدہ کے قریبی رشتے دار تھے، یا محمد حسین آزاد جن پر ان کے والد نے تحقیقی کام کیا تھا۔

جب ان بڑے ادیبوں کا ذکر گھر میں ہوتا تو آصف کو ایسا ہی معلوم ہوتا تھا جیسے انھوں نے ان سب پرانے لوگوں کو باضابطہ دیکھا اور سنا ہے۔ آصف کے لیے وہ کبھی گئے وقت کے ادیب نہیں تھے بلکہ انھیں ایسا لگتا تھا کہ وہ ان کی سانسیں اپنے قریب ہی محسوس کر رہے ہوں۔ ان سب ادیبوں کا ان کی ذہنی تربیت میں بہت حصہ رہا۔ پھر خود ان کے والد تھے جو اردو ادب کے استاد تھے اور ادیب اور شاعر کی حیثیت سے معروف تھے۔ والد کی طرح ان کے دادا بھی غیرمعمولی آدمی تھے۔

ان کا حافظہ بہت زبردست تھا، اور انھیں بہت اشعار یاد تھے، پرانے واقعات سنانے کا انھیں شوق تھا۔ انھوں نے کتابیں بھی لکھیں اور بچوں کے لیے ترجمے بھی کیے۔ اسی طرح ان کے چچا نور احسن صدیقی تھے، جو سیاسی وابستگی کے ساتھ ادب، شاعری اور صحافت میں بھی متحرک تھے اور آصف کے لیے رول ماڈل کی سی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ سب ادیب ان کے ماحول کا حصّہ تھے، اور ان کی جو ذہنی تربیت ہوئی اس پر ان سب لوگوں کا گہرا اثر مرتب ہوا۔

ان کے والد کے شاگردوں اور دوستوں کا ایک وسیع حلقہ تھا، جس میں بڑے بڑے ادیب شامل تھے۔ آصف نے اپنے بچپن سے ہی ان سب لوگوں کو اپنے والد کے پاس بیٹھے دیکھا۔ جن ادیبوں سے لوگ کتابوں میں ملاقات کرتے تھے، آصف ان کو اپنے گھر میں چلتے پھرتے دیکھتے تھے۔ ان سے باتیں کرتے تھے۔ لڑکپن میں وہ ریڈیو پر بچوں کے پروگراموں میں شریک ہوتے تھے جہاں عزیز حامد مدنی، سلیم احمد، قمر جمیل اور ضمیر علی بدایونی سے ان کی ملاقات رہتی تھی۔

جن دوسرے بڑے ادیبوں کی محفل میں اٹھنے بیٹھنے کا انھیں موقع ملا ان میں مشہور افسانہ نگار غلام عباس شامل تھے۔ غلام عباس کے ہاتھوں ہی ان کے پہلے افسانوی مجموعہ کی تقریب اجراء ہوئی تھی۔ جیّد نقاد محمد حسن عسکری بھی ان ادیبوں میں شامل تھے جن کے ساتھ آصف نے اوائل عمری میں بہت وقت گزارا۔ آصف ابھی انٹر میڈیٹ کے طالب علم تھے جب وہ ان کے گھر جایا کرتے تھے۔ وہ ان کی علمیت اور شخصیت کی سادگی سے بے حد متاثر تھے۔

عسکری کو آصف نے بہت غور سے پڑھا اور ان سے متاثر بھی ہوئے، لیکن جس ادیب کی تحریروں کا اثر انھوں نے سب سے زیادہ قبول کیا وہ انتظار حسین تھے۔ انتظار حسین کو آصف نے نسبتاً دیر سے پڑھا۔ اس سے پہلے وہ عصمت چغتائی کے بہت قائل تھے، اسی طرح قرۃ العین حیدر بھی انھیں بہت پسند تھیں۔ جب انتظار حسین کو انھوں نے پڑھا تو نہ صرف وہ ان کے مداح ہو گئے بلکہ انتظار حسین کے ساتھ ان کا ایک شخصی تعلق بھی قائم ہو گیا۔ وہ ان کے بہت عقیدت مند تھے۔

انھیں ان کے ساتھ وقت گزارنے کا بہت موقع ملا اور انھوں نے انتظار حسین کے فن اور شخصیت کے بارے میں ایک شاندار کتاب ”چراغِ شب افسانہ“ کے عنوان سے لکھی۔ جن دوسرے لکھنے والوں سے وہ متاثر رہے ان میں شمس الرحمٰن فاروقی کا نام بھی شامل ہے۔ فاروقی سے بھی ان کی ملاقاتیں رہیں لیکن ان کو انھوں نے کتابوں میں زیادہ پڑھا۔ آصف فرّخی نے ان تمام لوگوں کو بہت قریب سے دیکھا اور ان سے انھیں بہت کچھ سیکھنے کا موقع حاصل ہوا۔ یہ ایک بڑی غیر معمولی تربیت تھی جو انھیں میسر رہی۔

