تھامس مان کا افسانہ: چرج یارڈ کا راستہ
مترجم: جاوید بسام
چرج یارڈ کا راستہ ہائی وے کے متوازی، مسلسل ساتھ ساتھ چلتا تھا۔ تاآنکہ اپنی منزل یعنی چرچ یارڈ تک نہ پہنچ جائے۔ اس کے دوسری طرف ایک نئی مضافاتی انسانی بستی تھی، جس میں کچھ مکانات زیر تعمیر تھے، اس سے پرے کچھ کھیت تھے۔ سڑک پرانے سفیدے کے درختوں سے گھری تھی، اس کا جزوی حصہ پختہ اور جزوی حصہ کچا تھا۔ راستہ باریک بجری سے پر تھا۔ جس نے اسے ایک معقول فٹ پاتھ کا روپ دے دیا تھا۔ ان دونوں کے درمیان گھاس اور جنگلی پھولوں سے بھری ایک پتلی اور خشک کھائی پھیلی ہوئی تھی۔
موسم بہار کے ایک دن جب گرمی کا تقریباً آغاز ہو گیا تھا۔ دنیا مسکرا رہی تھی۔ خدا کا حیرت انگیز نیلا آسمان مکمل طور پر چھوٹے، گول اور گھنے بادلوں سے ڈھکا ہوا تھا اور برف جیسے سفید چھوٹے چھوٹے مضحکہ خیز جھرمٹوں پر مشتمل تھا۔ سفیدے کے درختوں پر پرندے چہچہا رہے تھے اور کھیتوں میں ہلکی ہلکی ہوا چل رہی تھی۔
ہائی وے پر ایک بگھی اگلے گاؤں سے شہر کی طرف رواں دواں تھی۔ وہ آدھی سڑک کے پختہ حصے پر اور آدھی سڑک کے کچے حصے پر تھی۔ کوچوان نے اپنی ٹانگیں دراز کر کے شافٹ کے دونوں طرف لٹکائیں اور انتہائی غیر مہذب انداز میں سیٹی بجائی۔ بگھی کے عقبی حصے میں ایک بھورے رنگ کا کتا اس کی طرف پیٹھ کیے بیٹھا تھا۔ وہ اپنی نوکیلی ناک کے ساتھ بہت سنجیدہ اور روکھے انداز میں پیچھے اس راستے کو دیکھ رہا تھا۔ جس سے وہ آیا تھا۔ ایک لاجواب اور بیش قیمت کتا، جس کی قیمت سونے کے برابر تھی۔ اس نے روح کو بہت خوشی دی، لیکن بدقسمتی سے اس کا معاملے سے تعلق نہیں، لہذا ہم اسے نظر انداز کرنے پر مجبور ہیں۔
اسی اثناء میں سپاہیوں کا ایک دستہ جو قریبی بیرکوں سے آئے تھے، مارچ کرتا، گاتا اور گرد اڑاتا وہاں سے گزرا۔ شہر سے آنے والی ایک اور بگھی رینگتی ہوئی اگلے گاؤں کی طرف چلی گئی۔ اس کا کوچوان تقریباً نیند میں ڈوبا تھا۔ اس پر کوئی کتا نہیں تھا، اس لیے اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ راستے میں دو مسافر آتے نظر آئے، ایک کبڑا تھا اور دوسرا دیو قامت۔ انہوں نے اپنے جوتے اتار کر کندھوں پر ڈال رکھے تھے اور ننگے پاؤں چل رہے تھے۔ انہوں نے نیند میں ڈوبے کوچوان کو خوش دلی سے آواز لگائی اور بھاری قدم اٹھاتے آگے بڑھ گئے۔ ٹریفک معتدل اور منظم تھا اور بغیر کسی مشکل یا رکاوٹ کے آسانی سے گزر رہا تھا۔
