پاکستان کا مقدمہ کیا ہے!

گزشتہ پانچ صدیوں کے اندر ارتقاء پذیر ہونے والی ’قومی ریاستوں‘ کی تاریخ کو پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ناکام یا ناکامی کے دہانے پر کھڑی ریاستوں میں وسائل اور اختیارات پر جس قدر الیٹ گروہوں کی گرفت سخت تر ہوتی ہے، اسی نسبت سے قومی ادارے غیر فعال ہوتے چلے جاتے ہیں۔ وہاں کے الیٹ گروہ امیر سے امیر تر اور عوام غربت کے گہرے سمندر میں غرقاب ہوتے چلے جاتے ہیں۔ فطری طور پر اِن الیٹ گروہوں کا پہلا ہدف آزاد عدلیہ ہوتی ہے۔
جہاں اپنی پسند کے ججوں کی تعیناتی کے لئے ججوں کی تعداد یا متعین عمر یا عہدے کی میعاد میں کمی بیشی قانون سازی کے ذریعے عمل میں لائی جاتی ہے۔ اس عمل کو ’کورٹ پیکنگ‘ کہا جاتا ہے۔ آزادی کے بعد ہمارے پاس ایک سنہری موقع تھا کہ قومی اداروں کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جاتا۔ تاہم بد قسمتی سے کئی ایک عوامل آڑے آئے۔ تعمیر میں صورت کچھ خرابی کی مضمر تھی تو وہیں پہاڑ جیسے کچھ سلامتی اور معاشی چیلنجز پھن پھیلائے کھڑے ہو گئے۔ بھارت کے مقابلے میں ہمارے پاس نہ تو کوئی ڈھنگ کی سیاسی جماعت تھی، قائد کی رحلت کے بعد ، نہ ہی اُس قد کاٹھ کا کوئی قومی رہنماء۔ بقائے باہمی کے اصول پر استوار الیٹ گروہوں کے گٹھ جوڑ کے نتیجے میں قومی سیاسی ادارے مستحکم تو کیا ہوتے، غیر فعال ہو کر رہ گئے۔
اس سوال سے قطع نظر کہ ہماری سپریم کورٹ کا ایک عام ڈپلومیٹ کو وضاحتی خط اپنی جگہ پر قومی انحطاط کی علامت ہے یا نہیں، خط میں ایک ایسے فیصلے کی اصابت پر مُصر ہونا کہ جس کے بطن سے بظاہر تمام تر بے یقینی پھوٹی ہے، اور یہ کہ جس پر نظر ثانی اپیل کی شنوائی ابھی باقی ہے، از خود ایک غیر معمولی روَش ہے۔ ایک عجب رواج ہمارے ہاں چل پڑا ہے کہ حال میں کسی برائی یا غلطی کی طرف توجہ دلائی جائے تو لوگ ماضی کو لے کر عیب جوئی شروع کر دیتے ہیں۔
برطانوی سامراج کی محکوم قوموں کے ساتھ زیادتیوں پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ جہاں سامراج کی لوٹ مار اور ظلم و ستم پر بیسیوں کتابیں موجود ہیں، تو وہیں قوموں کی تاریخ پر نظر رکھنے والے مدبرین کی رائے میں کبھی کسی یورپی سامراج نے اپنے مقبوضہ علاقے میں اس قدر معاشرتی بہبود اور معاشی ترقی کے لئے کام نہیں کیا، جتنا انگریزوں نے ہمارے ہاں کیا۔ ممتاز دانشور مختار مسعود اپنی شہرہ آفاق کتاب ’حرفِ شوق‘ میں انگریزوں کے دیے ہوئے انفراسٹرکچر کی ایک ’اجمالی فہرست‘ میں جہاں جدید مواصلاتی نظام، بشمول ریلوے، شاہراہیں، ناقابلِ عبور دریاؤں پر پل، ڈاک خانوں اور دنیا کے سب سے بڑے نہری نظام کی بات کرتے ہیں، تو وہیں مستعد اور جدید انتظامیہ، نافع تعلیمی نظام، غیر جانبدار عدلیہ اور جمہوریت کو بھی اُن اصلاحات میں شمار کرتے ہیں کہ جن کا فائدہ برصغیر کو پہنچا۔
مختار مسعود جیسوں کی اس رائے کو نفع اور نقصان کے میزانیے پر پرکھنا ہر کسی کا حق ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کہ برصغیر میں آباد دو بڑی قومیں ان سب اصلاحات سے یکساں طور پر مستفید کیوں نہ ہو سکیں؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ صدیوں کی غلامی سے اکتائے ہوئے ہندوؤں کے بر عکس بر صغیر کے خود ترحمی کے مارے مسلمان عشروں اپنی تعلیمی پسماندگی پر مُصر رہے۔ کہا جاتا ہے کہ برصغیر کی تقسیم کے وقت ان دو بڑی قوموں کے مابین لگ بھگ ایک صدی کا تعلیمی فاصلہ تھا۔
آج ہم کہاں کھڑے ہیں، کیا اس پر مزید کچھ کہنے کی ضرورت ہے؟ سیاسی شعور کا یہ عالم تھا کہ قیام پاکستان سے محض عشرہ بھر پہلے تک کانگرس کے مقابل قومی سطح پر کسی منظم مسلم سیاسی جماعت کا وجود تک نہ تھا۔ ٹوڈیوں کا ایک گروہ تھا جو مسلم اکثریتی صوبوں پر قابض تھا۔ کانگرس کے خوف میں مبتلاء ہو کر ہی جو آخری برسوں کے اندر قائد اعظم کو قومی رہنماء تسلیم کرنے پر تیار ہوا تھا۔ ملک آزاد ہوا تو یہی جاگیردار، وڈیرے، خوانین، سردار، گدی نشین اور مذہبی پیشوا ہمیں دستیاب تھے۔
دوسری طرف متروکہ املاک کی لوٹ مار کے نتیجے میں شہری علاقوں میں تعلیمی اور معاشی لحاظ سے پسماندہ مسلم طبقہ نو دولتیا خاندانوں میں متشکل ہونے لگا۔ آج کے کئی ارب پتی کاروباری اور سیاسی گھرانے اُسی دَور کی پید اور ہیں۔ ہندو ہجرت کر گئے تو امورِ سرکار کے لئے مسلم اقلیتی صوبوں سے ہجرت کر کے آنے والوں پر انحصار کرنا پڑا۔ عدلیہ کی صورت حال کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ہے کہ قیامِ پاکستان کے وقت تک ’پنجاب کہ جہاں 55 فیصد آبادی مسلمان تھی، لاہور ہائی کورٹ کی 81 سالہ تاریخ میں صرف 7 مسلمان جج کے عہدہ پر فائز ہوئے‘ ۔ اس سب درماندگی کے بیچ دنیا کی بہترین لڑاکا فورس سمجھی جانے والی برٹش انڈین آرمی کا ایک منظم حصہ نوزائیدہ مملکت میں ایک موثر کردار ادا کرنے کوپر تول رہا تھا۔ مستعد سویلین بیوروکریسی کی شکل میں اسے ایک فطری اتحادی دستیاب تھا۔ رفتہ رفتہ عدلیہ سمیت دیگر سیاسی ادارے بھی قافلے میں شامل ہوتے چلے گئے۔
جسٹس منیر نے ہی سب سے پہلے، نظام کے ’نتیجہ خیز‘ ہونے کو اس کا لازم قانونی جواز قرار دیے جانے کی تاویل گھڑی۔ یہی جسٹس منیر بعد ازاں ایوب خان کے وزیرِ قانون مقرر ہوئے۔ قانونی حلقوں میں تعظیم کی نگاہ سے دیکھے جانے والے جسٹس کارنیلیس اُسی فوجی آمر کے قانونی مشیر اور وزیرِ قانون رہے جو پاکستان کو دو لخت کرنے کی ’سربراہی‘ کر رہا تھا۔ جسٹس حمود الرحمن کہ جن کی رپورٹ آج کل زبان زدِ عام ہے، اُسی ’عیاش‘ چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے دور میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز سب کچھ چپ چاپ دیکھتے رہے۔
مطلوب کسی ادارے یا شخصیت کو ہدفِ تضحیک بنانا نہیں۔ قرین ِ انصاف تو یہی ہے کہ انصاف کا سیکٹر بھی اسی معاشرے کا حصہ ہونے کی بناء پر روزِ اول سے اسی کے اندر کارفرما معاشی، معاشرتی اور سیاسی حرکیات سے متاثر رہا ہے۔ سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ اپنی خود نوشت میں کمال سادگی سے فرماتے ہیں، ’میں پی سی او پر بہت دل گرفتہ تھا۔ فوجی صدر اور اس کے قانونی مشیروں کے خلاف میرے جذبات بھی بہت شدید تھے۔ تاہم میں نے نیا حلف لینے کا فیصلہ کیا کیونکہ میرے تین سینئر رفقاء کے مقابلے میں کہ جنہوں نے مستعفی ہونے کا فیصلہ کیا تھا، میری سروس کے ابھی 14 سال باقی تھے۔
‘ بات مدتِ ملازمت کی بقاء کی ہو، یا اُس میں توسیع کی خواہش کی، بات ایک ہی ہے۔ جسٹس نسیم حسن کی اسی کتاب میں منصفوں سے متعلق ایک اور خوبصورت جملہ بھی شامل ہے کہ جو انہوں نے سپریم کورٹ کے کسی فیصلے سے مستعار لیا ہے۔ لکھتے ہیں، ’انسان جسے اللہ کے عکس پر تخلیق کیا گیا ہے، اسے اپنے فیصلوں میں بے انصافی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ‘ کل بروز پیر، سپریم کورٹ آف پاکستان ایک اہم معاملے پر تاریخی سماعت کا آغاز کر رہا ہے۔ ایک عام پاکستانی کا مقدمہ صرف یہ ہے کہ کیا حالیہ انتخابات کے نتیجے میں وجود میں آنے والی اسمبلیاں، آئین کی منشاء کے عین مطابق عوامی امنگوں کی ترجمانی کرتی ہیں؟ باقی سب تاویلیں ہوں گی۔