”آتش فشاں پر کھلے گلاب“ آصف فرّخی کے افسانوں کا پہلا مجموعہ تھا جو 1982 ء میں شائع ہوا۔ پھر یکے بعد دیگرے ان کے افسانوں کے متعدد مجموعے سامنے آئے جن میں ”اسمِ اعظم کی تلاش“ ، ”چیزیں اور لوگ“ ، ”شہر بیتی“ ، ”شہر ماجرا“ ، ”میں شاخ سے کیوں ٹوٹا“ ، ”ایک آدمی کی کمی“ اور آخری مجموعہ ”میرے دن گزر رہے ہیں“ کی اشاعت عمل میں آئی۔ ”سمندر کی چوری“ ان کی نمائندہ کہانیوں کا انتخاب تھا جو 2011 ء میں شائع ہوا۔ جو افسانے آصف نے لکھے، وہ ان کے اپنے اسلوب کے حامل تھے، خواہ وہ بڑے افسانے نہ ہوں لیکن ان کی پور پور میں، ان کے جملے جملے میں ان کا ذاتی احساس اترا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ان افسانوں کو پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اس افسانہ نگار کی اپنی سوچ ہے، اپنی فکر ہے، جو کہ بہت پرسنل ہے۔ یہی ان افسانوں کا جواز ہے اور یہی ان کی خوبی ہے۔

زندگی کے مختلف تجربات مختلف صورتیں اختیار کرتے ہیں۔ یہ شعوری طور پر نہیں ہوتا کہ ادیب اپنے لیے کوئی ایک صنف یا کوئی ایک ذریعۂ اظہار منتخب کرے۔ ایسا ہی معاملہ آصف فرّخی کے ساتھ بھی رہا۔ وہ شاعر نہیں تھے لیکن ایک خاص لمحے میں کچھ تجربات ایسے ہوئے جنھوں نے نثری نظموں کی شکل اختیار کرلی۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ افسانے ہی کی کوئی شکل تھی۔ بعد میں وہ نظمیں ”اس وقت تو یوں لگتا ہے“ کے عنوان سے کتابی صورت میں شائع ہوئیں۔

آصف فرّخی کے تنقیدی مضامین کے تین مجموعے ”عالم ایجاد“ ، ”نگاہ آئینہ ساز میں“ اور ”کہانی نئے مضمون کی“ کے زیر عنوان شائع ہوئے، جنھوں نے ان کی تنقیدی بصیرت کی دھاک بٹھا دی۔ یہ بات کم لوگ جانتے ہیں کہ آصف فرخی نے لکھنے کا آغاز ہی ایک تنقیدی مضمون سے کیا تھا جس کا عنوان ’نیا ناول‘ تھا۔ یہ ان کے لڑکپن کا دور تھا، پھر آنے والے برسوں میں وہ باقاعدگی کے ساتھ کتابوں پر تبصرے اور تنقیدی مضامین لکھتے رہے۔ اردو کے ساتھ ساتھ انھوں نے انگریزی کو بھی اظہار کا ذریعہ بنایا۔

ان کی ابتدائی انگریزی تحریریں ”مارننگ نیوز“ اور ”کرنٹ“ میں شائع ہوئیں۔ پھر طویل مدّت تک انھوں نے انگریزی جریدے ”ہیرالڈ“ اور روزنامہ ”ڈان“ کے لیے لکھا۔ ان کا پہلا تنقیدی مجموعہ ”عالم ایجاد“ 2004 ء میں شائع ہوا۔ اس کتاب کے جو مضامین تھے اسے انھوں نے سلسلہ وار لکھا تھا۔ اس کے بارے میں خود ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک پڑھنے والے کے نوٹس ہیں۔ یعنی جس طرح وہ فکشن کو پڑھ رہے تھے اور سمجھ رہے تھے، اس کا اظہار انھوں نے اپنے مضامین میں کیا تھا۔

اس انداز سے لکھنے کا خیال انھیں روسی فلاسفر اور ادبی نقاد مائیکل باختین کی کتابیں پڑھ کر آیا تھا۔ انھیں اندازہ ہوا کہ فکشن کو پڑھنے کا یہ طریقہ ذرا مختلف ہے۔ پڑھنے کے ساتھ ساتھ کچھ چیزوں پر غور کرنے، انھیں پرکھنے اور ان کی جانچ پڑتال کی جو کوششیں تھیں اس کے نتیجے میں وہ مضامین لکھے گئے۔ جن میں 19 ویں صدی کے ناول کے حوالے سے شامل مضامین خصوصی اہمیت کے حامل تھے۔ اس کے بعد وقتاً فوقتاً جو مضامین لکھے گئے وہ ان کے اگلے تنقیدی مجموعے ”نگاہ ِ آئینہ ساز میں“ کا حصّہ بنے۔ ان کی آخری تنقیدی کتاب ”کہانی اک نئے مضمون کی“ ان کی وفات سے چند ماہ پہلے شائع ہوئی تھی۔

آصف فرّخی کی ایک اور نمایاں ادبی جہت ان کی ترجمہ نگاری تھی۔ ترجمہ نگاری کا سلسلہ انھوں نے اسی وقت شروع کر دیا تھا جب وہ ابھی طالب علم تھے۔ آئین رینڈ کے ناول ”ترانہ“ اور گریش کرناڈ کے ناول ”تغلق“ کے تراجم 1987 ء میں شائع ہوئے تھے۔ بعد ازاں جب وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی میں تھے، انھوں نے اپنے ہم عصر شعراء کے کلام کو انگریزی میں ڈھالا، جو ”AN EVENING OF CAGED BEASTS“ کے نام سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔

آنے والے برسوں میں انھوں نے ترجمے کے میدان میں جم کر کام کیا۔ کشور ناہید اور عطیہ داؤد کی نظموں کو انگریزی میں ترجمہ کیا۔ پچاس سالہ پاکستانی کہانیوں کا ایک انتخاب کیا اور اسے انگریزی میں ترجمہ کیا۔ شیخ ایاز کے منتخب کلام کو انگریزی میں پیش کیا۔ ہرمین ہیسے کے لازوال ناول ”سدھارتھ“ کا اردو میں ترجمہ کیا۔ نجیب محفوظ کی تخلیقات کو ”یادوں کی باز گشت“ اور ”خواب نامہ“ کے زیرِ عنوان پیش کیا۔ ساتھ ہی ستیہ جیت رے، عرب مصنف رفیق شامی اور لاطینی امریکی ادیب عمر راوابیلا کے ناولوں کا بھی اردو میں ترجمہ کیا۔

ان کے ایک ترجمے ”موت اور قطب نما“ کو ادبی اعزاز سے بھی نوازا گیا، یہ لاطینی امریکہ کے افسانوں کے تراجم کی کتاب تھی۔ اسی طرح انھوں نے 71 ءکے واقعات کے تناظر میں لکھی جانے والی اردو کہانیوں کا انتخاب اور ترجمہ کیا، جو ’فالٹ لائن‘ کے نام سے شائع ہوا۔ قومی ادب کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی ادب پر بھی ان کی گہری نگاہ تھی۔ میلان کنڈیرا، گابرئیل گارسیا مارکیز اور بوخیس ان کے پسندیدہ ادیب تھے۔ ہندستان میں انگریزی میں لکھنے والوں میں وہ امیتابھ گھوش کے بہت قائل تھے۔ اسی طرح چین کے ادیب یان لیانکی کا ناول Lenin ’s Kisses انھیں بہت پسند تھا۔

وہ انٹرویو نگار کی حیثیت سے بھی مصروف رہے۔ ادبی انٹرویو پر مبنی ان کی کتاب ”حرف من و تو “ کے زیرِ عنوان شائع ہوئی جس میں عصر حاضر کے اہم ترین مشاہیر ادب کے انٹرویوز شامل تھے۔ انھوں نے متعدد کتابیں ایڈٹ بھی کیں جن میں میرا جی کے کلام کا انتخاب اور منٹو کے بارے میں ممتاز شیریں کی لکھی ہوئی کتاب ”منٹو نوری نہ ناری“ شامل ہے۔

”شہرزاد“ کے نام سے ان کا ایک اشاعتی ادارہ تھا جس سے سیکڑوں ادبی و علمی کتابوں کی اشاعت ہوئی۔ اسی طرح ان کا رسالہ ”دنیازاد“ خاص ادبی ذوق کا جریدہ تھا جو برسہا برس شائع ہوتا رہا۔ امینہ سیّد کے ساتھ مل کر انھوں نے پاکستان میں ادبی میلوں کی بنیاد ڈالی اور ادبی کلچر کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا۔ آرٹس کونسل کی عالمی اردو کانفرنس کو بھی ان کا تعاون حاصل رہتا تھا۔ ابتدا میں وہ یونیسیف کے ادارے میں برسوں ملازمت کرتے رہے، بعد ازاں یونیسیف کو خیر باد کہہ کر حبیب یونیورسٹی میں لبرل آرٹس کی تدریس سے وابستہ ہو گئے تھے۔

آصف نے ادب اور ادیبوں کی ہمیشہ خدمت کی اور اپنے آپ کو ہمیشہ پس منظر میں رکھا۔ آج اردو ادب کے منظر نامے پر ان جیسا فعال اور لائق شخص کوئی نہیں ہے۔ آصف کے جانے سے جو جگہ خالی ہوئی تھی وہ اب تک خالی ہے اور شاید خالی ہی رہے۔

Facebook Comments HS