شاباشی نوکری اور کتے کی دو۔


روایت ہے کہ ایک شخص نے اپنی نوکری کے لیے تن من دھن سب کچھ لگا دیا۔ بدلے میں نوکری نے بھی اس کو خاص مقام دیا۔ وہ خاص مقام کیا تھا؟ نوکری نے اس کو شاباشی دی! وہ شخص یہ شاباشی لے کے انتہائی خوش ہوا۔ اس نے شاباشی کو کپڑے میں لپیٹا اور اپنے ڈرائنگ روم میں سجا دیا۔ اس طرح جب بھی کوئی مہمان آتا، تو وہ اسے بڑے فخر سے اپنی شاباشی دکھاتا۔ مہمان بھی شاباشی دیکھ کر عش عش کر اٹھتے۔ اکثر مہمان اس کی خوش نصیبی کے قصیدے گاتے اور اس کو اس عظیم مقام تک پہنچنے پر مزید شاباشی دیتے۔ وہ اس مزید شاباشی کو مزید ململ کے کپڑے میں لپیٹتا اور پرانی شاباشی کے اوپر سجا دیتا۔

یہ سلسلہ یو ہی چلتا رہا، یہاں تک کہ شاباشی کا ایک آئی فل ٹاور کھڑا ہو گیا۔ ایک ایسا آئی فل ٹاور کہ جس کے بارے میں وہ شخص بھی نہیں جانتا تھا کہ اب اس آئی فل ٹاور کا کیا کرے؟ اور اس کو کتنا سجائے؟ مزید کتنا سر پہ بٹھائے اور اس شاباشی کی مزید کتنی شاباشی لے؟ اخر ایک دن جب وہ مزید شاباشی سنبھالنے کے قابل نہ رہا۔ اور اس کے ڈرائنگ روم میں کوئی ایسی جگہ نہ بچی کہ جہاں پہ وہ مزید شاباشی کو رکھ سکتا تو اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا۔

مشورے کے بعد وہ بازار چلا گیا۔ سب سے پہلے وہ بجلی کی دکان پہ گیا اور وہاں جا کے شاباشی پیش کی۔ مگر بجلی والے نے بتایا کہ اس دکان پہ شاباشی کی کوئی قیمت نہیں۔ پھر وہ ایک بہت بڑے جنرل سٹور میں چلا گیا اور وہاں جا کے اپنی شاباشی پیش کی۔ اور ان سے پوچھا کہ اس کی کیا قیمت لگائیں گے؟ انہوں نے بھی ٹکا سا جواب دے دیا۔ کہ جنرل سٹور پہ بھلا شاباشی کا کیا کام ہے! اسی طرح کرتے کرتے اس نے ہر دکان ہر جگہ چھان ماری جب کہیں شاباش کی کوئی قیمت نہ لگی تو آخر کار وہ کباڑیے کے پاس پہنچ گیا۔

کباڑیے کو کہنے لگا کہ بھیا اس شاباشی کی کتنی قیمت لگاؤ گے؟ کباڑیے نے شاباشی کو اوپر سے نیچے تک غور سے دیکھا۔ پھر مسکرا کر اس بندے کی طرف دیکھا اور کہنے لگا اس سے کہیں زیادہ شاباشی تو میرے پاس پڑی ہوئی ہے۔ مفت میں مجھ سے لے جاؤ! یہ سن کے وہ آدمی بہت مایوس ہوا اور تھک ہار کے ایک بزرگ کے مزار پہ پہنچ گیا۔ مزار پہ ادھر سے ادھر گھومتا رہا۔ اتنا گھوما کہ اس کا سر ہی گھوم گیا۔ آخر ایک جوگی سے آمنا سامنا ہوا۔

وہ جوگی سے پوچھنے لگا جو گئی بھیا! میرے پاس بہت سی شاباشی موجود ہے، آپ ہی بتائیے کہ آخر اس شاباشی کا میں کیا کروں؟ جوگی نے اس کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ پھر اوپر آسمان کی طرف دیکھا اور کہنے لگا کہ بیٹا شاباشی ایسی ہی ہے جیسی بھوک ہے۔ بھوک لگے تو نوالہ منہ میں ڈالنا پڑتا ہے۔ مگر جتنی بھی بھوک لگ جائے اس کو کہیں بیچ کر پیسے نہیں کمائے جا سکتے۔ بھوک کی کوئی قیمت نہیں۔ بھوک کی کوئی قدر نہیں۔ بھوک ایک بوجھ ہے۔

یہی حال شاباشی کا ہے۔ شاباشی کی کوئی قیمت نہیں۔ شاباشی کی کوئی قدر نہیں۔ شاباشی بس ضمیر اور نفسیات کا ایک بوجھ سا ہے۔ لوگ، ادارے، کمپنیاں، فیکٹریاں، ملک ؛ سب شاباشی کو استعمال کرتے ہیں تاکہ انسان کو استعمال کیا جا سکے۔ تھپکی دی جاتی ہے اور پہاڑ پہ چڑھا دیا جاتا ہے۔ وہی شخص جب پہاڑ سے گرتا ہے تو کوئی سنبھالنے والا کوئی نہیں ہوتا۔

ہمارے حلقہ احباب میں واحد کام کا شخص شیخ از پیر یعنی شیخ ناشپاتی ہے۔ شیخ ناش پاتی فطرتا ایک مذاقیہ انسان ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شاباشی تب ہی کام کر سکتی ہے جبکہ وفاداری ہو۔ اسی لیے ہمارے سماج میں وفاداری کی بڑی قدر ہے۔ میں نے حیران ہو کے پوچھا کہ وفاداری تو بہت اچھی چیز ہے۔ تو بولا کہ ہاں وفاداری ہے تو اچھی چیز، مگر وفادار کہلاتا کتا ہی ہے!

دوستو زندگی گزارنے کے دو ہی طریقے ہیں۔ ایک ایازی اور دوسرا غیر ایازی۔ ایازی طریقہ وفاداری والا طریقہ ہے۔ یہ وہ طریقہ ہے جہاں آپ کی اپنی ذات نہیں ہوتی۔ آپ کے اپنے ذاتی مفادات نہیں ہوتے۔ مفادات، فائدے اور حقوق صرف اور صرف بادشاہ کے ہوتے ہیں یا اس کے ہوتے ہیں جس کے ساتھ اپ وفادار ہوتے ہیں۔ اپ صرف اور صرف وفاداری نبھاتے ہیں اور بدلے میں شاباشی پاتے ہیں۔ دوسرا طرز حیات غیر ایازی ہے۔ اس میں ایک ہی صف میں محمود و ایاز کھڑے ہو جاتے ہیں۔

چاہے محمود ہو چاہے ایاز ہو، وفاداری مفاد کے ساتھ ہوتی ہے۔ وفاداری فائدے کے ساتھ ہوتی ہے۔ ہر شخص کی اپنی ایک شخصیت ہوتی ہے، اپنی آزادانہ سوچ ہوتی ہے، انفرادی عمل ہوتا ہے اور ہر شخص اپنی ذات کی تعبیر اپنے عقائد و نظریات کے مطابق کرتا ہے۔ عقائد، مفادات اور سوچ کے مطابق ہر شخص اپنی منزل کا تعین کرتا ہے اور کسی محمود کی غلامی یا تقلید پہ اکتفا نہیں کرتا۔ یہی غیر ایازی نقطہ نظر اور طرز حیات ہے۔ غیر ایازی نقطہ نظر اور طرز حیات میں نہ تو شخصیت کی بنیاد پہ وفاداری ہوتی ہے اور نہ ہی کسی شاباشی یا تھپکی کا انتظار!

حکیم بدا یونی سے جب بھی ہم نے اس موضوع پہ بات کی اس کی سوچ سب سے مختلف ہی تھی۔ حکیم کا کہنا ہے کہ وہ کمر ہی کیا جس پہ تھپکی نہیں۔ وہ تھپکی ہی کیا جو کہ تنہائی میں نہ دی جائے اور وہ تنہائی ہی کیسی، کہ جس میں کوئی ساتھی نہ ہو! حکیم کا کیا ہے، حکیم کا تو دماغ ہی الٹا ہے۔ حکیم کا دماغ اس قدر الٹا ہے کہ جب وہ الٹی لٹکتی ہوئی چمگادڑوں کو دیکھتا ہے تو برجستہ کہتا ہے کہ دیکھو کیسی سیدھی کھڑی ہیں۔ حکیم کا مشہور قول ہے کہ دنیا میں ایک ہی ستون ہے جو سیدھا ہے اور وہ ہے پیسا کا ستون۔ اب حکیم کو کون بتائے کہ پیسا کے ستون کی واحد وجہ شہرت یہ ہے کہ وہ اپنی جگہ سے تھوڑا سا کھسکا ہوا یعنی کہ سیدھا نہیں بلکہ کچھ ٹیڑھا ہے۔

ویسے تو حکیم کھسکا ہوا ہے مگر کبھی کبھی حکیم بہت پتے کی باتیں بھی کرتا ہے۔ اس سے جب شاباشی کے بارے میں میں نے پوچھا تو اس کا قول تھا کہ

”شاباشی پہ تو دنیا قائم ہے“ ۔

پھر اس نے یہ بھی کہا کہ وہ انسان ہی کیا جو شاباشی کے لیے جدہ جہد نہ کرے۔ میں نے پوچھا وہ کیسے تو بولا کہ یہ سارا نظام جو چل رہا ہے ؛ یہ سب شاباشی پہ ہی تو چل رہا ہے۔ جونیئر کلرک کو اس کا سینئر کلرک شاباشی دیتا ہے۔ سینیئر کلرک کو افسر شاباشی دیتا ہے۔ افسر کو اس کا افسر شاباشی دیتا ہے۔ اس افسر کو سیاست دان شاباشی دیتا ہے اور پھر اس سیاستدان کو امریکہ بہادر شاباشی دیتا ہے اسی شاباشی پہ ہی نظام سلطنت اور نظام حیات جاری و ساری ہے۔

کہتے ہیں ایک آدمی نے ایک بہت وفادار کتا پالا ہوا تھا۔ وہ جب بھی اس کتے کو تھپکی دیتا، تو کتا اس کی بتائی ہوئی جگہ پہ حملہ کر دیتا۔ ایک دن مالک نے دیکھا دور ایک دوسرا کُتا کھڑا ہوا ہے۔ اس کو دیکھتے ہی مالک نے اپنے کتے کو تھپکی دی اور کتا دوسرے کتے پہ حملہ آور ہو گیا۔ قریب پہنچنے پہ جا کے معلوم ہوا کہ وہ دوسرا کتا نہیں بلکہ بھیڑیا تھا۔ بھیڑیے نے اس کتے کی وہ درگت بنائی کہ خدا کی پناہ! اس واقعے کے ذکر پہ حکیم بدایونی نے اپنا نظریہ شاباشی پیش کیا۔ وہ کہتا ہے کبھی کسی کی تھپکی پہ جوش پہ مت آؤ۔ کبھی کسی کی شاباشی کے چکر میں اتنے جذباتی نہ ہو جاؤ کہ اپنا راستہ ہی بھول جاؤ اور ٹانگیں تڑوا بیٹھو۔

Facebook Comments HS