ایک فکشن پارے کی کتھا اور دوسری کہانیاں


مورخہ پچیس مئی کو میریٹ ہوٹل کراچی میں گیارہویں یو۔ بی۔ ایل آرٹس اینڈ لٹریری ایوارڈز کی رنگا رنگ تقریب منعقد ہوئی، جس میں میرا ایک فکشن پارہ ’رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور گونجتی سرگوشیاں‘ آن لائن ادب کی کیٹیگری میں پہلے انعام کا حق دار قرار پایا۔ اب سے کوئی تین برس قبل جب ”ڈھشما“ کو نیشنل لائبریری آف پاکستان سے ایوارڈ ملا تھا تو ایک عجیب سی سرشاری اور طمانیت کا احساس ہوا تھا، لیکن ساتھ ہی یہ دکھ بھی، کہ میں اُس تقریب میں شریک نہ ہو پایا۔ مجھے خوشی ہے کہ یو۔ بی۔ ایل ایوارڈز کی انتظامیہ نے اُس دکھ کی تلافی کر دی ہے۔

بہ طور رائٹر یہ میری زندگی کا تیسرا ایوارڈ ہے۔ اِس سے قبل مجھے رشید امجد ایوارڈ اور بے نظیر بھٹو ایوارڈ فار ایکسیلنس ان لٹریچر مل چکے ہیں، تاہم یہ بھی سچ ہے کہ ایوارڈز کسی فن کار یا فن پارے کی قدر یا بڑائی کا معیار نہیں کہ اِس کا فیصلہ یا تو قارئین نے کرنا ہوتا ہے یا آنے والے کل نے۔ کئی ایوارڈ یافتہ لکھاری اور اُن کی کتابیں وقت کی کسوٹی نے رد کر دیں اور کئی ایسے لکھاری، جنہیں زندگی بھر کوئی ایوارڈ یا سماجی پذیرائی نہیں ملی، آج بھی پڑھے اور پسند کیے جاتے ہیں۔

ایوارڈز کے کھیل میں کئی غیر معمولی مگر مردم بیزار اور گوشہ نشین قلم کار پیچھے رہ جاتے ہیں اور کئی اوسط درجے کے، لیکن زمانہ ساز اور سماجی اعتبار سے متحرک ادیب اوپر آ جاتے ہیں۔ ایوارڈز کوئی معتبر ادبی پیمانہ نہیں، نہ ہی اِنہیں کوئی معتبر ادبی پیمانہ سمجھنا چاہیے، لیکن اِس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ یہ بالکل بے وقعت ہوتے ہیں یا انہیں یکسر نظر انداز کر دینا چاہیے۔ میں سمجھتا ہوں کسی بھی لکھاری کے لیے ایوارڈز کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ یہ اُسے ایک وسیع آڈینس کے ساتھ منسلک کرتے ہیں، اُس کی آواز دور تک پہنچاتے ہیں، تاہم یہ آواز کتنی دیر تک باقی رہتی ہے، اِس کا فیصلہ اُس کی قسمت اور اُس کے کام پر منحصر ہے۔

’رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور گونجتی سرگوشیاں‘ سن دو ہزار اکیس کے اواخر میں لکھا گیا۔ اُسی سال میری اب تک کی آخری کتاب ”سینٹرل چوک“ شائع ہوئی تھی، جس کا دیباچہ اور تیسرا یونٹ ’فیکٹ‘ اور ’فکشن‘ کے ملاپ سے تیار ہوا تھا۔ کتاب تو چھپ گئی، مگر یہ عجیب و غریب صنف میرے تخلیقی نظام میں پھنسی رہی۔ میں چاہ کر بھی اِس سے جان نہ چھڑوا پایا۔ میں ناول لکھنا چاہتا تھا، لیکن خاکے، تنقیدی مضامین، بائیو فکشن، آٹو بائیو فکشن، رپورتاژ، فلیش فکشن، فلیش نان فکشن، بلاگز، مائیکرو بلاگز اور شذرات لکھتا رہا۔

پچھلے ہفتے بوریا بستر کھولا اور اپنے ساز و سامان کی تلاشی لی تو یہی گند بلا نظر آیا، فکشن نہ ہونے کے برابر تھا۔ جو دو چار افسانے یا مونولاگز دکھائی دیے، اُن پر بھی مذکورہ بالا اصناف کے اثرات نمایاں تھے۔ بلاشبہ یہ ایک پریشان کن صورتحال تھی، اور مزید پریشانی کی بات یہ تھی کہ اِس کا کوئی فوری یا آسان حال بھی دستیاب نہ تھا۔

’رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور گونجتی سرگوشیاں‘ بہ ظاہر تو ایک تنقیدی مضمون ہے، مگر اِس میں وہ تمام عناصر موجود ہیں جو میری بعد کی تحریروں میں زیادہ کھل کر سامنے آئے۔ اِس میں ایک لکھاری ہے، رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور سنستھیزیا ہے، مصنف کی آمریت ہے، استاد خالد سعید اور اس کا افسانہ ”متولیہ“ ہے، ”گونجتی سرگوشیاں“ اور ایکو فیمینزم ہے، تاثراتی تنقید ہے اور آخر میں مصنف کی موت بھی۔ پہلی بار یہ فکشن پارہ اکادمی ادبیات اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ایک تقریب میں پڑھا گیا۔ تھوڑی نوک پلک سنوارنے کے بعد اسے عدنان کاکڑ صاحب کے حوالے کر دیا گیا، جنہوں نے اِسے ”ہم سب“ میں شائع کیا۔ یہ اور اس قبیل کی دیگر تحریریں اس سال کے آخر میں ایک یا ایک سے زائد کتب کی صورت میں شائع ہوں گی ۔ شاید اِس کے بعد ہی اِس کمبل نما صنف سے چھٹکارا پا سکوں!

اصغر ندیم سید، حارث خلیق، ناصر عباس نئیر، اورنگزیب لغاری، شاہین عباس، علی زاہد اور جمیل عباسی سے غائبانہ تعارف تو ایک مدت سے تھا، لیکن اس تقریب کے وسیلے ان سے پہلی بار بالمشافہ ملاقات کا موقع میسر آیا۔ گیارہویں یو۔ بی۔ ایل ایوارڈز کی جیوری اور انتظامیہ کا شکریہ، جنہوں نے نہ صرف میری تحریر کو آنر کیا، بلکہ سفر و قیام کی غیر معمولی سہولیات فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ایک روشنیوں، رنگوں اور سازوں بھری شام بھی عطاء کی۔ ایسی خوب صورت اور دلفریب شام زندگی میں کبھی کبھار ہی نصیب ہوتی ہے، جہاں ایک ہی چھت تلے ملک بھر کے نام ور لکھاری، گائیک اور اداکار اکٹھے ہوں۔

اپنی ادبی درسگاہوں ملتان آرٹس فورم، تھیٹر ٹوئنٹی ون، ہم سب ڈاٹ کام اور فکشن کلب بہاولپور کے ساتھ ساتھ اپنے بیج میٹ اور دوست، ڈاکٹر کلیم کا بطور خاص شکریہ ادا کرنا چاہوں گا، جن کی مورل سپورٹ ہمیشہ میرے ساتھ رہی۔ ڈاکٹر کلیم بنیادی طور پر ایک مزاح نگار ہیں، جو پھکڑ پن اور ابتذال کے بجائے شگفتگی اور شوخی کے قائل ہیں۔ پنجاب کے مختلف شہروں میں تعیناتی کے دوران انہوں نے سیاست دانوں، بیوروکریسی، پولیس اور عدلیہ کے رویوں اور نفسیات کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کیا اور نہایت سادگی اور لطافت کے ساتھ خاکوں اور انشائیوں کی صورت میں بیان کر دیا۔ ہم سب ڈاٹ کام پر باقاعدگی سے ان کے بلاگز اور مضامین شائع ہوتے ہیں۔ یو۔ بی۔ ایل آن لائن لٹریچر کی کیٹیگری میں ان کی بھی ایک تحریر ایوارڈ کے لیے نام زد ہوئی تھی۔ مجھے یقین ہے جلد یا بدیر انہیں یہ ایوارڈ ضرور ملے گا۔

”موزیک“ کے مدیر، میف کے سابق جنرل سیکرٹری اور ہمدمِ دیرینہ قاضی علی ابو الحسن کا سپاس گزار ہوں، جنہوں نے پچھلے برس کی طرح اس سال بھی مجھے یو۔ بی۔ ِایل اور دیگر لٹریری ایوارڈز کے لیے کتابیں اور تحریریں بھیجنے پر اکسایا۔ اپنے قدیم دوست جناب منذر عزیز کا بھی مشکور ہوں، جو ابتدائے آفرینش سے انٹرنیٹ کے شیدائی ہیں، اور جنہوں نے مجھے آن لائن میڈیمز پر شائع ہونے کی ترغیب دی۔

سچ کہوں تو مجھے بالکل نہیں معلوم کہ میں ایک معمولی لکھاری ہوں یا ایک غیر معمولی ادیب۔ میں نہیں جانتا کہ میں زندگی اور سماج سے مکالمہ استوار کرنے میں کامیاب رہا یا مجھے اس امر میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ میں یہ بھی نہیں جانتا کہ میری تحریریں وقت کی چھلنی سے گزر پائیں گی یا آدھے راستے میں فناء ہو جائیں گی۔ تاہم مجھے اِتنا ضرور علم ہے کہ اس طرح کے ایوارڈز قاری اور کتاب کے درمیان وچولن کا کردار ادا کرتے ہوئے کئی ایسے بلند نگاہ اور باذوق قارئین کو آپ کی جانب متوجہ کرتے ہیں، جو اس سے پہلے آپ کے کام سے تو کجا، آپ کے نام سے بھی ناواقف ہوتے ہیں۔

میری فیملی، دوستوں اور قارئین کو سن دو ہزار چوبیس کا یو۔ بی۔ ایل ایوارڈ مبارک ہو!


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments