سامنا اور وہ بھی انجان کا، مگر کیسے؟


من چاہے سے سامنا ہو یا ان چاہے سے۔ دل کی دھڑکن نے بے ترتیب ہونا ہی ہے۔ کُچھ ایسا بھی بولا جا سکتا ہے جو آپ کے من کے اندر کی بے چینی کو ظاہر کر دے۔ دل کے معاملات کو تو سنبھالا جا سکتا ہے۔ کیسے؟ عصمت چغتائی کے الفاظ میں ”کوئی لاکھ روپیہ بھی دے تو میں نہ بتاؤں“ ۔ لیکِن میں آج آپ کوایک اور معاملے پر بہت کچھ بتانے لگا ہوں اور وہ بھی مفت بالکل مفت۔ اور وہ معاملہ ہے انٹرویو کا جس میں آپ کا سامنا ایک یا ایک سے زائد اجنبی لوگوں سے ہو سکتا ہے۔ اور مشکل یہ ہے کہ آپ کو ایک محدود ترین وقت کے وقفے میں اُن کو اپنی صلاحیتوں کے بارے میں متاثر کرنا ہے۔ تاکہ وہ آپ جیسے یا آپ سے بہتر لوگوں کو چھوڑ کر آپ کو ایک خاص پوزیشن کے لیے چن لیں۔

اِس حوالے سے میں نے اپنے پچھلے آرٹیکل میں کُچھ باتیں کی تھیں۔ یہ مضمون اُسی کا تسلسل ہے مگر زیادہ تفصیل کے ساتھ۔ ان مضامین میں کی گئی باتیں زیادہ تر میرے ذاتی تجربات پر مبنی ہیں جو مجھے اپنے پیشہ ورانہ زندگی کے دوران لیکچرر کی آسامیوں کے لیے کیے جانے انٹرویوز کے دوران حاصل ہوئے۔ علاوہ ازیں اپنے گرو خالد سعید کی صحبت کی وجہ سے انگلش زبان و ادب کے بعد نفسیات میرا دوسرا عشق ٹھہری۔ مُجھے حقیقتاً نہیں معلوم کہ مجھے اُردو پر کس درجہ گرفت ہے لیکِن انسان سے پیار اور اُن کی بہتری کے لیے مقدور بھر کوشش کرنا وہ طبعی میلان ہے جو مجھے اپنے خاندان بالخصوص خالد سعید سے ملا ہے۔ اب آئیے گزشتہ باتوں کو قند مکرر کے طور پر پھر سے دہرانا کی طرف۔ مثلاً آپ کو بتایا گیا تھا کہ آپ کو پروقار لباس کا انتخاب کرنا چاہیے۔ میک اپ ضروری ہو تو ہلکا کریں۔ آپ کے بیگ، پرس یا جیب میں ضروری اشیاء کا ہونا ضروری ہے۔ اعتماد سے بات کریں۔

اگلا اہم ترین مرحلہ انٹرویو کا ہے۔ اس کے لیے ایک اہم ترین پوائنٹ یہ ہے کہ آپ اپنی کمپنی یا ڈیپارٹمنٹ کے بارے میں ابتدائی معلومات رکھتے ہوں۔ اور پھر آپ کو اپنی ٹارگٹڈ پوسٹ کے بارے میں بھی ضروری جان کاری کا ہونا ضروری ہے۔ سرکاری محکموں میں لیکچرار یا استاد کی نوکری کے لئے اس قدر تردد کی ضرورت شاید نہ ہو جس کے لیے ہم سب کو شعبہ تعلیم کے بڑے بڑے افسران کا شکر گزار ہونا چاہیے جنہوں نے زمانۂ قبل مسیح کے کورسز کو جوں کا توں برقرار رکھا ہوا ہے جن میں معمولی تبدیلی بھی مملکت خداداد کی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے۔

(کسی کو میری بات پر شک ہو تو وہ ٹیکنیکل ایجوکیشن کے ڈی اے ای کے لیول پر پڑھائی جانے والی انگلش کے کورسز دیکھ لے جہاں آج بھی 1970 کا لکھا چائنا وے ٹو پراگریس پڑھایا جاتا ہے ) ۔ لیکِن اس حوالے سے حقیقی چیلنجنگ صورتحال غیر سرکاری کمپنیوں کے لیے دیے جانے والے انٹرویوز کے دوران پیش آ سکتی ہے جہاں ممکنہ طور پر غیر ملکوں سے تعلیم یافتہ لوگ بھی انٹرویو کر سکتے ہیں۔ اس لیے آپ سب کے لیے لازم ہے کہ خود کو بدلتی دنیا کے ساتھ منسلک رکھیں۔

انٹرنیٹ پر صرف بالا دست طبقات کی با ہمی چپقلش ہی نہیں ہے۔ ان کے علاوہ بھی علم کا ایک جہان ہے ذرا اُدھر بھی نظر کر لیا کریں یقین کریں آپ کو بے حد فائدہ ہو گا۔ اس ضمن میں یہ بات ذہن میں رکھیں کہ انٹرویو کرنے والوں کے پاس آپ کے لیے زیادہ وقت نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ ہی مختصر سوال پوچھتے ہیں آپ بھی اُن کا مختصر مگر جامع جواب دیں۔ بہت بہتر ہو گا کہ آپ اپنے اپنے فیلڈز کی ڈکشنری کو ہمیشہ دیکھتے رہا کریں۔ پینگوئن اور دیگر اشاعتی اداروں نے ایسی ڈکشنریز چھاپ کر مارکیٹ کی ہوئی ہیں۔ خرید لیجیے یا ممکن ہو تو نیٹ سے فری میں ڈاؤن لوڈ کر لیجیے۔ مختلف شعبوں میں زیر تعلیم طلباء اگر تکلیف کر کے اپنی ڈکشنریز خود بنا لیں تو یہ اُن کی پیشہ ورانہ کامیابیوں کی ضمانت بن سکتی ہیں۔

اِن تمام باتوں سے جُڑا ایک بنیادی مسئلہ ہمارے اندر موجود اعتماد کا ہے۔ ہما رے سماج میں موجود رویے ہمارے اعتماد کے محل سرا کو منہدم کرنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔ گھر میں والدین اور خصوصی طور پر باپ کو ایک آمر کے طور پر لیا جاتا ہے۔ سکول کالج یا مدرسے میں ٹیچر کو بھی عموماً آمرانہ اختیارات حاصل ہوتے ہیں۔ (سمیسٹر سسٹم کے مسائل اس بات کا ثبوت ہیں ) ۔ اب نوجوانی کی دہلیز پر کھڑے ایک لڑکا یا لڑکی کس کے سامنے کھل کر بات کرے۔

لے دے کر موٹیوشنل سپیکرز ہیں یا بڑے بڑے مذہبی واعظ ہیں جو ایک خطاب یا لیکچر کا لاکھوں روپے معاوضہ حاصل کر کے حاضرین کو دنیا کی بے ثباتی اور ترقی کے نقصانات پر زوردار بھاشن دے کر کروڑوں کی گاڑی میں واپس تشریف لے جاتے ہیں۔ اور ہمارے سادہ دل عوام واہ واہ کرتے ہوئے ہر محفل میں ان حضرات کی گوہر افشا نیوں (معاف کیجئے گا لفظ تو کُچھ اور لکھنا تھا خوف فساد خلق سے چپ ہوں ) کو بیان کر کر کے اپنے لیے داد طلب ہوتے ہیں۔

