ایک جرمن دوست کی رفاقت
میونخ میں، دوران تعلیم، پہلے ہی سمیسٹر میں میری دوستی ایک جرمن سٹوڈنٹ فریڈی سے ہو گئی جو آج تک قائم ہے۔ میں ہمیشہ فریڈی کے ساتھ ملاقات کرتا رہتا تھا۔ فریڈی کے والدین، ہائیل برون نامی جرمن شہر کی جس عمارت میں رہتے تھے، اس کی بیسمنٹ میں ایک خوبصورت سوئمنگ پول اور مغربی گرم حمام جسے ساؤنہ کہتے ہیں، تھا۔ اس ساؤنہ کے کمرے میں بندہ بغیر انگوٹھی اور گھڑی، تقریباً 90 درجہ سینٹی گریڈ میں بیٹھتا ہے اور بمشکل کچھ منٹ ہی گزار سکتا ہے۔ بعد میں اپنے ہاتھوں سے جسم سے پسینہ یعنی پانی نچوڑ رہا ہوتا ہے۔ اور فوراً سوئمنگ پول میں جمپ لگاتا ہے۔
فریڈی کے والدین نے ایسلنگن شہر کے پاس ایک چھوٹے سے نیلنگن نامی گاؤں میں ایک کافے۔ بیکری کھول رکھی تھی۔ جہاں میں بھی جاتا رہتا تھا۔ ہم عموماً فریڈی کی کار میں ویک اینڈز پر میونخ سے وہاں جاتے تھے۔
فریڈی کی دوست انگے کے ساتھ شادی کی تقریب بھی مجھے یاد ہے جب سب مہمان ایک چرچ میں جا رہے تھے۔ اور سب لوگ، ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے چرچ کے اندر داخل ہو رہے تھے۔ چونکہ میں اکیلا تھا اس لیے فریڈی کی بڑی بہن کے ساتھ چرچ میں داخل ہوا تھا۔
جرمنی میں شادی سے ایک دن پہلے پولٹرشب نامی ایک رسم منائی جاتی ہے جس میں سب مہمان آتے ہی، دلھن کے گھر کے آگے چینی کے برتن توڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ بعد میں دلھن کو سب ٹوٹے برتنوں اور پلیٹوں کو جھاڑو سے اکٹھا کرنا ہوتا ہے۔ فریڈی کے ساتھ ایک واقعہ یاد ہے کہ اچانک کوئلے جلاتے ہوئے میری نائلون کی قمیض میں آگ لگنے لگی اور میں ازراہ مذاق چلایا کہ میری چھاتی کے خوبصورت بال جل گئے ہیں
میونخ کے بعد فریڈی کو، اپنی معطل شدہ، لازمی ملٹری ٹریننگ کرنا تھی اس نے اپنے آپ کو پروفیشنل فوجی کی حیثیت سے پیش کیا تو اس کی پوسٹنگ لاؤپہائیم نامی شہر میں، جہاں اس وقت جرمن فضائیہ کی انجنئیرنگ برانچ تھی، ہوئی، جہاں میں اس سے ملنے گیا تھا۔
ایک دفعہ وہ ایک گلائیڈرز بنانے والی کمپنی میں کام کر رہا تھا جو بون کے پاس، اوئس کرخن نامی شہر کے علاقے دالم میں تھی۔ وہاں میں اس کے ساتھ 2 سیٹر گلائیڈر جہاز میں سیر کر رہا تھا۔ تو اس نے کہا کہ ریاض ”تمہیں پتہ ہے کہ تمہارا معدہ کہاں ہے“ ۔ مجھے اس وقت اس کی بات سمجھ میں آئی جب وہ ہوائی جہاز یک دم اوپر سے نیچے لے گیا تھا
ایک دفعہ کرسمس کی تعطیل میں ایک گروپ ٹور میں فریڈی، اس کی بیوی انگے اور میں، آسٹریا۔ صوبہ فور البرگ کے پہاڑوں پر، سکینگ کے لئے، گئے۔ مجھے یاد ہے کہ میں ایک جرمن لڑکے کے ساتھ روم میٹ تھا۔ لیکن چونکہ مجھے سکینگ یعنی برف پر پھسلنا نہیں آتا تھا۔ اس لیے میں نے بھی شوقیہ سکینگ کا بنیادی کورس کیا جو میری شاندار یادوں میں سے ہے۔ اس کے علاوہ سخت سردی میں وہاں سب سیاحوں نے مل کر نیا سال منایا تھا
فریڈی ہاپاگ لؤڈ ایئرلائن میں بطور فلائیٹ انجینئر ملازمت کرتا تھا۔ وہ مجھے اپنے ساتھ، ہنوور۔ پالما ڈی مالورکہ۔ ہنوور۔ فلائیٹ میں لے کر گیا۔ یعنی میں پائیلٹ کیبن میں اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا اور وہ مجھے فلائیٹ کی تمام انجنئیرنگ سے متعلقہ معلومات دیتا جا رہا تھا۔ اسی دوران جرمن پائیلٹ نے اس کو وائرلیس پر کہا کہ کیا وہ اپنے دوست یعنی مجھے، آج ہی فلائیٹ انجنئیر بنا کر دم لے گا۔ ویسے فریڈی کے والدین نے سپین کے اس جزیرے میں ایک اپارٹمنٹ بھی خرید رکھی تھی۔ لیکن میرا کبھی اس جزیرے پر جانے کا اتفاق نہیں ہوا۔ اس فلائیٹ میں مجھے ہوائی جہاز سے اترنے کی اجازت نہیں تھی
فریڈی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ، ہنوور ائرپورٹ لانگے ہاگن کے قریبی گاؤں میلنڈورف میں رہتا ہے۔ میں اکثر وہاں جاتا تھا۔ ایک دفعہ اپنی بیگم کے ساتھ بھی گیا تھا۔ اس کے علاوہ وہاں اس کی کچھ زرعی زمین بھی ہے۔ جہاں میں نے فریڈی کو ایک خونخوار شیفر کتے کے ساتھ ٹریننگ کرتے دیکھا تو حیران رہ گیا کہ فریڈی کس طرح اپنے بدن پر حفاظتی کپڑے پہن کر اجنبی کتے سے باکسنگ کر رہا تھا
فریڈی نے ہاپاگ لاؤڈ نامی ڈومیسٹک ایئرلائن کے پاس فلائیٹ انجنئیر کی ٹریننگ لی تھی۔ اور اسی ائر لائن میں بطور فلائیٹ انجنئیر ملازم ہو گیا تھا۔ اس ایئرلائن کا مرکزی دفتر ہنوور ائر پورٹ لانگے ہاگن پر تھا۔ اس لیے فریڈی نے اپنا ذاتی گھر، نزد ائرپورٹ، میلن ڈورف نامی گاؤں میں خرید رکھا تھا۔
میرے جرمن دوست فریڈی کی 30 مئی کو سالگرہ ہوتی ہے۔ 2011 میں وہ 60 سال کا ہوا تو مئی کے وسط میں اس کی طرف سے ایک نہایت خوبصورت اور زبردست ڈیزائن کیا ہوا کارڈ ایک لفافے میں، مجھے بذریعہ پوسٹ ملا تو حیرانی ہوئی کہ آج تک ہم ہمیشہ سالگرہ پر صرف کارڈز ہی بھیجتے ہیں۔ اس نے اپنی سالگرہ اور ریٹائرمنٹ منانے کا دعوت نامہ بھیجا تھا۔ اگرچہ قانونی طور پر لوگ جرمنی میں 65 سال کے بعد ، ریٹائرمنٹ لیتے ہیں۔ لیکن یورپین قانون کے مطابق ایک کمرشل ہوائی جہاز اڑانے والا پائلٹ 60 سال کی عمر کے بعد کمرشل ہوائی جہاز نہیں اڑا سکتا ہے۔ لیکن کچھ استثنائی معاملات بھی ہوتے ہیں۔ یہ فنکشن اس کی رہائش سے کچھ فاصلے پر واقع ایک فرک نامی ہوٹل۔ ریستوران میں، 4 جون، بوقت 4 بجے سہ پہر، منانا قرار پایا تھا
ہم نے برلن سے فون پر ہی اسی ہوٹل میں ایک رات کے لئے کمرہ بک کروا لیا۔ بیگم اور میں بذریعہ کار وہاں پہنچ گئے۔ وہاں شاندار سیٹنگ ارینجمنٹ تھا۔ ہر ٹیبل پر مہمانوں کے نام لکھے ہوئے تھے۔ چونکہ ٹیبل پر 4 لوگ بیٹھ سکتے تھے۔ اس لیے ہماری میز پر ہمارے ساتھ، ایک یو۔ ایس۔ اے سے، خصوصاً اس فنکشن کے لئے، ہنوور آئے ہوئے جوڑے، ساتھ چائنژاد خاتون بھی، کا نام لکھا ہوا تھا۔ کھانے میں زبردست بوفے کا انتظام تھا۔ فریڈی نے اپنی زندگی کے چیدہ چیدہ واقعات کو ایک فلم کی شکل میں ایڈیٹ کر کے، ایک ویڈیو سکرین پر دکھایا۔
فریڈی ساتھ ساتھ کمنٹری کرتے ہوئے سب مہمانوں کا تعارف بھی کراتا جا رہا تھا۔ مجھے خوشی اور فخر محسوس ہوا جب اس نے کہا کہ ریاض سے اس کی سن انیس سو انہتر سے دوستی ہے۔ اسی فنکشن میں میونخ سے جاننے والا، ایک مشترکہ دوست اپنی بیوی کے ساتھ آیا ہوا تھا۔ ان کے ساتھ بھی کافی گپ شپ رہی۔ کچھ سالوں بعد ایک دفعہ اچانک وہ دونوں میاں بیوی مجھے برلن میں بھی مل گئے تھے
فریڈی اپنی بیوی اور سالی کے ساتھ سن دو ہزار پندرہ میں برلن آیا۔ وہ تینوں ایک مشہور سنگر کے پروگرام کو سننے کے لئے برلن آئے تھے۔ میں نے ان تینوں کو برلن کی سیر کرائی۔ خصوصاً ہم لوگ بمعہ میری بیگم برلن میں سب سے خوبصورت جندامن مارکٹ نامی جگہ پر گئے۔ جہاں کنسرٹ ہاؤس، جرمن کیتھڈرل، اور فرینچ کیتھڈرل جیسی خوبصورت عمارات موجود ہیں۔ پاس ہی برلن کا مشہور زمانہ برلن کیتھیڈرل ہے جس کے تہ خانے میں پروشین بادشاہوں کی قبریں ہیں اور چھت پر شہد کی مکھیوں کا افزائشی فارم ہے۔ فریڈی فیمیلی کے اعزاز میں، رات کو بیگم نے گھر پر ایک شاندار اور پرتکلف ڈنر سے ان کی تواضع کی۔
ایک دفعہ فریڈی، ائرپورٹ ٹیگل پر اپنا ہوائی جہاز لینڈ کرنے کے بعد میرے پاس آیا۔ فلائیٹ انجنئیر جاب کے بعد پہلے وہ ہاپاگ لاؤڈ پھر لفت ہنزا میں بطور پائلٹ جاب کرتا رہا تھا۔ ہم برلن کے مشہورِ زمانہ، نکولائی ایریا میں گئے۔ یہ علاقہ تاریخی اعتبار سے اصل برلن ہے۔ جہاں نکولائی چرچ میں اس وقت کی برلن کے حکومتی معاملات طے پاتے تھے۔ وہاں آج بھی ایک گول سکرول، جس پر حکومتی احکامات درج ہیں، دیکھا جا سکتا ہے۔ نکولائی ایریا کے پاس ہی سرخ کونسلر ہاؤس نامی، سابقہ مشرقی جرمنی حکومتی عمارت ہے، جس میں اب میئر آف برلن بیٹھتا ہے اور جہاں الیکس ایونیو نامی ایک انڈر گراؤنڈ ریل اسٹیشن بھی ہے۔ ایک دوسری انڈر گراؤنڈریل، مین ریلوے اسٹیشن برلن سے شروع ہو کر، فیڈرل اسمبلی، برانڈن برگر گیٹ، وغیرہ سے ہوتی ہوئی ایلیکس ایوینو سٹیشن پر دوسری انڈر گراؤنڈ ریل سے جا ملتی ہے۔


