آجڑی کی خوشبو دار مٹی
ریویو۔ کتاب: آجڑی
بچپن میں اک واقعہ پڑھا تھا۔ جس میں خوشحال خان خٹک سے کسی نے پوچھا کہ آپ کے ہاتھ کالے کیوں ہیں؟ حالاں کہ آپ نیک عمل کرتے ہیں لوگوں کی خیر چاہتے ہیں۔
انہوں نے جواباً بتایا: ” دنیا میں خیر بانٹتے ہوئے خون پسینہ اور دھول کے سبب ہاتھ میلے ہو جاتے ہیں۔ اسی سبب جن کے ہاتھ کالے ہوتے ان کے دل پرنور ہوتے ہیں۔ ان سے خدا خوش ہوتا ہے۔“
اس واقعہ میں کتنی صداقت ہے اس کاتو مجھے قطعی علم نہیں مگر سید عاطف کاظمی کے مسودہ کو پڑھتے ہوئے بارہا دفعہ یہی واقعہ دل و دماغ میں چکراتا رہا۔
میری نظر میں ناول لکھنا اک پوری بستی آباد کرنے جیسا عمل ہے۔ آپ رنگ برنگے کرداروں کو زمین و گھر و اولاد دیتے ہو۔ ان کی خواہشیں خواب اور مقاصد تخلیق کر کے انہیں ان کے مشن پہ چھوڑ دیتے ہو۔ دھیرے دھیرے وہ کردار خود کار انداز میں مدغم ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اور کہانی یوں آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ پھر اک سمے ایسا آتا ہے کہ کہانی کار صرف راوی بن کر حالات کو رپورٹ کر رہا ہوتا ہے۔ جب کہ کردار زندہ ہو کر کہانی میں جان بھرتے چلے جاتے ہیں۔ لازمی نہیں کہ ہر ناول میں یہ خوبی پائی جائے مگر چند ایسے ناول ہیں جنہیں پڑھ کر ایسا احساس جاگتا ہے۔ عاطف کا مذکورہ بالا ناول بھی کچھ ایسے محاسن سے لدا ہوا ہے۔
پردیس میں اکثر اردو زبان کے مستقبل کے بارے میں مجھ سے سوالات کیے جاتے ہیں۔ بالخصوص نوجوانوں میں کمزور پڑتی اردو زبان پہ بہت سے اشارے ملتے ہیں۔ میں زبان سے آگے ادب کو سامنے رکھتے ہوئے عاطف کی اس کوشش سے متاثر ہوا ہوں۔ اگر ایسے جوان مزید لکھتے رہے تو دیگر بڑھتی کھلتی عالمی زبانوں کی طرح اردو کا مستقبل بھی روشن ہو گا۔
مصنف کا تعلق چکوال سے ہے۔ جب کہ میرے چند قریبی پردیسی دوست بھی چکوال سے متعلق ہیں۔ ان گزرے سالوں میں مجھے چکوال کی ریوڑیاں اور روڑے کا ذکر ملا ہے۔ مگر عاطف نے اپنی ناول میں امیجز اور علامات اور استعاروں سے چکوال کی سرزمین کو ایسے بیان کیا ہے کہ مجھ لگا کہ پہلی بار باقاعدہ چکوال گیا ہوں اور باریکی سے بہت کچھ جاننے کو موقع میسر ہوا ہے۔ یہی ایک اچھی تخلیق کا کمال ہوتا ہے۔ بیل کراہ جیسی ریس اور ختنوں پہ خوشیاں منانے کے جدا رنگ قابل مطالعہ ہیں۔
موضوعات کے اعتبار سے ناول میں تنوع پایا گیا ہے۔ مگر خوبصورت نکتہ یہ ہے کہ معاون کرداروں کو بھی مناسب سکرین ٹائم کی طرح ریڈ ٹائم دینے کے علاوہ کہانی کا مرکز کمزور نہیں پڑتا ہے۔ بالخصوص آخری صفحہ پڑھتے ہوئے یوں لگا جیسے کسی مسافر نے اپنی گٹھری کو بخوبی آخری گرہ دی ہو۔
عموماً ناولز میں ڈرامائی رنگ کم پایا جاتا ہے۔ شاید اسے ناول نگار اور قارئین میں کم سراہا جاتا ہے۔ مگر یہی عنصر اس ناول میں پھیلا ہوا ہے بلکہ پڑھنے والے کو تھرل میں جگائے رکھتا ہے۔ فلسفیانہ مباحث اور انسانی نفسیات و کشمکش اپنی جگہ مگر کہیں کہیں ایکشن ڈبل ایکس ہو کر فر فر اوراق پلٹا دیتے ہیں۔
ویسے تو سلطان کہانی کا مرکزی کردار معلوم ہوا ہے۔ مگر اس ناول میں اگر جان ڈالی ہے تو وہ مندری کا کردار ہے۔ وہ اپنی فطرت اور کامیاب پلاننگ کے سبب ہر بار کھرے صاف کرنا کا ہنر جانتا ہے۔ چند مناظر ایسے ہیں کہ قاری بے بسی سے پڑھتا جاتا ہے۔ کچھ کرنا چاہتا مگر مندری جرات سے ہر فعل کرتا چلا جاتا ہے۔ مغرب میں تو villanious heroes پہ کچھ عرصے سے کام ہو رہا ہے۔
امریکی نژاد کینیڈین مشہور فوٹوگرافر یوسف کرش کہتے :
”کردار بھی تصاویر کی طرح اندھیرے میں ڈیویلپ ہوتے ہیں۔“
مندری کی کردار نگاری بھی چھپے سربستہ رازوں سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ اندھیرا جو اسے پکنے دیتا ہے۔ وہ اندھیرا جو اسے روشنی سے دور کیے دیتا ہے۔
وہیں اردو ادب میں مندری کا کردار بھی مکمل توجہ حاصل کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ پڑھنے والے لاکھ نفرت کریں مگر وہ اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتا رہے گا۔ یہی عاطف کی کردار نگاری کا حسین پہلو ہے۔
ڈائیلاگز میں بے باکی اور کھرا پن محسوس ہوتا ہے۔ کہیں کہیں تو پلس اٹھارہ نوعیت کے کھرے و ترش جملے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ وہیں فکشن کی دنیا میں پہلی بار مسجد کے اندر پنکھے چوری کرنے کے واقعہ پہ خوب گرہ باندھی گی ہے۔ مثال پیش خدمت ہے :
جیدی: ”لوگ مسجد کو دلہن بناتے رہے اور مفلس کی بیٹی کنواری رہی۔“
مندری: ”تو کون سا مسجد کے پنکھے بیچ کر بہن کو داج دے گا۔ سیدھا کہو چرس نہیں ہے۔“
(صفحہ نمبر: 80 )
وہیں کاظمی اپنے پڑھنے والوں کو بہت سے ادھورے سوالات کے لفافے بھی تھما دیتے ہے۔ ایک طرح سے وہ چاہتا ہے کہ پڑھنے والے بھی سوچیں اور ان سوالات کو مکمل شکل دے کر مکمل جواب بھی تخلیق ہو گا۔ سماج جن پہلوؤں سے آنکھیں چرا رہی ہے۔
وہ پہلو ناصرف زیر غور و بحث آئیں بلکہ سماج کو بہتر اور روشن راہوں پہ لے کر جا سکیں۔
دو مثالیں اس ضمن میں دیتا چلوں :
الف) :
اگر کہیں طلاق ہوتی ہے تو سارا نزلہ عورت پہ گرتا ہے۔ اگر حلالہ ہو تو مرد اور بالخصوص دوسرے مرد کو لعن و طعن کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کیا اس کے الٹ بھی سوچا جا سکتا ہے؟
ب) :
اگ اک گھر میں بھائی کی پسند کی شادی پہ سبھی خوشیاں مناتے ہیں۔ تو اسی بھائی کی بہن کو پسند کی شادی کرنے سے کیوں خوف لاحق ہے۔ کیا ایسا کرنے سے اس کے کردار پہ دھبہ لگ جائے گا؟
المختصر، اک صوفی کی حکایت ہے۔ کسی نے خوشبو دار مٹی سے پوچھا کہ آپ خوشبو دار مٹی کیسے بنیں۔ مٹی نے کہا کہ میں پہلے بغیر خوشبو کی تھی۔ ہاں میں نے کچھ عرصہ خوشبو کے ساتھ گزارا ہے۔ اب خوشبو میرے تن من میں رچ بس گی ہے۔ ایسے ہی معاملہ آجڑی کا ہے۔ اس ناول کو پڑھ کر آپ خود کو مہکتا ہوا محسوس کریں گے۔
ناول کے آخری چند صفحات میں اہم ٹوسٹ ہے۔
جو قارئین کو مکمل چونکا دے گا۔
یہی اس کا کہانی کا خوبصورت پہلو ہے۔


