آزاد جموں وکشمیر کلچر اکیڈمی ہماری پہچان!


 

آزاد جموں وکشمیر میں جموں و کشمیر کے فن ’اَدب اور ثقافت کو فروغ دینے کے مقاصد کے لئے کشمیر کلچر اکیڈمی کا قیام 1994 کو عمل میں لایا گیا۔ جو نسل ِ نو کو اپنی تہذیب و ثقافت سے روشناس کروانے کے لئے ہمہ وقت کوشاں ہے۔ آزاد کشمیر میں مختلف پروگرامات‘ سیمینار ’ورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں کشمیر کلچر اکیڈمی کے زیر اہتمام‘ جموں وکشمیر کے اَدب و ثقافت کا ترجمان ’سہ ماہی ”تہذیب“ بھی شائع کیا جاتا ہے۔ جس میں علم و اَدب‘ ثقافت سے متعلق تاریخی حوالہ جات پیش کیے جاتے ہیں۔

سہ ماہی ’تہذیب‘ کی مجلس ِ ادارت میں سرپرست اعلیٰ ’اعجاز حسین لون‘ سیکرٹری آزاد جموں وکشمیر کلچر اکیڈمی ’مدیر اعلیٰ فیضان عارف مغل‘ ڈائریکٹر آزاد جموں وکشمیر کلچرل اکیڈمی ’مدیر‘ محمد سعید خان ’پبلیکیشن افسر‘ معاون مدیر ’محمد منیر خان کیانی‘ اسسٹنٹ ڈائریکٹر ’جب کہ مجلس ِمشاورت میں محمد اکرم سہیل‘ ڈاکٹر محمد صغیر خان ’پروفیسر اعجاز نعمانی‘ قاضی زبیر احمد ’ڈائریکٹر ادارہ مطالعہ کشمیر‘ جامعہ کشمیر ’محمد دین مخلص وجدانی‘ شہزاد لولابی ’محمد کامران رانا‘ سید علی الحسنین گیلانی شامل ہیں۔ آزاد جموں وکشمیر میں جموں و کشمیر اکیڈمی میں جناب فیضان عارف مغل کو اپنی تصنیف ’مقصد ِحیات‘ پیش کرنے کے لئے ملاقات ہوئی۔ اس دوران اکیڈمی کے علم و اَدب ’ثقافت کی ترویج کے لئے کی گئی کاوشوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع بھی ملا۔ جو یقیناً قابلِ ذکر ہیں۔

کشمیر کلچر اکیڈمی کی خدمات قابل ِ ذکر ہیں۔ ادارہ کی کاوشوں سے نسلِ نو کو اپنی ثقافت ’ادب‘ روایات کی جانکاری کا موقع میسر آتا ہے۔ کشمیر کلچر اکیڈمی کی کاوشیں کوئی معمول بات نہیں بلکہ ہر قوم کی ایک ثقافت ہے۔ جو اس قوم کی پہچان ہوا کرتی ہے۔ ہر معاشرہ اپنی جداگانہ روایات تہذیب و تمدن اور ثقافت رکھتا ہے اور کسی بھی خطے ’قوم یا ملک کی تہذیب و ثقافت نہ صرف اس کی تاریخی ترجمان ہوتی ہے۔ بلکہ کوئی بھی معاشرہ اپنی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے بغیر اپنی تاریخ سے منسلک نہیں رہ سکتا۔ یہ سچ ہے کہ جو قومیں اپنی ثقافت‘ روایات ’تاریخ کو بھول جاتی ہیں وہ ترقی نہیں کر سکتیں۔

ماہرین کے مطابق ثقافت معاشرتی وراثت کے مختلف عناصر میں سے ایک عنصر ہے۔ اس کا تعلق ان افکار و نظریات کے ساتھ ہے جنہیں معاشرے کے افراد اختیار کرتے ہیں اور یہ افکار و نظریات ان کی عملی زندگی میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے ہیں۔ انسانی معاشرے میں آنے والی سماجی اور معاشرتی تبدیلیوں میں ایک محرک ثقافت بھی رہا ہے۔ ثقافت معاشرتی اور سماجی تبدیلی کا موجب ہوتی ہے ’اگر وسیع تر تناظر میں ثقافت کے مفہوم و معنی کا تعین کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ ثقافت معاشرے کا ایک ایسا پہلو ہے جس کا تعلق ان انسانی سرگرمیوں کے ساتھ ہے جو انسانی معاشرے میں انجام پاتی ہیں اس طرح ثقافت میں علوم‘ فنون اور عقائد سب شامل ہو جاتے ہیں اور اس میں معاشرے کے مختلف افراد کے وہ اسباب زندگی بھی شامل ہیں جن کے تحت وہ زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔

ثقافت معاشرے کے اعتقادی ’فکری اور معاشرتی پہلوؤں سے عبارت ہے ؛تاہم ثقافت کے محتویات کے باب میں ماہرین کی آرا مختلف ہیں : ”ثقافت کی اِصطلاح انسانی زندگی کی تمام سرگرمیوں کا احاطہ کرنے کے لئے استعمال کی جاتی ہے‘ جب انہیں نفسیاتی طور پر دیکھا جائے۔ علم البشریات کے ماہرین اس اصطلاح کو ابتدائی انسان کے کام مثلاً اوزار بنانا ’ٹوکریاں‘ کشتیاں اور اس طرح کی دوسری چیزیں جو مادی ثقافت کی مختلف شکلیں ہیں ’کی اصطلاح کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

عام ذہن ثقافت کو مہذب معاشرہ کی اصطلاح سمجھتا ہے جہاں یہ اچھے آداب و اطوار اور مہذب علمی گفتگو کا مظہر ہوتی ہے۔ ایک غیر مہذب فرد کو جو ان اوصاف سے محروم ہو اور چاہے وہ اپنی صحرائی اور وحشی ثقافت میں فائق تر ہی کیوں نہ ہو اسے غیر تہذیب یافتہ یعنی غیر شائستہ سمجھا جاتا ہے بالکل اس طرح جیسے لفظ‘ جانور ایک معمولی کیڑے مکوڑے سے بڑے جانوروں تک تمام نوع حیوانات کا احاطہ کرتا ہے۔ اس طرح لفظ ثقافت میں ابتدائی انسان کی ذہانت کی معمولی جھلملاہٹ سے لے کر جدید شہری آبادی کے شکوہ تک سب شامل ہیں۔“

میدان جنگ میں ہارنے سے کئی گناء زیادہ شکست تہذیب و ثقافت میں ہار جا نا ہے۔ ہمارے اٹھنے بیٹھنے بولنے کے طریقے کیا ہیں؟ ہم کہاں سے آئے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں؟ یہ سوال کوئی مابعد الطبیعاتی سوال نہیں ’محض ایک قومی و معاشرتی سوال ہے۔ اس کا تعلق ہماری تہذیب سے ہے۔ کسی قوم کی بقا اور عظمت اس کی تہذیب اور ثقافت کی بقا سے وابستہ ہوتی ہے۔ جو اقوام اپنے تاریخی ورثے کے زیر سایہ اپنی نسل نو کو پروان چڑھاتی ہیں‘ وہ ہمیشہ زندہ و جاوید رہتی ہیں ’کیوں کہ ہر قوم کی بقا و سالمیت اسی میں ہے کہ وہ اپنی روایات و اقدار اپنی نئی نسل کو درجہ بہ درجہ منتقل کرتی رہے۔

آج ’ان طور طریقوں کو بھولا دیا گیا ہے جو کبھی ہمارے بزرگوں کا خاصہ ہوا کرتی تھیں۔ آج کی نئی نسل نے مغربی معاشروں کو ترقی کرتے ہوئے دیکھا اور وہاں پھیلی ہوئی روشن خیالی کے دلدادہ ہو گئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اپنے اقدار میں شب و روز محنت کرتے اور دُنیا کو باور کراتے کہ ہماری اپنی ایک بہترین تہذیب ہے۔ نسل نو ملک و بام عروج پر پہنچانے کے ساتھ ساتھ تہذیب و تمدن کے بھی وارث و محافظ ہے۔ انہیں سمجھانا اور خود انہیں سمجھنا ہو گا کہ ہماری تربیت اور اپنائیت جس سے مغرب محروم ہے وہ ہمیں اپنی تہذیب و تمدن میں ہی ملے گی۔

وہ خوشبو جسے ہم ایک عرصے سے بھولتے جا رہے ہیں وہ اپنی ہی ثقافت سے ملے گی۔ نوجوان اس شناخت سے بے نیاز دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں جدیدیت اور روشن خیالی کے نام پر نوجوانوں کو دیگر تہذیبوں کا خوشنما اور میٹھا زہر پلایا جا رہا ہے۔ جو یقیناً ہماری تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ہم احساس کمتری میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ اس احساس کمتری سے باہر نکالنے کے لئے کشمیر کلچر اکیڈمی جیسے اداروں کی کاوشیں قابل ستائش ہیں کیونکہ اصل وقار اور عزت اپنی تہذیب و ثقافت اور روایات کے ساتھ جڑے رہنے میں ہے۔

حکومتی سطح پر ایسے ادارے کا کردار تہذیب و ثقافت کے فروغ کے بہترین کاوش ہے۔ یہی ثقافتی ورثہ ہماری بقا اور ہماری پہچان ہے اسی ورثے کی بدولت ہماری شناخت ہوتی ہے کیونکہ وہی قومیں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں جو اپنی تہذیب و ثقافت کی حفاظت کرنا جانتی ہوں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments