ہاسٹل کی زندگی
روئے زمین پر جس سے فساد برپا ہوتا ہے جن کے فاسد وجود سے گھر کا آنگن مثل میدان حرب ہوتا ہے۔ جس کے شریر روح سے محلے میں روحانی فسادات بڑھ جاتے ہیں ۔ گھروں کے دروازوں پر ترچھے، لمبے، گول پتھروں کے نقوش عیاں ہو جاتے ہیں ان کی بد کار روح باقی چھوٹے شیاطین میں بھی پھیلنے لگتی ہے چھوٹے شیاطین کو باقاعدگی سے شطینیت کا درس گلی کے کسی ویران نوکڑ پر دیتا ہے یا ڈھلتی شام کے وقت ان کی جھرمٹ کسی درخت کے نیچے بن جاتی ہے۔ محلے کے سادہ لوح لوگوں کی پہلے سے پریشان کن زندگی کو مزید کیسے بے چین کر سکتے ہیں اس پر گھنٹوں بحث چلتی رہتی ہے۔ ان سب کے باجود بھی اگر وہ باز آئے تو اس کو روایتی طور پر کسی بزرگ کے مبارک دست سے معاف نامہ مل سکتا ہے مگر جس دن مسجد کے مولوی کے پاپوش مبارک مسجد سے جادوی طور پر اڑ جاتے ہیں جس کا پوچھنے پر بھی کوئی اتا پتا نہ لگے تو اس جرم عظیم کے الزام میں محلے والوں کی انگلیاں سیدھ میں جا کے اس پر لگتی ہیں جو ان کاموں میں گرگ بزرگ کی حیثیت رکھتا ہو۔
والدہ نے آدھی زندگی اسے پالنے اور آدھی زندگی اسے سدھارنے میں لگائی ہے۔ جسمانی بالیدگی تو بڑھ جاتی ہے مگر ذہنی روئیدگی وہی کی وہی رہ جاتی ہے ۔ ماں کے سدھارنے کے سپنے ادھورے رہ جاتے ہیں۔ اس اثنا میں گھر کے شفیق باپ کے پاس دو آپشنز رہ جاتے ہیں ۔ یا تو اسے مسجد کے مولوی سے کے ہاتھوں جمعے کے دن مبنر پر پھانسی دی جائے یا اسے مستقل طور پر ہاسٹل میں قید کیا جائے۔ اکثر والدین دوسری آپشن پر توجہ دیتے ہیں اگر چہ کچھ مبارک دن کو بیٹے کی موت کی خواہش ظاہر کرتے ہیں مگر اکثر دوسرے آپشن پر اکتفا کر لیتے ہیں. بالآخر اس کے فاسد وجود سے معاشرے کو صاف کیا جاتا ہے اور اسے بوری بسترے کے ساتھ تنگ کمروں کے ہاسٹل میں دھکیل دیا جاتا ہے گویا کسی منافق کو فرشتے جہنم کے گہرے گڑھے میں دھکیل رہے ہوں۔ ان کی آنکھیں کسی جہنمی کی طرح سرخ اور چہرہ سیاہ ہوتا ہے۔ حلق سے گویا ان کی زبان کھینچ لی گئی ہو۔ مگر ایک ابلیس کی طرح اپنی تعلیمات سے پروردہ زیر تجربہ شیاطین کو عدل کے میدان پر چھوڑ کے الٹے پاؤں چل پڑتا ہے وہی شیاطین اسی مولوی کے ہاتھوں چڑھ جاتے ہیں جن کو وہ جانی دشمن تصور کرتے تھے۔
بالآخر وہ دل گرفتہ ہو کر ہاسٹل میں داخل ہوتا ہے۔ اسے وہاں سزا کے طور پر باسی روٹیاں کھلائی جاتی ہیں۔ روٹیاں بھی کچھ ایسی کہ چوہا بھی دو تین دفعہ ناک چڑھا کے اپنے غار میں بھوکا پیٹ سو جانے پر اکتفا کر لیتا ہے۔ پتلے اور لمبے شوربے والی ہنڈی سے صبح و شام خاطر داری کی جاتی ہے۔ انسان چاہے تو اس میں ڈبکی لگائے اور وہی ڈوب کے مر جائے۔ انہی کھانوں سے وہی اپنی جوانی کا آغاز کرتا ہے اور جوانی کی بے لگام طاقت بھی انہی بنتی جا رہی ہے۔ یہ اندازہ لگانا ضروری ہے کہ لگام کتنی ڈھیلی پڑ سکتی ہے۔
