منیر نیازی: شخص اور شاعر


منیر نیازی کا شمار عہدِ حاضر کے ان شعرا میں ہوتا ہے، جنھوں نے عصرِ حاضر کی شاعری کو نئے تخلیقی اُفق اور طرزِ اظہار کے جدید انداز سے روشناس کرایا۔ اُنھوں نے بیک وقت اُردو اور پنجابی دونوں زبانوں میں تخلیقی کاوشوں کا اظہار کیا۔ شاعری کے ساتھ ساتھ انھوں نے نثر کے میدان میں بھی اپنی تخلیقی سرگرمیوں کا لوہا منوایا، جس میں افسانہ، کالم نگاری، ڈراما، اداریے، کُتب پر تبصرے، فلیپ اور ایک ادھورا ناول، اس کا ثبوت ہیں۔

ان کے اُردو شعری مجموعوں کی تعداد گیارہ اور پنجابی شعری مجموعوں کی تعداد تین ہے۔ یہ تمام شعری مجموعے ان کے حینِ حیات شائع ہوئے اور پلک جھپکتے ہی شہرت ِ عام کی منازل کو عبور کرتے چلے گئے۔ ان کی شاعری میں حیرت اور پُر اسراریت لگ بھگ ہر مصرعے سے ٹپکتی ہے اور اپنا رنگ پڑھنے یا سننے والے پر چھوڑتی چلی جاتی ہے۔ اس حیرت اور پراسراریت کو وہ علامت کے پردے میں ایسے خوش اُسلوبی سے بیان کرتے ہیں کہ عصرِ حا ضر کا سارا کرب ان کی شعری کائنات میں اُتر آتا ہے۔

” منیر نیازی۔ شخص اور شاعر“ ڈاکٹر سمیرا اعجاز کی ایسی کتاب ہے جس میں انھوں نے منیر نیازی کی شخصیت اور شاعری کے نئے گوشوں سے پردہ اٹھایا ہے۔ یہ کتاب محمد عابد نے مثال پبلشرز، فیصل آ باد سے 2014 ءمیں شائع کی ہے۔ مذکورہ کتاب میں موضوعاتی، اُسلوبیاتی، ہیئتی اور تکنیکی اعتبار سے منیر نیازی کی شاعری کو پرکھنے کا جتن کیا گیا ہے۔ مصنفہ نے کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا باب جو ”منیر نیازی۔ سوانحی حقائق و شخصی وظائف“ کا عنوان لیے ہوئے ہے، دو حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

پہلا حصہ منیر نیازی کے حالاتِ زندگی کے بیان کے لیے مختص ہے۔ پیدائش سے لے کر ان کی وفات تک تمام مراحل مع تحقیقی ثبوت کے پیش کیے گئے ہیں۔ ان کی شاعری کی ابتدا، ارتقا اور ادبی تنظیموں سے اُن کی وابستگیوں کی روداد کو تحقیقی انداز سے اس باب میں موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ باب کا دوسرا نصف ان کی شخصیت کی نشو و نما پر اثر انداز ہونے والے عوامل اور نفسیاتی و جذباتی کیفیات کو معروضی انداز میں پیش کرتا ہے۔ ڈاکٹر سمیرا اعجاز صاحبہ کی تحقیق سے لگن، موضوع سے دلچسپی اور تنقیدی و تحقیقی بصیرت اس باب کے مطالعے سے کھل کر سامنے آتی ہے۔

کتاب کے دوسرے باب میں منیر نیازی کی تخلیقات کا تحقیقی تعارف پیش کیا گیا ہے۔ اردو شعری مجموعوں کے تعارف کے ساتھ ساتھ ”متنی مماثلتیں“ اور ”متنی اختلافات“ کو قارئین کے سامنے مع تحقیقی ثبوتوں کے پیش کیا گیا ہے۔ یہ وہ عوامل ہیں جن کی بنیاد پر منیر نیازی ناقدین کی کڑی تنقید کا نشانہ بنتے رہے اور ان پر خود کو دہرانے اور مطالعہ نہ کرنے کے الزامات لگتے رہے۔ ان کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ آ خری دور میں موضوعاتی اور اسلوبیاتی سطح پر ان کی تخلیقات میں تکرار پائی جاتی ہے۔

