والدین کی قدر و قیمت
ماں کی عظمت کو کسی دن میں مخصوص نہیں کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی ماں کے رتبے اور اس کی عظمت کا احاطہ کرنا ہمارے بس کی بات ہے۔ ”ماں“ جسے سنتے ہی ہم محبت کے حصار میں بندھ جاتے ہیں جب کہ ”باپ“ اعتبار، اعتماد اور تحفظ کے حصار میں لے لینے والا ایسا خوب صورت رشتہ ہے۔ کہ لفظ ابا جان، والد صاحب، بابا جانی، ابو جان کہتے یا سنتے ہی خود بخود ہماری آنکھوں کے سامنے ایک سایہ دار شجر کی تصویر بن جاتی ہے۔ اس پہ لکھنے کے لیے کسی مضبوط درخت کو کاٹ کر اس کے قلم بنا لیے جائیں وہ قلم ختم ہو سکتے ہیں لیکن اس سایہ دار رشتے کے لیے لکھے جانے والے الفاظ، جملے باقی رہ جائیں گے۔
چند دن پہلے میں نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو دیکھی یقین کریں میرے آنسو بے اختیار ٹپک رہے تھے اور کافی دیر میری حالت گہرے دکھ اور غم کی وجہ سے غیر رہی۔ اس ویڈیو میں، میں نے دیکھا کہ ایک ستر سے اسّی سال کے بزرگ کسی روڈ پہ کھڑے ہیں۔ قریب کھڑے ایک نوجوان کو آواز دیتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں یہ موبائل دیکھو خراب تو نہیں ہو گیا، وہ لڑکا موبائل دیکھ کر بتاتا ہے۔ نہیں۔ بابا جی موبائل تو بالکل ٹھیک ہے بزرگ بڑے اداس ہو کر کہتے ہیں پھر اس پہ میرے بچوں کا فون کیوں نہیں آتا! اللّٰہ اکبر کبیرا! جس والد نے اپنی جوانی تپتی دھوپ اور سخت سردی میں اپنے بچوں کی آبیاری کے لیے قربان کر دی وہ آج بڑھاپے میں ان بچوں کی آواز سننے کے لیے ترس رہا ہے اور اپنا موبائل دکھاتا پھر رہا ہے کہ کہیں میرا موبائل فون تو خراب نہیں ہے۔
بھائیو! ٹیکنالوجی نے سب کچھ بدل دیا، زمانہ بدل گیا ہے۔ سکول اور نصاب بدل گئے ہیں۔ رہن سہن اور چلن بدل گیا ہے۔ گاڑیاں اور سواریاں بدل گئی ہیں، رشتوں کی چاہت اور محبتیں بدل گئی۔ شہروں کے شہر بدل گئے دنیا بدل گئی اگر کوئی نہیں بدلا تو وہ یہ ہی تو دو رشتے ہیں جنہیں ”والدین“ کہتے ہیں۔ یہ ماں باپ ہی کی پیشانی ہے جو بچے کی عظمت و سربلندی کے لیے مولیٰ کے دربار میں سجدہ ریز ہوتی ہے۔ کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن پر والدین کا سایہ ہے، کتنے پُررونق ہیں وہ مکانات جہاں والدین کا وجود ہے۔
اس نعمتِ عظیم کی قدر و قیمت تو ہر انسان کو ہی ہوتی ہے۔ لیکن جس مکان سے اس نعمت عظیم میں سے کوئی ایک اس دنیا فانی سے کوچ کر جائے یقین کریں وہ مکان، وہ گھر ویرانیوں میں بدل جاتا ہے انسان کے منہ کا ذائقہ ختم ہو جاتا ہے دل بیٹھ جاتا ہے، اور سورج کی روشنی میں بھی ہر طرف اندھیرا نظر آتا ہے رات کو چودھویں کا چاند بھی زمین کو چار سٗو روشن کر دے لیکن خواب میں بھی کبھی ہونٹوں پر تبسم نہیں آتا۔ میں بذات خود اس مرحلے سے گزر چکا ہوں، اور میں اپنے تجربے کی بنیاد پر یہاں تحریر کر رہا ہوں کہ میری ماں کے انتقال کے بعد ہمارا گھر ایسی وحشت و ویرانگی میں تبدیل ہو گیا کہ ہر طرف اندھیرا ہی نظر آتا تھا، میری والدہ مرحومہ نے ہم سب بہن بھائیوں کی تعلیم و تربیت پہ ایسی توجہ دی تھی کہ ہم سب بہن بھائی چھوٹی چھوٹی عمر میں حافظ قرآن تھے۔
پھر ہم اس وحشت و ویرانگی کو قرآن کریم کی تلاوت سے دور کرتے۔ لیکن ماں کے رشتے کی کمی آج بھی محسوس ہوتی ہے اور آنکھوں میں آنسو رواں دواں ہو جاتے ہیں۔ اسی مبارک رشتے کے بارے میں شاعر مشرق علامہ اقبال فرماتے ہیں کہ ”ایک مومن ماں مومن نسل کی معمار ہے، ماں اپنی اولاد کی نشوونما کے لیے کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔“ ماں کی گود بچے کی درسگاہ اوّل ہے۔ اسی عظیم درسگاہ سے وہ اخلاق حسنہ، اطاعت و فرمانبرداری اور دنیا میں زندگی گزارنے کے سلیقے، ڈھنگ اور طور طریقے لے کر معاشرے کا حصہ بنتا ہے۔
جب کہ والد بچوں کی ہر خواہش کو پورا کرنے کے لیے دن رات ایک کر دیتا ہے۔ دنیا کا ہر باپ اپنی اولاد کے لیے خود اپنی ذات سے غافل ہو کر، اپنی ہر ضرورت بھول کر، اولاد کی ہر خواہش اور فرمائش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے اختیار میں ہو تو کسی بچے کی آنکھ میں ہلکی سی نمی بھی نہ آنے دے۔ ان کی زندگی میں کوئی تشنگی نہ رہنے دے اس کا بس چلے تو بچوں کی زندگی میں آنے والے غم مشکلات اور محرومیوں کو سمیٹ کر سمندر میں بہا دے۔
یہ دو عظیم رشتے ہی انسان کی کل کائنات ہے۔ آج اگر ہماری نوجوان نسل اس بات کو سمجھ لے تو معاشرہ جنت کا باغ بن جائے۔ والدین اپنے بچوں کے استحکام، بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دے سکتے ہیں۔ یہ دو عظیم رشتے اپنے بچوں کے لیے ایسی مشعل راہ ہے جس کی روشنی بچوں کو ہمیشہ راہِ راست پر رکھتی ہے۔ ماں ایک پھول کی مانند ہے جو چاروں طرف اپنی خوشبو بکھیرتی ہیں۔ جب کہ باپ بظاہر رعب اور دبدبے والی اس ہستی کے پیچھے ایک شفیق اور مہربان چہرہ ہے۔ باپ جیسے رشتے کی قدر کسی یتیم بچے سے پوچھیں یا اس کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھنے کی کوشش کریں۔ تو آپ کو ویرانیوں کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔
آج نفسا نفسی کے دور میں نسل نو کو چاہیے کہ اگر آپ میں سے کوئی شہر یا ملک سے باہر ہیں، تو روزانہ اپنے والدین سے فون پہ رابطہ کریں ان کا حال احوال پوچھیں دعائیں لیں۔ روزانہ ممکن نہیں ہو پا رہا۔ تو ہفتہ میں ایک دن ضرور مختص کریں۔ اگر آپ کا روزگار اپنے ہی شہر میں ہے تو روزانہ گھر آ کر اپنے والدین کی خدمت میں حاضری دیں، موبائل کو وقت دینا ضروری نہیں جب کہ والدین کو وقت دینا انتہائی ضروری ہے۔ جس میں والدین سے ڈھیر ساری گپ شپ ہو دوستوں کی طرح کھل کر باتیں کریں اور انہیں یہ احساس دلائیں کہ آپ ان سے بہت پیار کرتے ہیں اپنی ہر ترقی و کامیابی اپنے والدین سے شیئر کریں، یاد رہے آپ کا ہر قدم جو کامیابی کے لیے اٹھتا ہے۔
جتنی خوشی والدین کو ہوتی ہے۔ اتنی خوشی کسی کو نہیں ہوتی۔ اور یہ والدین ہی کے رشتے ہیں جو یہ چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد ہم سے بھی زیادہ ترقی کرے۔ اگر والدین یا ان میں سے کوئی ایک اس دنیا فانی سے جا چکے ہیں تو ان کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں، ان کے صدقہ جاریہ کے لیے کوئی بھی ایسا خدمت خلق کا کام کریں جو ان کی بلندی درجات کا ذریعہ بن سکے۔
آئیں آج عہد کریں کہ یہ عظیم ہستیاں جب تک ہمارے اوپر سایہ شفقت کیے ہوئے ہیں ہم ان ہستیوں کی دل و جان سے بھرپور خدمت کریں گے اور کوشش کریں گے کہ جو کچھ انھوں نے ہمارے لیے کیا، ان کی خدمت کر کے اس کا کچھ فیصد ہی حق ادا کرنے کی کوشش کریں۔ اگر یہ عظیم رشتے آپ کے گھر کو ابھی تک اپنی عظمت و وجاہت سے روشن کیے ہوئے ہیں تو آپ یقیناً خوش قسمت انسان ہیں۔ دیر نہ کیجیے۔ ان کی خدمت کر کے اپنی دنیا و آخرت کی کامیابیاں اپنے نام کروا لیجیے۔


