تعلیمی شفافیت اور ہم
پاکستان میں خواندگی کی شرح مختلف صوبوں میں مختلف ہے۔ مجموعی طور پر خواندگی کی شرح تقریباً 61 فیصد ہے، جس میں مردوں کی شرح 70 فیصد اور عورتوں کی شرح 50 فیصد کے قریب ہے۔ پاکستان میں تعلیمی اداروں کی تعداد ہزاروں میں ہے، جن میں سرکاری اور نجی دونوں شامل ہیں۔ سرکاری سکولوں کی تعداد زیادہ ہے لیکن ان کی حالت عام طور پر بہتر نہیں ہوتی جبکہ نجی سکولوں میں معیار تعلیم زیادہ بہتر ہوتا ہے مگر ان کی فیس بھی زیادہ ہوتی ہے۔
پنجاب میں تعلیم کی صورتحال نسبتاً بہتر ہے جبکہ بلوچستان میں تعلیمی نظام سب سے زیادہ مشکلات کا شکار ہے۔ سندھ اور خیبر پختونخوا میں بھی تعلیمی صورتحال متفرق ہے۔
پاکستان کا تعلیمی بجٹ جی ڈی پی کا تقریباً 2 یا 2.5 فیصد ہوتا ہے، جو کہ عالمی معیار کے مقابلے میں کم ہے۔ تعلیمی ماہرین کے مطابق اسے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ تعلیم کے شعبے میں بہتری لائی جا سکے۔ پاکستان میں تقریباً 26.2 ملین بچے (5 سے 16 سال کی عمر کے) اسکول سے باہر ہیں۔ یہ تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔ وہاں اکثر لڑکیاں ابتدائی تعلیم کے بعد سکول چھوڑ دیتی ہیں۔
سرکاری سکولوں میں معیار تعلیم اکثر کم ہوتا ہے۔ اساتذہ کی تربیت کی کمی، غیر حاضری، اور نصاب کی قدامت جیسے مسائل بھی درپیش ہیں۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے جیسے یونیورسٹیز کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے، مگر معیار کے لحاظ سے چند یونیورسٹیاں ہی عالمی معیار پر پورا اترتی ہیں۔ یہ تمام حقائق پاکستان میں تعلیم کی موجودہ حالت کو بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہیں تاکہ مستقبل میں پاکستان کے بچے بہتر تعلیمی مواقع حاصل کر سکیں۔
یوں تو ہم اپنے ملک میں تعلیم کی اہمیت کی بہت باتیں کرتے ہیں اس کے فروغ کے حوالے ہمہ جہت سمتوں میں کوششیں بھی کرتے ہیں تاہم قابل اعتبار ذرائع اب بھی جو اعداد و شمار ظاہر کر رہے ہیں وہ اب بھی حوصلہ افزا نہیں ہیں
پاکستان اکنامک سروے کے مطابق پاکستان میں 62.4 فیصد شرح خواندگی ہے جب کہ صوبہ سندھ میں خواندگی کی شرح 61.8 اعشاریہ ہے، پاکستان میں 32 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں جبکہ تمام صوبوں میں سندھ دوسرے نمبر پر جہاں سب سے زیادہ 44 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں ان میں بچیوں کی شرح 37 فیصد اور بچوں کی شرح 27 فیصد ہے جس میں بڑی وجہ معاشی حالات کا بہتر نہ ہونا ہے۔ پاکستان میں شعور اور وسائل کے فقدان کی وجہ سے شرح خواندگی کم ہے پاکستان میں 62.4 شرح خواندگی ہے جس میں بھی معیار کا مسئلہ ہے، اکثر و بیشتر والدین کے پاس وسائل نہ ہونے کہ وجہ سے بچے وقت پر تعلیم حاصل نہیں کر پاتے ان کی عمر بڑی ہوجاتی ہے یا تعلیم حاصل کرنے کے پیسے نہیں ہوتے۔
اندراج کی شرح: اندراج میں اضافے کی کوششوں کے باوجود، بچوں کی ایک قابل ذکر تعداد، خاص طور پر لڑکیاں، اسکول سے باہر رہتی ہیں۔ پاکستان کے تعلیمی اعداد و شمار 2016۔ 17 کے مطابق، سندھ میں پرائمری سطح پر 61 فیصد کی نیٹ انرولمنٹ ریٹ (NER) تھی۔
صنفی تفاوت: اندراج میں ایک قابل ذکر صنفی تفاوت ہے، لڑکوں کے مقابلے پرائمری اسکول میں لڑکیاں کم جاتی ہیں۔ ثقافتی اور سماجی و اقتصادی رکاوٹیں اکثر لڑکیوں کی تعلیم میں رکاوٹ بنتی ہیں۔
شہری بمقابلہ دیہی تقسیم: شہری اور دیہی علاقوں کے درمیان پرائمری تعلیم کی دستیابی اور معیار میں بالکل فرق ہے۔ دیہی علاقوں کے مقابلے شہری علاقوں میں بہتر وسائل، زیادہ اسکول، اور اندراج کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔
معتبر ذرائع کے مطابق سندھ میں 2022 تک 80 ہزار اساتذہ کرام شعبہ تعلیم کے پرائمری سیکشن سے وابستہ تھے جبکہ تعلیم پر خرچ کیے جانے وال بجٹ 262 ارب روپے ہے۔ اس کے علاوہ 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ سندھ کے تقریبا 80 فیصد اس کو لوں میں بنیادی زندگی کی سہولیات کی انتہائی کمی ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ چونکہ پرائمری تعلیم کا تعلق چھوٹے بچوں سے ہوتا ہے اور ان پرائمری موجود اسکولز اگر تعلیم دی جا رہی ہے اور اس سے بھی قطع نظر کہ اس دی جانے والی تعلیم کا معیار کیا ہے تعلیم کا فراہم کیا جانا ہی ایک غنیمت محسوس ہو تا ہے ایسے میں بچوں کی بنیادی ضروریات جیسے پینے کے لئے صاف پانی، باتھ رومز کا درست نظام، بجلی کی فراہمی، فر نیچر اور خود عمارت کی مخدوشی یا ہم انفراسٹرکچر کی حالتِ زار وغیرہ ایسے مسائل ہیں کہ جن کے حل کے بغیر پرائمری تعلیم کا فروغ کسی طور ممکن ہی نہیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق صوبہ سندھ میں تقریباً 4 ہزار 8 سو سے زائد پرائمری اسکول مو جود ہیں جن میں سے 3000 (تین ہزار) سے زائد اسکولز یا تو سرے سے مو جود ہی نہیں زمینی حقائق سے کہیں دور صرف خانہ پوری کے لئے علاقے کے سرکردہ افراد کے لئے اور ان خاندانوں کے لئے مستقل ذریعہ معاش ( تنخواہوں ) کی صورت میں قائم کر دیے گئے ہیں جن کا تذکرہ ہم اکثر و بیشتر گھوسٹ اسکولز کے نام سے سنتے رہتے ہیں۔
اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر بار ایسے گھوسٹ اسکولز کے خلا اف کارروائی کرنا کا منصوبہ ہر بار حکومت کے ارادوں یا منصوبوں میں شامل ہو تا ہے لیکن ہر حکومت ایسے اقدامات نہیں کر پاتی اور یہ گھوسٹ اسکولز چلتے رہتے ہیں اور بری آب و تاب سے چل رہے ہیں حکومتی فائلز کی زینت اور قومی خزانے پر ضرب ِ کاری ثابت ہو رہے ہیں۔
حکومتی ایوانوں اور اقتدار کے متوالوں کو اب فرسودہ سوچ کو ترک کر کے اپنے قوم کے بچوں کو مستقبل کو روشن بنانا ہو گا ورنہ تاریخ ان کبھی معاف نہیں کرے گی۔
ان سب باتوں کے علاوہ اساتذہ کی باقاعدہ اسکولز میں آمد اور کمرہ جماعت میں باقاعدہ تدریسی عمل کا مسلسل جاری رہنا بھی ایک اہم عمل ہے جو کہ جدید مانیٹرنگ نظام سے لیس کرنے کی ضرورت ہے اساتذہ کرام کی جدید خطوط پر مسلسل تربیتی عمل جاری رکھنا بھی انتہائی ضروری ہے اور اسے بھی حکومتی پا لیسی کا حصہ ہونا چاہیے ۔
یوں تو غربت بھی ہمارے ملک کا با العموم اور ہمارے صوبہ سندھ کا با الخصوص اہم ترین مسئلہ رہا ہے گلوبل ہنگر انڈیکس 2021 کے مطابق ( مشترکہ رپورٹس ) پاکستان 116 دنیا کے ممالک میں سے اس وقت 92 نمبر پر ہے اور اس پہ سونے پہ سہاگہ وہی بوسیدہ اور روایتی طرز تدریس بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
ایک اہم سروے کے مطابق صوبہ سندھ کے پرائمری سطح کے اسکولز میں سے 90 (نوے ) فیصد اسکولوں میں ریاضی اور سائنس کے مضامین اساتذہ مو جود ہی نہیں اور پھر تیزی سے بدلتی ہوئی اور متضاد تعلیمی پالیسیاں بھی ہمارے بچوں کو اسکولوں سے دور کر رہی ہیں۔
اس سلسلے میں تعلیمی پالیسیوں کا تسلسل بھی ضروری اور نا گزیر ہے۔ تعلیمی کمیونیکیشن گیپ، کاپی کلچر، احساسِ ملکیت کا فقدان، سیاسی اثر و رسوخ کا ہر سطح پر بڑھنا ایسے عوامل ہیں کہ پرائمری تعلیم کا حصول نا ممکن بنانے میں اپنا کردار ادا کر ہے ہیں۔ ان مسائل کو بتدریج حل کے لئے معاشرے کے تمام شعبوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔
ضرورت اس امر کی کہ پرائمری تعلیم جیسے بنیا دی اور اہم مرحلے کی تعلیم کو از سرے ِنو جدید خطوط پر اتوار کیا جائے ملک و ملت کے نونہالوں کی علمی استعداد کو اتنی مضبوط بنیادیں فراہم کر دی جائیں کہ آنے والے سالوں کے تعلیمی تصورات کو سمجھتے ہوئے مضبوط بنیادوں پر تن کر فخریہ کھڑے ہو کر اپنے شاندار حال و عظیم مستقبل کو تعمیر کر سکیں۔


