گروہی حرکیات


شعبہ ابلاغ ِ عامہ کے اساتذانِ کبراء خبر کی اہمیت، پروپیگنڈا تکنیک اور شخصیت سازی کے فن کا استعمال کمالِ مہارت سے کرتے۔ ایک دن خان صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ بلوچستان یونیورسٹی شعبہ ابلاغ ِ عامہ کی بیگم طاہر کو جانتی ہیں؟ ہم نے کہا نہیں، کہنے لگے کمال ہے آپ انہیں نہیں جانتیں جیسے بیگم طاہر کوئی جانی مانی معروف شخصیت ہوں۔ یہ کراچی سے تعلق رکھتی تھیں اور ہیں، جامعہ کراچی کی فارغ التحصیل کوئٹہ جا کر بس گئی تھیں۔ کوئٹہ کے خراب حالات کی وجہ سے کراچی منتقلی چاہ رہی تھیں، خان صاحب انہیں جامعہ اُردو لانا چاہ رہے تھے۔ شعبہ ابلاغ ِ عامہ جامعہ اُردو میں ایک بڑی شخصیت آ رہی تھی اور ان سے ناواقفیت ہماری پرلے درجے کی ناواقفیت کا گویا ثبوت تھی۔

مخصوص سوچ اور طبقے کے حامل افراد کا اپنا خاص روزمرّہ و محاورہ ہوتا ہے مثلاً ’باریک کام‘ اور ’شیشے کا گھر‘ جیسے کلمات ہم نے یہیں سنے۔ جب کلمات اور تصورات؛ تجربے اور مشاہدے کا براہِ راست حصہ بنتے ہیں تب وہ ادراک کے مرحلے سے گزر کر ایقان بنتے ہیں۔

یہ اُس دور کی بات ہے جب خان صاحب صدر ِشعبہ اور بیگم طاہر رئیسہ کلیہ فنون تھیں اور یہ اُس دور کی بات بھی ہے جب ’لائف آف محمد‘ پر فلم ریلیز ہوئی تھی۔ عبدالحق کیمپس کی فضا گرم تھی اور ہمارے رگ و پے میں یخ بستگی۔ رئیسہ صاحبہ جسے ہمارا ’مس فائر‘ قرار دے رہی تھیں اسے خان صاحب ’مس فائر‘ بنا چکے تھے۔ ہم نے طالب علموں کو اسائنمنٹ دیا تھا ( اسے واوین میں لکھنا ازحد ضروری ہے ) کہ : ”اس فلم پر مسلم ممالک میں جو احتجاج ہوا ہے، لوگوں نے جو نعرے لگائے ہیں، بینر پر جو لکھا ہے، سفارت خانوں میں جو یادداشتیں جمع ہوئی ہیں، ان پر ایک رپورٹ لکھیں۔

“ ایک طالبہ نے سوال کیا ”ہم یہ فلم دیکھ لیں؟“ میں نے جواب دیا ”دیکھ سکتی ہیں تو دیکھ لیں لیکن دیکھیں گی کہاں پاکستان میں اس پر پابندی لگ چکی ہے۔“ غالباً یہ وہی طالبہ تھی جو پچھلے سمیسٹر کے پرچے میں کم نمبر حاصل کیے جانے پر کبیدہ خاطر تھی، لیکن اتنی؟ جو بات عبدالحق کیمپس کی فضا میں پھیلی وہ یہ کہ ”میڈم نے اسائنمنٹ دیا ہے کہ یہ فلم دیکھیں اور اس پر رپورٹ لکھیں۔“

ہمیں ایک وضاحت طلبی کا خط رئیسہ کلیہ فنون کی جانب سے موصول ہوا۔ رئیسہ صاحبہ یہ چاہتی تھیں کہ ہم خود ان کی خدمتِ عالیہ میں پیش ہوں لیکن ہم یہ سمجھتے تھے کہ تحریری طور پر خط کی وصولی کا مطلب تحریری جواب داخل ِ دفتر کرنا ہے۔ ہم نے ’تحقیقی‘ جواب لکھا، یہ تحقیق کیمپس کی لائبریری میں بیٹھ کرکی اور یہ اس بات کا جواب بھی تھا جو غلط طور پر منسوب کی گئی کہ جواب اس غلط کا بھی ہے۔ حامد میر صاحب کا کالم چھپا تھا جس میں وہ لکھتے ہیں (مفہوم ) جیسے جیسے میں فلم دیکھتا گیا ویسے ویسے میری حالت غیر ہوتی گئی۔

سلیم صافی نے اپنے کالم میں فلم دیکھنے کا ذکر کیا تھا۔ اگرچہ کہ میں نے طالب علموں کو فلم دیکھنے کا اسائنمنٹ نہیں دیا لیکن کیا شعبہ ابلاغ عامہ علمی و عملی سے تعلق رکھنے والے سرکردہ افراد کا نکتہ نظر دیکھنے کے بارے میں متنوع اور متفرق نہیں ہو سکتا ؟ اور خان صاحب؟ اگر خان صاحب دہرے معیارات نہ رکھتے ہوتے تو یہی ہوتے جن سے شعبے کی تاریخ و تقدیر بدلتی، محض نظریات رکھنے سے کچھ نہیں بدلتا پھر تو یہ دھوکہ بن جاتے ہیں۔

ہم نے جواب شعبے کے دفتر میں جمع کرایا اور کہا کہ یہ ابھی ڈین آفس لے جائیں جو شعبے کے سامنے ہی دوسری عمارت میں واقع ہے۔ اس موقع پر خان صاحب موجود تھے انہوں نے فرمایا کہ اب تو وہاں سے لوگ جا چکے ہوں گے، تو یہ کل چلا جائے گا، ان کے اس طرح کہنے پر ہم نے کہا کہ ٹھیک ہے، جواب تو پہنچ گیا لیکن جو ماحول بنا وہ بقول شخصے ہم واجب القتل کے درجے پر فائز ہوچکے تھے۔

ہم جواب جمع کرا کے مطمئن، اگلے دن کوئی بات کرنے کے لیے کیکٹس (صفاتی نام) کو فون کیا تو وہاں سے چیخ رہے ہیں، آپ کہاں ہیں، طالب علموں نے کیمپس بند کرا دیا ہے اور آپ گھر پر آرام فرما رہی ہیں۔ ہمارے تو چھکے چھوٹ گئے۔ ہم نے ایک فرزندِ مولانا صاحب اور ایک سہیلی کو فون کر کے تازہ ترین صورت ِ حال پر مشاورت کی، ”آپ فیس کر سکتی ہیں“ جیسے مورال کو تقویت دینے والے تبصرے وصول کیے، جواب پر مبنی تحقیقی فائل اٹھائی اور عبدالحق کیمپس میں واقع رئیسہ کلیہ فنون کے دفتر پہنچے۔

تھوڑی دیر بعد خان صاحب بھی تشریف لے آئے۔ رئیسہ صاحبہ نے فرمایا کہ ’آپ کو میرے پاس آنا چاہیے تھا کہ میڈم ایک مس فائر ہو گیا ہے ۔ ‘ میں نے جواب دیا کہ ’آپ کے تحریری خط کا میں تحریری جواب دے چکی ہوں۔ ‘ انہوں نے کہا کہ اتنی تاخیر سے، میں نے خان صاحب کی طرف دیکھا کہ انہوں نے کہا تھا کہ جواب کل چلا جائے گا۔ اب رئیسہ صاحبہ نے وہ جملہ ادا کیا جو ان کی شخصیت کی بھرپور تصویر کشی کرتا ہے، انہوں نے اپنے سیکریٹری کو آواز لگائی ’میڈم کی فائل لاؤ‘ ، یقین کریں کہ یہ انداز ایسا تھا کہ سننے والے کو لگے کہ جیسے اس کا کوئی کریمنل ریکارڈ کھلنے جا رہا ہو، ہم ہکا بکا کہ ہمارا کوئی ایسا ریکارڈ بھی ہے؟

یہ ڈین آفس ہے کہ کوئی تھانہ، ہم استاد ہیں کہ مجرم اور یہ رئیسہ صاحبہ بغیر وردی کے تھانیدارنی؟ اسی اثناء میں میڈم قادری اور شعبہ کامرس کے سر تارہ (لفظی ترمیم ) جن کی کیمپس کی تمام خواتین دل سے عزت کرتی ہیں اور اس واقعے کے بعد میرے دل میں بھی ان کی قدر پہلے سے بھی بڑھ گئی، آ کر بیٹھ گئے۔ یہ سب اگرچہ کہ ایک ہی گروپ ہے لیکن فرد، فرد بھی ہوتا ہے۔ اچانک میڈم قادری اپنی جگہ سے اٹھیں اور میرے بائیں طرف برابر کرسی پر آ کر بیٹھ گئیں اور انہوں نے میری کلائی تھام لی، یہ اس پورے سرد و گرم ماحول میں مجھے ملنے والی پہلی ڈھارس تھی۔

پھر سر تارہ میرے دائیں طرف آ کے بیٹھ گئے اور میری فائل کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ آپ یہ فائل بند کر دیں۔ میں نے فائل بند کرتے ہوئے کہا کہ جیسا آپ کہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ معافی مانگ لیں۔ تھوڑا وقت گزرا اور ڈین آفس کی بڑی میز پر دس بارہ طالب علم آ کر بیٹھ گئے اور ہم رئیسہ صاحبہ کی میز کے سامنے کرسی سے اٹھ کر طالب علموں کی عدالت میں پیش ہو گئے۔ ہماری مختصر تقریر دل پذیر ملاحظہ فرمائیں : ”عقیدے کا معاملہ دل کا معاملہ ہے، نیت کا معاملہ ہے، آپ میری نیت پر شک کر رہے ہیں، آپ میرے عقیدے پر کیسے شک کر سکتے ہیں؟

اگر مجھ سے کوئی گستاخی سرزد ہوئی ہے جس کا میں تصور بھی نہیں کر سکتی تو میں اپنے رب سے معافی مانگتی ہوں۔ میرا االلہ مجھے معاف کرے۔ آمین ( اس موقع پر غیر شعوری طور پر ہماری آنکھوں میں آنسو آ گئے، مجھے خود حیرت ہے کہ کیسے! ) ، لفظوں کی تاثیر تھی کہ آنسوؤں کا اثر اب طالب علم خان صاحب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ آپ نے میڈم کو اتنے دنوں بعد کیوں بلایا؟ جب میں نے دیکھا کہ اب توپوں کا رخ خان صاحب کی طرف ہے تو میں آرام سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا کر پردہ گرنے کا انتظار کرنے لگی۔

Facebook Comments HS