چرج یارڈ کے راستے پر صرف ایک آدمی پیدل چل رہا تھا۔ وہ سر جھکائے سیاہ چھڑی کے سہارے کشاں کشاں چلا جا رہا تھا۔ اس آدمی کو لوبگٹ پیپسام کہا جاتا تھا اور کچھ نہیں۔ ہم ایک خاص وجہ سے اس کے نام کا ذکر کر رہے ہیں۔ کیونکہ بعد میں اس نے بہت عجیب و غریب برتاؤ کیا تھا۔
وہ سیاہ لباس میں ملبوس اپنے پیاروں کی قبروں کی طرف بڑھ رہا تھا۔ اس نے مڑے ہوئے کناروں والا ریشمی اسطوانی (بیلن نما) ہیٹ، ایک پرانا چمکدار فراک کوٹ، بہت تنگ اور چھوٹی پتلون اور سیاہ بچوں کے سے خستہ حال دستانے پہنے ہوئے تھے۔ اس کی گردن لمبی اور پتلی تھی۔ جس میں ایک بڑا گَنٹھ مڑے ہوئے کالر سے نمایاں ہو رہا تھا، کالر کناروں سے کھردرا اور گھسا ہوا تھا۔
لیکن جب پیپسام نے اپنا سر اٹھایا، جیسا کہ وہ یہ دیکھنے کے لیے کبھی کبھی اٹھاتا تھا کہ چرج یارڈ کتنی دور رہ گیا ہے تو ہم نے دیکھا کہ وہ ایک نایاب چہرے کا مالک ہے۔ ایسا چہرہ جسے بلاشبہ جلدی نہیں بھلایا جاسکتا تھا۔ اس کا منہ صفا چٹ اور زرد تھا، دھنسے ہوئے گالوں کے درمیان موٹی ناک، ضرورت سے زیادہ غیر فطری سرخ رنگ کے ساتھ چمک رہی تھی اور چھوٹی چھوٹی سرخ چتیوں سے بھری ہوئی تھی، ایک غیر صحت بخش نشوونما۔ جس نے اسے ایک غیر روایتی اور منفرد شکل دے دی تھی۔
ناک کی گہری چمک چہرے کی مدھم پیلاہٹ کے پس منظر میں نمایاں تھی۔ اس میں کچھ غیر حقیقی اور تصویر کی مانند تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے اسے کارنیول کے اداس جوکر کی ناک لگا دی گئی ہو، لیکن ایسا نہیں تھا۔ پیپسام نے اپنے ہونٹوں کو مضبوطی سے بھینچ رکھا تھا، پورا نیچے کی طرف کونوں کے ساتھ اور جب اس نے اوپر دیکھا تو اس کی ٹوپی کے نیچے سیاہ بھنویں سفید بالوں سے ڈھکی ہوئی تھیں۔ چنانچہ ہر متنفس یہ دیکھ سکتا تھا کہ اس کی آنکھیں کس طرح جل رہی ہیں اور ان کے گرد سیاہ حلقے ہیں۔ مختصر یہ کہ ایک ایسا آدمی جس کے لیے گہری ہمدردی سے کوئی زیادہ دیر انکار نہیں کر سکتا تھا۔
لوبگٹ پیپسام کی شکل سے خوشی ظاہر نہیں ہو رہی تھی۔ وہ اس خوشگوار صبح کو بھی سوگوار تھا۔ ایک آدمی جو اپنے پیاروں کی قبروں کی زیارت کا ارادہ رکھتا تھا۔ تاہم اس کی روح کو دیکھ کر آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا اس کے پاس اداسی کی بہت سی وجوہات تھیں۔ وہ کتنا اداس تھا۔ میں کیسے کہوں؟ آپ جیسے زندہ دل لوگوں کو یہ سمجھانا مشکل ہے۔ تھوڑا سا اداس، کیا یہ واضح ہے؟ کچھ مایوس۔ اوہ نہیں۔ سچ پوچھیں تو وہ صرف اداس نہیں، بلکہ بہت غمگین تھا۔