اسی باب میں آگے چل کر ان کے غیر مدون کلام کی بھی نشان دہی کی گئی ہے۔ باب کے آ خر میں ان کی پنجابی کتب کا تحقیقی و تنقیدی تعارف بیان کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی نثری تخلیقات اور ان کی شاعری کے دیگر زبانوں میں تراجم کا تعارف بھی پیش کیا گیا ہے۔ اس باب کو ”ادبی آثار کا تحقیقی و تنقیدی تناظر“ کے عنوان سے کتاب کا حصہ بنایا گیا ہے۔

کتاب کا تیسرا باب جو ”منیر نیازی کی نظم کا فکری و تشکیلی نظام“ کا عنوان لیے ہوئے ہے، تنقیدی اعتبار سے انتہائی دلچسپی کا حامل ہے۔ اس باب میں جدید اردو نظم کے تناظر میں منیر نیازی کی شاعری کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ڈاکٹر سمیرا اعجاز نے ان کی شاعری کی تفہیم کو سہل بنانے کی خاطر ان کی نظم گوئی کو تین ادوار میں تقسیم کیا ہے۔

1) پہلا دور 1949 تا 1964 (آغاز سے ”دشمنوں کے درمیان شام“ کی اشاعت تک)
2) دوسرا دو ر1965 تا 1983 ( ”ماہ ِ منیر“ سے ”ساعتِ سیار“ کی اشاعت تک )
3) تیسرا دو ر1984 تا 2006 ( ”پہلی بات ہی آ خری تھی“ سے وفات تک)

پہلا دور ان کے مناظر ِ فطرت سے دلچسپی، رومانویت، داستانوی فضا، وجودی کرب، ہندی اساطیر اور فارسی آ میز لہجے کی عکاسی کرتا ہے جس پر اس باب میں مفصل بحث کی گئی ہے۔ ان کا دوسرا دور مذہبی وفور اور حب الوطنی کا ترجمان ہے جب کہ تیسرا اور آ خری دور فکری تجسس، تصور ِ زمان، مرد اور عورت کا تعلق، جبلی طرزِ عمل، مابعد الطبعیاتی سوالات اور غیر متمدن زندگی کا عکاس ہے۔ اس حوالے سے ان کی تخلیقات میں سے مثالیں پیش کر کے ان کے مذکورہ رجحانات کا فکری تجزیہ کیا گیا ہے۔

اس باب میں مصنفہ کی تنقیدی بصیرت اپنے عروج پر ہے اور ان کی تحریر میں منطقی و استدلالی انداز ابھر کر سامنے آیا ہے۔ جو ایک منجھے ہوئے نقاد کا خاصا ہوتا ہے۔ ڈاکٹر سمیرا اعجاز نے منیر نیازی کی شعری کائنات کی تفہیم کروانے میں بڑی خوش اسلوبی سے اپنا کردار نبھایا ہے اور ان کے نئے پہلوؤں سے قارئین کو روشناس کیا ہے۔

کتاب کا چوتھا باب منیر نیازی کی غزل گوئی سے متعلق رقم کیا گیا ہے۔ اس باب کو ”منیر نیازی کی غزل کی شعریات“ کا نام دیا گیا ہے۔ منیر نیازی کی غزل گوئی کا جائزہ کلاسیکی روایت سے لے کر دورِ حاضر کی غزل کے رجحانات کے تناظر میں کرنے کی کامیاب کوشش کی گئی ہے، جس سے منیر نیازی کی غزل گوئی کے فکری اور فنی محاسن و معائب ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ان کی غزل گوئی کی تفہیم میں آ سانی پیدا کرنے کی غرض سے تین ادوار میں تقسیم کیا گیا ہے۔

1۔ پہلا دور۔ ”تیز ہوا اور تنہا پھول“ تا ”دشمنوں کے درمیان شام“ کی اشاعت تک
2۔ دوسرا دور۔ ”ماہِ منیر“ تا ”پہلی بات ہی آخری تھی“ کی اشاعت تک
3۔ تیسرا دور۔ ”ایک دعا جو میں بھول گیا تھا“ تا ”ایک مسلسل“ کی اشاعت تک

منیر نیازی کے ہاں غزل گوئی کے پہلے دور میں تصورِ حیات، روایتی اندازِ عشق، ماحول کی پُر اسراریت، یادِ رفتگاں، ہجرت و فسادات سے متعلق تجربات و مشاہدات اور عمرانی صورتِ حال پر تنقیدی نظر ایسے موضوعات نمایاں ہو کر سامنے آئے ہیں۔ سورج، چاند، پانی، ہوا، دشت، گھٹا اور شام ایسے استعارے ان کی شعری کائنات کا حصہ بنے ہیں۔ جن پر سیر حاصل بحث اس باب کا موضوع ہے۔ دوسرے دور میں وہ موضوعات جو پہلے دور میں ان کے ہاں نمایاں تھے اس فنی پختگی اور مہارت سے پرتا گیا ہے کہ وہ ان کی غزل کے فطری مزاج کا جُز بن گئے ہیں۔ اس دور میں کلاسیکی شاعری سے مستفید ہونے کا رجحان بھی غالب ہے۔ تیسرا دور ان کے فلسفیانہ انداز نگارش کا آئینہ دار ہے۔ معاشرتی، علمی، سیاسی انحطاط اور تبدیلی کی خواہش نے ان کی اس دور کی غزل کے خدو خال متعین کیے ہیں جو پہلے دور سے شروع ہو کر اپنے دائرے کی تکمیل کرتے ہیں۔

گیت نگاری کا رجحان اردو شعرا کے ہاں نمایاں رہا ہے جس کی بنیادیں ہندی گیت نگاری پر استوار ہوئی ہیں۔ ہندی دیو مالا کی متعدد مثالیں اردو گیتوں میں موجود ہیں۔ منیر نیازی کی گیت نگاری میں بھی یہی رجحان نمایاں ہے۔ شیو، اندر، پاروتی، گنیش، رادھا اور شیام کے ناموں کی تکرار سنائی دیتی ہے۔ کتاب کا پانچواں باب منیر نیازی کی گیت نگاری کے حوالے سے تحریر کیا گیا ہے، جس کو ”منیر نیازی کے گیتوں کی فکری و فنی دیو مالا“ کا نام دیا گیا ہے۔ ان کی گیت نگاری کو دو حصوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں ان گیتوں کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس میں ہندی مزاج نمایاں ہے اور دوسرے حصے میں ان گیتوں کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے جن میں فارسی شعری موضوعات اور اسالیب کا اثر نمایاں ہے، جس ان کے گیت غزل کے مزاج سے ہم آہنگ ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔

اگر غور کریں تو ڈاکٹر سمیرا اعجاز صاحبہ نے اس کتاب میں منیر نیازی کی شخصیت اور فن کوایک کل میں دیکھنے کا کامیاب جتن کیا ہے۔ جزوی تفہیم کلی تفہیم کے مقابلے میں یقیناً ادھوری ہوتی ہے اور گیسٹالٹ کے تصور نے تو اس کو اور مہمیز دی ہے۔ کسی بھی شاعر کو اس کی شخصیت، شاعری اور عصری حالات کے کل میں رکھ کر دیکھنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے جس سے عہدہ برا ہونا تحقیقی اور تنقیدی بصیرت اور ان تھک محنت کا نتیجہ ہی ہوا کرتا ہے اور ڈاکٹر صاحبہ نے اس مشکل کام کو سلیقے سے سر انجام دے کر ، نئے محققین کے لیے مثال قائم کی ہے۔

تحقیقی اُسلوب، سادہ بیانیہ، ابلاغ، اختصار، قطعیت اور جامعیت ایسے اسلوبیاتی عناصر ان کی تحریر میں ابھر کر سامنے ہیں جو ان کو انفرادیت بخشنے کے ساتھ ساتھ کتاب کی قرات میں روانی کا سبب بنتے ہیں۔ امید ہے کہ مستقبل میں بھی اُن کے اِسی نوعیت کے تحقیقی و تنقیدی کام منظر عام پر آ کر قارئینِ ادب سے داد وصول کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS