شاہی مسجد و شاہی قلعہ چترال
چیو پُل کے پاس ریسٹ ہاؤس کا نوکر رجسٹر ہاتھ میں پکڑے ڈی سی آفس کی طرف جاتا نظر آیا مجھے دیکھ کر رُکا۔ میں نے پوچھا۔
”کیا ایسا ممکن ہے کہ آج تم مجھے اپنے گاؤں لے چلو میں وہاں رات گزارنا چاہتی ہوں۔“
میں نے دیکھا تھا طنز سے بھری ہوئی زہریلی ہنسی اُسکے ہونٹوں سے پھسلتی اس کی آنکھوں میں گری اور وہاں سے سارے چہرے پر پھیل گئی اور جب اُس نے رخ پھیر کر میری طرف دیکھا اور کہا۔ ”آپ نے وہاں جا کر کیا کرنا ہے؟“
”کچھ جاننا چاہتی ہوں تم لوگوں کے بارے میں۔ “
”ہمارے پاس غریبی کے دکھوں کے سوا ہے کیا جس کے لئے آپ وہاں جانے کی خواہشمند ہیں۔ میرے بوڑھے باپ نے سولہ سال کی چھوکری سے بیاہ کر لیا ہے۔ اُس چھمک چھلو نے میری بیوی اور بچوں کو نتھ ڈال رکھی ہے۔ میرا باپ ایسا زن مرید کہ مجال ہے جو ایک لفظ بھی بولے۔ سارا وقت تو تو میں میں اور کل کلیان میں گزرتا ہے۔ پھر وہ بڑی قطعیت سے بولا۔
وہ بڑی باجی وہاں ریسٹ ہاؤس میں بہت پریشان بیٹھی ہیں۔ جہاز نہیں آیا نا۔ ان کے لوگ نہیں پہنچے۔ آپ جا کر انہیں تسلی دیں۔ ”ریسٹ ہاؤس کے ٹی وی لاؤنج میں پروین واقعی ہی افسردہ دکھی تھیں۔
میں نے دلداری کی اپنی سی کوشش کی۔
تین بجے جب ہم باہر نکلیں تو جن ہواؤں نے بڑھ کر ہمارا استقبال کیا وہ دوزخ سے ہی آئی لگتی تھیں۔ شاہی مسجد کے اندر پروین میری ترغیب پر گئی۔
یہ عصر سے پہلے کا وقت تھا مسجد میں فقہ حدیث اور قرآن پاک حفظ کرنے والے بچے ٹولیوں کی صورت ادھر اُدھر پھر رہے تھے۔ اندر داخل ہوتے سمے کچھ ڈر لگا۔ چترالیوں کی مذہبی وابستگی کی شدت سے آگاہی تھی۔ خوف تھا کہ کہیں نکالی ہی نہ جائیں۔
صد شکر کہ خیریت رہی۔ برآمدے میں کسری نماز پڑھی۔ جب ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے تو کھلی آنکھوں نے مسجد کے اندرونی حصے کے نقش و نگار کی دلفریبی کو دیکھا لیکن وہ لمحہ ایسا تھا کہ میں کسی ذی روح یا کسی شے کے دنیاوی حسن سے متاثر ہونے یا داد دینے کے موڈ میں نہیں تھی۔
پروین بھی آنکھیں بند کیے ہاتھ پھیلائے بیٹھی تھی۔ جب میں کھڑی ہوئی مجھے محسوس ہوا تھا جیسے میرے اور اوپر والے کے درمیان دوبارہ دنیاداری کے دبیز پردے حائل ہو گئے ہیں۔
شاہی مسجد سے نکل کر ہمارا رُخ شاہی قلعے کی طرف تھا۔ وہی مغلیہ طرز تعمیر شالامار باغ کے مین گیٹ جیسا دیو ہیکل پیتل کے کیلوں والا چوبی دروازہ۔ ویسی ہی چھوٹی سی کھڑکی جس سے اندر داخلہ ہوا۔ دائیں بائیں درمیانی راستے کو چھوڑتے ہوئے دو ڈھائی فٹ اونچی اور اُتنی ہی چوڑی کُرسی پر بھاری بھرکم ستونوں کے آگے جو کوٹھڑیاں امتداد وقت کے ہاتھوں خورد بُرد ہو رہی تھیں یہ کبھی پہرہ داروں اور سنگین برداروں کی آماجگاہ تھیں۔
آج جو ہم یوں دندناتے اندر داخل ہوئے تھی کہیں سو سال قبل میرا اندر دھرا پہلے قدم والا پاؤں ان کی بندوقوں کی زد میں ہوتا۔ داہنے ہاتھ والا زینہ اوپر بالکونی میں جاتا تھا۔ بالکونی کے تختے بھی سال خوردہ ہو کر ٹوٹ پھوٹ رہے تھے۔ تاریک ڈیوڑھی کے آگے چوبی دروازے سے نکل کر کشادہ میدان نظر آتا ہے۔
بائیں ہاتھ کی فوجی بارکیں مکمل طور پر زمین بوس ہیں۔ دائیں ہاتھ کے مخروطی برآمدوں والے کمرے جو کبھی حکومت کے اعلیٰ عہدیداروں کے لیے مختص تھے آج بھی کسی قدر قابل قبول حالت میں ہیں۔
سامنے والے کمروں کی منفرد طرز تعمیر کی صرف ایک ہلکی سی جھلک یہ بتاتی تھی کہ یہ خاص کمرے ہوں گے اور واقعی یہ مہتر چترال کا دفتر مالیات تھا۔ آنگن میں چنار کے بلند و بالا درخت کے نیچے ایک کونے سے دوسرے کونے تک ڈھولچیوں سازندوں اور موسیقاروں کی جگہ تھی جو کبھی یہاں اپنے فن کا جادو جگاتے ہوں گے پر اب تو چنار کے خاموش کھڑے درخت کے سوا اگر کچھ تھا تو وہ ویرانی سناٹا خوف اور دنیا کی بے ثباتی کا احساس۔
مختصر سی راہداری سے اگلی سمت آئی تو سامنے کا منظر کسی قدر مسحور کن تھا۔ موڑ کاٹتا دریائے چترال اور دوسرے کنارے پر چمکتے ٹین کی چھتوں والے خوبصورت گھر۔ اس حسین نظارے سے آنکھیں سینکنے کے بعد دائیں طرف کی نگاہ پھر یاس کی دلدل میں دھکیل دیتی ہے۔ طویل راہداری پر مشتمل اوپر کی منزل کی بالکونی جہاں مہتر چترال کھڑے ہو کر عوام کو اپنا دیدار کرواتے اور خطاب کرتے تھے۔
بیچاری غریب عوام مہتر کے قدموں سے تیس فٹ نیچے کھڑی ہوتی۔ پر زمانہ ماضی کا ہو یا حال کا مہتر ہو حاکم ضلع یا کوئی اور بڑا آدمی۔ یہ فاصلہ تو آج بھی جوں کا توں برقرار ہے۔
ماضی کے اس شکستہ ٹوٹے پھوٹے قلعے سے ٹرن لے کر جب آگے بڑھیں تو گیروے رنگ کی دو منزلہ برامدوں اور شہ نشینوں والی عمارت نظر آئی۔ پہلی منزل کے برآمدے اگر پرانی توپوں کے نمونوں سے سجے ہوئے ہیں تو بالائی منزل کے برآمدوں کی دیواریں مارخور جنگلی گائے کے سینگوں سے مزین ہیں۔ بجری بچھی روش پر آگے چلتے ہوئے ڈیوڑھی میں بچھے بینچ پر جس آدمی نے عقاب کی طرح جھپٹ کر ہماری پذیرائی کی وہ ادھیڑ عمر ضرور تھا پر آواز کی گھن گرج اور لہجے کی کرخت توانائی اُسے معمر کہاں ظاہر کرتی تھی۔
دہل کر میں پیچھے ہٹی۔ قلعے میں آنا منع ہے۔ اُسکی نیلی کچور آنکھوں میں برہمی اور سُرخ و سفید رنگت میں خون جیسی لالی تھی۔ میں نے مسکینی اور عاجزی سے مدعا گوش گزار کرنا چاہا جب کسی خونخوار بگھیاڑ کی طرح اس کی ”نہیں“ قلعے کے طول و عرض میں گونجی۔ سہم کر میں نے پروین کی طرف دیکھا جس نے زیر لب اُسے لعن طعن کرتے ہوئے مجھے کہا آؤ چلیں۔


