ٹشو کا ڈبہ اور وزیر اعلیٰ
ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سر جھکائے میرے سامنے بیٹھا تھا وہ انتہائی پریشان تھا۔ پریشانی اس کے چہرے سے عیاں تھی۔ جیسے خود کو کسی گہرے گرداب میں پھنستا دیکھ رہا ہو میں نے پوچھا ایسی کیا پریشانی ہے تو اس نے کہا سر مجھ سے بہت بڑی غلطی سرزد ہو گئی ہے جس میں میرا مستقبل تاریک ہو سکتا ہے۔ ہوا یہ تھا کہ چند دن قبل مجھے ڈپٹی پریزیڈنٹ اور انچارج فیملی وارڈ نے آ کر کہا کہ سر ایک خاتون قیدی آپ سے کچھ زبانی عرض کرنا چاہتی ہے۔ اجازت ملنے پر ہیڈ وارڈ نے جب اس خاتون کو میرے آفس میں پیش کیا تو اس نے بتایا،
سر میری رہائی کا حکم آ گیا ہے لیکن میں رہا ہونا نہیں چاہتی۔
ایک لمحے کے لیے تو مجھے اپنے کانوں پر اعتبار نہ آیا کہ رہائی اور رہائی سے انکار۔ کیونکہ رہائی تو ہر قیدی کی پہلی اور آخری خواہش ہوتی ہے۔ لیکن یہ پہلی خاتون دیکھ رہا تھا جو کسی طور پر رہائی نہیں چاہتی تھی میری سروس کا یہ پہلا کیس تھا جس میں کسی قیدی نے رہا ہونے سے انکار کر دیا تھا۔
میں نے کہا مجھے سمجھ نہیں آ رہی لوگ تو کہتے ہیں وہ کون سا وقت ہو کہ ہماری رہائی ہو جائے اور ادھر تم ہو کہ رہائی نہیں چاہتی یہ سمجھ سے بالاتر ہے میں نے وجہ پوچھی تو
اس نے کہا سر رہائی کون نہیں چاہتا لیکن جن لوگوں نے میرے رہائی کروائی ہے وہ رہا ہوتے ہی مجھے قتل کروا دیں گے۔
میں نے حیران ہو کر پوچھا وہ کون لوگ ہیں؟
سر ویسے تو رہائی میرا خاوند کروا رہا ہے، وہ وٹو فیملی کا گھریلو نوکر ہے۔ وٹو صاحب اس وقت وزیراعلی ہیں۔ ان کے پیچھے جو ان کا مینجر اور مختیار کار ہے مجھے اس سے کسی خیر کی توقع نہیں مجھے ہر حال میں وہ قتل کرا دے گا۔
میں نے اس خاتون کا بیان لیا اور اپنے کمنٹس لکھ کر رہائی وارنٹ عدالت کو واپس کر دیا اور خاتون کو رہا نہ کیا۔
کچھ دنوں بعد میں دو دن کی چھٹی لے کر والدین سے ملنے اپنے آبائی گھر ڈیرہ غازی خان چلا گیا۔ وٹو صاحب کے مینجر کو جب اس امر کی اطلاع ملی تو اس نے جلدی سے دوبارہ ضمانت کروائی اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پر پریشر ڈال کر اس خاتون کو رہا کروا لیا۔
میں جب دو دن بعد رات کو ساہیوال رات کو واپس پہنچا تو میری آمد کی اطلاع سن کر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ فوراً مجھے ملنے آ گیا عام حالات میں تو فون پر بات ہوجاتی ہے لیکن اگر معاملہ کچھ سنگین ہو تو متعلقہ افسران رہنمائی لینے کے لئے خود آ جاتے ہیں۔ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آج میرے سامنے پریشان حال بیٹھا تھا میرے پوچھنے پر بتایا کہ سر! مجھ سے بہت بڑی غلطی سرزد ہو گئی ہے۔ وٹو فیملی والی خاتون جس کی آپ نے رہائی نہیں کی تھی۔ آپ کے جانے کے بعد انہوں نے دوبارہ ضمانت کروائی اور مجھ پر پریشر ڈال کر رہا کروا لیا لیکن افسوس ناک خبر یہ ہے کہ رہا ہوتے ہی اس خاتون کو قتل کر دیا گیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کا بیان لیا تھا نہیں سر وہ چیختی چلاتی رہی میں نے زبردستی اس کی رہائی کر دی تھی۔ میں نے کہا تمہیں ہرگز رہا نہیں کرنا چاہیے تھا یہ انسانی زندگی کا سوال تھا اور ملکی قانون ہمیشہ انسان کا محافظ ہوتا ہے اور تم نے اس کی پرواہ نہیں کی۔
تھوڑی دیر میں نے کچھ سوچ کر کہا اب تو تمہارے خلاف بیان دینے والا ہی قتل ہو گیا ہے۔ اس کے بعد تفتیش پر منحصر ہے کہ اس میں کون کون ملوث پایا جاتا ہے۔ یہ سن کر اس کی جان میں جان آئی۔ لیکن میں سوچتا رہا یہ کیسے لوگ ہیں جو بڑے بڑے عہدوں پر متمکن ہوتے ہیں لیکن انسانیت نام کی کوئی چیز ان میں نہیں ہوتی اور نہ انسان کا خیال رہتا ہے نہ ہی انسانی جذبوں اور انسانی رشتوں کی ان کو فکر ہوتی ہے۔ یہ انسان کو کیڑے مکوڑے اور حشرات الارض سمجھتے ہیں۔
وقت بدلہ حالات نے پلٹا کھایا شہباز شریف وزیر اعلیٰ بن گیا وہی سرفراز اور سربلند وزیر اعلیٰ منظور احمد خاں وٹو اب سلاخوں کے پیچھے جیل میں تھے۔ شہباز شریف کو جب علم ہوا کہ وٹو صاحب نے جیل میں اپنی منفی سرگرمیاں جاری رکھی ہوئی ہیں ان کے پاس غیر قانونی طور پر موبائل بھی ہے۔ جس سے وٹو صاحب جیل کے اندر بیٹھ کر حکومت کے خلاف ریشہ دوانیاں کرتے رہتے ہیں۔ آئی جی صاحب سے پوچھ گچھ ہوئی کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے، تو انہوں نے مجھے معاملات کا جائزہ لینے اور وٹو صاحب کی تلاشی لینے کوٹ لکھپت جیل لاہور بھیجا۔ میں جب کوٹ لکھپت جیل میں پہنچ کر وٹو صاحب کے بی کلاس کمرے میں داخل ہوا۔ دیکھا کہ چاروں طرف کمرے میں ان کا سامان بکھرا پڑا ہے۔
وہ کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے سامنے ان کے میز تھی اور میز پر ٹشو کا ڈبہ رکھا تھا۔ میں نے انہیں سلام کیا اور ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ ان کو اپنے آنے کا مقصد بتایا اور عملے کو تلاشی کا حکم دیا۔ سامان کی تلاشی شروع کر دی گئی۔ ایک شخص جو کبھی صوبے کے سیاہ و سفید کا مالک تھا۔ آج رحم طلب نظروں سے مجھے دیکھ رہا تھا۔ میں ایک عجیب کشمکش میں تھا۔ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ ایک آدمی جو ایک زمانے اپنے تئیں خود کو زمین و آسمان کا مالک سمجھتا ہو۔ اب وہ تمہارے رحم و کرم پر ہو تو ہمیشہ سکندر اعظم اور پورس کا مکالمہ یاد رکھنا چاہیے۔ وقت بدلتے دیر نہیں لگتی۔ میرا سٹار سکارپیو ہے میں ایسے موقع پر بپھرنے کی بجائے اپنی ذات میں سمٹ جاتا ہوں۔
اگرچہ وٹو صاحب اپنا بھرم رکھنے کے لیے تو بظاہر اپنے پندار کے خول میں قائم دکھائی دیتے تھے۔ لیکن ان کے اندر ہونے والی ٹوٹ پھوٹ میں اچھی طرح محسوس کر رہا تھا۔ آدھے گھنٹے کے بعد ان کے متفرق سامان کے کریٹ میں سے موبائل کا چارجر مل گیا، لیکن سارا سامان تلاش کر لیا گیا موبائل بر آمد نہ ہوا۔ اب دو چیزیں باقی رہ گئیں، ایک وہ خود اور دوسرا ٹشو کا ڈبہ۔ سامنے میز پر ٹشو کا ڈبہ سامنے رکھا تھا۔ میں نے پہلے اسے ٹیسٹ کرنے کے لیے اٹھایا تو اپنے وزن سے زیادہ بھاری لگا۔ عملہ تلاشی میں مصروف تھا۔ میں نے اس کے اندر مطلوبہ شے کو تلاش کر لی۔ لیکن اسے شرمندہ ہونے سے بچا لیا۔ یہاں اس لمحے مجھے حضرت علی کا کردار سامنے تھا کہ ایک نہتے اور گرے ہوئے دشمن پر وار نہ کیا جائے۔ ہماری ان سے کیا دشمنی تھی عظیم انسانوں کی مثالیں ہم خاکی لوگوں کے لیے زاد راہ ہوتی ہیں۔
میں نے وٹو صاحب سے کہا آپ آج اور ابھی تمام چیزیں باہر بھجوا دیں۔ میں نے یہ نہ تو کوئی تعلق بنانے کے لیے نہ کوئی راہ و رسم پیدا کرنے کے لیے کیا۔ میں نے تو جب وہ صوبے کے سربراہ تھے۔ ان سے کوئی رابطہ استوار نہ کیا، وہ اس وقت بھی مجھ سے نالاں تھے۔ اس لیے انہوں نے خفا ہو کر مجھے ساہیوال سے ٹرانسفر کرا دیا تھا۔ لیکن جب ان کی وزارت عظمی ٰ ختم ہوئی اور ان کے دیے کی روشنی بجھ گئی تو کوئی سرکاری اہل کار ان کی بات کی پرواہ نہ کرتا۔
وہ کہتا تھا کہ وزارت ختم ہونے کے بعد پورے صوبے میں صرف دو آدمی میری بات سنتے ہیں، جس میں ایک میرا نام تھا۔ ایک عرصے بعد جب ہم ایک پارٹی میں ملے تو اگرچہ آج ان کے پاس نہ کوئی عہدہ تھا نہ عہدہ ملنے کی کوئی توقع۔ آج وہ صرف عبرت کا نشان تھے۔ ان کی حالت مغل خاندان کے آخری چشم و چراغ شہنشاہ ظفر جیسی تھی۔ لیکن وہی کروفر، وہی جاہ طلب خواہشیں۔ کبھی اندر کبھی باہر مگر ہمیشہ اپنی ذات مرکز جناح کے بعد ستر سال میں عوام کو کیا ملا؟ خودغرض لیڈر اپنے مفادات کے لئے سر گرم لیڈر نرگسیت کے مارے لیڈر لیکن ایک لیڈر بھی ایسا نہیں ملا جسے ہم گاندھی کے مقابلے پیش کر سکتے یا نہرو کے جس کی وجہ سے ہمیں علیحدہ ملک لینے کی ضرورت پڑی۔ جناح کی زندگی تو چند روزہ تھی۔
اس کے مقابلے میں انڈیا میں ہزاروں ایسے رہنما اور اہل کار ہیں جو سادگی اور عظمت کا نمونہ ہیں۔ 94 سالہ سابقہ وزیر اعظم گلزاری لال نندہ کو مالک مکان نے گھر سے نکال دیا کیونکہ وہ کافی عرصے سے کرایہ ادا نہیں کر سکا تھا۔ سامان کیا تھا ایک بستر، تانبے کے چند برتن، پلاسٹک کی ٹوکری، ایک مگ۔ اس کی بار بار درخواست کرنے اور ہمسایوں کے کہنے پر اس کو دوبارہ سامان رکھنے کی اجازت دے دی گئی۔ پاس سے گزرنے والے ایک صحافی نے مالک مکان کا رویہ دیکھا تو اس نے موقع پر چند تصویریں لی اور ”ایک بوڑھے آدمی کے ساتھ مالک مکان کا ظالمانہ رویہ“ کے عنوان کے ساتھ سٹوری بنا کر ایڈیٹر کو پیش کر دی۔ ایڈیٹر تصویریں دیکھ کر حیران رہ گیا۔ صحافی سے پوچھا کہ وہ اس آدمی کو جانتا ہے، اس نے نفی میں سر ہلایا۔ اگلے دن اخبار کی بڑی سرخی تھی۔
” انڈیا کے سابقہ وزیراعظم گلزاری لال نندہ کو کرایہ کے مکان سے باہر نکال دیا گیا“
یہ آدمی دو مرتبہ وزیراعظم بنا اور لمبے عرصے کے لیے مرکزی وزیر رہا۔ اس کا اپنا ایک گھر بھی نہیں تھا۔ وہ بحیثیت آزادی کے سپوت پانچ سو روپے الاؤنس لیتے تھے۔ لیکن بعد میں یہ الاؤنس لینا بھی بند کر دیا کہ اس نے آزادی کی جنگ مراعات لینے کے لیے نہیں لڑی تھی۔ بعد میں دوستوں کہنے پر کہ تمہاری کوئی اور آمدنی کا ذریعہ نہیں ہے وہ اسی الاؤنس سے اپنے اخراجات پورے کرتا تھا۔ یہ کون سی اتنی بڑی رقم تھی لیکن وہ گاندھی کا بھگت تھا۔ اسے سرکار کی طرف سے بھی سر کاری رہائش کی آفر تھی لیکن اس نے انکار کر دیا۔ انڈیا میں اس طرح کی بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں۔
دراصل گاندھی کی اہلیت، ان کی بے پناہ سادگی، مقصد سے لگاؤ اصولوں پر نگاہ، قوم اور ملک کی خدمت اور قربانی کا جذبہ، یہ وہ نقطہ تھا جہاں سے ہمارے راستے جدا ہوتے تھے۔ ہمارے بڑے بڑے نوابوں اور مفاد پرستوں کو گاندھی کے ساتھ چلنا مشکل دکھائی دیتا تھا۔ اور پاکستان بنتے ہی مفاد پرست اور نا اہل طبقہ دولت کے منبع پر برا جمان ہو گیا۔ ہمارے یہ دیوتا ان کے گرد شیش ناگ بن کر ناچنے لگے۔ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ یہ ملک کسی نظریے پر قائم ہوا تھا تو اس کی ایک مثال بھی نہیں ملے گی ما سوائے نعرہ بازی کے۔
دنیا میں دیانت داری کے لحاظ سے ہمارا 160 واں نمبر ہے۔ اگر کوئی سادہ لوح یہ سمجھتا ہے کہ یہ ملک لوگوں کے دکھ درد دور کرنے اور کسی ناتواں کے گلے میں امرت ٹپکانے کے لیے بنا تھا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج ان نا خداؤں کے نہ خزانے ختم ہوتے ہیں نہ ان کا اقتدار ڈولتا ہے۔ جبکہ ہمارا بال بال قرض میں جا چکا ہے۔ دنیا کی نظر میں ہماری قوم کی وقعت ٹشو کے ڈبے سے زیادہ نہیں۔


