قبروں میں نہیں ہم کو کتابوں میں اتارو
آئیے حال ایک شعر ہی سے کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ:
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
ملک لیث محمد صاحب کی اپنے والد محترم کے تحریکِ پاکستان سے متعلق مشاہدات اور تجربات پر لکھی گئی کتاب ”ملک نامہ“ نے آج ثابت کر دیا کہ اچھے لوگ کبھی مرتے نہیں۔ جسمانی صورت سے تو آزاد ہو جاتے ہیں لیکن ان کی یادیں دلوں میں گھر کیے رہتی ہیں اور ہم انہیں وقتاً فوقتاً یاد کرتے ہیں۔ ملک لیث محمد صاحب نے اپنے والد محترم کی عظمت اور یادوں کو ایک کتاب میں قید کرنے کی کوشش تو کی لیکن میری رائے یہ ہے کہ ملک بابا (اللہ جنت الفردوس عطا فرمائے ) کی عظمت اور یادوں کو قید کرنے کے لیے ایک کتاب کافی نہیں ہے۔ ملک بابا کے فرزند ارجمند نے یہ قابلِ تحسین تذکرہ بڑے نرالے انداز میں کر کے اپنے والد محترم کی قربانیوں اور یادوں کو ”ملک نامہ“ کی صورت میں قلمبند کیا ہے اور ملک بابا کی زندہ شخصیت کو زندہ جاوید بنا کے اپنے والد محترم کے حقوق کا ایک حق ادا کیا ہے۔
”ملک نامہ“ ایک ایسی تخلیق ہے جس کا مصنف تذکرہ نگار اور جن کا ذکر ہے، ”ملک بابا“ ، دونوں ملک خاندان کے قابل فخر شخصیات اور نامی گرامی قومی ہیروز ہیں۔ کتاب کا موضوع نہایت موزوں اور دلچسپ ہے اور قاری کو اپنی طرف کھینچ کر اسے پڑھے بغیر نہیں چھوڑتا۔ کتاب کا طرزِ تحریر اور اسلوب آسان نثری ادب کا ایک بہت بڑا شاہکار اور سرمایہ ہے۔ ملک لیث محمد صاحب نے سہل ممتنع اسٹائل اور تحقیقی اسلوب اپنا کے ادب میں Scientific Narrative طرز کا ایک نیا معیار قائم کیا۔ اس کتاب میں ملک بابا کی یادوں کا گلدستہ پوری تحریک پاکستان پر محیط ہے جس میں ملک بابا کے آنکھوں دیکھا حال کی مکمل عکاسی اور سچی کہانی کی مٹھاس بھی ہے اور فکر و فن کے مآخذ بھی۔ اس کتاب میں سیاست میں آنے والوں اور دیگر سماجی ورکرز کے لئے راہنمائی اور زندگی کی بصیرت بدرجہ اتم موجود ہے۔
”ملک نامہ“ کی مٹھاس، روانی اور اثر کا حال کچھ یوں ہے کہ ہم جیسوں کو بھی کتاب لکھنے کا شوق اور تحریک ملی ہے۔ ملک لیث محمد صاحب کی دیکھا دیکھی بہت ساروں کو کتاب لکھنے کی سوچ لگی ہے۔ اس ادبی، نثری، تاریخی اور تحقیقی تصنیف پر ہم مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ میں تو اردو ادب کے ایک ادنیٰ طالب علم کی حیثیت سے ملک لیث محمد صاحب کی کتاب ”ملک نامہ“ کو پڑھ کر ”مشر ملک بابا“ کو یہ نذرانہ پیش کر تا ہوں کہ:
ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ
چراغ لے کے نہ جانے کدھر گئے ہیں لوگ
جہاں سے نکلے ہیں رستے مسافروں کے لئے
مکان ایسے بھی تعمیر کر گئے ہیں لوگ
کبھی کبھی تو جدائی کی لذتیں دے کر
رفاقتوں میں نیا رنگ بھر گئے ہیں لوگ
غرور تند ہواؤں کا یوں بھی توڑا ہے
چراغ ہاتھ پہ رکھ کر گزر گئے ہیں لوگ
کوئی جواب نہیں فکر کی بلندی کا
زمیں پہ رہ کے بھی افلاک پر گئے ہیں لوگ
قریب تھے تو فقط واسطہ تھا آنکھوں سے
جدا ہوئے ہیں تو دل میں اتر گئے ہیں لوگ
وہ گیسوؤں کی گھٹا ہو کہ دار کا سایہ
جہاں بھی چھاؤں ملی ہے ٹھہر گئے ہیں لوگ
یہ اور بات کہ گھر بجھ گئے ہیں اے شاعرؔ
مگر وطن میں چراغاں تو کر گئے ہیں لوگ
(ڈاکٹر میر عالم سید)


