تنہائی


وہ مستقل تنہا رہتی ہے۔ اب سے نہیں شاید کئی سالوں سے یا کئی دہائیوں سے یا ان گنت صدیوں سے۔ تنہائی بھی اجتماعی لاشعور کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہے۔ نہ جانے کب اس نے اپنے اندر اس قدر وسیع و طویل تنہائی بسا لی۔ اب وہ اک کمرے میں تنہا زندگی کے دن کاٹ رہی ہے۔ کبھی کبھی دروازے سے باہر بھی جھانکتی ہے۔ کبھی اسے کسی کے قدموں کی آہٹ کا انتظار رہتا تھا مگر اب وہ محض موسم کے بدلتے زاویوں کا جائزہ لیتی ہے۔

اس کی تنہائی بھی اپنے آپ میں ہی بے مثال ہے۔ ایسی تنہائی کہ کبھی اسے رلاتی ہے، کبھی ہنساتی ہے، کبھی تنہائی کو کچھ دیر آرام دینے کے لیے وہ دیواروں کا رنگ بدل دیتی ہے تو کبھی پارینہ فرنیچر کے رخ بدلتی رہتی ہے۔ دن بھر وہ کسی کی آواز سننے کے انتظار میں رہتی ہے۔ وہ آواز جو اسے دل و جاں سے عزیز ہے۔ وہ آواز جسے اس نے اپنے اندر پالا ہے۔ وہ آواز جسے اس نے نشوونما بخشی ہے اسے زندگی دی ہے۔ مگر وہ آواز بھی تنہا کمرے میں گونجتی نہیں کہ اب وقت کی سوئیاں بدل چکی ہیں۔

کل شب میں نے اسے کمرے سے باہر سیڑھیوں پر بیٹھے دیکھا۔ میں نے اسے دیکھا اور خوب دیکھا۔ ڈھلتے ہوئے ہاتھوں پر ابھرتی ہوئی نسیں، ایڑیاں سوز بھری جوانی کی تلخیوں سے گھسی ہوئیں، چہرے پر بڑھتے ہوئے چیچک کے داغ، ڈھلتے ہوئے ماس میں دھنستی ہوئی آنکھیں اور بے جان سا جسم اپنے ہی آپ سے اکتایا ہوا۔ میں نے اسے پکارا اس کا ہاتھ تھاما مگر میں جان گئی کہ اس کی تنہائی کے سامنے میرے تمام تر علاج لاچار ہیں ناکارہ ہیں۔

کسی کا نہ ہونا تنہائی ہے یا اپنی ذات سے بچھڑ جانا اس کا مر جانا تنہائی ہے؟ وہ انسان جو کبھی راحت جاں تھا، اس انسان کی عدم موجودگی تنہائی ہے یا اس کی فطرت کو نہ اپنا پانا اور اس کی خواہش میں تھک ہار جانا تنہائی ہے؟ سوز، علم، آس، یاس، غم، یا بدست شقاوت قلب آخر کیسی کیسی قسمیں ہیں تنہائی کی؟ اور وہ کس خاص قسم کی تنہائی میں مبتلا ہے؟ میں نے چاہا میں پوچھو مگر میرا لسانیاتی زوال میرے ہر سوال و جواب کو میرے اندر ہی دفنا گیا۔

تو میں ”ماں“ کو بس دور سے دیکھتی رہی اس کے اندر چھپی ہوئی وہ بچی ڈھونڈتی رہی جو زندہ تھی، سانس لیتی تھی، نئے خواب بنتی تھی، محبت کرتی تھی۔ جو علم دوست تھی، تعلیم و تربیت کی طلب رکھتی تھی۔ مگر وہ نہیں تھی۔ میں اسے کہنا چاہتی ہوں کہ ”ماں“ کاش میں تمہیں اس وقت میں دیکھ سکوں جب تم نے تمام تر صدیاں اپنے ایک قطرے سے میرے اندر پرو دی تھی۔ میں تمہیں یہ یقین دلانا چاہتی ہوں کہ تمہاری قربانیوں کا ہر پل تمام تر وثوق سے میرے دل میں لمحہ بہ لمحہ محفوظ ہے۔ مگر

میں نے اک سعیٔ ناکام کی
اک شام اداسی بھری، مزید اس کے نام کی

Facebook Comments HS