سابقہ پورن سٹار کو ’خاموشی اختیار کرنے کے عوض پیسے دینے‘ کا مقدمہ: ٹرمپ ’قصوروار‘ قرار لیکن اب کیا ہو گا؟


ڈونلڈ ٹرمپ عدالت سے سزا پانے والے پہلے امریکی صدر
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 30 مئی 2024 کو نیویارک شہر میں اپنے ’ہش منی ٹرائل‘ میں مجرم قرار پائے جانے کے بعد واپس جا رہے ہیں
جمعرات کے روز ڈونلڈ ٹرمپ امریکی تاریخ کے وہ پہلے سابق صدر بن گئے ہیں جنھیں ایک دیوانی مقدمے میں قصوروار ٹھہرایا گیا ہے۔ سابق امریکی صدر کو ان کے خلاف عائد کردہ تمام 34 الزامات میں جیوری نے قصوروار قرار دیا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک سابق پورن اسٹار سٹورمی ڈینیئلز کو ادا کی گئی ’ہش منی‘ (یعنی کسی فرد کو کوئی مخصوص راز لیک نہ کرنے کے عوض پیسے دینا) کو چھپانے کے لیے کاروباری ریکارڈ میں ہیر پھیر کی ہے۔

نیویارک، مین ہٹن کی عدالت کی 12 رکنی جیوری نے دو دن کی بحث کے بعد متفقہ فیصلہ دیا تو سابق صدر بے چینی کے ساتھ جیوری کے قصور وار ٹھہرائے جانے کے فیصلوں کو ایک ایک کر کے سنتے رہے۔

اس فیصلے کے ساتھ وہ ایک مجرم کے طور پر وائٹ ہاؤس کے لیے انتخاب لڑنے والے کسی بھی امریکی سیاسی جماعت کے پہلے امیدوار بھی ہوں گے۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس سال نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار ہیں۔ جولائی 15 سے شروع ہونے والی پارٹی کانفرنس میں ریپبلکن پارٹی انھیں صدر کا انتخاب لڑنے کے لیے باضابطہ طور پر منتخب کرے گی۔

تاہم، اس سے چار روز قبل، 11 جولائی کو انھیں سزا سنا دی جائے گی۔ سابق امریکی صدر کو ہر ایک الزام کے لیے ایک سال اور چار ماہ سے چار سال تک کی قید کی سزا کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم، انکی عمر اور سابقہ مجرمانہ ریکارڈ (صدر ٹرمپ ماضی میں کبھی عدالت سے سزا یافتہ نہیں ہوئے) کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ان کی سزا میں کمی یا انھیں رہا بھی کیا جا سکتا ہے۔

’فکسڈ ٹرائل‘

عدالت سے نکلنے کے بعد، میڈیا سے بات کرتے ہوئے سابق صدر ٹرمپ نے عدالتی کارروائی کو ’فکسڈ ٹرائل‘ اور ایک ’شرمناک‘ عمل قرار دیا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے ساتھ انصاف نہیں ہوا ہے اور کہا کہ ’وہ آخری دم تک لڑیں گے۔‘

ڈونلڈ ٹرمپ بنا کسی سوالوں کا جواب دیے یہ کہتے ہوئے چلے گئے کہ یہ لڑائی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ سابق صدر کے وکلاء اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے۔ اپیل کے نتیجے کیس کا حتمی فیصلہ آنے میں مہینوں یا برسوں تک لگ سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس سال ہونے والے انتخابات میں ریپبلیکن امیدوار ہیں

ڈونلڈ ٹرمپ اس سال نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کے لیے ریپبلکن امیدوار ہیں

فیصلہ آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا نیٹ ورک ’ٹروتھ سوشل‘ (Truth Social) پر اپنی انتخابی مہم کے لیے چندے کی درخواست بھی کی ہے۔

