کیا آپ پاکستانی فنکار اور موسیقار عمران اشرف ساجن کو جانتے ہیں؟


میں یہ کالم اس اعتراف سے شروع کرنا چاہتا ہوں کہ تین ماہ پہلے تک میں بھی نہ
GENIUS STUDIOS
کو جانتا تھا اور نہ ہی ان کے پروڈیوسر عمران اشرف ساجن کو لیکن جب میں اپنے نوجوان دوست ایاز مورس سے ملنے کراچی گیا تو ایاز مورس نے اپنے ماسٹر ٹی وی کے لیے ہمارے انٹرویو

زندگی کے رنگ ڈاکٹر سہیل کے سنگ

کو ریکارڈ کروانے کے لیے عمران ساجن کی خدمات حاصل کیں۔ انٹرویو کے بعد عمران ساجن نے ہم دونوں کو اپنے سٹوڈیو میں چائے کی پیالی پینے کی بڑی محبت سے دعوت دی۔ ان کی دعوت میں اتنی اپنائیت اور خلوص تھا کہ میں انکار نہ کر سکا۔

عمران ساجن کے سٹوڈیو کے ایک کونے میں گٹار دیکھ کر جب میں نے پوچھا کیا آپ پروڈیوسر کے علاوہ ایک موسیقار بھی ہیں؟ تو مجھے پتہ چلا کہ وہ نہ صرف خود فنکار ہیں بلکہ اپنے جینیس سٹوڈیو میں بہت سے فنکاروں کو ریکارڈ بھی کر چکے ہیں اور انہیں موسیقی کی دنیا میں متعارف بھی کروا چکے ہیں۔

جب ایاز مورس نے عمران ساجن کو بتایا کہ میں ایک ماہر نفسیات ہی نہیں ایک شاعر بھی ہوں تو انہوں نے میری ایک غزل سننے کی فرمائش کی۔

ان کے کہنے پر جب میں نے انہیں اپنی ایک غزل سنانی شروع کی تو میں نے ابھی پہلا شعر ہی پڑھا تھا جو کچھ یوں تھا

کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا
تو عمران ساجن نے مجھ سے کہا
ڈاکٹر صاحب! آپ رک جائیں۔ دوبارہ پڑھیں تا کہ میں آپ کی غزل آپ کی آواز میں ریکارڈ کر لوں۔

غزل ریکارڈ کرنے کے بعد وہ ہمارے لیے سبز چائے بنانے چلے گئے اور جب چند منٹ بعد چائے کی تین پیالیاں لے کر آئے تو ان کی آنکھوں میں چمک اور چہرے پر ایک دلفریب مسکراہٹ پھیلی ہوئی تھی۔

ہمیں چائے کی پیالیاں دینے کے بعد فرمانے لگے
میں آپ کو کچھ سناتا ہوں
پھر وہ اپنے پیانو کے سامنے بیٹھے اور انہوں نے ہمیں موسیقی کے تحفے سے یہ کہتے ہوئے نوازا
ڈاکٹر سہیل میں نے یہ آپ کی غزل کی دھن بنائی ہے
غزل سن کر چند منٹ میں ہی اس کی دھن بنانا
میں نے ایسی فنی کرامت پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔

میں نے اس سے پہلے موسیقاروں کا دھن بنانا سنا تھا لیکن دیکھا نہ تھا۔ میرے کانوں کو وہ دھن بہت اچھی لگی۔

پھر عمران ساجن نے کہا

ڈاکٹر سہیل اب ہمارے پاس غزل کے الفاظ بھی ہیں اور دھن بھی۔ اب میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ کی اجازت سے میں کسی دن اپنے دیگر موسیقاروں کو بلاؤں اور موسیقی ریکارڈ کرواؤں اور پھر کسی سنگر کی خدمات حاصل کروں کہ وہ اس غزل کو گائے۔

آپ ریکارڈنگ میں کس قسم کے موسیقی کے آلات استعمال کریں گے۔
فرمانے لگے
طبلہ بھی ہو گا ڈرمز بھی ہوں گے، بیس گٹار بھی ہو گا ایکوسٹک اور سپینش گٹار بھی اور خاص طور پر سارنگی بھی۔ آپ کس سنگر سے گانے کا کہیں گے۔ میرے ایک شاگرد اور دوست محمد علی ہیں وہ اس غزل کو بہت اچھا گائیں گے۔
ریکارڈنگ میں پہلے آپ کی آواز میں شعر سنایا جائے گا پھر محمد علی کی آواز میں گایا جائے گا۔

اور یہ سب کام کرنے میں کتنی دیر لگے گی؟
ڈاکٹر صاحب۔ آج کل رمضان کا مہینہ ہے یہ ختم ہو جائے تو عید کے بعد ہم یہ کام کر لیں گے۔
میں ایک چائے کی پیالی پینے گیا تھا اور ایک موسیقی کی کرامت دیکھ کر آیا۔
چنانچہ چند ہفتوں کے انتظار بسیار کے بعد عمران ساجن نے مجھے غزل بھیجی جو ان کے فن کا کمال تھا۔
میں نے فون کر کے شکریہ ادا کیا تو فرمانے لگے
یہ آپ کی غزل کا کمال ہے جس نے مجھے انسپائر کیا۔
آپ کو میری غزل کیوں پسند آئی؟ میں متجسس تھا
کہنے لگے

اس غزل کے دل میں آج کے انسان کا درد بھی ہے اور کرب بھی۔ یہ غزل ایک انسان کا ہی نہیں پوری انسانیت کا دکھ اپنی آغوش میں لیے ہوئے ہے۔

اس کہانی میں کراچی کا دکھ بھی ہے پاکستان کا درد بھی اور دکھی انسانیت کا کرب بھی۔
میں جانتا ہوں کہ یہ غزل بہت پسند کی جائے گی اور بہت مقبول ہوگی۔

سچی بات تو یہ ہے ڈاکٹر سہیل کہ جب غزل مکمل کر کے میں نے اپنے سٹوڈیو میں خود اسے سنا تو میری آں کھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ اس غزل میں ایک سحر ہے ایک جادو ہے۔

تو اب اس غزل کے فنی سفر کا اگلا قدم کیا ہے؟

ڈاکٹر صاحب۔ اب ہم اس غزل کو پہلے آئی ٹیونز اور سپوٹیفائی پر اور پھر سوشل میڈیا اور انسٹا گرام پر ڈالیں گے تا کہ ساری دنیا کے موسیقی کے پرستار اس سے محظوظ و مسحور ہو سکیں۔ اور اگر آپ اپنی چند تصویریں بھیج سکیں تو ہم اس کا یو ٹیوب کے لیے ایک وڈیو بھی بنا سکتے ہیں کیا خیال ہے؟

عمران ساجن صاحب! میں تو شاعر ہوں میرا کام غزل لکھنا ہے یہ موسیقی کی دنیا تو آپ کی دنیا ہے آپ جو دوستانہ مشورہ دیں گے میں اس پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا۔

چنانچہ عمران ساجن نے اس غزل کا تحفہ آئی ٹیونز کی ٹیم کو دے دیا تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔

اگر آپ چاہیں تو آپ بھی اس غزل کو آئی ٹیونز یا سپوٹیفائی پر سن سکتے ہیں۔ عمران ساجن نے اس غزل کا نام “ڈر نہیں دیکھا” (DAR NHI DEKHA) رکھا ہے۔ ریکارڈنگ میں پہلے میری آواز میں غزل کے اشعار ہیں اور پھر عمران ساجن کی موسیقی کے ساتھ محمد علی کی آواز میں وہ اشعار گائے گئے ہیں۔ عمران ساجن کی موسیقی اور محمد علی کی آواز نے میری غزل میں جان ڈال دی ہے۔ مجھے اپنی غزل سن کر خود ہی حیرانی بھی ہوئی اور خوشگوار حیرت بھی۔

دلچسپی کی بات یہ ہے کہ میں اس غزل کی کامیابی کی داد عمران ساجن کی موسیقی کو دیتا ہوں اور وہ میرے غزل کے اشعار کو۔

میں نے عمران ساجن سے کہا، میری نانی اماں کہا کرتی تھیں۔ ایک اور ایک گیارہ ہوتے ہیں۔ عمران ساجن سے اتفاقی ملاقات میری زندگی کی یادگار ملاقاتوں میں سے ایک تھی۔ اس دن مجھے یقین ہو گیا کہ جب دو فنکار ملتے ہیں تو ایک نیا فن پارہ تخلیق ہو سکتا ہے۔ ایک نیا شہ پارہ جنم لے سکتا ہے۔

عمران ساجن نے جس فنکارانہ طور پر میری غزل کو سراہا میں اس کے لیے ان کا تہہ دل سے شکر گزار ہوں۔ آپ بھی ان کے فن کو سپوٹیفائی اور آئی ٹیونز پر سنیں اور داد دیں۔ اس فن پارے میں میری غزل اور ان کی موسیقی محبت کے ایک اٹوٹ رشتے میں منسلک ہو گئے ہیں۔ یہ ایسا فن پارہ ہے جسے ہم دونوں ساری دنیا کے سامنے فخر سے پیش کر سکتے ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں اپنی غزل کے اشعار پیش کیے دیتا ہوں
کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہئی یہاں ڈر نہیں دیکھا
آئینہ ہر اک کمرے کا حیراں ہے کہ کیونکر
جس شخص نے دیکھا اسے مڑ کر نہیں دیکھا
اس درجہ روایات کی دیواریں اٹھائیں
نسلوں نے کسی شخص نے باہر نہیں دیکھا
لفظوں کی عمارت پہ ہیں آسیب کے سائے
شاعر تو کئی دیکھے پیمبر نہیں دیکھا
بنیاد بھی کمزور ہے دیواریں شکستہ
اس دور میں انسان کا پیکر نہیں دیکھا
راتوں کی تو کیا بات ہے اس شہر میں خالد
برسوں سے کبھی دن بھی منور نہیں دیکھا
کیا تم نے کبھی اپنا مقدر نہیں دیکھا
ہر گھر میں جو بستا ہے یہاں ڈر نہیں دیکھا
ڈر نہیں دیکھا

ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 706 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments