ان گرمیوں سے کہہ دو کہیں دور جا پڑیں
ابھی ہم ٹھنڈ گُزیدہ لوگ جاڑوں کی زمہریروں اور ان کے آفٹر شاکس سے بمشکل سنبھل پائے تھے کہ گرمی کے عذاب نے آن لیا۔ سردی میں بھی تنگ رہے، اب گرمی سے بھی نالاں ہیں۔ یوں ہم کوئی بھی موسم سہنے کے لائق ہی نہیں رہے۔ جب جنوری میں سردی سے پالا پڑتا ہے تو ہر مرد وزن، پیرو جواں یخ یخاہٹ، دندناہٹ اور کپکپاہٹ میں مبتلا رہتا ہے۔ شاعروں اور عاشقوں کے واسطے سردیاں نعمت جبکہ عمر رسیدہ جوڑوں اور عوام کے لیے زحمت بن جاتی ہیں۔
یہاں تک کہ زوجین کے ہاں بھی رضائی بہن بھائی بننے کے سوا چارہ نہیں ہوتا۔ سب نے ٹھنڈ کو اتنا برا بھلا کہا، اتنی بد دعائیں دیں کہ مئی میں وہ ہم کو بے رحم گرمی کے سپرد کر کے نو دو گیارہ ہوئی۔ گرمی سے تو عشاق اور شعراء بھی تنگ ہوتے ہیں۔ گرمی دانے اور موسلا دھار پسینے عاشق و معشوق دونوں کو نا قابل دید بنا دیتے ہیں اور کسی سے لَو لگ جانے کے باوجود لُو لگنے کے خوف سے صحرا نوردی ناممکن ٹھہرتی ہے۔ اندر کی آتش ِعشق پر جون کی دھوپ نارِ جہنم کا استعارہ نہیں تو کیا؟
یخ بستہ فروری میں جو بات پینتالیس، چھیالیس اور سینتالیس تک پہنچی تھی اب مئی جون میں اڑتالیس سے بھی آگے دِکھ رہی ہے۔ پورا زمستاں بغیر نہائے گزارنے والے آج ٹیوب ویلوں، کھالوں اور جوہڑوں کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔ سردیوں میں مقوی ٹوٹکے آزمانے والے احباب اب راتوں کو آلو بخارا، املی اور کاسنی بھگو کر رکھ رہے ہوتے ہیں۔ گرم انڈوں کے دلدادہ آج قلفی، تربوز اور گنے کا رس ڈھونڈتے پھرتے ہیں۔ البتہ اشرف المشروبات ( چائے ) ایسی ہے کافر ہے جو اس دوزخ نما ماحول میں بھی منہ سے لگی نہ چھوٹے۔
بہت سے جوان دستِ حسرت ملتے ہیں کہ ان کے اجداد بٹوارے کے وقت روس کی ٹرین میں کیوں نہ بیٹھے۔ ارے ان پاکستانی سردیوں سے مرے پڑوں کو بتلاؤ کہ روس میں ٹمپریچر منفی چالیس تک گر جاتا ہے۔ کچھ دانشوروں کی رائے ہے کہ مئی جون اور جولائی کو کیلنڈر سے نکالنے پر گرمی میں افاقہ ہو سکتا ہے۔ چند مردو زن کو شکوہ ہے کہ کپڑے دھوئیں تو فوراَ سوکھ جاتے ہیں اور پہن لیں تو اسی وقت گیلے ہو جاتے ہیں۔ سردی، خصوصاً دسمبر کی مدح میں شاعروں نے بہت کچھ لکھا مگر گرمیوں سے فقط گلہ ہی کیا۔ لگتا ہے میر تقی میر نے یہ شعر مئی جون میں ہی لکھا تھا،
گور کس دل جلے کی ہے یہ میر
شعلہ اک صبح یاں سے اٹھتا ہے
البتہ حسرت موہانی کو دوپہر کی کڑکتی دھوپ میں محبوب کا ننگے پاؤں چھت پر آنا مرتے دم تک یاد رہا۔ گرمیوں میں شاعروں کو محبوباؤں کے ساتھ ساتھ کالی گھٹاؤں کا انتظار بھی رہتا ہے، جیسے،
تپتے ہوئے صحرا سے جو بِن برسے گزر جائیں
ایسی بھی نہ مغرور ہوں ساون کی گھٹائیں
گویا سردی و گرمی ہمیں راس نہیں، برسات سے ہمارے مکانوں کی دیواروں کا گرنا لوگوں کے رستوں پر منتج ہوتا ہے۔ خزاں ویسے کم نصیب موسم ہے۔ باقی رہا موسم بہار، جو ہماری کج ادائی اور نازک و متلون مزاجی کے موجب مکھی مچھر اور پولن الرجی کی آماجگاہ ہے، لہٰذا ہمارا کسی حال اور کسی موسم میں خوش نہ رہنا ہمارا بنیادی حق اور قومی مزاج بنتا جا رہا ہے۔ موسموں کی سختی پہلے بھی ایسے ہی ہوا کرتی تھی۔ ہمارے بچپن میں راتوں کو گرم لُو چلا کرتی اور سردیوں میں میدانی کھالوں میں پانی جم جایا کرتا تھا، مگر اس وقت وسائل کی کمی کے باعث ہمارا لائف سٹائل پُر تعیش نہ تھا۔
ہر چیز قابلِ برداشت تھی۔ معیار زندگی بہت بہتر ہونے اور سائنسی ایجادات و سہولیات کی بھرمار نے ہمیں کاہل اور کم ہمت بنا دیا ہے ( شاید اسی لیے مولوی سائنس کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں ) ۔ اوپر سے درختوں اور فصلوں کی جگہ رہائشی سکیموں کا رجحان دیس کو صحرا بنانے کے مترادف ہے۔ آم کے ہزاروں باغات کا، قتلِ آم، قومی المیہ ہے۔ فطرت سے دور بھاگنے کا خطرناک کھیل جاری ہے۔ یاد رکھو فطرت بہترین دوست ہے مگر بد ترین دشمن بھی بن سکتی ہے۔
طرز حیات بہتر ہو گا تو کارخانوں، ٹریفک وغیرہ کے اثرات بھی بھگتنا ہوں گے۔ صفائی نصف ایمان والی بات تو ویسے ہی قصہ پارینہ ہوئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوشحالی کے باوجود ہم تکلیف دہ زندگی گزار نے پر ہیں۔ پرانے دور میں سہولیات کم تھیں تو مدافعت بھی بہتر تھی۔ اب معاملات حیات میں اعتدال، ٖ فضول خرچی کی روک تھام اور ڈھیر ساری شجر کاری ہمارے مسائل کا دیر پا حل ہیں۔ آٹھ بڑے درخت نہ صرف آکسیجن کی بڑی فیکٹری ہیں بلکہ ایک ائر کنڈیشنر کے برابر ماحول کو ٹھنڈک فراہم کرتے ہیں۔
ایسی قانون سازی لازم ہے کہ ملک میں ہر گھر اپنے سامنے دو درخت لگا کر پروان چڑھائے ورنہ جرمانہ عائد ہو۔ اگر ہم اپنی کاہلی اور مجرمانہ غفلت کی روش نہ بدلی اور صرف بے کار و بے کیف ترقی و خوشحالی میں مست رہے تو واقعی ہم کسی موسم میں خوش رہنے کے قابِل نہیں رہیں گے۔ پھر بہادر شاہ ظفر جیسا بادشاہ اور شاعر کبھی، ان سردیوں سے کہہ دو کہیں دور جا بسیں، لکھا کرے گا تو کبھی یوں رقم طراز ہو گا، ان گرمیوں سے کہہ دو کہیں دور جا پڑیں
اتنی سکت کہاں ہے طبعِ ریگزار میں


