عبد الباسط ہمیں تم پر فخر ہے

بلا آخر وہ خبر آہی گئی جس کا مجھے پچھلے تین سالوں سے انتظار تھا۔ پاکستان کا دوسرا مواصلاتی سیٹلائٹ پاک سیٹ ایم ایم ون 30 مئی کو چین سے خلا میں چھوڑا جائے گا ”(الحمدللہ)
مجھے اس بات پر فخر ہے کہ میری فیملی کا ایک ہونہار بچہ سپارکو ٹیم کے ساتھ اس مشن کا حصہ رہا۔ بالکل ایسے ہی جیسے پاکستان کے ہر محب وطن شہری کا سر اس خبر کو سن کر فخر سے بلند ہوا۔ عبدالباسط سپارکو میں سیٹلائٹ سپیس انجینئر ہے۔ اور لگ پچھلے ڈھائی تین سالوں سے سپارکو کے اس مشن پر چائنہ میں مقیم ہے۔ عبدالباسط کے اس پروجیکٹ میں ہونے کی وجہ سے ہم خاندان والے بھی کسی نہ کسی طور اس سے کنیکٹڈ رہے۔ جب بھی اس سے بات ہوتی تو یہ ضرور پوچھتے کہ ”ہاں بھئی باسط کب کر رہے ہو پھر اپنا سیٹیلائٹ لانچ؟
او سیٹلائٹ ہی ہے نا کوئی پھلجھڑی تو نہیں ہے۔ یار باسط کوئی خبر نہیں آ رہی۔ کہاں رہ گیا وہ تمہارا سیٹیلائٹ؟ آئے گا بھی کہ خلا میں تیر چلا رہے ہو اور چائنہ کی مفت میں سیریں الگ“ اور وہ ہمیشہ مسکرا کر جواب دیتا بس ہو رہا ہے کام۔ تھوڑا انتظار اور۔ اور بالآخر وہ انتظار ختم ہو ہی گیا جب آفیشلی اس نیوز کو پبلک کر دیا گیا ہے۔ اس خبر کا عرصہ دراز سے بے چینی سے انتظار کی وجہ یہ بھی تھی کہ جاب پروٹوکولز کے دائرے میں رہتے ہوئے عبدالباسط سے جتنی بھی معلومات ملیں اس کے مطابق آنے والے دنوں میں پاکستان کے ٹیلی کمیونیکیشن سسٹم، ٹرانسمیشنز اور خصوصاً انٹرنیٹ سروسز میں بہت خوش آئند بہتری کا امکان ہے۔ جو یقیناً ترقی و خوشحالی کے دروازے کھولنے کی طرف ایک بڑا قدم ثابت ہو گا۔
میں ریاست کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کی ہمیشہ ناقد رہی ہوں۔ بھلے وہ حکمران ہوں جمہوریت کے علمبردار، مذہب کے پیروکار، کرپشن کے دلدادہ یا عوام میں ہی سے کچھ شرپسند عناصر جو اپنے ہی جیسے دوسرے لوگوں کا جینا اور مرنا حرام کر دیتے ہیں۔ لیکن جب بات آئے گی ریاست کے عزت وقار اور سربلندی کی تو اس پر کوئی کمپرومائز نہیں۔ کیا ہوا جو پاکستان اس مشن کو اکیلے سر انجام نہ دے سکا اور ہمسایہ ملک چائنہ کے ساتھ مل کر یہ پروجیکٹ مکمل کیا۔
اہم یہ ہے کہ فائدہ کس کو ہوا اور سہولت کون اٹھائے گا اور ٹیکنالوجی کی طرف کھڑکی کس کی کھلے گی۔ ترقی یافتہ ممالک کا بھی بڑے اور اہم پروجیکٹس پر ایک دوسرے سے ٹیکنالوجی کا تبادلہ کرنا یا ملک کر کام کرنا ایک روٹین میٹر ہے تو پاکستان کے چائنہ کے ساتھ ملک کام کرنے پر ہی واویلا کیوں؟ کیا مسئلہ پاکستان کی ترقی سے ہے یا پھر مروڑ چائنہ کے ساتھ باہمی تعاون سے؟ اتنا ہو گیا تو وہ وقت بھی آ ہی جائے گا جب پاکستان اپنے بل بوتے پر بغیر کوئی کندھا استعمال کیے اپنی زمین سے ایسے سیٹلائٹس لانچ کر کے دکھائے گا (انشا اللہ) اور اس بات سے انکاری ”سرفروش“ پاکستان کی تاریخ میں 28 مئی کے دن کو ایک بار ضرور یاد کر لیا کریں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ریاست کے خلاف ملکی اور بین الاقومی دونوں سطحوں پر زہر اتنے پراپیگنڈا کے ساتھ اگلا جاتا ہے کہ سچ اور جھوٹ میں تمیز تک کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہاں یہ بھی کڑوا سچ ہے کہ ہم سیاسی، جمہوری اور معاشی طور پو ابھی تک ہاتھ پاؤں ہاتھ مار رہیے ہیں۔ ہمارے اخلاقی اور سماجی رویے بھی کوئی بہت عمدہ مثالیں پیش نہیں کرتے۔ ہمارے نوجوان ابھی بھی روشن مستقبل کے لیے بیرون ملک تعلیم اور رہائش کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
ہمارے ادارے عوامی فلاح کی بجائے شخصیاتی تسلط کی قید میں ہیں۔ ہم ہر ترقی پسند قدم اور خصوصاً سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے میں دوسروں کے مرہون منت ہیں۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ دنیا کے نقشے پر لفظ پاکستان ابھی بھی دل کو اتنا ہی سکون دیتا ہے جتنا ہمارے شناختی کارڈ پر لفظ اسلامی ریپبلک آف پاکستان۔ ریاست کی مٹی میں آج بھی اتنا ہی پیار اور مٹھاس ہے یہ بات وہ لاکھوں تارکین وطن بہتر سمجھ سکتے ہیں جو نجانے دیس سے دوری کی کتنی محرومیاں اپنے سینوں میں سمائے بیرون ممالک میں رہنے پر مجبور ہیں۔
عبدالباسط اور اس جیسے اور بہت سے نوجوان ہمارے تابناک مستقبل کی امید ہیں اور یقیناً دوسرے بہت سے نوجوانوں کا حوصلہ اور آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بھی۔ جنہوں نے اسی پاکستان سے تعلیم لی۔ یہیں جاب بھی کی اور اسی ریاست کو اب سرو کر کے سب کو یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ”ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی!“


Thanks for writing this. We are also proud of Abdul Basit. It was great to see him during the launch in China. May Allah help Pakistan to keep progressing in the right direction.