کوٹھے سے وابستہ ایک غلط العام روایت
روایت اور درائیت کی اصطلاحات علمی سطح پر حدیث کو جانچنے کے حوالے سے استعمال ہوتی ہیں۔ تشریح کچھ یوں ہے کہ ایسی روایت جو پرکھ کے پیمانے پہ درست ثابت ہوتی ہو، مستند سمجھی جاتی ہے۔ میں نے اگرچہ اپنے مضمون کے لیے ایسے ہی معیارِ پرکھ کی طرف رجوع کرنا ہے لیکن میرا موضوع بالکل مختلف ہے۔ میں یہاں ایک ایسی سماجی روایت کو درائیت کی بنیاد پر رد کروں گا جو نہ معلوم کب سے ایک درست روایت مانی جاتی رہی ہے۔ میرا اس موضوع پہ اختلاف جن دلائل کی بنیاد پر ہے انہیں میں اگلی سطور میں بیان کروں گا۔ بہر حال ایسا نہیں کہ یہی رائے آخری رائے ہو۔ مجھے خوشی ہو گی اگر اہلِ علم اس موضوع پہ اپنی اپنی رائے سے میری سوچ کو نکھاریں۔
رامش و رنگ کی تتلیوں کی چمک دان کرتیں سنجے لیلا بھنسالی کی فلمیں اپنی علیحدہ پہچان رکھتی رہی ہیں۔ اب وہ ہیرا منڈی کے نام سے ایک سیریز لے کر آئے ہیں۔ یہ کچھ کچھ موافق اور زیادہ تر ناموافق تبصروں کی برسات میں جلوے بکھیر رہی ہے۔ اس کے تبصرہ نگاروں اور وی لاگرز میں ایسے ایسے ماہر بھی شامل ہیں جو اکثر دلیل سے مرصع بات کرتے ہیں لیکن ہیرا منڈی کے موضوع پہ وہ بھی ٹھوکر کھا گئے۔ انہوں نے بھی روانی میں ایک غلط العام روایت کو بیان کیا جو درائیت کے معیار پر کھوٹی ثابت ہوتی ہے۔
آئیے اب اس روایت کی طرف آتے ہیں۔
ہمارے ادب اور فلم میں ہیرا منڈی سیریز کی طرح اس خیال کا بڑا چرچا کیا جاتا ہے کہ اگلے وقتوں میں امراء اپنے لڑکوں کو ادب آداب سے روشناس کرانے کے لیے طوائف کے کوٹھے پہ بھیجا کرتے تھے۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ امراء دربار سے وابستہ مختلف میدانوں کے اعلیٰ عہدیدار ہوتے تھے اور بلند سماجی حیثیت رکھتے تھے۔ دوسری طرف طوائف کا کوٹھا اس محلے میں واقع ایک چھوٹا سا معمولی گھر یا چوبارہ تھا۔ یہ اکبر کے عہد میں دربار سے منسلک چھوٹے موٹے کاموں سے وابستہ ہنرمندوں کی بستی تھی جو تب شاہی محلہ کہلاتی تھی۔ لاہور میں ٹکسالی کے اندر واقع علاقہ ہیرا منڈی کے ساتھ ساتھ اب بھی شاہی محلہ بھی کہلاتا ہے۔
یہ کیسے ممکن ہے کہ امرا اپنے بچوں کی تربیت کے لیے کسی شاہی محلے کا انتخاب کریں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے ہوتے طوائفوں کی بستی بن گیا۔ یہ وہ طوائف تھی جس کی اپنی تعلیم کا بندوبست بھی گھر پہ کسی مولوی صاحب کو معمولی عوضانہ دے کر کیا جاتا تھا۔ اب ایسے مولوی جی جیسے واجبی سے خواندہ شخص کی شاگردہ کے علمی لیول کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ پھر اس شاگردہ کو رقص و موسیقی کا ہنر بھی حاصل کرنا ہوتا تھا اور کبھی بخوشی اور کبھی مجبوراً ً نتھ اترائی کی رسم بھی نبھانا ہوتی تھی۔ آپ ہی بتائیے ایسے ماحول میں بھلا کیا کوئی کسی سے ادب آداب سیکھے گا اور سکھائے گا۔
امرا اور خاص کر مغل امرا کے رہائشی علاقے عوامی بستیوں سے الگ ہوا کرتے تھے۔ اکبر اور شاہ جہاں کے دور میں تو اس مقصد کے کیے دارالحکومت میں نئی آبادیاں قائم ہوئیں۔ یہ آگرہ میں اکبر آباد اور دلی میں شاہ جہاں آباد کے ناموں سے موسوم تھیں۔ پنجابی کا ایک مصرع ہے۔
ع۔ پہائیاں باج نہ جوڑیاں تے پتراں باج نہ ناں
وہ بیٹے جو آپ کی ناموری کے وارث ہوتے ہیں ان کی تربیت کے لیے امرا کوٹھے کا انتخاب کرتے ہوں گے۔ دل ہے کہ مانتا نہیں۔
ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہر دربار میں علماء کہلانے والے بزرگوں کا ایک مضبوط گروہ ہوتا تھا۔ کئی حکومتی فیصلے تک ان کی رضا کے بغیر ممکن نہ تھے۔ ان کی سوچ کے مطابق تو تربیت کی سب سے بہتر جگہ مدارس ہی سمجھی جاتی ہوگی۔ چنانچہ اس فضا میں کسی کے لیے طوائف کے کوٹھے کو بہتر تربیت گاہ سمجھنے کی جرات کہاں ممکن تھی۔
دوسری طرف تربیت میں تو بہت سے عوامل کا عمل دخل ہوتا ہے، جیسے خاندان، گھر، تعلیم، میل جول اور ماحول جو زندگی کے مختلف ادوار میں بدلتا رہتا ہے۔ تربیت کے باب میں بہت سے آداب سیکھے یا سکھائے نہیں جاتے بلکہ ایسی تہذیبی اقدار اور اثاثہ ہوتے ہیں جو ہماری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ قیامِ بوسنیا کے دوران جب میں نے اپنی ایک سرب ترجمان کو بتایا کہ میں چالیس سال کا ہوں۔ میرے دو بچے ہیں۔ میں اور میرے والد دونوں سگریٹ نوش ہیں۔ میرے والد کو یہ پتہ ہے کہ میں سگریٹ پیتا ہوں لیکن میں ان کے سامنے سگریٹ کبھی نہیں پیتا۔ وہ اس بات بہت حیران ہوئی تھی اور اس کے بقول اسے انجوائے کیا تھا۔
آخری بات، شاہی محلوں سے فن کی نسبت ضرور رہی لیکن اسے ہمیشہ میراث بنائے رکھنے کو ترجیح دی گئی اور اسے گھر کی باندی سمجھتے ہوئے دہلیز سے باہر قدم نکالنے کو ممنوع گردانا گیا۔ اسی روش کے تحت گھرانے وجود میں آئے اور اتائی خال خال ہی نامور ہوئے۔ اس کا کیا کیجے کہ ادب آداب سے مراد بس فرشی سلام یا اس کی مختلف صورتوں کا آموختہ نہیں، یہ اس سے کہیں بڑھ کے ہے۔ لہذا کوٹھے کو کسی بھی زاویہ سے دیکھیں، یہ نہیں مانا جا سکتا کہ وہ امرا کے بچوں کی تربیت گاہ ہو سکتا تھا۔
اقبال کے بقول بھری بزم میں ( اپنی سمجھ کے مطابق) راز کی بات کہی ہے، اگر دل کو نہ لگی ہو تو۔
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں۔