اس کے معاملات بغیر کسی مبالغہ کے بہت خراب تھے۔ پہلی بات یہ کہ وہ پیے ہوئے تھا۔ خیر اس پر بعد میں بات کی جائے گی۔ مزید برآں، وہ ایک یتیم، رنڈوا اور پوری دنیا کی طرف سے رد کر دیا گیا انسان تھا۔ دنیا میں اس سے پیار کرنے والا کوئی نہیں تھا۔ اس کی بیوی لیبزلٹ چھ ماہ قبل ایک بچے کو جنم دینے کے بعد گزر گئی تھی۔ یہ تیسرا بچہ تھا۔ وہ مردہ پیدا ہوا تھا، دو اور بچے پہلے گزر چکے تھے۔ ایک خناق سے، دوسرا بالکل اسی طرح۔ مزید برآں، وہ کچھ دن پہلے ذلت آمیز انداز میں اپنی ملازمت سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا، اسے بے روزگار اور روٹی کے ایک ایک ٹکڑے کا محتاج کر دیا گیا تھا۔ اس کی وجہ ایک ایسا جذبہ تھا جو پیپسام سے زیادہ طاقتور نکلا تھا۔
ایک وقت تھا۔ جب وہ اس جذبے کے خلاف کسی حد تک مزاحمت کر سکتا تھا، حالاں کہ بعض اوقات وہ اس سے بہت زیادہ مغلوب ہوجاتا تھا، لیکن جب اس کی بیوی اور بچے اس سے بچھڑ گئے، جب وہ تمام لوگوں سے دور دنیا میں تنہا بغیر کسی سہارے اور مدد کے رہ گیا تو برائیوں نے اس پر غلبہ پا لیا اور اس کی ذہنی مزاحمت کو توڑ دیا۔ وہ ایک انشورنس کمپنی میں سینئر کلرک کے عہدے پر فائز تھا، ماہانہ تنخواہ نوے ریخ مارکس تھی۔ تاہم وہ سنگین خلاف ورزیوں کے باعث قصور وار ٹھہرا اور بالآخر متعدد تنبیہات کے بعد ایک ایسے ملازم کے طور پر برخاست کر دیا گیا جس پر مزید بھروسا نہیں کیا جا سکتا تھا۔ یہ واضح ہے کہ اس واقعے سے پیپسام کی اخلاقی حالت بالکل بھی درست نہیں ہوئی، بلکہ اس کے بعد وہ مزید زوال کا شکار ہو گیا۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ بدقسمتی انسانی وقار کو ختم کر دیتی ہے۔
ان چیزوں کے بارے میں تھوڑا سا علم ہونا بھی اتنا ہی اچھا ہے۔ یہاں وجہ اور اثر کا ایک عجیب اور خوفناک امتزاج ہے۔ خود کو اپنی بے گناہی کا یقین دلانا بیکار ہے، زیادہ تر معاملات میں ایک شخص اپنی بدقسمتی کی وجہ سے خود کو حقیر سمجھتا ہے، لیکن خود سے نفرت اور برائی سب سے زیادہ خوفناک تعامل ہیں، وہ قریب آتے ہیں، ایک دوسرے کے لیے کام کرتے ہیں۔ پھر ایک ڈراؤنا خواب ابھرتا ہے۔ پیپسام کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ وہ خوب پینے لگا۔ کیونکہ اس کی نظر میں اپنی کوئی عزت نہیں تھی۔ وہ اپنی خود اعتمادی کھو رہا تھا۔ کیونکہ توہین نے اس کا اعتماد ختم کر دیا تھا۔ اس کے پاس گھر میں اپنی الماری میں عموماً ایک کڑوا پیلا مائع رکھا ہوتا تھا۔ احتیاط کی بنا پر ہم اس کا نام ظاہر نہیں کرتے۔ لوبگٹ پیپسام اس الماری کے سامنے لفظی طور پر ایک سے زیادہ بار گھٹنوں کے بل بیٹھا اپنی زبان کاٹ رہا تھا۔ آخر وہ ہار گیا۔ ہم ایسی باتیں بغیر خوشی کے بتاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ نصیحت آموز ہیں۔
اب وہ اپنی کالی چھڑی زمین پر ٹیکتا چرج یارڈ کی طرف جانے والے راستے پر چل رہا تھا۔ اس کی ناک پر ہوا کا ہلکا جھونکا لگا، لیکن اس نے دھیان نہیں دیا۔ بس ابرو اٹھا کر خالی اداس آنکھوں سے دنیا کو دیکھا۔ ایک رنجیدہ اور تھکن زدہ آدمی، اچانک اس نے اپنے پیچھے کچھ آوازیں سنیں وہ رکا اور غور سے سننے لگا، دور سے ایک سرسراہٹ تیزی سے قریب آ رہی تھی۔ اس نے مڑ کر دیکھا۔
وہ ایک سائیکل تھی۔ جس کے پہیے باریک بجری والے راستے کو روند رہے تھے۔ وہ پوری رفتار سے دوڑ رہی تھی، لیکن پھر آہستہ ہو گئی۔ کیونکہ پیپسام اس کے راستے میں کھڑا تھا۔ سائیکل کی گدی پر ایک نوجوان بیٹھا تھا، ایک لاپروا گھومنے پھرنے والا۔ اوہ، میرے خدا، اس نے قطعی طور پر اس دنیا کے شاندار اور عظیم لوگوں میں سے ایک ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ وہ اوسط درجے کی سائیکل پر سوار تھا، چاہے وہ کسی بھی برانڈ کی رہی ہو۔ اگر آپ اسے دیکھتے تو فیصلہ کرتے کہ سائیکل کی قیمت دو سو مارک ہے۔ جوں ہی وہ تازہ دم ہونے کے لیے شہر سے باہر آیا، تیزی سے سائیکل کے چمکتے پینڈلوں کو گھماتے ہوئے، خدا کی سرسبز زمین پر چل دیا۔ یک رنگی قمیض جس کے اوپر سرمئی رنگ کی جیکٹ، کھلاڑیوں والے موزے، سر پر ایک شوخ ٹوپی، کتھی چیک دار، اوپر ایک بٹن کے ساتھ اور خدا جانتا ہے کہ اس کے نیچے سے کیا نکل رہا تھا، گھنے سنہرے بال جو ماتھے پر پھیلے تھے۔ آنکھیں چمکدار نیلی تھیں۔ ”زندگی“ اس کی طرف بڑھا اور گھنٹی بجائی لیکن پیپسام اپنی جگہ سے ذرہ برابر بھی نہیں ہلا۔ اس نے کھڑے کھڑے ”زندگی“ کی طرف سخت نظروں سے دیکھا۔
”زندگی“ نے بھی اسے غصے سے دیکھا اور رک گیا۔ پھر پیپسام آگے بڑھا اور دھیرے سے معنی خیز لہجے میں بولا۔ ”نمبر نو ہزار سات سو سات۔“
اس نے اپنے ہونٹ بیچے اور نیچے دیکھا۔ وہ زندگی کی حیرت زدہ نظروں کو محسوس کر رہا تھا۔ وہ مڑا اور ایک ہاتھ سے سائیکل کی گدی پکڑ لی۔
”کیا؟“ اس نے پوچھا۔
”نمبر نو ہزار سات سو سات۔“ پیپسام نے دہرایا۔ ”بس کچھ نہیں، میں آپ کی شکایت کروں گا۔“
”میری شکایت؟“ زندگی نے پوچھا۔ پھر آہستہ سے سائیکل آگے بڑھائی، لیکن ہینڈل کو متوازن کرنا مشکل ہو گیا۔ وہ ایک طرف مڑ گئی۔
”بالکل،“ پیپسام نے پانچ یا چھ قدم کے فاصلے سے جواب دیا۔
”کیوں؟“ زندگی نے سائیکل سے نیچے اترتے ہوئے سوال کیا۔
”آپ خود اچھی طرح جانتے ہیں۔“
”نہیں، میں نہیں جانتا۔“
”آپ کو جاننا چاہیے۔“
”میں نہیں سمجھ پا رہا۔“ زندگی نے کہا۔ ”خیر میں یہ تسلیم کرتا ہوں کہ مجھے اس سے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔“
وہ پھر سوار ہونے کا ارادہ کرتے ہوئے سائیکل کی طرف مڑا۔
”میں آپ کی، قبرستان کے راستے پر سائیکل چلانے کی شکایت کروں گا۔“ پیپسام نے کہا۔
”لیکن جناب۔“ زندگی نے کچھ پریشانی اور ناراضی سے کہا۔ ”اس پورے راستے پر سائیکل کے ٹائروں کے نشان نظر آرہے ہیں۔ یہاں دوسرے بھی سواری کرتے ہیں۔“
”مجھے اس کی پروا نہیں۔“ پیپسام نے کہا۔ ”میں آپ کی شکایت کروں گا۔“
”ٹھیک ہے، جیسا آپ چاہتے ہیں، ویسا کریں۔“ زندگی نے کہا اور سائیکل پر سوار ہونے کی کوشش کی، لیکن کامیاب نہ ہوا، اس نے شرمندہ ہوئے بغیر پھر پاؤں مارے اور اچھل کر گدی پر بیٹھ گیا پھر پیڈل مارنے لگا۔ تاکہ اپنی مرضی کے مطابق رفتار پکڑ سکے۔
”اگر آپ یہاں راستے پر سائیکل چلاتے رہیں گے تو میں آپ کی شکایت ضرور کروں گا۔“ پپسام نے بلند اور لرزتی ہوئی آواز میں کہا۔
زندگی نے اس کی بات کی پروا نہیں کی۔ وہ تیزی سے آگے بڑھا۔
اگر آپ نے اس وقت لوبگٹ پیپسام کا چہرہ دیکھا ہوتا تو خوفزدہ ہو جاتے۔ اس نے اپنے ہونٹوں کو اس قدر سختی سے بیچا ہوا تھا کہ اس کے گال اور یہاں تک کہ اس کی چمکتی سرخ ناک بھی پوری طرح مسخ ہو گئی تھی اور اس کی غیر فطری طور پر ابھری ہوئیں آنکھیں، ابرو کے نیچے سے دور جاتی سائیکل کو دیکھ رہی تھیں، اچانک وہ تیزی سے سائیکل سوار کے پیچھے بھاگا اور گدی کے نیچے لگے اوزاروں کے ڈبے کو پکڑ لیا۔ وہ دونوں ہاتھوں سے اسے تھامے، سختی سے ہونٹ بھینچے، وحشی نظروں سے دیکھتے ہوئے پوری طاقت سے سائیکل کو آگے بڑھنے سے روک رہا تھا۔
اگر کوئی اسے اس حالت میں دیکھتا تو بمشکل سمجھ پاتا کہ آیا وہ غصے کی وجہ سے نوجوان کو آگے جانے سے روکنا چاہتا ہے یا خدا کی سرسبز زمین پر چمکتے پیڈلوں کی سائیکل پر سوار ہو کر سیر کی خواہش میں مبتلا ہو گیا ہے۔
سائیکل اس مایوس کن بوجھ کے آگے زیادہ دیر مزاحمت نہ کر سکی۔ وہ رک گئی، ڈگمگائی اور ایک طرف گر گئی۔
پھر ”زندگی“ غصے سے بھنا اٹھا۔ وہ ایک ٹانگ پر کھڑا ہونے میں کامیاب ہوا اور اپنا بازو موڑ کر دائیں ہاتھ سے مسٹر پیپسام کے سینے پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ کئی قدم پیچھے ہٹ گئے۔ پھر اس نے دھمکی آمیز لہجے میں کہا: ”تم نشے میں ہو احمق! اگر تم نے مجھے دوبارہ روکنے کی کوشش کی تو میں تمھاری گردن توڑ دوں گا۔ سن رہے ہو۔ بھولنا مت۔“
ان الفاظ کے ساتھ ”زندگی“ نے مسٹر پیپسام کی طرف سے منہ موڑا، برہمی سے اپنی ٹوپی سر پر جمائی، سائیکل پر سنھبل کر بیٹھا، فوراً پیڈل مارے اور سائیکل آگے بڑھا دی۔ پیپسام اسے جاتے دیکھ رہا تھا۔
وہ گہرے گہرے سانس لے رہا تھا اور ”زندگی“ کو گھور رہا تھا۔ اس نے کوئی ٹھوکر نہیں کھائی، اس کے ساتھ کوئی حادثہ نہیں ہوا، کوئی ٹائر نہیں پھٹا۔ سائیکل آسانی سے اچھلتی ہوئی چلی گئی۔ پھر پیسام چیخنے اور قسمیں کھانے لگا۔ اس کی آواز کو ایک دھاڑ کہا جا سکتا تھا، اب وہ انسانی آواز نہیں رہی تھی۔
”تم نے یہاں سائیکل چلانے کی ہمت کیسے کی!“ وہ چلایا۔ ”تم وہاں سائیکل چلاؤ، ہائی وے پر، چرج یارڈ کے راستے پر نہیں، کیا تم نے سنا؟ اُترو! فوراً اُتر جاؤ! میں تمھاری شکایت کروں گا۔ خدا کرے تم گر جاؤ۔ اے وحشی! میں تمھارے منہ پر لات ماروں گا، لعنتی۔“
چرج یارڈ کی طرف جانے والے راستے کے بیچوں بیچ ایک آدمی چیخ رہا تھا، ایک سرخ چہرے والا آدمی گرج رہا تھا، گالی گلوچ کرتے ہوئے اچھل رہا تھا، اپنے بازو اور ٹانگیں ہلا رہا تھا اور ہوش میں نہیں تھا۔ سائیکل کب کی غائب ہو چکی تھی اور پیپسام ابھی تک اسی جگہ پر غصے سے کھڑا چلّا رہا تھا۔
”روکو! اسے روکو! وہ چرج یارڈ کی طرف جا رہا ہے! ہاں، ہم اس بدمعاش کو گھسیٹیں گے! آہ آہ۔ اگر تم کبھی میرے ہاتھ آئے تو میں تم سے نمٹ لوں گا، ارے مسخرے، بے عقل، بدمعاش، بیوقوف۔ ہٹ جاؤ! اتر جاؤ! کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی اسے گولی مار دے، اس رینگنے والے جانور کو؟ وہ چرج یارڈ کے راستے پر سیر کے لیے گیا ہے۔ گھٹیا! گندا بندر! چمکدار نیلی آنکھیں! شیطان ان کو نوچ لے۔ ارے بیوقوف، احمق، جاہل! ۔“
یہاں پپسام نے ایسے جذبات کا اظہار کیا جس کو بیان نہیں کیا جاسکتا، وہ رو پڑا اور کرخت آواز میں انتہائی گھناؤنی گالیاں دینے لگا۔ یہاں تک کہ اس کے غضب ناک اشاروں میں شدت آتی گئی۔ کئی بچوں نے ٹوکریوں اور ایک ٹیریر کتے کے ساتھ ہائی وے کو عبور کیا۔ وہ کھائی کے اوپر چڑھ گئے اور پریشان آدمی کو گھیر لیا اور تجسس سے اس کے بگڑے ہوئے چہرے کو دیکھنے لگے۔ تعمیراتی جگہ پر کام کرنے والے کچھ مزدور، مرد اور عورتیں جو دوپہر کے کھانے کے لیے جا رہے تھے۔
اس ہنگامے کو دیکھنے کے لیے سڑک کے کنارے کھڑے ہو گئے، لیکن پیپسام غصے میں مزید پاگل ہوتا گیا۔ اس نے طیش میں اپنی مٹھیاں آسمان کی طرف اور چاروں سمت ہلائیں، پاؤں سے لات ماری، پلٹ کر بیٹھ گیا اور فوراً ہی شدید تناؤ سے سیدھا ہو گیا۔ آخرکار وہ زور زور سے چلاتا رہا۔ گالیاں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رکی، اس نے سانس بھی نہیں لیا، حیران کن بات یہ تھی کہ اسے یہ الفاظ کہاں سے مل رہے تھے؟ اس کا چہرہ غصے سے بری طرح سوجا ہوا تھا، ٹوپی سر کے پیچھے پھسل گئی تھی اور ڈھیلی قمیض کے نیچے سے بنیان باہر آ گیا تھا۔
مزید برآں، اس نے جلد ہی اول فول بکنا شروع کر دیا اور ایسی باتیں کرنے لگا جن کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ یہ اس کی بد اعمالیاں گناہوں بھری زندگی اور مذہبی پیغامات تھے جو وہ گالی گلوچ کے ساتھ ملا کر نامناسب لہجے میں بول رہا تھا۔
”چلو، یہاں سب کو بلاؤ!“ وہ گرجا۔ ”ہاں، نہ صرف تم، بلکہ دوسرا بھی، ٹوپی پہنے اور نیلی آنکھوں والا۔ میں آپ کو سچ بتاتا ہوں، آپ کو برا لگے گا، آپ بیکار بات کرنے والے! کیا آپ مسکرا رہے ہیں؟ اپنے کندھے اچکا رہے ہیں؟ میں پیتا ہوں۔ ؟ یقیناً میں ہر وقت پیتا ہوں! میرا گلا کبھی خشک نہیں رہتا، آپ واقعی یہ جاننا چاہتے ہیں؟ دنیا ابھی ختم نہیں ہوئی۔ وہ دن آئے گا جب خُداوند ہم سب کا انصاف کرے گا۔ آہ۔ آہ۔ ابنِ آدم بادلوں پر آ رہا ہے، تم معصوم یا شریر؟ اس کا فیصلہ اس دنیا کا نہیں ہے! وہ آپ کو باہر تاریکی میں پھینک دے گا۔ اوہ بدبخت! وہاں رونا اور آہ و بکا ہوگی اور۔“
ایک اچھا خاصا ہجوم اسے گھیرے ہوئے تھا۔ کچھ لوگ ہنس رہے تھے، کچھ تیوری چڑھائے اسے دیکھ رہے تھے۔ تعمیراتی جگہ سے مزید مزدور اور خواتین چلی آئیں۔ ایک کوچوان ہائی وے پر رک کر ہاتھ میں چابک لیے بگھی سے نیچے اترا اور کھائی پر چڑھ گیا۔ ایک آدمی نے پیپسام کو کندھے سے ہلایا۔ تاہم یہ سب بیکار گیا۔ مارچ کرنے والے سپاہیوں نے قہقہے لگاتے ہوئے گردنیں بلند کیں۔
آخرکار ٹیریر اسے مزید برداشت نہیں کر سکا۔ اس نے اپنے اگلے پنجے زمین پر رکھے، دم کو ٹانگوں کے درمیان دبایا اور اس کے چہرے کی طرف منہ کر کے زور سے بھونکا، اچانک لابگٹ پیپسام اپنی پوری طاقت سے دوبارہ چلایا: ”ہٹ جاؤ! فوراً ہٹ جاؤ! بیوقوف کمینے!“
اور اپنے ہاتھ سے ایک چوڑا نیم دائرہ بناتے ہوئے زمین پر بیٹھ گیا۔ پھر اچانک وہ خاموش ہو کر متجسس لوگوں کے درمیان کالے ڈھیر کی طرح لڑھک گیا۔ خم دار کناروں والی بیلن نما ٹوپی ایک دفعہ زور سے اچھلی پھر نیچے آ گری۔
دونوں مستریوں نے بے حرکت پیپسام پر جھک کر پوری توجہ اور سمجھ داری سے کچھ تبادلہ خیال کیا۔ پھر ان میں سے ایک جلدی سے کہیں چلا گیا۔ باقی لوگوں نے بے ہوش آدمی پر کئی تجربات کیے۔ ایک نے لکڑی کی بالٹی سے پانی چھڑکا، دوسرے نے اپنی بوتل سے برانڈی اس کے گلے میں ڈالی اور اس کی کنپٹیوں پر رگڑی، لیکن تمام کوششیں ناکام ہوئیں۔
کچھ وقت اسی طرح گزر گیا۔ پھر پہیوں کی کڑک سنائی دی۔ ایک گاڑی ہائی وے پر آ کر رکی۔ وہ ایک ایمبولینس وین تھی جسے دو خوبصورت گھوڑے کھینچ رہے تھے۔ اس کے دونوں طرف بہت واضح سرخ کراس کا نشان تھا۔ دو آدمی صاف ستھری وردی میں اگلی نشست سے اترے اور جب تک ایک نے گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر اسٹریچر نکالا۔ دوسرا چھلانگ لگا کر چرج یارڈ کے راستے پر آ گیا اور تماشائیوں کو ایک طرف دھکیل دیا۔ پھر اس نے عوام میں سے ایک آدمی کی مدد لی اور پیپسام کو اسٹریچر پر لٹا کر روٹی کی طرح تندور میں دھکیل دیا۔ جس کے بعد دروازہ دوبارہ بند کر دیا گیا اور وردی پوش گاڑی پر چڑھ گئے۔ سب کچھ بہت واضح طور پر بڑی درستی اور ماہرانہ انداز میں کیا گیا اور لوبگٹ پیپسام کو نظروں سے اوجھل کر دیا گیا۔
٭٭٭ ٭٭٭
تھامس مان 6 جون سن 1875 کو جرمنی کے قدیم شہر لیوبک میں پیدا ہوا۔ باپ شہر کا سابق میئر اور جرمن اشرافیہ کا کامل نمونہ تھا۔ ماں ایک کسان کی بیٹی اور موسیقی کی دلدادہ تھی۔ تھامس مان کو خود بھی موسیقی سے عشق تھا۔ وہ اکثر اپنی کہانیوں میں چند خاص علاقوں، آوازوں اور الفاظ کو فنی مہارت سے الٹ پلٹ کر استعمال کرتا تھا۔ اس کے افسانوں کا پہلا مجموعہ 1899 میں شائع ہوا اور ناول بڈن بروکس پر 1929 میں نوبل انعام ملا۔
تھامس مان کا شمار دنیا کے عظیم ترین ناول نگاروں میں کیا جاتا ہے۔ نوبل انعام یافتہ ناول بڈن بروکس ( 1901 ) ڈیتھ ان وینس ( 1912 ) میجک ماؤنٹن ( 1924 ) جوزف اینڈ برادرن (1933) ڈاکٹر فاسٹس (1948) میں شائع ہوئے۔ جب جرمنی پر نازیوں کا قبضہ ہوا تو تھامس مان بھی اس کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس کی کتابیں چوراہوں پر نذر آتش کی گئیں۔ جنگ عظیم کے دوران وہ جرمنی سے ہجرت کر کے امریکہ جا بسا۔ مان کی زندگی اور فن انسانی روح کی عظمت، خاندان سے محبت، خرد پسندی، روشن خیالی اور انسان دوستی سے عبارت ہے۔
مان کے عالمی ادب پر بہت گہرے اثرات ہیں۔ وہ ان ادیبوں میں سے ایک ہے۔ جنھوں نے انسانی حقوق اور جمہوریت کے لیے جدوجہد کی اور نازی ازم کے خلاف ڈٹ گئے۔ اس نے تحریر و تصنیف کو ساری زندگی اوڑھنا بچھونا بنائے رکھا جب 12 اگست سن 1955 کو اس کا انتقال ہوا تو دنیا اسے ایک عظیم خلاق ناول نگار اور انسان تسلیم کر چکی تھی۔
Facebook Comments HS


