افق کے اس پار بھی دنیا ہے
بچپن میں ایک وقت تھا کہ چھت پر کھڑے ہو کر دیکھتے تو افق پر یوں لگتا کہ آسمان اور زمین مل گئے ہیں اور دنیا بس یہیں پہ ختم ہو جاتی ہے۔ گاؤں سے مغرب کی طرف چونکہ کبھی جانا نہ ہوا جس کی وجہ سے مجھے یوں لگتا جیسے گاؤں سے مغرب کی طرف کوئی انسانی آبادی نہ موجود ہے اور نہ موجود ہو سکتی ہے۔ اگر کسی شخص سے اس طرف کی کوئی بات سنتے بھی تو ذہن اس کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا۔ ایسے ہی جب گاڑی میں بیٹھتے تو یوں لگتا کہ ہم آگے کو نہیں جا رہے بلکہ درخت پیچھے کو دوڑ رہے ہیں۔
ایسے ہی اپنے کلچر، مذہب، اور قومیت کے حوالے سے بھی اندھا اعتقاد موجود تھا۔ ہمیں مسجدوں، سکولوں اور کالجوں میں یہ بھی انجیکٹ کر دیا گیا کہ دنیا میں ہمارے علاوہ نہ کوئی کلچر عظیم ہے نہ کسی اور مذہب کا کوئی مقام ہے اور نہ ہی پاکستانیوں کے سامنے کوئی اور قوم عظمت کا کوئی ادنٰی سا بھی درجہ رکھتی ہے۔ ہمیں یقین دلا دیا گیا کہ ہم ہی وہ چنیدہ لوگ ہیں دنیا جن سے معرفت اور آگاہی حاصل کرتی ہے۔ مجھے پورا یقین تھا کہ ”آنے والے دور کے انسان ہم سے جینا سیکھیں گے“ ۔ وہ تو بہت بعد میں معلوم پڑا کہ چونکہ ہم نے خبط عظمت کے باعث دنیا سے کچھ نہ سیکھنے کی قسم کھائی ہے لہٰذا ہم تو سیکھ نہیں سکتے سو وہی ہمارے انجام سے سیکھیں گے۔
اب وقت آگے بڑھا ہے، آدھی عمر گزری ہے، کچھ مشاہدہ، موازنہ اور کچھ مطالعہ کیا ہے تو سلیبس کی کالی پٹی آنکھوں سے اتری ہے۔ معلوم ہوا ہے افق کے پار بھی دنیا ہے۔ ہمارے مذہب کے علاوہ بھی مذاہب ہیں۔ پاکستانیوں کے علاوہ سینکڑوں ہزاروں قومیں بھی ہیں۔ بہت سی عظیم قومیں گزر کر ختم ہو چکی ہیں جبکہ بہت سی عظمت کی بلندیوں پر قائم ہیں اور بہت سی اقوام اس بلندی پر پہنچنے کی جستجو میں ہیں مگر ہم ان میں کہیں نہیں ہیں۔ اس لئے نہیں ہیں کہ ہم اپنے تئیں پہلے ہی عظمت کی ماؤنٹ ایورسٹ پر براجمان ہیں۔ اب اس سے اوپر کوئی اور مقام کبھی تھا اور نہ ہی ہو سکتا ہے۔
کئی دہائیاں گزرنے کے بعد اب حقائق کی تلخ دنیا کے سامنے خبط عظمت کا یہ مینار ادھڑنا شروع ہوا ہے تو جتھوں، لشکروں، اور نامعلوموں کے ہاتھوں اسے برقرار رکھنے کی کوشش تو کی جاتی ہے مگر حقائق کو تسلیم کرنے کی طرف نہیں بڑھا جا رہا۔ حقائق یہ ہیں کہ اس ملک سے باہر نکلتے ہی نوجوان ائرپورٹ پر الحمدللہ کا اسٹیٹس لگاتے ہیں۔ ملا اگلی صف میں مغرب کی تباہی کی دعا کرتا ہے تو پیچھے نوجوان ویزے کی دعا کرتا ہے۔
حقائق یہ بھی ہیں کہ ہر کچھ عرصے کے بعد مذہب کے مقدس نام پر بستیوں سے شعلے بلند ہوتے اور ایمبولینسیں موت کے سائرن بجاتی سنائی دیتی ہیں۔ ریاست کے شہری غائب ہو جاتے ہیں اور ریاست کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی۔ چیف جسٹس اپنے لئے انصاف کا متلاشی ہوتا ہے۔ سب سے تلخ ترین حقیقت یہ ہے کہ تعلیم یافتہ طبقہ سر جھکا کر چلتا ہے۔ اس کا اپنی تعلیم پر اعتماد اٹھ گیا ہے۔ وہ یہاں اپنوں کی خدمت کے بجائے دوسرے ملک میں غیروں کی مزدوری کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ یہاں کا استاد کلاس میں تعلیم کی افادیت بتاتا ہے تو طالب علموں کے چہرے پر مسکراہٹ آ جاتی ہے۔ یہ دیکھ کر استاد بھی مسکرا دیتا ہے۔ اس کے پاس آپشن ہی کیا ہوتی ہے۔
بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ عرض کرنا تھی کہ یہ مسائل صرف ہمارے نہیں ہیں۔ سچ پوچھیں تو زیادہ تر نیشن اسٹیٹس ان جیسے حالات سے گزرتی رہی ہیں۔ ان کی بہت سی وجوہات ہوتی ہوں گی مگر سب سے بڑی وجہ ان کا جغرافیہ ہے جس میں وہ قید ہیں۔ جنگ عظیم دوم کے بعد جو نئی ریاستوں کی نقشہ بندی ہوئی ہے زیادہ تر کے بارڈرز بارود کا بارڈر ہیں۔ سیکیورٹی اسٹیٹس کا مسئلہ ایک جیسا ہی ہے۔ غزہ کے حالات ہوں یا سارے مشرق وسطی کے۔ افریقی ریاستوں کی بدامنی ہو یا مشرقی پاکستان کی علیحدگی۔ بلوچستان میں گوادر سے لے کر یوکرائن اور روس تک۔ امریکہ کی کامیابی اور یورپ کا امن، چین کی ابھرتی طاقت اور بھارت کا ابھرتا ہوا عالمی کردار۔ ان سب مسائل اور معاملات کی جڑیں ان کے جغرافیے میں ہی پیوست ہیں۔
ہماری افواج کیوں فرنٹ لائن پر ہیں۔ نمبر ون کا دعویٰ کیوں ہے اور کتنا درست ہے؟ ملک کا زیادہ بجٹ سیکیورٹی پر کیوں جاتا ہے۔ سی پیک کی کیا اہمیت ہے اور سلیبس میں ہماری انکھوں پر مذہب اور اعتقاد کی پٹی کیوں چڑھائی جاتی ہے؟ شاید ان سب سوالوں کے براہ راست جوابات تو آپ کو نہ مل سکیں مگر ٹم مارشل کی کتاب Prisoners of Geography آپ کو 10 نقشوں کی مدد سے دنیا کے بہت سارے مسائل کے پیچھے کی وجوہات کو واضح سمجھا دے گی۔ آگے آپ نتائج خود اخذ کر سکتے ہیں۔
جب ہمارے ایک دوست کی پہلی دفعہ بطور استاد تقرری ہوئی تو انہوں نے ہیڈ ماسٹر سے مطالعہ پاکستان کی کلاس پڑھانے کے لئے ایک گلوب/نقشہ خریدنے کے لیے فنڈ کی درخواست کی۔ ہیڈ ماسٹر صاحب پہلے تو بے یقینی سے اسے دیکھتے رہے اور پھر اچانک پوچھ بیٹھے کہ مطالعہ پاکستان کا نقشے سے کیا تعلق ہے؟ ”وہی جو تعلیم کا شعور سے ہے“ ۔ انہوں نے برجستہ جواب دیا۔
یہ کتاب بھی 10 نقشوں میں آپ کو اپنی چھت سے اٹھا کر افق کے اس پار لے جائے گی جہاں آپ کو اپنے علاوہ بھی پوری دنیا ایک بساط کی صورت بچھی نظر آئے گی۔ جہاں آپ اپنا موازنہ دیگر اقوام کے ساتھ کر سکیں گے۔ آپ کو بہت سے چیزیں ریلیٹ کرتی دکھائی دیں گی۔ جب آپ مطالعہ سے واپس مڑیں گے تو آپ کو معلوم ہو گا کہ کیسے دنیا آگے بھاگتی ہے اور ہم درختوں کی طرح کیوں پیچھے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کتاب آپ کو جغرافیائی اور سیاسی شعور دے گی۔