ایسے میں نوجوان یا تو بدتمیزی میں حد سے بڑھ جاتے ہیں (سوشل میڈیا پر ٹرولنگ اسی کی ایک شکل ہے ) یا وہ خود اپنے اندر سمٹ جاتے ہیں اور کسی بھی سچویشن کا سامنا نہیں کرنا پاتے۔ یہ ٹاپک بذات خود ایک الگ تحریر کا متقاضی ہے مگر نئی نئی ڈگری لینے والے دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنے اپنے فیلڈ میں اپنا ایک پسندیدہ ٹاپک چن لیں۔ اسی پر فوکس کریں اور اسی میں کمال حاصل کریں۔ اور وہ کمال ایسا ہو کہ کوئی آپ کے ساتھ اس پر بحث نہ کر سکے۔ اپنے اپنے فیلڈ آف انٹرسٹ پر آپ کی گرفت آپ کو حد درجہ پر اعتماد بنا دے گی۔ یہ میری طرف سے آپ کو ضمانت ہے۔

انٹرویو کے دوران خود کو الرٹ مگر ریلیکس رکھیں۔ آپ کے کندھے گرے ہوئے نہیں ہونا چاہیے۔ اکثر انٹرویو لینے والوں اور انٹرویو دینے والوں کے بیچ میں ایک ٹیبل ہوتی ہے۔ مطمئن انداز میں بیٹھیے۔ ضرورت ہو تو ایک بازو آرم چیر پر اور دوسرا ٹیبل پر ٹکّا لیں مگر دونوں ہاتھ گود میں رکھ کر نہ بیٹھیں۔ فطری انداز میں بات کریں۔ مصنوعی انداز سے بچیں۔ (انگلش کے حوالے سے دنیا کے اچھے مقرر حضرات و خواتین کو سنتے رہا کریں۔

خوبصورت کہانیوں والی انگلش فلمیں اس ضمن میں بہت سے زیادہ فائدہ مند ہیں۔ اسی طرح اُردو میں پاک و ہند میں بہت اچھے مقرر رہے ہیں اور اب بھی ہیں۔ پاکستان سے ضیا محی الدین۔ طارق عزیز۔ انڈیا سے جاوید اختر۔ شبانہ اعظمی۔ گلزار سمیت ہزاروں نام ہیں ) ۔ لیکِن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ آپ نے اپنے انداز میں بات کرنی ہے۔ لہجے کے بارے میں زیادہ فکر نہ کریں۔ یہاں بہت کم لوگ اُردو کو لکھنؤ یا دہلی کے انداز میں بولتے ہیں۔

اسی طرح بھلا ہو امریکن آئی زیشن کا۔ اب دنیا بھر میں انگریزی کا ہر لہجہ قابل قبول ہے۔ ہمارے ہاں اکثر سوال اُردو میں کیے جاتے ہیں لیکن اگر وہ ٹیکنیکل نوعیت کے ہوں تو لازمی طور پر اُن کا جواب انگلش میں دیں کہ انگلش میں سائنس اور ٹیکنالوجی سے متعلق مواد زیادہ مختصر مگر جامع ہوتا ہے۔ اور یقیناً اس سے آپ کے بارے میں ایک اچھا تاثر بھی جائے گا۔ یاد رکھیے انگلش اب سیاسی تسلط کی نشانی نہیں رہی بلکہ اب یہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی زبان ہے جو انٹر نیشنل کمیونیکیشن کا اہم ترین ذریعہ بن چکی ہے۔ انگلش کلچر کو نہیں مگر انگریزی کو ضرور اپنائیں۔ بدلتے عالمی حالات اور اُن میں ہمارا موجودہ مقام ہم سے تبدیل شدہ رویوں کا تقاضا کر رہے ہیں۔ خود کو تبدیل کیجیے کہ اسی میں بچت ہے۔

جہاں تک آپ کی آواز کی پچ کی بات ہے تو اسے مناسب رکھیے۔ نہ تو بہت دھیمے لہجے میں بات کریں اور نہ ہی مناظرے کے انداز میں غیر ضروری بلند آہنگ ہوں۔ سوال کو غور سے سمجھ کر جواب دیں لیکِن اتنا گہرا بھی مت سوچیں کہ دوسرا یہ سمجھے کہ آپ کو کچھ نہیں پتہ۔ اسی طرح اگر کسی سوال کا جواب نہیں معلوم تو بلا جھجک سوری کہہ کر آگے چلیں۔ یاد رکھیں ہر شخص ہر بات نہیں جانتا۔ جتنا آپ جانتے ہیں اس کا آپ مضبوط دفاع کرنے کے قابل ہونے چاہئیں۔

اپنی بات کو مدلل انداز میں مکمل کریں۔ کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ فرض کریں کہ انٹرویو اچھا نہیں ہوتا یا آپ کو یہ جاب نہیں ملتی تو کیا زندگی ختم ہو جائے گی یا قیامت آ جائے گی۔ ایسا کچھ نہیں ہونے والا۔ تو بنا ڈر کے اعتماد سے انٹرویو دیں۔ جب انٹرویو لینے والے آپ سے الوداعی کلمات کہیں تو خوش دلّی سے اُن کو خدا حافظ کہیں۔ کوشش کریں کہ آپ کا مجموعی تاثر خوشگوار ہو۔ ہما را ذاتی تاثر اگر خوشگوار ہو تو انٹرویو سے ہٹ کر بھی آپ کو ہر جگہ سے اچھا رسپانس ملتا ہے۔

مسکراتا ہوا چہرہ کسے بُرا لگتا ہے۔ اور ہاں ایک ضروری بات اور بھی ہے کہ دوران انٹرویو شخصیات کے حوالے سے اپنی ذاتی پسند نا پسند کو اپنے تک رکھیے۔ اسی طرح سیاسی یا مسلکی معاملات پر بات کرتے ہوئے حد درجہ احتیاط کیجئے۔ آپ جاب کی تلاش میں ہیں بی بی سی کے ہارڈ ٹاک یا سٹار پلس کے راندے وو ود سیمی اگروال میں شرکت نہیں کر رہے۔ اپنی سیاسی مذہبی وابستگی کو اپنے تک رکھیے۔ اسی طرح کسی متنازع سماجی معاملے پر خاموش رہیے یا خود کو غیر جانبدار رکھیے۔

ہمارے ہاں کا تعلیم یافتہ (یا ڈگری یافتہ) ذہن ابھی اتنا روادار نہیں ہوا کہ وہ اپنے مزاج کے مخالف سچ کو برداشت کر لے۔ اور یوں بھی ہر دور اور ہر شخص کا اپنا سچ ہوتا ہے۔ لہٰذا ضرورت سے زیادہ سچ بول کر مقام شہادت حاصل کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اپنی زندگی کو بہتر منیج کر لیں لوگ بھی آپ کا سچ خوشی خوشی برداشت کر لیں گے۔ انٹرویو کے اختتام پر ٹارگیٹڈ پوسٹ پر کام کرنے کے لیے اپنی رضا مندی بلکہ اپنی خوا ہش کا اظہار ضرور کیجئے۔ بلکہ ممکن ہو تو کمپنی اور اپنے کام کے بارے میں کچھ پوچھ لیجیے۔ یہ امر اس پورے عمل میں آپ کی شراکت داری کو ظاہر کرے گا

اِن تمام باتوں پر غور کیجئے۔ دنیا میں اپنے موجودہ مقام کو پہچانیے۔ کسی ملک، معاشرے یا گروہ کو اپنے زوال کا ذمہ دار ٹھہرانے سے ہماری ذاتی یا قومی زندگی کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ہمارے ایک مشہور صحافی و ادیب منو بھائی کہا کرتے تھے ”ہو نئی جاندا کرنا پیندا اے“ ۔ مطلب چیزیں خود سے ٹھیک نہیں ہوتیں، اِن کو ٹھیک کرنا ہوتا ہے۔ اپنی زندگی کو بہتر کرنے کی کوشش کیجئے۔ اسی میں آپ کی۔ آپ کے خاندان کی۔ آپ کے علاقے کی اور آخر کار آپ کے ملک کی بہتری ہے۔ کسی بھی کمنٹ یا مشورے کے لیے آپ مجھے فیس بک پر Languages Guru (Naturalist) کے نام سے ڈھونڈ سکتے ہیں۔ ای میل ایڈریس ہے hamedmasood 1988 @gmail۔ com

Facebook Comments HS