نظریاتی نواز شریف نون لیگ کی ضرورت


سابق وزیراعظم میاں نواز شریف نے ابھی حال ہی میں چھ سال بعد اپنی پارٹی کی قیادت سنبھالی ہے اور وہ ایک بار پھر مسلم لیگ نون کے صدر بن گئے ہیں، نواز شریف آٹھ فروری کے بعد سے پولیٹیکل ہائبرنیشن میں تھے، وہ کہیں بھی نظر نہیں آ رہے تھے، انہوں نے صرف شہباز شریف اور مریم نواز کی حلف برادری کی تقریبات میں شرکت کی تھی اس کے بعد سے نواز شریف منظر عام سے غائب ہو چکے تھے، شاید اس کی ایک وجہ نواز شریف کی ناراضگی بھی ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ پاکستان وزیراعظم بننے آئے تھے، الیکشن سے قبل ان کا نعرہ بھی یہی تھا اور پارٹی نے بھی یہی اناؤنس کیا تھا کہ اگر ان کی جماعت حکومت میں آئی تو نواز شریف ہی وزیراعظم ہوں گے، لیکن ان کی جماعت کو سادہ اکثریت نہیں ملی اور وہ ایک بار پھر ہائبرڈ سسٹم کے ساتھ حکومت میں چلے گئے جس کے بعد ان کی خاموشی نے بہت سی conspiracies کو جنم دیا ہے۔

چند سال قبل جب میاں نواز شریف لندن گئے تھے تو کہا جا رہا تھا کہ پارٹی میں دراڑ پڑ چکی ہے، لیکن ابھی تک آپٹکس یہی کہہ رہے ہیں پارٹی still standingاور میاں صاحب کا پارٹی صدارت پر دوبارہ واپس آنا اس بات کا ثبوت بھی ہے اور میاں صاحب لندن سے ہوں یا لاہور میں بیٹھ کر directly or indirectly خود ہی حکومت چلاتے رہے ہیں۔ ان کی پارٹٰی ان کے بنا نہیں چل سکتی، ان کی گرپ ابھی تک اپنی پارٹی پہ مضبوط ہے۔

پارٹی اجلاس کی تقریر کے دوران نواز شریف نے کافی گلے شکوے بھی کیے، لیکن یہ گلے شکوے کس سے تھے؟ ، وہ دو سالوں سے حکومت میں ہیں اس وقت ان کے بھائی وزیراعظم اور بیٹی وزیر اعلی پنجاب ہیں تو میاں صاحب کیا بیانیہ بنانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ جب کہ ان کے مقتدر حلقوں سے بھی اچھے تعلقات ہیں، ان کا سب سے بڑا پولیٹیکل Rival عمران خان جیل میں ہے، تو میاں صاحب خوش کیوں نہیں ہیں؟

ان کی تقریر کے دوران انہوں نے روایتی گلے شکوے کیے ہیں، وہی پرانی باتیں دوہرائی ہیں، جو سات سال پہلے کی تھیں، یہاں سوال یہ ہے کہ نواز شریف صاحب نے جلاوطنی کے دوران کیا سیکھا؟ کیا وہ اس ہائبرڈ سسٹم میں فٹ نہیں ہو پا رہے ہیں، کیونکہ میاں صاحب نے ہر دور میں سول سپر میسی کی بات کی ہے جبکہ ان کے بھائی بالکل مختلف ہیں، نواز شریف مزاحمت کی سیاست کرنے کے لئے جانے جاتے ہیں جبکہ شہباز شریف مفاہمت کی سیاست کے لئے مشہور ہیں، دوران تقرر میاں صاحب بہت زیادہ کنفیوز نظر آئے۔

پارٹی اور حکومتی معاملات جو بھی ہوں لیکن اس وقت حکومت نواز شریف کی ہے اور نون لیگ کو ووٹ بھی انہی کے نام پہ ملا ہے، عوام بھی نظریاتی میاں صاحب کو دیکھنا چاہتی ہے جو سیاست میں متحرک ہوں اور ملکی معاملات کی کمان کو خود سنبھالیں تاکہ عوام کی مشکلات کا ازالہ ہو سکے۔ اگر نون لیگ یہاں ڈیلیور کرنے میں کامیاب ہو گئی تو ان کو سیاست سے نکالنا بہت مشکل ہو گا، لیکن اگر نون لیگ یہاں ناکام ہو گئی تو پھر ان کی رہی سہی سیاست بھی ختم ہو جائے گی۔

اب میاں صاحب کو 2017 کی سیاست مجھے کیوں نکالا سے باہر نکل عوامی سیاست کرنا ہو گی، کیونکہ نواز شریف صاحب عوامی سیاست کے لئے ہی جانے جاتے ہیں، نون لیگ کا ایک بیانیہ ہے کہ عمران خان کا پاکستان کی سیاست میں کوئی کردار نہیں ہے، وہ لانچڈ ہیں، اگر نون لیگ اس بیانیے کو سہی ثابت کرنا چاہتی ہے تو انہیں اس ٹرم میں ڈلیور کرنا پڑے گا جس کے بعد عمران خان پاکستانی سیاست سے مائنس ہو جائیں گے، کیونکہ پاکستانی عوام کی اکثریت مڈل کلاس طبقہ ہے جس کی بنیادی ضروری سستی بجلی، تیل، اور اشیائے خورد و نوش ہیں، اگر نون لیگ عوام کو ان تمام چیزوں پہ ریلیف دینے میں کامیاب ہوئی تو ٹھیک ورنہ مائنس عمران کی جگہ نون لیگ مائنس ہو جائے گی۔

Facebook Comments HS