ہاسٹل جہنم کے اس نچھلے گڑھے کی مانند ہے جس میں سب سے زیادہ گنہگار انسان کو جھلسا کے مار دیا جاتا ہے یوں ہی اس کی گرمی جان لیوا ہوتی ہے۔ پانی کے نل سے آگ کے شعلے برستے ہیں۔ فوارے سے چنگاریاں بدن پر پڑتی ہیں۔ نہانا، نہ نہانا ایک جیسا رہتا ہے ۔ سردیوں میں کوئی سردی سے ٹھٹھر کے مر جاتا ہے، ہفتوں تک پانی کو چھوا تک نہیں جا سکتا ہے۔ فوارے کے نیچے کھڑا ہونا فتنہ دجال کے سامنے کھڑے ہونے کے برابر ہے۔ اوپر سے مصیبت زدہ کو سزا کے طور پر پتلے شوربے کی ہانڈیاں زبردستی کھلائی جاتی ہیں۔ جن سے ان کی آنتیں اور دل دونوں نرم ہو جاتے ہیں۔ ہاسٹل میں رہنے والا کبھی سنگ دل ہو نہیں سکتا کیوں کہ پتلے شوربے والی ہانڈیوں سے جسم میں سختی قدم نہیں مار سکتی اس لیے بھی دل نرم رہتا ہے۔ دل کی سختی تب درکار ہوتی ہے جب مقابلے کی نوبت آتی ہے اضمحلال اور کمزور جسم کے ساتھ مخالف سے مصحلت ہی کی جا سکتی ہے۔ ہاسٹل میں رہنے سے آنکھوں کی پتلیاں پھیل جاتی ہے اور دال کی سی رنگت اختیار کر لیتی ہیں۔ ہاسٹل میں آتے ہی سب کے پیروں کا نمبر یکساں ہو جاتا ہے ایک جوتی پہ سب گزارا کرتے ہیں مزاج میں بھی اعتدال پسندی آ جاتی ہے۔ دوسری طرف سے سب چھوٹے، بڑے، موٹے پتلے جسامت میں ایک جیسے بن جاتے ہیں ایک ہی بنیان سبھی بلا چوں چراں استعمال کر سکتے ہیں۔ فائدے میں وہ ہے جس کو پہلے ہی دھلی ہوئی بنیان مل جائے وہ گھڑی عید کی سی ہوتی ہے ۔ ان کی سب سے بڑی تکلیف یہ ہے کہ دل ان کے بہت وسیع اور وسائل انتہائی محدود ہوتے ہیں ۔ یہ جان تو دے سکتے ہیں مگر دس روپے دیتے وقت ان کی جان خود سے نکل جاتی ہے۔
ہاسٹل میں آتے ہی چند دن تو وہی انسان ایک بھٹکے ہوئے اجنبی کی طرح دوسروں کے جگالی کرتے منہووں کی طرف تکتا رہتا ہے کچھ دن تک انہیں اپنے جیسے چند بے ڈھول نمونے کے ساتھ دل لگ جاتا ہے۔ ان کی شکلیں منگتے ہوؤں سے کچھ کم نہیں ہوتیں مگر یہ منگنے والوں سے زیادہ مہارت رکھتے ہیں ۔یہ بڑی مہارت سے کسی ضروری کام کا بہانا بنا کر سو، ہزار دو ہزار کا مطالبہ کرتے ہیں۔ شام تک لوٹا دینے کے وعدے پر آخر اس کی شکل دیکھنے کو ترس جاتی ہے ۔شامیں آ کے گزر جاتیں ہیں مگر وہ شام نہیں آتی جس کا اس نے وعدہ کیا ہو۔
ہاسٹل میں اپنی معمولی جوتی بھی غیر معمولی لگتی ہے۔ کیوں کہ وہاں سب ننگے پھرتے ہیں۔ واش روم میں بھی بے تکلفی سے ننگے بیٹھ جاتے ہیں۔ صفائی کا ان سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سوتے وقت بھی جوتی کو بغل میں دبا کے سونا پڑتا ہے۔ اٹھتے ہی جب دیکھتے ہیں تو وہ بغل کی بجائے سامنے کسی کالے کلوٹے لڑکے کے گندے پیروں سے چپکی نظر آتی ہے۔
ہاسٹل میں رہنے والے آخر ہم شکل ہو جاتے ہیں سب ایک ہی خاندان کے ہو جاتے ہیں ۔ کبھی ان کی گالیوں سے تواضع کرتے ہیں تو بے وضو کھڑے ہو کر لمبی لمبی دعاؤں سے۔ بچھڑتے وقت یہ سب ایک ہوتے ہیں آتے وقت ملنے میں ہچکچاہٹ محسوس کرتے تھے پر بچھڑ جانے سے گھبراتے ہیں۔ وہ باجود اس کے بچھڑ جاتے ہیں اور مضبوط اعصاب سے زندگی کی تلخیوں میں اگلا قدم رکھ لیتے ہیں۔ اس طرح یوںہی ان کی زندگی کا سفر جاری رہتا ہے ۔
Facebook Comments HS