سابق صدر کا کہنا تھا کہ انھوں نے ’کچھ غلط نہیں کیا‘۔ خود کو ’ایک سیاسی قیدی‘ قرار دیتے ہوئے انھوں نے حامیوں سے درخواست کی ہے کہ وہ ان کی دوبارہ صدر بننے میں مدد کریں۔

امریکی صدر جو بائیڈن اور نائب صدر کملا ہیرس

ٹرمپ کے خلاف فیصلے پر ردعمل دیتے بائیڈن کی انتخابی مہم نے ایک بیان میں کہا کہ ’آج ہم نے نیویارک میں دیکھا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔‘

’کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں‘

ٹرمپ کے خلاف فیصلے پر ردعمل دیتے بائیڈن کی انتخابی مہم نے ایک بیان میں کہا کہ ’آج ہم نے نیویارک میں دیکھا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہیں ہے۔‘

بائیڈن اور کملا ہیرس کی انتخابی مہم کے پریس افسر مائیکل ٹائلر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کو ہمیشہ سے یہ غلط گمان تھا کہ ان کو اپنے ذاتی فائدے کے لیے قانون توڑنے کے نتائج کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ڈونلڈ ٹرمپ کو صدارتی آفس سے باہر رکھنے کا ایک ہی طریقہ ہے: انتخابات میں شکست۔‘

سابقہ پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز (دائیں)، ڈونلڈ ٹرمپ

سابقہ پورن سٹار سٹورمی ڈینیئلز (دائیں)، ڈونلڈ ٹرمپ

’ہش منی کیس‘ کیا ہے؟

’ہش منی‘ کا مطلب کسی فرد کو کوئی مخصوص راز لیک نہ کرنے کے عوض پیسے دینا ہے۔ یہ ایک ذاتی نوعیت کا کیس ہے اور اس کا مرکزی کردار ایک خاتون ہیں جن کا نام سٹورمی ڈینیئلز ہے۔

سٹورمی ڈینیئلز کا اصلی نام سٹیفنی گریگوری کلیفورڈ ہے جو پورن انڈسٹری کی ایک سابق اداکارہ، سکرین رائٹر اور ڈائریکٹر ہیں۔ اُن کا دعوی ہے کہ سنہ 2006 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اُن کے ساتھ سیکس کیا تھا۔ اُس وقت ٹرمپ کی دوسری شادی کو ایک سال ہو چکا تھا۔

سٹورمی ڈینیئلز کا دعویٰ ہے کہ سنہ 2016 میں جب ٹرمپ صدر کے امیدوار تھے تو انھوں نے اپنے وکیل مائیکل کوہن کے ذریعے انھیں ایک لاکھ 30 ہزار ڈالر اِس شرط پر ادا کیے تھے کہ وہ ٹرمپ سے اپنے تعلق کو ظاہر نہیں کریں گی۔

ٹرمپ اس تعلق سے انکار کرتے رہے ہیں تاہم ان کی قانونی مشکل کی وجہ یہ نہیں اور نہ ہی اُن کی جانب سے سٹورمی ڈینیئلز کو پیسے کی ادائیگی ہے، جو امریکہ میں قانونی طور پر جرم نہیں۔

دراصل ڈونلڈ ٹرمپ نے سرکاری دستاویزات میں پورن سٹار کو اِس رقم کی ادائیگی ریکارڈ میں بطور قانونی فیس ظاہر کیا اور نیو یارک کے پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ ’بزنس ریکارڈ میں غلط بیانی جرم ہے۔‘

سٹورمی ڈینیئلز کا اصلی نام سٹیفنی گریگوری کلیفورڈ ہے

سٹورمی ڈینیئلز کا اصلی نام سٹیفنی گریگوری کلیفورڈ ہے جو پورن انڈسٹری کی ایک سابق اداکارہ، سکرین رائٹر اور ڈائریکٹر ہیں

