محترم ممتاز بخاری کے ناول ”تمہارا انتظار کرنا ہے“ کا مختصر تنقیدی جائزہ
سندھی اور اردو ادب کے قارئین میں سے کون ممتاز بخاری اور اس کے کام سے ناواقف ہے! ”تمہارا انتظار کرنا ہے“ دراصل ان کے سندھی ناول ”تنھنجو انتظار ڪرڻو آھی“ کا اردو ترجمہ ہے جو محترم یاسین جونیجو نے کیا ہے۔
میں اتفاق سے یہ ناول سندھی میں نہیں پڑھ سکا اور اس کا اردو ورژن ایک ہی نشست میں ختم کیا جو اس کے دلچسپ ہونے کا ثبوت ہے ورنہ میں اتنی تندہی سے سب کام چھوڑ کر کوئی ناول ایک دن میں ختم نہیں کرتا۔
ناول کے پلاٹ کو دیکھا جائے تو وہ تڑپ، تلاش، جستجو اور سفر پر مبنی ہے جس کو مصنف نے خوش اسلوبی سے تراش خراش کر قاری کے لیے ایک خوبصورت مجسمے کی طرح پیش کیا ہے۔
اگر کردار نگاری کی بات کی جائے تو سبھی کرداروں کو عمومی طور پر اور لطنور، رباب، عبداللہ، صحبت، فنیلا اور سومر کے کرداروں کی سحر انگیزی خصوصی طور پر کمال فنی مہارت سے کی گئی ہے۔ البتہ کچھ کردار مثلاً خمیسو، دادن اور مریم جس تیزی سے منظر پر آئے اور غائب ہوئے اس پر قاری کو جھٹکا سا لگ سکتا ہے اور کہیں کہیں پر کردار کے نامکمل ہونے کا احساس بھی ہوتا ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ یہ کردار بے جا ہیں۔ ایسے کرداروں کا ہونا بقیہ تمام کرداروں کو اجاگر کرنے کے لیے مناسب تھا اور پلاٹ کو آگے بڑھانے کے لیے ضروری بھی تھا۔
تین۔ کردار لطنور، رباب اور فنیلا بہت جاندار تھے اور ان کی کردار نگاری نے بحیثیت قاری اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ خاص طور پر لطنور اور فنیلا کے درمیان مکالمہ آرائی تو بہت قابل تعریف ہے۔
ناول کے پہلے تین ابواب کرداروں کے عمومی تعارف پر مشتمل ہیں مگر تیسرے باب سے آخری یعنی اٹھارہویں باب تک تو جیسے میں خود بھی اس ناول کا ایک کردار بن چکا تھا۔
یہاں ایک بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اگر ہم ترجمے کو باریک بینی سے دیکھیں تو ان میں کچھ فنی خامیاں بھی نظر آتی ہیں۔ مثال کے طور پر مترجم نے کچھ الفاظ کا بے دریغ استعمال کیا ہے۔
ترجمے کا عمومی معیار مناسب ہے مگر کہیں کہیں بخاری صاحب کی محنت سے انصاف کرتا نظر نہیں آیا۔ بعض مقامات پر ایسا لگا کہ ترجمہ لفظ بہ لفظ کیا گیا ہے جس سے کچھ جملوں کا تاثر ذرا ہٹ کر محسوس ہوا۔ اس کے علاوہ کچھ غلطیاں املاء کی بھی ہیں جو کہ نہیں ہونی چاہیے تھیں۔
میں بہت ایمانداری سے کہہ رہا ہوں کہ آپ ناول پڑھتے ہوئے اس میں کھو جائیں گے اور کرداروں کو اپنے بہت نزدیک محسوس کریں گے۔
آپ بھی اس ناول کو پڑھ کر یقیناً بہت محظوظ ہوں گے۔

