حیات انگڑائی لے رہی ہے
غزہ میں زمینی و فضائی حملوں کے ذریعے بدترین تباہی پھیلانے والے اسرائیل کو ساڑھے سات ماہ کی خونریزی کے بعد یہ اعتراف کرنا پڑا ہے کہ حماس سے جنگ میں اسے ناکامیوں کا سامنا ہے۔ اسرائیلی قومی سلامتی کے مشیر کا کہنا ہے کہ جنگ کا کوئی اسٹرٹیجک مقصد حاصل نہیں کیا جا سکا۔ اسرائیل اپنے قیدی چھڑوا سکا اور نہ ہی حماس کے خاتمے میں کامیابی ملی۔ اسرائیل کی ناکامی تو اس وقت سے عیاں ہے جب شہری آبادی، ہسپتالوں اور اسکولوں پر حملوں کے دوران غزہ کے باسیوں کے ایسے پیغامات منظر عام پر آرہے تھے کہ اگر ہم مر جائیں تو یہ نہ بھولنا کہ ہم حق پر تھے۔
عالمی تاریخ ان لمحات کو کبھی نہ بھول سکے گی کہ اسرائیلی فضائی و بری حملوں کے نتیجے میں غزہ کی کوئی عمارت محفوظ نہیں رہی، ہسپتال قبرستانوں میں تبدیل کر دیے گئے، اہل غزہ کو تاحال بھوک پیاس سمیت ہر اذیت کا سامنا ہے۔ ساڑھے سات ماہ کے دوران فلسطینی شہدا کی تعداد 35 ہزار 800 سے تجاوز کرچکی ہے اور 80 ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہیں۔ تاریخ میں بڑے بڑے قتل عام ہوئے لیکن ایک چھوٹے سے رقبے میں اتنی لاشیں اتنے کم عرصے میں نہیں بچھی ہوں گی جتنی غزہ میں۔ غزہ میں ہر جگہ موت ہے۔ بے بس کمزور مائیں اپنے بچوں کے ساتھ کسی محفوظ مقام کی طرف بھاگتی ہیں تو بھی موت انہیں راستے میں یا منزل پر دبوچ لیتی ہے۔
ایک ویڈیو میں پانچ اور چھ سال کے دو بھائی بیٹھے ہیں، جو پورے خاندان میں سے بچ گئے۔ بڑا بھائی مسلسل خیمے کی دیوار کو دیکھے جا رہا ہے۔ بڑا بھائی ساکت بیٹھا ہے۔ نہ روتا ہے نہ بولتا ہے۔ چھوٹا کبھی روتا ہے، پھر بھائی کو گلے لگاتا ہے۔ پھر روتا ہے، پھر بڑے بھائی سے چمٹ جاتا ہے اور چومتا ہے۔ ایک چار سال کا لڑکا جس کے کندھوں سے ذرا نیچے سے دونوں بازو دو روز پہلے کاٹ دیے گئے تھے، وہ کھڑا مسکرا رہا ہے۔ ساتھ ہی اس کی ایک تصویر اور بھی ہے، جو بمباری اور ہاتھ کٹنے سے پہلے کی ہے، اس میں بھی وہ مسکرا رہا ہے۔
دنیا نے پتہ پانی کرنے والے ایسے مناظر کم ہی دیکھے ہوں گے۔ ان مناظر نے پہلی بار ہوا کا رخ بدلا ہے۔ اہل غزہ نے اپنی قربانیوں سے عالمی ضمیر کی آنکھوں پر بندھی پٹی کسی حد اتار دی ہے۔ دنیا نے مشرقِ وسطی کی ”واحد جمہوریت“ اور اس کی مدد گار جمہوریت اور انسانی حقوق کی علمبردار سپر پاور کا پاگل پن دیکھ لیا ہے۔ اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے جا ری ہیں، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بھاری اکثریت سے فلسطین کو مکمل رکنیت دینے کی قرار داد منظور کرچکی ہے۔
تین یورپی ممالک آئرلینڈ، ناروے اور اسپین فلسطین کو 28 مئی سے بطور ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرچکے ہیں اور اس فہرست میں مزید ملکوں کی شمولیت کا امکان نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی تاریخ کا وہ ورق دنیا کے سامنے پھر آ چکا ہے جس میں نہتے ویت نامی پیش قدمی کر رہے تھے اور جدید اسلحہ سے لیس طاقت پیچھے ہٹ رہی تھی۔
اسرائیل اور امریکا اقوامِ متحدہ کے رکنیت کے باعث عالمی عدالتِ انصاف کے تمام فیصلوں پر عمل درآمد کے پابند ہیں۔ جب بین الاقوامی عدالتِ انصاف نے اسرائیل کو فوری طور پر رفح پر فوج کشی روکنے اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹیں بلا تاخیر دور کرنے کا حکم دیا تو امریکا کے سینئر ترین ریپبلکن سینیٹرز لنڈسے گراہم نے کہا کہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف جائے جہنم میں۔ اس نام نہاد عدالت کیا اسرائیل دشمنی ایک عرصے سے عیاں ہے۔ اسرائیل کو اس کے احکامات مکمل طور پر نظرانداز کر دینا چاہئیں۔
عالمی عدالت کے حکم کے بعد اسرائیل نے 24 گھنٹے میں رفح پر ’60 دفعہ بمباری کی جو زیادہ تر ٹینٹوں اور خیموں پر کی گئی جس سے جان بچنے کی امید نہ ہونے کے برابر ہے۔
اقوامِ متحدہ کے دوسرے ادارے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے چیف پراسیکیوٹر کریم خان نے عدالت سے نسل کشی کی فردِ جرم کے تحت اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور وزیرِ دفاع یووگیلنٹ اور حماس کے تین سرکردہ رہنماؤں کے گرفتاری وارنٹ جاری کرنے کی استدعا کی تو امریکی کانگریس کے ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ ارکان کے اسرائیل نواز گروپ نے بائیڈن انتظامیہ سے مشترکہ مطالبہ کیا کہ وارنٹ کے اجراء پر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ پر پابندیاں لگائی جائیں۔
امریکا نے فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی رکنیت دینے کی قرار داد 18 اپریل کو دوسری بار ویٹو کی تو جنرل اسمبلی نے 10 مئی کو 9 کے مقابلے میں 143 ووٹوں سے فلسطین کی رکنیت کی قرار داد منظور کی۔ اس موقع پر تاریخ میں پہلی بار اسرائیل کے سفیر گیلاد اردن نے بھرے اجلاس میں اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی کاپی پھاڑ کر پھینکی۔ امریکا اور کینیڈا نے دھمکی دی کہ فلسطین کو رکنیت دینے پر اقوامِ متحدہ اور فلسطینی اتھارٹی کی مالی امداد سے ہاتھ کھینچا جا سکتا ہے۔
لاطینی امریکی ملک کولمبیا جس نے چند ہفتے قبل اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ فلسطینی اتھارٹی کے مرکز رام اللہ میں اپنا سفارت خانہ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ اسی دوران یورپی یونین کے تمام ایسے رکنِ ممالک نے فلسطینیوں کے لیے مخصوص اقوامِ متحدہ کے امدادی ادارے ”انرا“ کی معطل امداد بحال کر دی جنھوں نے جنوری میں ان اسرائیلی الزامات کے بعد امداد روک لی تھی کہ ”انرا“ کے 12 اہلکار 7 اکتوبر کو جنوبی اسرائیل پر حماس کے مسلح حملے میں عملاً ملوث تھے۔ الزام کی چھان بین اقوامِ متحدہ نے سابق فرانسیسی وزیرِ خارجہ کی قیادت میں قائم کمیٹی سے کرائی تو الزامات بے بنیاد ثابت ہوئے۔ اسرائیل بار بار یاددہانی کے باوجود ایک بھی ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا۔
امریکی یونیورسٹیوں میں ہزاروں طلبہ نے اپنا تعلیمی مستقبل داؤ پر لگا کر دھرنے دیے اور ان سے امریکی اسٹیبلشمنٹ نے بزور طاقت نمٹا لیکن امریکن اسرائیل لابی سے چندہ لینے والے اراکین کانگریس نے اس دباؤ پر مزاحمت کی راہ اختیار کرنے اور جوابی محاذ کھولنے سے معذوری ظاہر کی ایسا پہلی بار ہوا۔ طلبہ کی مزاحمت امریکی یونیورسٹیوں سے پہلی بار کینیڈا، یورپ اور آسٹریلیا کے تعلیمی اداروں میں بھی پھیل گئی۔ یہی طلبہ کل اپنے اپنے ممالک کی سیاسی و انتظامی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بنے۔ تو ممکن ہے کہ ان ممالک کی اندھی اسرائیل نواز پالیسی میں تبدیلی آ جائے۔ جرمنی، برطانیہ اور فرانس جیسے طاقت ور ممالک کی اسٹیبلشمنٹ پہلی بار عالمی دباؤ کی حرارت محسوس کر رہی ہے۔ امریکا کے سوا اسرائیل کے کسی دوست کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ کہ وہ اسرائیل کا ساتھ کہاں دی اور کس جگہ خاموشی اختیار کریں۔
ہوا کا رخ دیکھتے ہوئے امریکا نواز عرب ممالک کو بھی اپنا موقف بدلنا پڑ رہا ہے۔ سعودی عرب امریکا سے ایک جامع دفاعی معاہدہ کرنے کا خواہاں تو ہے۔ مگر اسرائیل کو تسلیم کرنے کی پیشگی امریکی شرط فلسطین کے دو ریاستی حل کے بغیر ماننے سے انکاری ہے۔ متحدہ عرب امارات اور بحرین جیسے اسرائیل سے قریبی اقتصادی تعاون کرنے والے ممالک بھی عرب رائے عامہ کی تپش محسوس کر رہے ہیں۔ بحرین میں عرب لیگ کے اجلاس میں یہ طے پایا کہ دو ریاستی حل کے لیے دباؤ بڑھانے کی خاطر اقوامِ متحدہ کے پلیٹ فارم پر ایک بین الاقوامی کانفرنس طلب کی جائے۔
امریکا کا ایک اور معتبر اتحادی مصر واضح طور پر کہہ رہا ہے کہ اگر اسرائیل نے رفح کراسنگ سے قبضہ ختم نہ کیا اور اہل غزہ کو مصر میں دھکیلنے کی کوشش کی تو 1979 میں ہونے والا کیمپ ڈیوڈ معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ امریکا کو احساس ہے یا نہیں مگر ہوا کا رخ تیزی سے بدل رہا ہے۔ تاریخ کا سفر کسی ایک ریاست کی خواہش کے تابع ہو کر کبھی رکا نہیں کرتا؛
تو اپنے پندار کی خبر لے کہ رخ ہوا کا بدل رہا ہے
تری نظر سے بہکنے والا فریب کھا کر سنبھل رہا ہے
یہی ہے دستور شہر ہستی کہ جو نیا ہے وہی پرانا
حیات انگڑائی لے رہی ہے زمانہ کروٹ بدل رہا ہے