اب آگے کیا ہوگا؟

سابق صدر ٹرمپ پورے مقدمے کی سماعت کے دوران ضمانت پر رہا رہے ہیں۔ جیوری کے فیصلے میں انھیں قصوروار قرار دیے جانے کے بعد بھی وہ اس وقت آزاد ہیں جب تک کہ جسٹس ہوآن مرچن سزا سنانے کا شیڈول طے نہ کر دیں۔

سزا سُنانے سے پہلے جج کئی عوامل پر غور کر سکتے ہیں۔ اِن عوامل میں مسٹر ٹرمپ کی عمر (جو اب 77 برس ہے)، سابقہ مجرمانہ ریکارڈ (صدر ٹرمپ ماضی میں کبھی عدالت سے سزا یافتہ نہیں ہوئے) اور ممکنہ طور پر ان کی جانب سے عدالت کے ’گیگ آرڈرز‘ کی خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ گیگ آرڈر ایک قانونی حکم ہوتا ہے جس کے تحت مقدمے سے متلعق معلومات یا بیان عوام کو یا غیر مستند تیسرے فریق کو دینے کی ممانعت ہوتی ہے۔

سزا کے طور پر اُن پر جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، انھیں پروبیشن یا نگرانی میں رکھا جا سکتا ہے یا ممکنہ طور پر ایک مخصوص مدت کے لیے جیل بھیجا جا سکتا ہے۔

کیا ٹرمپ جیل جا سکتے ہیں؟

یہ ممکن ہے، لیکن اس کا بہت زیادہ امکان نہیں ہے کہ ٹرمپ جیل کی سلاخوں کے پیچھے وقت گزاریں گے۔

ان کے خلاف الزامات ’کلاس ای‘ جرائم کے زمرے میں آتے ہیں اور یہ ریاست نیویارک میں سب سے کم درجے کے جرائم شمار ہوتے ہیں۔ ہر الزام میں زیادہ سے زیادہ چار سال کی سزا ہے۔

اس کے ساتھ ہی اس کیس کو سننے والے جج جسٹس مرچن کے پاس کم سے کم سزا کا انتخاب کرنے کی بھی کئی وجوہات ہیں۔ ان میں مسٹر ٹرمپ کی عمر، ٹرمپ کا ماضی میں کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہ ہونا، اور ان کے خلاف دیگر الزامات غیر متشدد قسم کے جرائم میں شامل ہوتے ہیں۔

یہ بھی ممکن ہے کہ جج اس کیس کی بے مثال نوعیت پر بھی غور کریں اور پھر شاید وہ سابق صدر ٹرمپ کو سلاخوں کے پیچھے ڈالنے سے بچنے کا انتخاب کریں۔

یہاں یہ سوال بھی ہے کہ کیا ان کا جیل جانا قابل عمل صورتحال بھی ہو گی۔ تمام سابق صدور کی طرح مسٹر ٹرمپ بھی سیکرٹ سروس کی جانب سے تاحیات حفاظت کیے جانے کے حقدار ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جیل میں بھی ان کی حفاظت کے لیے کچھ ایجنٹوں کی ضرورت ہو گی۔

ان سب کے باوجود ایک قیدی کے طور پر صدر کے ساتھ جیل کا نظام چلانا انتہائی مشکل ہو گا۔ انھیں محفوظ رکھنا بہت بڑا سکیورٹی رسک اور مہنگا سودا ہو گا۔

جیل کی مشاورتی کمپنی وائٹ کالر ایڈوائس کے ڈائریکٹر جسٹن پیپرنی نے کہا: ’جیل کا نظام دو چیزوں یعنی جیل کی حفاظت اور اخراجات کو کم رکھنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ مسٹر ٹرمپ کے معاملے میں ’عجیب و غریب صورتحال درپیش ہو گی۔۔۔ کوئی وارڈن اس کی اجازت نہیں دے گا۔‘

کیا ٹرمپ اب بھی صدر کا انتخاب لڑ سکتے ہیں؟

جی بالکل۔ امریکی آئین صدارتی امیدواروں کے لیے نسبتاً اہلیت کے کم تقاضے رکھتا ہے۔ امریکہ کا صدر بننے کی شرائط یہ ہیں کہ امیدوار کی عمر کم از کم 35 سال ہونی چاہیے، وہ ’پیدائشی طور پر‘ امریکہ کا شہری ہو اور کم از کم 14 سال سے امریکہ میں مقیم ہوں۔ مگر مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے امیدواروں کو صدارتی انتخاب میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے کوئی اصول نہیں ہے۔

لیکن اس کے باوجود قصوروار پائے جانے کا فیصلہ نومبر 2024 کے صدارتی انتخابات کو متاثر کر سکتا ہے۔ رواں سال کے شروع میں بلومبرگ اور مارننگ کنسلٹ کے ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ اہم سوئنگ ریاستوں میں 53 فیصد ووٹروں نے سزا پانے کی صورت میں رپبلکن کو ووٹ دینے سے انکار کیا ہے۔

اسی ماہ کوئنیپیاک یونیورسٹی کے ایک دوسرے سروے میں دیکھا گیا ہے کہ اس صورت میں مسٹر ٹرمپ کے ووٹروں میں سے چھ فیصد کا انھیں ووٹ دینے کا امکان کم ہو جائے گا۔ اور اس طرح کے سخت مقابلے میں یہ بہت نتیجہ خیز ہوگا۔

ڈونلڈ ٹرمپ

ٹرمپ کو جن 34 الزامات کے لیے قصوروار ٹھہرایا گیا ہے وہ تمام ریاستِ نیویارک میں سب سے کم درجے کے جرائم شمار ہوتے ہیں

کیا ٹرمپ بطور صدر اپنی سزا معاف کر سکیں گے؟

نہیں۔ امریکی صدور اُن لوگوں کے لیے معافی نامہ جاری کر سکتے ہیں جنھوں نے وفاقی سطح کے جرائم کا ارتکاب کیا ہو۔ نیویارک میں ’ہش منی‘ کیس ایک ریاستی معاملہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسٹر ٹرمپ دوبارہ صدر بنتے ہیں تو اس کیس میں اپنی سزا معافی ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہو گی۔

جارجیا میں بھی مسٹر ٹرمپ کے معاملے میں ایسا ہی ہے جہاں ان پر 2020 کے انتخابات کے دوران ریاست میں صدر جو بائیڈن کے ہاتھوں اپنی کم فرق سے شکست کو الٹانے کے لیے مجرمانہ سازش کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔ یہ کیس فی الحال اپیلوں میں پھنسا ہوا ہے۔

مسٹر ٹرمپ کے دو وفاقی معاملات کے معاملے میں معافی دینے کے اختیارات واضح نہیں ہیں۔ ایک خفیہ دستاویزات کے مبینہ غلط استعمال سے متعلق ہے جبکہ دوسرا 2020 کے انتخابات کو الٹانے کی سازش سے متعلق ہے۔

پہلے معاملے میں فلوریڈا میں ٹرمپ کے مقرر کردہ جج نے یہ کہتے ہوئے کہ شواہد کے بارے میں سوالات کو حل کرنے سے پہلے تاریخ طے کرنا ’بیوقوفی‘ ہو گی، مقدمے کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔ دوسرا وفاقی کیس بھی تاخیر کا شکار ہے جبکہ مسٹر ٹرمپ کی جانب سے ایک اپیل کی سماعت ہوئی۔

مذکورہ دونوں وفاقی مقدمات میں سے کسی کا بھی نومبر کے انتخابات سے پہلے فیصلہ آنے کا امکان نہیں ہے۔ لیکن اگر ایسا ہوا تو بھی تو آئینی ماہرین اس بات پر متفق نہیں ہیں کہ آیا صدر کی معافی کی طاقت میں وہ خود بھی شامل ہیں یا نہیں۔ ایسے میں مسٹر ٹرمپ خود کو معاف کرنے کی کوشش کرنے والے پہلے شخص ہو سکتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33060 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments