سوچ کے مختلف زاویے
ایک انگریز استانی بچوں کو پڑھا رہی تھی کہ ایک تفریحی بحری جہاز سمندر میں حادثے کا شکار ہو گیا، جہاز پر ایک میاں بیوی کا جوڑا بھی سوار تھا، لائف بوٹ کی طرف جانے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ اس میں صرف ایک شخص کی گنجائش باقی ہے۔ اس وقت اس شخص نے عورت کو اپنے پیچھے دھکیل دیا اور خود لائف بوٹ پر چھلانگ لگا دی۔ خاتون نے ڈوبتے ہوئے جہاز پر کھڑے ہو کر اپنے شوہر سے چلا کر ایک جملہ کہا۔ یہاں استانی نے توقف کیا اور پوچھا، ”آپ لوگوں کا کیا خیال ہے کہ وہ کیا بات چلائی تھی؟
زیادہ تر طلباء نے پرجوش ہو کر جواب دیا اس نے کہا ہو گا کہ میں تم سے نفرت کرتی ہوں! تم خود غرض ہو! میں اب تک شاید اندھی تھی کہ تم پر اعتماد کیا! آج مجھے تمہاری حقیقت پتہ چل گئی ہے! اب استانی نے ایک لڑکے کو دیکھا جو اس تمام تر قصے کے دوران خاموش رہا تھا، استانی نے اسے جواب دینے کے لیے کہا اور اس نے جواب دیا،“ استانی صاحبہ، مجھے یقین ہے کہ وہ چیخی ہوگی ہمارے بچے کا خیال رکھنا۔ استانی نے حیرانی سے پوچھا کیا تم نے یہ کہانی پہلے سنی ہوئی ہے؟
لڑکے نے سر ہلایا، نہیں لیکن یہ بات میری ماں نے میرے والد کو بیماری سے مرنے سے پہلے بتائی تھی۔ استانی نے افسوس کرتے ہوئے کہا، جواب صحیح ہے۔ تفریحی بحری جہاز ڈوب گیا، وہ شخص بخیریت گھر پہنچ گیا اور اپنی بیٹی کو تن تنہا ہی پالا۔ اس شخص کی موت کے کئی سال بعد ، ان کی بیٹی کو اپنا سامان صاف کرتے ہوئے اس کی ایک ڈائری ملی۔ اس ڈائری سے یہ راز آشکار ہوتا ہے کہ جب اس کے والدین تفریحی جہاز پر گئے تھے، تو ماں کو پہلے سے ہی ایک لاعلاج بیماری کی تشخیص کی گئی تھی اس نازک لمحے میں باپ زندہ بچ جانے کے واحد موقع سے فائدہ اٹھا کر بھاگ نکلا۔
اس نے اپنی ڈائری میں لکھا تھا، ”میری کس قدر تمنا تھی کہ تمہارے ساتھ سمندر کی تہہ میں ڈوب مروں لیکن تمہاری اور اپنی بیٹی کی خاطر میں تمہیں ہمیشہ کے لیے سمندر کی گہرائیوں میں اکیلا رہنے کے لیے چھوڑ آیا ہوں کہانی ختم ہوئی، کلاس میں خاموشی چھا گئی استانی جانتی ہے کہ طلباء کہانی کے اخلاقی سبق کو سمجھ چکے ہیں کہ دنیا میں اچھائی اور برائی کا وجود ہے لیکن ان کے پیچھے بہت سی پیچیدگیاں ہیں جن کو سمجھنا مشکل ہے یہی وجہ ہے کہ ہمیں کبھی بھی صرف سطحی حالات پر توجہ نہیں دینی چاہیے اور دوسروں کو پہلے سمجھے بغیر فیصلہ صادر نہیں کرنا چاہیے جو لوگ بل ادا کرنا پسند کرتے ہیں، وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ دولت مند ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ دوستی کو پیسے پر ترجیح دیتے ہیں جو لوگ کام میں پہل کرتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ بیوقوف ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ ذمہ داری کے تصور کو سمجھتے ہیں جو لوگ جھگڑے کے بعد پہلے معافی مانگتے ہیں وہ اس لیے نہیں کرتے کہ وہ غلط ہیں بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اپنے اردگرد کے لوگوں کی قدر کرتے ہیں جو لوگ آپ کی مدد کرنے کو تیار ہیں، ایسا اس لیے نہیں کرتے کہ وہ آپ کی کسی بھی چیز کے مقروض ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ آپ کو ایک سچے دوست کے طور پر اہمیت دیتے ہیں جو لوگ اکثر آپ کو میسج کرتے ہیں، ایسا اس لیے نہیں کرتے کہ ان کے پاس کرنے کے لیے کچھ بہتر کام نہیں ہے یا وہ کوئی رسم ادا کرتے ہیں بلکہ اس لیے کہ آپ ان کے دل میں بستے ہیں وہ آپ کو یاد کرتے ہیں۔
ایک دن ہم سب ایک دوسرے سے بچھڑ جائیں گے۔ لوگ ہر موضوع اور کوئی بھی موضوع نہ ہونے کے بارے میں ہماری گفتگو کو یاد کریں گے۔ اور ان سب خوابوں کو جو ہم نے مل جل کر دیکھے تھے۔ دن، مہینے، سال گزرتے جائیں گے یہاں تک کہ یہ رابطہ نایاب ہو جائے گا۔ ایک دن ہمارے بچے ہماری تصویریں دیکھیں گے اور پوچھیں گے کہ یہ کون لوگ ہیں؟ اور ہم پوشیدہ آنسوؤں کے ساتھ مسکرائیں گے کیونکہ ایک مضبوط لفظ دل کو چھو لیتا ہے اور آپ کہیں گے!
یہ وہی تھے جن کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے بہترین دن گزارے تھے۔ یقیناً اس کہانی میں ڈوبتی ہوئی ماں نے چلا کر یہی کہا ہو گا کہ میرے بچوں کا خیال رکھنا“ کیونکہ ماں اور باپ سے زیادہ بچوں کا ہمدرد کون ہو سکتا ہے؟ ماں باپ کی محبت کب آنکھوں سے دیکھی جا سکتی ہے یہ تو محسوس بھی بڑی مشکل سے ہوتی ہے حضرت بوعلی سینا ؒنے ایک مرتبہ فرمایا تھا ”مجھے محبت کے مطلب کا تب پتہ چلا جب ہم پانچ تھے اور سیب چار تو ماں نے کہا مجھے سیب پسند نہیں“ نظر آنے والی ہر چیز ویسی ہی نہیں ہوتی جیسا وہ نظر آتی ہے اکثر اوقات آنکھوں دیکھا اور کانوں سنا بھی غلط ہوتا ہے بیشتر اوقات ہم آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں اور سننے کے باوجود غلط سمجھ رہے ہوتے ہیں یہ دراصل ہماری سوچ کی آنکھ دیکھ رہی ہوتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی واسطہ نہیں ہوتا ایک ہی چیز یا واقعہ کو دیکھنے سے دو سوچ جنم لیتی ہیں ایک مثبت اور دوسری منفی دونوں کے نتائج بالکل الگ الگ ہوتے ہیں۔
جس طرح تصویر کے دو پہلو ہوتے ہیں اسی طرح ہماری سوچ کے بھی منفرد پہلو ہوتے ہیں ہر انسان کی سوچ کے ساتھ ساتھ چیزوں کو دیکھنے اور پرکھنے کا انداز فکر بھی مختلف ہوتا ہے بقول شیکسپیئر ”ہم وہ نہیں ہوتے جو کرتے ہیں بلکہ وہ ہوتے ہیں جو ہم سوچتے ہیں“ ہماری کامیابی یا ناکامی کا دار و مدار ہماری سوچ کے منفی یا مثبت ہونے سے جڑا ہوتا ہے کہتے ہیں دیکھنے سے سوچ اور سوچ سے خیال، خیال سے نظریہ، نظریے سے مقصد، مقصد سے تحریک، تحریک سے جستجو اور جستجو سے کامیابی ملتی ہے ایک انگریز فلاسفر نے کہا ہے ”اپنی سوچ بدلیے آپ کی دنیا بدل جائے گی“ دنیا میں ہر انسان کا طرز فکر اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے اور اس کی سوچ اس کی شخصیت کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے سوچ سے عادات اور عادات سے سوچ بنتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ”میرا بندہ جیسا سوچتا ہے ویسا بولتا ہے جیسا بولتا ہے ویسا کرتا ہے اور جیسا کرتا ہے ویسا ہونا شروع ہو جاتا ہے میرے دادا جان مرحوم کہتے تھے کہ جب کوئی نیک اور اچھا انسان کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے ساتھ اللہ کے ستر ہزار فرشتوں کی مدد ہوتی ہے اور کائنات کا ذرا ذرا حرکت میں آ جاتا ہے اور اس چاہ میں لگ جاتا ہے کہ اس بندے کا ارادہ کیسے پورا ہو۔
اس کی ابتدا سوچ سے ہی شروع ہوتی ہے جس کی سوچ مثبت ہے اور اس میں اللہ کی مخلوق کے لیے خیر اور بھلائی ہے وہ یقیناً نیک اور اللہ کا پسندیدہ انسان ہوتا ہے۔ تاج محل دنیا کے آٹھ عجوبوں میں سے ایک ہے اور محبت کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے لیکن اس میں دو قبروں کے علاوہ کچھ نہیں ہے ایک بنوانے والے بادشاہ شاہ جہاں کی اور دوسری جس کے لیے بنوایا گیا تھا یعنی ملکہ ممتاز محل کی ہے سنگ مر مر کے قیمتی اور سفید پتھروں اور مزدورں کے خون پسینے اور تعمیر کرنے والے کاریگر کے کٹے ہوئے ہاتھوں سے بنی اس عمارت کی خوبصورتی سے زیادہ اہم وہ محبت بھری سوچ، شوق تعمیر، احساس اور خواہش ہے جو ایک بادشاہ کے ذہن میں جنم لے کر اس عمارت کو دنیا میں منفرد مقام دلاتا ہے
تصویر کے بہت سے رخ ہوتے ہیں ایک وہ جو لوگ دیکھتے ہیں ایک وہ جو نظریں کے لیے تصویر میں مقید کیا گیا ہے ایک رخ ان کے اردگرد کھڑے لوگوں کا بھی ہوتا ہے جو اس منظر کا حصہ نہیں ہوتے مگر ان سب باتوں اور سوچوں سے کہیں دور ایک رخ وہ بھی ہوتا ہے جو سچائی پر مبنی ہو جس کو دیکھنے کے لیے بسا اوقات ظاہر کی آنکھ سے گزارہ نہیں ہوتا یقین کی بلندی اور بصیرت کی نگاہ درکار ہوتی ہے جو ہر ایک کو میسر نہیں ہوتی ایک ایسا شخص جس کا آپکی ذات پر بھروسا آپ کی تصویر میں چھپے سچ کو یقین کے رنگ بھر کر زندگی بخشتا ہے جو عام آنکھ سے نہ تو دیکھا جاسکتا ہے اور نہ ہی عام کان اس سچ کو سننے کے متحمل ہو سکتے ہیں اور وہ سچ شاید یہ ہے کہ تاج محل کسی محبت کا نہیں بلکہ شاہ جہاں کا عمارات تعمیر کرنے کا شوق تھا ورنہ وہ ممتاز محل جیسی محبوب بیوی کے بعد بے شمار شادیاں اور محبتیں نہ کرتا۔ سوال یہ ہے کہ اپنی زندگی کے دوران ہم نے اب تک جو دیکھا اور سنا کیا وہ حقیقت تھی؟ اور کیا آج جو کچھ ہم دیکھ اور سن رہے ہیں کل کیا یہ حقیقت اور سچ ہو گا؟
جس کی تخلیق ہے یہ ہائے ُ وہ احساس لطیف
یہ حقیقت ہے بجا تاج محل پتھر ہے

