پڑھو پاکستان، بڑھو پاکستان


دنیا کے عظیم استاد سقراط کے بقول علم نیکی ہے اور جہالت برائیوں کی جڑ ہے۔ علم اچھے اور برے میں فرق سکھاتا ہے۔ تاریخ انسانی اس بات کی شاہد ہے کہ کہ قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم ریڑھ کی ہڈی کا کردار عطا کرتی ہے۔ دنیا میں کسی بھی طرح کا کوئی انقلاب تعلیم کے بغیر برپا نہیں کیا جا سکتا۔ آج تک جتنے بھی انقلاب دنیا نے دیکھے ہیں وہ سب تعلیم ہی کے مرہون منت ہیں۔ کوئی بھی قوم اقوام عالم پر اس وقت تک حکمرانی کرتی یا مسابقت میں رہتی ہے جب تک اس کی و دوسری قوموں پر تعلیم کے میدان میں برتری رہتی ہے۔

امریکہ یورپی ممالک، چین جاپان اور دوسرے ترقی یافتہ ممالک بھی صرف اپنی تعلیمی ترقی کی بدولت ہی موجودہ دنیا پر راج کر رہے ہیں اور یہ اس وقت تک حکمرانی کرتے رہیں گے جب تک ان کو دوسری قوموں پر تعلیم کے میدان میں برتری حاصل رہتی ہے۔ اگرچہ ماضی کی بعض حکومتوں بالخصوص ماضی میں وزیر اعظم کی حیثیت سے میاں نواز شریف نے عوامی سطح پر اس بات کا اظہار کیا کہ وہ جی ڈی پی کا چار فیصد تعلیم پر مختص کریں گے، ساتھ ہی انھوں نے تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا خوش کن اعلان بھی کر دیا جو نہایت ہی شاندار سوچ تھی لیکن بوجوہ اب تک ہم تعلیمی مقاصد کو اپنی ترجیح بنانے میں ناکام ہیں۔

اس سلسلے میں واضح رہے کہ چار فیصد تعلیمی بجٹ بھی اقوام متحدہ کی تجویز کردہ شرح سے کم ہے۔ دعا ہے کہ ہم اعلانات سے آگے بڑھتے ہوئے اسی طرح برق رفتاری کے ساتھ ان اعلانات کو کو عملی جامہ بھی پہنا سکیں۔ تمہید باندھنے کا مقصد یہ ہے کہ روایتی اعلانات سے ہٹ کر کچھ عملی بنیادی اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ اعلیٰ تعلیم کا شعبہ صوبوں کے حوالے کیے جانے کے بعد پاکستان کی تمام سرکاری جامعات اس وقت سخت مالی بحران کا شکار ہیں۔

بہر حال یہ انتہائی خوش آئند امر ہے کہ بالآخر ہمارے رہنماؤں کو بھی یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ شرح تعلیم میں اضافہ بیساکھیوں اور خیرات سے نہیں بلکہ ٹھوس منصوبہ بندی اور تعلیم کے شعبے میں وسیع تر سرمایہ کاری سے ممکن ہے اور امید کی جا سکتی ہے ارباب حکومت اس حوالے سے کوئی سنجیدہ اقدامات کریں گے۔ اقوام متحدہ نے تمام ترقی پذیر ممالک کو اپنے جی ڈی پی یعنی قومی پیداوار کا پانچ فیصد تعلیم کے لئے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔

اکثر و بیشتر ممالک اس تجویز پر عمل پیرا ہیں جو کہ تعلیمی شعبے میں انتہائی تیزی کے ساتھ ترقی کی جانب گامزن ہیں۔ پاکستان کے بطن سے جنم لینے والا بنگلہ دیش بھی اس معاملے میں ہم سے آگے نکل گیا ہے اور پچھلے سال تعلیم پر اپنے سالانہ جی ڈی پی کا 11 فیصد سے زائد خرچ کیا۔ ورلڈ بینک کے 2022۔ 23 کے اعداد و شمار کے مطابق پڑوسی ملک انڈیا نے 2023 میں شعبہ تعلیم پر اپنے جی ڈی پی کا 2.9 فیصد، ایران نے 22.7 فیصد، اسرائیل نے 18 فیصد، ملائیشیا نے 19 فیصد، نیپال نے 11 فیصد اور جنوبی افریقہ نے 18 فیصد خرچ کیا۔

اب آتے ہیں پاکستان کی طرف اور اپنا اعمال نامہ ذرا کھول کر دیکھتے ہیں کہ ہم نے اپنے جی ڈی پی کا کتنے فیصد تعلیم پر خرچ کیا۔ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان میں آج تک جی ڈی پی کا بھی صرف دو فیصد سے کم تعلیم پر خرچ کیا جا رہا ہے جو کہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ اس طرح دوسرے ممالک کے جی ڈی پی پر ایک طائرانہ نظر دوڑائی جائے تو کم و بیش سارے ممالک اپنے تعلیمی بجٹ میں ہر سال اضافے کی کوششوں میں نظر آتے ہیں، ہمارے ہاں یہاں چونکہ الٹی گنگا بہتی ہے تو ہر سال تعلیم کے فروغ کے لئے بجٹ میں کمی کی جاتی ہے۔

اس کا اندازہ آپ ان اعداد و شمار سے لگا سکتے ہیں۔ پاکستان نے 2009 میں 2.6 فیصد 2010 میں 2.3 فیصد 2011 میں 2.2 فیصد 2012 میں 2.1 فیصد جبکہ 2023 میں انتہائی شرمناک حد تک کم کر کے 1.8 فیصد کر دیا گیا۔ نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ آج تک ہماری شرح تعلیم 58 فیصد سے آگے نہ بڑھ سکی۔ آج بھی ہمارے بچے تعلیمی اداروں میں کم ہوٹلوں اور ورکشاپوں میں زیادہ نظر آتے ہیں۔ جامعات اور کالجز کی تعداد پاکستان میں ابھی بھی بہت کم ہیں اور سرکاری کالج اور یونیورسٹیاں اگر ہیں بھی تو تعلیمی معیاری پر سوالیہ نشان ہے۔

ویسے بھی جو کالجز اور جامعات قائم ہیں وہ عام آدمی کی پہنچ سے کوسوں دور ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان کی آبادی کا صرف ایک فیصد یونیورسٹی پہنچ پاتا ہے۔ باقی پرائمری، مڈل، سیکنڈری، ہائی یا پھر انٹرمیڈیٹ تک پہنچتے پہنچتے تعلیمی سلسلے کو خیر باد کہہ جاتے ہیں۔ وجہ یہی ہے کہ تعلیمی ادارے نہ ہونے کے برابر، ناقابل برداشت فیسیں و دیگر اخراجات کیونکہ دور دراز کے طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے لئے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے، وہ عام آدمی برداشت نہیں کر سکتا۔

تعلیم کا شعبہ ہو یا دوسرے شعبہ ہائے زندگی، بیرونی امداد و خیرات پر انحصار کئیے بیٹھے ہیں۔ یو ایس ایڈ اور دوسرے عالمی اداروں کے آگے بھیک منگوں کی طرح دست درازی کرتے پھر رہے ہیں۔ جو کچھ خیرات ملتی ہے اس کے حوالے سے اکثر یہ سامنے آتا ہے کہ وہ پاکستان نہیں پہنچتی بلکہ سیدھا سوئس بنکوں میں ہمارے رہنماؤں کے اکاؤنٹ میں منتقل کر دی جاتی ہے جبکہ دوبئی اور دیگر بیرونی ملکوں میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔ عالمی برادری میں اس وقت ہمارے حصے میں احساس کمتری و شرمندگی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آتا۔

دنیا ہمیں جاہل قوم اور ناکام ریاست قرار دے کر ہمارا مذاق اڑا رہی ہے۔ ہم کبھی لیپ ٹاپ تقسیم کرنے کے نام پر اربوں جھونک دیتے ہیں، کبھی پیلی ٹیکسی کے لئے خزانہ کھول دیا جاتا ہے، تو کبھی یوتھ لون سکیم کے نام پر سو ارب روپے داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ یہ سب اپنی جگہ ٹھیک لیکن اگر اتنا سرمایہ تعلیم کے شعبے میں لگائیں تو شاید یہ سب نیلی پیلی سکیموں کی ضرورت بھی نہ پڑے۔ مختصراً پاکستان کی خیر خواہ اشرافیہ سے گزارش ہے کہ پاکستان کے جملہ مسائل کا حل فروغ تعلیم کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

ہمیں چوتھے صنعتی انقلاب کے لئے درکار افرادی قوت کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ اگرچہ ہم خود صنعتی لحاظ سے بہت پسماندہ ہیں لیکن پاکستان اس وقت نوجوان آبادی والا ایک بڑا ملک ہے۔ یہ نوجوان بہت مایوسی کا شکار ہیں۔ ہمیں ان کے لئے موقع تلاش کرنے ہوں گے۔ اگر ہم جدید خطوط پر ان کی روایتی اور غیر روایتی تعلیم کا بندوبست کر دیں تو یہ نوجوان بیرون ممالک اپنے لئے مواقع تلاش کر سکتے ہیں کیونکہ دنیا کو اس وقت ہنر مند افرادی قوت کی سخت ضرورت ہے اور ہم اس ضرورت سے ایک ہی صورت میں فائدہ اٹھا سکتے ہیں جب ہم اپنے نوجوانوں کو تعلیم اور ہنر سے آراستہ کریں گے۔

ہیومن کیپٹل کسی بھی ریاست کا سب سے بڑا خزانہ ہوتا ہے، جتنی بھی قوموں نے ترقی کی ہے اپنے ہیومن کیپٹل کی بدولت ہی کی ہے۔ اب ہمیں ایک پڑھو پاکستان، بڑھو پاکستان کی پالیسی کو فروغ دینا ہو گا اور نعروں سے آگے کی سوچ کے تحت روایتی اور غیر روایتی تعلیم کو فروغ دینے کے لئے مناسب وسائل کی فراہمی کو یقینی بنانا ہو گا۔

Facebook Comments HS