کیا ریاست بھی گھورتی ہے؟
ملک میں موجود ادارے اس قدر بدحالی کا شکار ہو چکے ہیں کہ انسانیت کے بنیادی اصولوں سے بھی نا اشنا نظر آ رہے ہیں۔ کبھی خواجہ سراؤں کو تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو کبھی معزز ترین بزرگوں کے سامنے ملک کے دارالخلافہ میں بندوقیں تان لی جاتی ہیں۔ ایسی طاقت کمزوری بن جاتی ہے جس سے لوگ نفرت کرنا شروع کر دیں۔ طاقت کا بسا اوقات استعمال اس وقت کیا جاتا ہے جب نا انصافی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہو۔ مگر یہ ایک قدرتی عمل ہے کہ چیزیں مستقل نہیں ہوتی ہیں۔ پاکستان کی تاریخ قید و بند کی صعوبتوں سے لے کر اقتدار کے ایوانوں تک کہ تمام راستوں کا پتہ دیتی ہے شہید بینظیر اور محمد نواز شریف اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ کیا عمران خان کے کیس میں تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔
بینظیر کے فحش پوسٹر ہوں یا بشری بی بی کی عدت کا کیس دونوں ہی بتاتے ہیں کہ طاقت کے نشے میں اخلاقی قدریں بہت پیچھے رہ جاتی ہیں۔ کیا ریاست کی ترجیحات مستقل نہیں کیا ہر نیا آنے والا سپہ سالار ملک کی ترجیحات کا تعین کرتا ہے۔ کیا جمہوریت کا راگ صرف اس لیے الاپا جاتا ہے کہ اقتدار ہونا چاہیے چاہے اس میں اختیارات بھلے نا ہوں کیوں کہ اقتدار کی راہ داریوں سے کرپشن کا بازار گرم ہوتا ہے۔ مگر مارشل لا ء کے زمانوں میں کرپشن کی داستانوں کا شور نالائق سویلینز کی پھوہڑ وارداتوں میں دب جاتا ہے
خوف دراصل کچھ کھونے کا خطرہ ہوتا ہے مگر جب آپ اس کیفیت میں چلے جائے کہ آپ سے سب کچھ چھین لیا گیا ہو تو آپ نڈر اور بے باک ہو جاتے ہیں پاکستان تحریک انصاف کے ورکرز میں ابھی ایک خوف موجود ہے کہ ان کی قیمتی ترین چیز ( عمران خان ) ان سے چھن نا جائے اس وجہ سے وہ ضبط کے بندھن میں بندھے ہوئے ہیں اقتدار کے اصل مالک لٹمس پیپر پر بار بار چیک کرتے ہیں کہ بانی تحریک انصاف کے چاہنے والے ضبط کے کس درجے پر ہیں
اس سارے کھیل میں گھر کی معیشت اس نہج پر پہنچ چکی ہے کہ اثاثے فروخت کیے جا رہے ہیں کیونکہ اداروں کو چلانے کے لیے محنت، لگن اور قابلیت کی ضرورت ہوتی ہے مگر آپ کی تمام تر صلاحیتیں فرد واحد کو چت کرنے کے لیے لگی ہوں تو ادارے ناصرف دیوالیہ ہو جاتے ہیں بلکہ ریاست پر ایک مستقل بوجھ بن جاتے ہیں۔ اور اس بوجھ کو بڑھنے دیا جائے تو بعض اوقات ریاست اس بوجھ تلے دب کر اپنی شناخت ہی کھو دیتی ہیں
1971 میں ریاست نے اپنے شہریوں سے جو رویہ اختیار کیا اس ظلم و ستم کی داستان آج بھی ڈھاکہ کی گلیوں میں گونج رہی ہیں جنسی درندگی سے لے کر مالی استحصال و نا انصافی کی تاریخ رقم کی گئی۔ مگر قسمت کی ستم ظریفی دیکھیں کہ طاقت کے نشے میں چور ریاستی پنڈتوں نے کوئی سبق نہیں سیکھا ہے اور انفرادی فتح و شکست کے کھیل سے باہر ہی نہیں آرہے ایسا تاثر مل رہا ہے کہ فوج ایک ریاست کی نہیں بلکہ ایک تھری سٹار ملازم کے مفادات کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے۔
اب کی بار معاملہ طاقت اور عشق کا ہے طاقت کے بت جس سے مقابلہ کر رہے ہیں قدرت نے اس کو ایسے کپڑوں سے نواز رہا ہے کہ جس پر گندگی ٹھہرتی ہی نہیں اور دوسری طرف جسم گند میں ڈوب چکا ہے۔ ہماری بزدلی ان طاقت کے بتوں کی ہمت بڑھاتی ہے خاص طور پر ہمارے حکمرانوں کی اپنے مفادات کے لیے کی گئی ڈیلیں عوام کی بہادری میں کیل ٹھوکتی ہیں۔ جب بھی معرکے کا فیصلہ کن موڑ آتا ہے تو ہمارے سیاستدانوں کے اعصاب جواب دینے لگتے ہیں اور وہ ڈیل میں ہی اپنی بقا ء و عافیت گردانتے ہیں شہید محترمہ بینظیر بھٹو ہوں یا نواز شریف شریف سب کی سیاسی جد و جہد کا اختتام ایک ڈیل ہوا کرتی تھی۔
ان دنوں ریاست اسی طرح کے ایک اور امتحان سے دو چار ہے مگر اس دفعہ اس کے سامنے روایتی سیاستدان نہیں ہے بلکہ ایسا شخص ہے جو شکست کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ طاقت کے دعوے دار اس کو ایک قدم پیچھے دھکیلتے ہیں تو وہ دو قدم کی مزید پیش قدمی کرتا ہے گزشتہ تین برس کی اس جنگ میں سابق وزیر اعظم نے طاقت کو گھر کی لونڈی سمجھنے والوں کو اس قدر ایکسپوز کر دیا ہے کہ انہیں 70 سالہ تاریخ میں پہلی بار اپنی طاقت پر شک و شبہات ہونے لگے ہیں۔
تاریخ بھی کتنی ظالم ہے آج بھائی لوگ ڈیل کے متلاشی ہیں اور ہر وہ کو شش کر رہے ہیں جس سے ان کی فیس سیونگ ہو سکے مگر کھلاڑی نے طے کر لیا ہے کہ عوام کی خواہشات کے بر عکس کوئی فیصلہ نہیں کرنا ہے اور سیاست کا مرکز و محور عوامی امنگیں ہو نگی۔ سابق وزیر اعظم نے پہلی بار کھل کر اختیارات کو موزوں بنایا ہے اور اس سے پہلے کے وزیراعظم اس طرح کی وجوہات کو دبے لفظوں میں زیر بحث لاتے تھے مگر سامنے سے کرپشن کے الزامات اس قدر سنگین ہوتے کہ سابق وزراء اعظم اپنا معافی ضمیر بھول جاتے اور دوبارہ سے اسی تنخواہ پر کام کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔
کھلاڑی دوبارہ کام کرنے کا خواہش مند تو ہے مگر اسی تنخواہ پر نہیں قسمت کی دیوی اس بار بانی پاکستان تحریک انصاف پر مہربان ہے شہید بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی جو فصل بوئی تھی اس کو کاٹ بانی پی ٹی آئی رہے ہیں۔ وطن عزیز کا ہر طبقہ فکر اس بات پر متفق ہو چکا ہے طاقت کو حقیقی طور پر استعمال کرنے والوں کا ملک کے انتظام چلانے میں کردار ختم نہیں تو اس کو کم از کم متعین ضرور کر لینا چاہیے اس سب کے لیے ضروری ہے کہ بشمول پاکستان تحریک انصاف سب سیاسی جماعتیں مل کر بیٹھ جائیں اور اپنے مسائل و اختلافات کود ہی حل کریں اور اس بات کو یقینی بنا لیں کہ مستقبل میں طاقت کے حصول کے وہ اپنی برادری کے باہر ہرگز کسی سے رجوع نہیں کریں گے۔ سیاست میں ہر طرح ٍ کی مزاحمت کی جائے گی مگر کسی کے اشارے پر کچھ نہیں کیا جائے گا اور ریاست میں کوئی انہیں گھورے گا تو سب مل کر اس کا سد باب کریں گے


